دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › سنن ابی داود › باب ۲

سنن ابی داود — باب ۲Prayer (Kitab Al-Salat)

۷۶۹ احادیث (نمبر ۳۹۱ تا ۱۱۶۰) (صفحہ 19) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قُلْتَ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے امام کے خطبہ دینے کی حالت میں ( کسی سے ) کہا: چپ رہو، تو تم نے لغو کیا ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ ‏{‏ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں تین طرح کے لوگ حاضر ہوتے ہیں: ایک آدمی وہ جو جمعہ میں حاضر ہو کر لغو و بیہودہ گفتگو کرے، اس میں سے اس کا حصہ یہی ہے ۱؎، دوسرا آدمی وہ ہے جو اس میں حاضر ہو کر اللہ سے دعا کرے تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ سے دعا کی ہے اگر وہ چاہے تو اسے دے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ آدمی ہے جو حاضر ہو کر خاموشی سے خطبہ سنے، نہ کسی مسلمان کی گردن پھاندے، نہ کسی کو تکلیف دے، تو یہ اس کے لیے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن تک کے گناہوں کا کفارہ ہو گا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: جو نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ثواب ملے گا ۔
Al-Albani: HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: HasanShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ ثُمَّ لْيَنْصَرِفْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا دَخَلَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرَا عَائِشَةَ رضى الله عنها ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ - عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَارْكَعْ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن ( مسجد میں ) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (930) Sahih Muslim (875)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالاَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کچھ پڑھا؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (875)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ سُلَيْكًا، جَاءَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ قَالَ ‏ "‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ ‏"‏ ‏.‏
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص ( اسی طرح ) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، - هُوَ ابْنُ حَازِمٍ لاَ أَدْرِي كَيْفَ قَالَهُ مُسْلِمٌ أَوْ لاَ - عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ ثَابِتٍ هُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ( خطبہ دے کر ) منبر سے اترتے تو آدمی کوئی ضرورت آپ کے سامنے رکھتا تو آپ اس کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیتا، یعنی اپنی گفتگو مکمل کر لیتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ثابت سے معروف نہیں ہے، یہ جریر بن حازم کے تفردات میں سے ہے۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (580) Sahih Muslim (607)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ‏}‏ قَالَ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَقَرَأَ بِهِمَا ‏.‏
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے روز «سبح اسم ربك الأعلى» اور«هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور بسا اوقات عید اور جمعہ دونوں ایک ہی دن پڑ جاتا تو ( بھی ) انہیں دونوں کو پڑھتے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (878)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ كَانَ يَقْرَأُ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ‏}‏ ‏.‏
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ پڑھنے کے بعد کون سی سورت پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (878)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَفِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ‏{‏ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ‏}‏ قَالَ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏
ابن ابی رافع کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جمعہ پڑھائی تو ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ اور دوسری میں «إذا جاءك المنافقون»پڑھی، ابن ابی رافع کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان سے ملا اور کہا کہ آپ نے ( نماز جمعہ میں ) ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ اس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (877)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ ‏{‏ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ‏}‏ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَقَامِهِ فَدَفَعَهُ وَقَالَ أَتُصَلِّي الْجُمُعَةَ أَرْبَعًا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَيَقُولُ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، ( جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی ) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُطِيلُ الصَّلاَةَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
نافع کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھتے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَىْءٍ، رَأَى مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَقَالَ لاَ تَعُدْ لِمَا صَنَعْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلاَ تَصِلْهَا بِصَلاَةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِذَلِكَ أَنْ لاَ تُوصَلَ صَلاَةٌ بِصَلاَةٍ حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ ‏.‏
ابن جریج کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن عطاء بن ابی الخوار نے خبر دی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں ایک چیز کے متعلق، جسے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نماز میں انہیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے معاویہ کے ساتھ مسجد کے کمرہ میں نماز جمعہ ادا کی، جب میں نے سلام پھیرا تو اپنی اسی جگہ پر اٹھ کر پھر نماز پڑھی تو جب وہ گھر تشریف لائے تو مجھے بلوایا اور کہا: جو تم نے کیا ہے، اسے پھر دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ چکو تو اس کے ساتھ دوسری نماز نہ ملاؤ، جب تک کہ بات نہ کر لو یا نکل نہ جاؤ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا ہے کہ کوئی نماز کسی نماز سے ملائی نہ جائے جب تک کہ بات نہ کر لی جائے یا باہر نکل نہ لیا جائے ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (883)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ فَصَلَّى الْجُمُعَةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھنے کے بعد آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینے میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر واپس آتے اور ( گھر میں ) دو رکعتیں ادا کرتے، مسجد میں نہ پڑھتے، ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ - ‏"‏ مَنْ كَانَ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ وَتَمَّ حَدِيثُهُ وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ ‏"‏ إِذَا صَلَّيْتُمُ الْجُمُعَةَ فَصَلُّوا بَعْدَهَا أَرْبَعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لِي أَبِي يَا بُنَىَّ فَإِنْ صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَيْتَ الْمَنْزِلَ أَوِ الْبَيْتَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( محمد بن صباح کی روایت میں ہے ) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو ( گھر پر ) دو رکعت اور پڑھو۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (881)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن دینار نے بھی اسے ابن عمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلاَّهُ الَّذِي، صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلاً غَيْرَ كَثِيرٍ قَالَ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قُلْتُ لِعَطَاءٍ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ مِرَارًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ ‏.‏
عطاء ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نماز پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے، جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا ہوتا کچھ ہٹ جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور پھر اس سے تھوڑا سا اور ہٹ جاتے اور چار رکعات پڑھتے۔ میں نے عطاء سے پوچھا، آپ نے سیدنا ابن عمر ؓ کو ایسا کرتے ہوئے کتنی بار دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، کئی بار۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں اس روایت کو عبدالملک بن ابی سلیمان نے بھی روایت کیا ہے مگر مکمل بیان نہیں کیا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ( تو دیکھا کہ ) ان کے لیے ( سال میں ) دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ ، تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحْبِيُّ، قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الإِمَامِ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ ‏.‏
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ، - فِي آخَرِينَ - عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ ‏.‏ قِيلَ فَالْحُيَّضُ قَالَ ‏"‏ لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ ‏"‏ تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا ‏"‏ ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن ( عید گاہ ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (974) Sahih Muslim (890)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ ‏ "‏ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الثَّوْبَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ عَنِ امْرَأَةٍ تُحَدِّثُهُ عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى قَالَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ ‏.‏
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (974) Sahih Muslim (890)
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَتْ وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ ‏.‏
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (971) Sahih Muslim (890)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، - يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ - وَمُسْلِمٌ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْكُنَّ ‏.‏ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ وَلاَ جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ‏.‏
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ ( آ کر ) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَنْ هَذَا قَالُوا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (49)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ قَالَ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَتَخَتَهَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (978) Sahih Muslim (884)
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ ‏.‏
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ ( اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (98) Sahih Muslim (884)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ قَالَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلاَلٌ مَعَهُ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (98) Sahih Muslim (884)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ وَجَعَلَ بِلاَلٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ قَالَ فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی ( صدقہ میں ) دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کر دیا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (98) Sahih Muslim (884)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نُوِّلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ ‏.‏
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عید کے دن ایک کمان دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ( ٹیک لگا کر ) خطبہ دیا۔
Al-Albani: HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ - قَالَ - فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں ( یعنی بالیوں اور ہاروں ) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر ( صدقہ لے کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (863)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعِيدَ بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ شَكَّ يَحْيَى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابوبکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں ( بارہا ) عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔
Al-Albani: Hasan SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Sahih Muslim (887)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى فِي الأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: Hasan LighairihiZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ سِوَى تَكْبِيرَتَىِ الرُّكُوعِ ‏.‏
اس طریق سے بھی ابن شہاب سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے ، اس میں ہے ( یہ تکبیریں ) رکوع کی دونوں تکبیروں کے علاوہ ہوتیں۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: Hasan LighairihiZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الأُولَى وَخَمْسٌ فِي الآخِرَةِ وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر ( زوائد ) کے بعد ہے ۔
Al-Albani: HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: HasanShuaib Al Arnaut: Hasan LighairihiZubair Ali Zai: Isnaad Hasan