سنن ابی داود — باب ۴۳General Behavior (Kitab Al-Adab)
۵۰۲ احادیث (نمبر ۴۷۷۳ تا ۵۲۷۴) (صفحہ 11) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ وَلِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلاَ إِذْنَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ - قَالَ عُثْمَانُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ - فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ - قَالَ عُثْمَانُ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ " .
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
Al-Albani: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدٍ، نَحْوَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَبَنٍ وَجِدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ - وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلَى مَكَّةَ - فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ فَقَالَ " ارْجِعْ فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ " . وَذَاكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ . قَالَ عَمْرٌو وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَقَالَ يَحْيَى أَيْضًا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ .
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِخَادِمِهِ " اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الاِسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ " . فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ .
ربعی کہتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے ہم سے بیان کیا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی آپ گھر میں تھے تو کہا: «ألج» ( کیا میں اندر آ جاؤں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور اس سے کہو السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اور وہ اندر آ گیا۔
Al-Albani: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي عَامِرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ .
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہم سے مسدد نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ہے انہوں نے منصور سے اور منصور نے ربعی سے روایت کیا ہے، انہوں نے «عن رجل من بني عامر» نہیں کہا ہے۔
Al-Albani: DaifShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . قَالَ فَسَمِعْتُهُ فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ فَجَاءَ أَبُو مُوسَى فَزِعًا فَقُلْنَا لَهُ مَا أَفْزَعَكَ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُهُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي قُلْتُ قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِالْبَيِّنَةِ قَالَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ . قَالَ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ مَعَهُ فَشَهِدَ لَهُ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا ( دوبارہ ملاقات پر ) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: ( اس کی گواہی کے لیے تو ) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6245) Sahih Muslim (2153)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلاَثًا فَقَالَ يَسْتَأْذِنُ أَبُو مُوسَى يَسْتَأْذِنُ الأَشْعَرِيُّ يَسْتَأْذِنُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ عُمَرُ مَا رَدَّكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَسْتَأْذِنُ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلاَّ فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ ائْتِنِي بِبَيِّنَةٍ عَلَى هَذَا . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ هَذَا أُبَىٌّ فَقَالَ أُبَىٌّ يَا عُمَرُ لاَ تَكُنْ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَكُونُ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ۱؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لیے بھیجا ( جب وہ آئے ) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے ( تو اندر چلا جائے ) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر ) واپس آئے اور کہا یہ ابی ( گواہ ) ہیں ۲؎، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔
Al-Albani: Hasan IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan IsnaadZubair Ali Zai: Sahih Muslim (2154)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ . قَالَ فِيهِ فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ فَقَالَ أَخَفِيَ عَلَىَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ وَلاَ تَسْتَأْذِنْ .
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، ( اب تمہارے لیے اجازت ہے ) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (2062) Sahih Muslim (2153)
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَدِيدٌ .
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر ( جھوٹی حدیث بیان کرنے کا ) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔
Al-Albani: Sahih IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih IsnaadShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِنْ عُلَمَائِهِمْ فِي هَذَا فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي مُوسَى أَمَا إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنْ خَشِيتُ أَنْ يَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
Al-Albani: Sahih IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - الْمَعْنَى - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلِنَا فَقَالَ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا . قَالَ قَيْسٌ فَقُلْتُ أَلاَ تَأْذَنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ ذَرْهُ يُكْثِرْ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلاَمِ . قَالَ فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغِسْلٍ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ " . قَالَ ثُمَّ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الاِنْصِرَافَ قَرَّبَ لَهُ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَعْدٌ يَا قَيْسُ اصْحَبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قَيْسٌ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ارْكَبْ " . فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ " إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ " . قَالَ فَانْصَرَفْتُ . قَالَ هِشَامٌ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَابْنُ سَمَاعَةَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ .
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری ) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Al-Albani: Daif IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif IsnaadShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، - فِي آخَرِينَ - قَالُوا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الأَيْمَنِ أَوِ الأَيْسَرِ وَيَقُولُ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ " . وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ .
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَيْنِ أَبِيهِ فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . قُلْتُ أَنَا . قَالَ " أَنَا أَنَا " . كَأَنَّهُ كَرِهَهُ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں آپ نے فرمایا: میں، میں ( کیا؟ ) گویا کہ آپ نے ( اس طرح غیر واضح جواب دینے ) کو برا جانا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6250) Sahih Muslim (2155)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - يَعْنِي الْمَقَابِرِيَّ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلْتُ حَائِطًا فَقَالَ لِي " أَمْسِكِ الْبَابَ " . فَضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ " مَنْ هَذَا " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيَّ قَالَ فِيهِ فَدَقَّ الْبَابَ .
نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک ( باغ کی ) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ۱؎ اس میں «ضرب الباب» کے بجائے «فدق الباب» کے الفاظ ہیں۔
Al-Albani: Hasan IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan IsnaadZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کو بلا بھیجنا، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ " . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے ( پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، وَابْنُ، عَبْدَةَ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمْ يُؤْمَرْ بِهَا أَكْثَرُ النَّاسِ آيَةُ الإِذْنِ وَإِنِّي لآمُرُ جَارِيَتِي هَذِهِ تَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهِ .
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
Al-Albani: Sahih Isnaad MauqufMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih Isnaad MauqufZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ تَرَى فِي هَذِهِ الآيَةِ الَّتِي أُمِرْنَا فِيهَا بِمَا أُمِرْنَا وَلاَ يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ قَبْلِ صَلاَةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ ثَلاَثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلاَ عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ } قَرَأَ الْقَعْنَبِيُّ إِلَى { عَلِيمٌ حَكِيمٌ } قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّ السَّتْرَ وَكَانَ النَّاسُ لَيْسَ لِبُيُوتِهِمْ سُتُورٌ وَلاَ حِجَالٌ فَرُبَّمَا دَخَلَ الْخَادِمُ أَوِ الْوَلَدُ أَوْ يَتِيمَةُ الرَّجُلِ وَالرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ بِالاِسْتِئْذَانِ فِي تِلْكَ الْعَوْرَاتِ فَجَاءَهُمُ اللَّهُ بِالسُّتُورِ وَالْخَيْرِ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَعْمَلُ بِذَلِكَ بَعْدُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَعَطَاءٍ يُفْسِدُ هَذَا .
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ ( النور: ۵۸ ) قعنبی نے آیت «عليم حكيم» تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ حلیم ( بردبار ) ہے اور مسلمانوں پر رحیم ( مہربان ) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، ( یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو ) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن ( سرکیاں ) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آ جاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر ( مال ) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ اور عطاء کی حدیث ( جن کا ذکر اس سے پہلے آ چکا ہے ) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔
Al-Albani: Hasan IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan IsnaadZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے: تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو: آپس میں سلام کو عام کرو ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (54)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (28) Sahih Muslim (39)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ . فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَشْرٌ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ " عِشْرُونَ " . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . فَرَدَّ عَلَيْهِ فَجَلَسَ فَقَالَ " ثَلاَثُونَ " .
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ فَقَالَ " أَرْبَعُونَ " . قَالَ " هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ " .
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح ( اور کلمات کے اضافے پر ) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔
Al-Albani: Daif IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Daif Isnaad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، وَهْبٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلاَمِ " .
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي " . ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6233) Sahih Muslim (2160)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا . قَالَ مُعَاوِيَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ سَوَاءً .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے ملے ( ان کا آمنا سامنا ہو ) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Al-Albani: Sahih MuqufMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Sahih MuqufZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ .
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا: اللہ کے رسول! السلام عليكم کیا عمر اندر آ سکتا ہے ۱؎؟ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے بچوں کے پاس آئے جو کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا غُلاَمٌ فِي الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ - أَوْ قَالَ إِلَى جِدَارٍ - حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، سَمِعَهُ مِنْ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا .
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَبِي لاَ تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلاَمِ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلاَمِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ " .
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں ( یعنی قافلے والوں ) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں ( اور ان کے پجاریوں کو ) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے: انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو ( یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں ) ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim (2167)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ فِيهِ " وَعَلَيْكُمْ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ «السام عليكم» ( تمہارے لیے ہلاکت ہو ) کہے تو تم اس کے جواب میں «وعليكم» کہہ دیا کرو ( یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے «وعليكم» ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih Sahih Bukhari (6257) Sahih Muslim (2164)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ " قُولُوا وَعَلَيْكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَةَ يَعْنِي الْغِفَارِيَّ .
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari (6258، 6024) Sahih Muslim (2163، 2165)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، - قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے ( بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے ) ۔
Al-Albani: Hasan SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: Hasan SahihShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جُرَىٍّ الْهُجَيْمِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " لاَ تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلاَمُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلاَمُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى " .
ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه - قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - قَالَ " يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ، إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ، أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ " .
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو ( لوگ چل رہے ہوں ) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا " .
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں۱؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا " .
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Daif