دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح بخاری › باب ۶۴

صحیح بخاری — باب ۶۴Military Expeditions led by the Prophet (pbuh) (Al-Maghaazi)

۵۲۶ احادیث (نمبر ۳۹۴۹ تا ۴۴۷۳) (صفحہ 12) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِتْنَةُ هَا هُنَا، هَا هُنَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابن بلال نے، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث (سالم) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یمن کا ہے اور فتنہ ( دین کی خرابی ) ادھر سے ہے اور ادھر ہی سے شیطان کے سر کا کونا نمودار ہو گا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل رقیق القلب ہیں، دین کی سمجھ یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَسْتَطِيعُ هَؤُلاَءِ الشَّبَابُ أَنْ يَقْرَءُوا كَمَا تَقْرَأُ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ شِئْتَ أَمَرْتُ بَعْضَهُمْ يَقْرَأُ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ‏.‏ قَالَ اقْرَأْ يَا عَلْقَمَةُ‏.‏ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ أَخُو زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ أَتَأْمُرُ عَلْقَمَةَ أَنْ يَقْرَأَ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا قَالَ أَمَا إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْمِكَ وَقَوْمِهِ‏.‏ فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى قَالَ قَدْ أَحْسَنَ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلاَّ وَهُوَ يَقْرَؤُهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى خَبَّابٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَنْ تَرَاهُ عَلَىَّ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَأَلْقَاهُ‏.‏ رَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مشہور صحابی تشریف لائے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا یہ نوجوان لوگ ( جو تمہارے شاگرد ہیں ) اسی طرح قرآن پڑھ سکتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں کسی سے تلاوت کے لیے کہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علقمہ! تم پڑھو، زید بن حدیر، زیاد بن حدیر کے بھائی، بولے آپ علقمہ سے تلاوت قرآن کے لیے فرماتے ہیں حالانکہ وہ ہم سب سے اچھے قاری نہیں ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری قوم کے حق میں فرمائی تھی۔ خیر علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے سورۃ مریم کی پچاس آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہو کیسا پڑھتا ہے؟ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا بہت خوب پڑھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو آیت بھی میں جس طرح پڑھتا ہوں علقمہ بھی اسی طرح پڑھتا ہے، پھر انہوں نے خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، تو کہا: کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ انگوٹھی پھینک دی جائے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج کے بعد آپ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے انگوٹھی اتار دی۔ اسی حدیث کو غندر نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ، عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قبیلہ دوس تو تباہ ہوا۔ اس نے نافرمانی اور انکار کیا ( اسلام قبول نہیں کیا ) آپ اللہ سے ان کے لیے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے یہاں لے آ۔“
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ: يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ وَأَبَقَ غُلاَمٌ لِي فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلاَمُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلاَمُكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى‏.‏ فَأَعْتَقْتُهُ‏.‏
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں اپنے وطن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلا تو راستے میں، میں نے یہ شعر پڑھا ( ترجمہ ) ”کیسی ہے تکلیف کی لمبی یہ رات، خیر اس نے کفر سے دی ہے نجات“ اور میرا غلام راستے میں بھاگ گیا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بیعت کی، ابھی آپ کے پاس میں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام! میں نے کہا اللہ کے لیے میں نے اس کو اب آزاد کر دیا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدٍ، فَجَعَلَ يَدْعُو رَجُلاً رَجُلاً وَيُسَمِّيهِمْ فَقُلْتُ أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ بَلَى، أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَعَرَفْتَ إِذْ أَنْكَرُوا‏.‏ فَقَالَ عَدِيٌّ فَلاَ أُبَالِي إِذًا‏.‏
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی دور خلافت میں ) ایک وفد کی شکل میں آئے۔ وہ ایک ایک شخص کو نام لے لے کر بلاتے جاتے تھے ) میں نے ان سے کہا کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں؟ اے امیرالمؤمنین! فرمایا کیا تمہیں بھی نہیں پہچانوں گا، تم اس وقت اسلام لائے جب یہ سب کفر پر قائم تھے۔ تم نے اس وقت توجہ کی جب یہ سب منہ موڑ رہے تھے۔ تم نے اس وقت وفا کی جب یہ سب بے وفائی کر رہے تھے اور اس وقت پہچانا جب ان سب نے انکار کیا تھا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا بس اب مجھے کوئی پرواہ نہیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏‏.‏ فَقَدِمْتُ مَعَهُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏‏.‏ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا‏.‏
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ہم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ ہدی ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لے اور جب تک دونوں کے ارکان نہ ادا کر لے احرام نہ کھولے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب مکہ آئی تو مجھ کو حیض آ گیا۔ اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی کر سکی۔ میں نے اس کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر کھول لے اور کنگھا کر لے۔ اس کے بعد حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم حج ادا کر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم سے ( عمرہ کی ) نیت کرنے کے لیے بھیجا اور میں نے عمرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس چھوٹے ہوئے عمرہ کی قضاء ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ انہوں نے بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کے بعد احرام کھول دیا۔ پھر منیٰ سے واپسی کے بعد انہوں نے دوسرا طواف ( حج کا ) کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ‏.‏ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ‏}‏ وَمِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏ قُلْتُ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ‏.‏ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَاهُ قَبْلُ وَبَعْدُ‏.‏
مجھ سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ( عمرہ کرنے والا ) صرف بیت اللہ کے طواف سے حلال ہو سکتا ہے۔ ( ابن جریج نے کہا ) میں نے عطاء سے پوچھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ مسئلہ کہاں سے نکالا؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ثم محلها إلى البيت العتيق‏» ( سورۃ الحج ) سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی وجہ سے جو آپ نے اپنے اصحاب کو حجۃ الوداع میں احرام کھول دینے کے لیے دیا تھا میں نے کہا کہ یہ حکم تو عرفات میں ٹھہرنے کے بعد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ مذہب تھا کہ عرفات میں ٹھہرنے سے پہلے اور بعد ہر حال میں جب طواف کر لے تو احرام کھول ڈالنا درست ہے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي بَيَانٌ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقًا، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ ‏"‏ أَحَجَجْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ أَهْلَلْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ ‏"‏ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ ‏"‏‏.‏ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي‏.‏
مجھ سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے قیس بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے طارق بن شہاب سے سنا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بطحاء ( سنگریزی زمین ) میں قیام کئے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا تم نے حج کا احرام باندھ لیا؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا ( اس طرح ) کہ میں بھی اسی طرح احرام باندھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے ( عمرہ کرنے کے لیے ) بیت اللہ کا طواف کر، پھر صفا اور مروہ کی سعی کر، پھر حلال ہو جا۔ چنانچہ میں بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے قبیلہ قیس کی ایک عورت کے گھر آیا اور انہوں نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ فَمَا يَمْنَعُكَ فَقَالَ ‏ "‏ لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ‏"‏‏.‏
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم کو انس بن عیاض نے خبر دی، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ ( عمرہ کرنے کے بعد ) حلال ہو جائیں ( یعنی احرام کھول دیں ) حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ( یا رسول اللہ! ) پھر آپ کیوں نہیں حلال ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا دیا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، (دوسری سند) (اور امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں سلیمان بن یسار نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مسئلہ پوچھا، فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اللہ کا جو فریضہ اس کے بندوں پر ہے ( یعنی حج ) میرے والد پر بھی فرض ہو چکا ہے لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے۔ تو کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! کر سکتی ہو۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ وَهْوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ‏.‏ وَمَعَهُ بِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ حَتَّى أَنَاخَ عِنْدَ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ لِعُثْمَانَ ‏ "‏ ائْتِنَا بِالْمِفْتَاحِ ‏"‏، فَجَاءَهُ بِالْمِفْتَاحِ فَفَتَحَ لَهُ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ، ثُمَّ أَغْلَقُوا عَلَيْهِمِ الْبَابَ، فَمَكَثَ نَهَارًا طَوِيلاً ثُمَّ خَرَجَ، وَابْتَدَرَ النَّاسُ الدُّخُولَ، فَسَبَقْتُهُمْ فَوَجَدْتُ بِلاَلاً قَائِمًا مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ صَلَّى بَيْنَ ذَيْنِكَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ‏.‏ وَكَانَ الْبَيْتُ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ سَطْرَيْنِ، صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ مِنَ السَّطْرِ الْمُقَدَّمِ، وَجَعَلَ باب الْبَيْتِ خَلْفَ ظَهْرِهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الَّذِي يَسْتَقْبِلُكَ حِينَ تَلِجُ الْبَيْتَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ، قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى وَعِنْدَ الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَرْمَرَةٌ حَمْرَاءُ‏.‏
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قصواء اونٹنی پر پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما بھی تھے آپ نے کعبہ کے پاس اپنی اونٹنی بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کعبہ کی کنجی لاؤ، وہ کنجی لائے اور دروازہ کھولا۔ آپ اندر داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی اندر گئے، پھر دروازہ اندر سے بند کر لیا اور دیر تک اندر ( نماز اور دعاؤں میں مشغول ) رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگ اندر جانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے اور میں سب سے آگے بڑھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ دروازے کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے۔ دو قطاروں میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے کی قطار کے دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی تھی۔ کعبہ کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کی طرف تھا اور چہرہ مبارک اس طرف تھا، جدھر دروازے سے اندر جاتے ہوئے چہرہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کے اور دیوار کے درمیان ( تین ہاتھ کا فاصلہ تھا ) ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ پوچھنا میں بھول گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعت نماز پڑھی تھی۔ جس جگہ آپ نے نماز پڑھی تھی وہاں سرخ سنگ مرمر بچھا ہوا تھا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَاضَتْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ ‏"‏‏.‏
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر حائضہ ہو گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا ابھی ہمیں ان کی وجہ سے رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو مکہ لوٹ کر طواف زیارت کر چکی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے چلنا چاہئیے ( طواف وداع کی ضرورت نہیں ) ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلاَ نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ وَقَالَ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ، أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ، فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ عَلَى مَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ثَلاَثًا، إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ‏"‏‏.‏ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلاَثًا، وَيْلَكُمْ، أَوْ وَيْحَكُمُ، انْظُرُوا لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَلاَ نَدْرِي مَا حَجَّةُ الْوَدَاعِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ وَقَالَ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ، أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ، فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ عَلَى مَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ثَلاَثًا، إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ‏"‏‏.‏ ‏"‏ أَلاَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلاَثًا، وَيْلَكُمْ، أَوْ وَيْحَكُمُ، انْظُرُوا لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى‏.‏
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کئے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا۔ اس حج کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حج نہیں کیا۔ یہ حج، حجۃ الوداع تھا۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ دوسرا حج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہجرت سے پہلے ) مکہ میں کیا تھا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِجَرِيرٍ ‏"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ‏"‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ ہرم بن عمرو بن جریر نے بیان کیا اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جریر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا لوگوں کو خاموش کر دو، پھر فرمایا، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلاَثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذُو الْحِجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ ـ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَسَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ صَدَقَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ‏.‏ مَرَّتَيْنِ ‏"‏‏.‏
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اصل حالت پر گھوم کر آ گیا ہے۔ اس دن کی طرح جب اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ دیکھو! سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں۔ چار ان میں سے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ( اور چوتھا ) رجب مضر جو جمادی الاولیٰ اور شعبان کے بیچ میں پڑتا ہے۔ ( پھر آپ نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور ان کے رسول کو بہتر علم ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا شاید آپ مشہور نام کے سوا اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم بولے کہ کیوں نہیں۔ پھر دریافت فرمایا اور یہ شہر کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی اور نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھیں گے، جو مشہور نام کے علاوہ ہو گا۔، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ مکہ نہیں ہے؟ ہم بولے کیوں نہیں ( یہ مکہ ہی ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اور یہ دن کون سا ہے؟ ہم بولے کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ بہتر علم ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا شاید اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مشہور نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) نہیں ہے؟ ہم بولے کہ کیوں نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس تمہارا خون اور تمہارا مال۔ محمد نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا، اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن کا تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں اور تم بہت جلد اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ ہاں، پس میرے بعد تم گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ ہاں اور جو یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ جسے وہ پہنچائیں ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جو یہاں بعض سننے والوں سے زیادہ اس ( حدیث ) کو یاد رکھ سکتا ہو۔ محمد بن سیرین جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا میں نے پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنَ الْيَهُودِ قَالُوا لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالُوا ‏{‏الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي‏}‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لأَعْلَمُ أَىَّ مَكَانٍ أُنْزِلَتْ، أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ‏.‏
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ چند یہودیوں نے کہا کہ اگر یہ آیت ہمارے یہاں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن عید منایا کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کون سی آیت؟ انہوں نے کہا «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي‏» ”آج میں نے تم پر اپنے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی تھی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تھے ( یعنی حجۃ الوداع میں ) ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَوْمَ النَّحْرِ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ وَقَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ مِثْلَهُ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے تو کچھ لوگ ہم میں سے عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھے، کچھ حج کا اور کچھ عمرہ اور حج دونوں کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج کا احرام باندھا تھا۔ جو لوگ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے یا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، وہ قربانی کے دن حلال ہوئے تھے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ( کے لیے ہم نکلے ) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ( کے لیے ہم نکلے ) ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ـ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ـ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ، أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلاَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ ‏"‏ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ ‏"‏ إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلاً تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ‏.‏ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ ‏"‏‏.‏
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے، ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے والد سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ بیماری نے مجھے موت کے منہ میں لا ڈالا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے، میرا مرض اس حد کو پہنچ گیا ہے اور میرے پاس مال ہے، جس کی وارث خالی میری ایک لڑکی ہے، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا، آدھا کر دوں۔ فرمایا کہ نہیں۔ میں نے فرمایا کیا پھر تہائی کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اگر اس سے اللہ کی رضا مقصود رہی تو تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( بیماری کی وجہ سے ) کیا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ( مدینہ ) نہیں جا سکوں گا؟ فرمایا اگر تم نہیں جا سکے تب بھی اگر تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوئی عمل کرو گے تو تمہارا درجہ اللہ کے یہاں اور بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور تم سے کچھ لوگوں ( مسلمانوں ) کو نفع پہنچے گا اور کچھ لوگوں ( اسلام کے دشمنوں ) کو نقصان پہنچے گا۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو کامل فرما اور انہیں پیچھے نہ ہٹا لیکن نقصان میں تو سعد بن خولہ رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے ظاہر فرمایا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ‏.‏
مجھ سے ابراہیم بن منذر خزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا تھا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَلَقَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ‏.‏
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے بعض اصحاب نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوایا تھا اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صرف ترشوا لیا تھا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،‏.‏ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ‏.‏
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شہاب نے بیان کیا (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ ان کا گدھا صف کے کچھ حصے سے گزرا، پھر وہ اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ سَيْرِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّتِهِ‏.‏ فَقَالَ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( سفر میں ) رفتار کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیچ کی چال چلتے تھے اور جب کشادہ جگہ ملتی تو اس سے تیز چلتے تھے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا‏.‏
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے عبداللہ بن یزید خطمی نے اور انہیں ابوایوب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھی تھیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ الْحُمْلاَنَ لَهُمْ، إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهْىَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ وَوَافَقْتُهُ، وَهْوَ غَضْبَانُ وَلاَ أَشْعُرُ، وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَىَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلاَّ سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلاَلاً يُنَادِي أَىْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ‏.‏ فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ـ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ ـ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ ـ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ـ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ فَارْكَبُوهُنَّ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ، فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلاَءِ وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا لِي إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ‏.‏ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى‏.‏
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے سواری کے جانوروں کی درخواست کروں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ جیش عسرت ( یعنی غزوہ تبوک ) میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کے جانوروں کا انتظام کرا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ غصہ میں تھے اور میں اسے معلوم نہ کر سکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار سے میں بہت غمگین واپس ہوا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں آپ سواری مانگنے کی وجہ سے خفا نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خبر دی، لیکن ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ پکار رہے تھے، اے عبداللہ بن قیس! میں نے جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دو جوڑے اور یہ دو جوڑے اونٹ کے لے جاؤ۔ آپ نے چھ اونٹ عنایت فرمائے۔ ان اونٹوں کو آپ نے اسی وقت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدا تھا اور فرمایا کہ انہیں اپنے ساتھیوں کو دے دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے انہیں دیا ہے، ان پر سوار ہو جاؤ۔ میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے یہ عنایت فرمائے ہیں لیکن اللہ کی قسم! کہ اب تمہیں ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلنا پڑے گا، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار فرمانا سنا تھا، کہیں تم یہ خیال نہ کر بیٹھو کہ میں نے تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے متعلق غلط بات کہہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سچائی میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا اصرار ہے تو ہم ایسا بھی کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو لے کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر عنایت فرمایا۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کی تھی۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ قَالَ ‏ "‏ أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ سَمِعْتُ مُصْعَبًا‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سمیر قفان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اور ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے اور انہوں نے کہا میں نے مصعب سے سنا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُخْبِرُ قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْعُسْرَةَ قَالَ كَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِي‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ فَقَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَى فَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الآخَرِ، قَالَ عَطَاءٌ فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الآخَرَ فَنَسِيتُهُ، قَالَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، كَأَنَّهَا فِي فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا ‏"‏‏.‏
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے صفوان بن یعلٰی بن امیہ نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ عسرت میں شریک تھا۔ بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنے تمام عملوں میں اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ عطاء نے بیان کیا، ان سے صفوان نے بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے بیان کیا کہ مجھے صفوان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان دونوں میں سے کس نے اپنے مقابل کا ہاتھ کاٹا تھا، یہ مجھے یاد نہیں ہے۔ بہرحال جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے جو کھینچا تو کاٹنے والے کے آگے کا ایک دانت بھی ساتھ چلا آیا۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کے ٹوٹنے پر کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ عطاء نے بیان کیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا وہ تیرے منہ میں اپنا ہاتھ رہنے دیتا تاکہ تو اسے اونٹ کی طرح چبا جاتا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ـ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ ـ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ، تَبُوكَ قَالَ كَعْبٌ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلاَّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ، عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا، كَانَ مِنْ خَبَرِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرِيدُ غَزْوَةً إِلاَّ وَرَّى بِغَيْرِهَا، حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ، غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ، وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَثِيرٌ، وَلاَ يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ ـ يُرِيدُ الدِّيوَانَ ـ قَالَ كَعْبٌ فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلاَّ ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْىُ اللَّهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ، وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَىْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ، وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ، وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطُفْتُ فِيهِمْ، أَحْزَنَنِي أَنِّي لاَ أَرَى إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ وَهْوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ ‏"‏ مَا فَعَلَ كَعْبٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ‏.‏ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلاَّ خَيْرًا‏.‏ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلاً حَضَرَنِي هَمِّي، وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْىٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَىْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَيَرْكَعُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ، فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، وَيَحْلِفُونَ لَهُ، وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلاَنِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تَعَالَ ‏"‏‏.‏ فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي ‏"‏ مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلاً، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَىَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيهِ إِنِّي لأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، لاَ وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي مِنْ عُذْرٍ، وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلاَ أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ ‏"‏‏.‏ فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي، فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لاَ تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ الْمُتَخَلِّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبُ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ قَالُوا نَعَمْ، رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَ مَا قُلْتَ، فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيُّ وَهِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ‏.‏ فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا إِسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الأَرْضُ، فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَاىَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ، وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلاَةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ فِي الأَسْوَاقِ، وَلاَ يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهْوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَىَّ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلاَتِي أَقْبَلَ إِلَىَّ، وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهْوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَفَاضَتْ عَيْنَاىَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، قَالَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ، حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلَىَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ، فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ، وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلاَ مَضْيَعَةٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ‏.‏ فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلاَءِ‏.‏ فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا، حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا‏.‏ وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَتَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الأَمْرِ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنْ لاَ يَقْرَبْكِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَىْءٍ، وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا‏.‏ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لاِمْرَأَةِ هِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَلاَمِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلاَةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَىَّ نَفْسِي، وَضَاقَتْ عَلَىَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، أَبْشِرْ‏.‏ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا، وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَىَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ إِلَىَّ رَجُلٌ فَرَسًا، وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَىَّ، فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ، وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ، وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَىَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَىَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ، وَلاَ أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ ‏"‏ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِيتُ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلاَهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلاَنِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيتُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ‏}‏ فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ أَكُونَ كَذَبْتُهُ، فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْىَ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ‏}‏‏.‏ قَالَ كَعْبٌ وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ حَلَفُوا لَهُ، فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ ‏{‏وَعَلَى الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا‏}‏ وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الْغَزْوِ إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَبِلَ مِنْهُ‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ( جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے لڑکوں میں وہ ہی کعب رضی اللہ عنہ کو راستے میں پکڑ کر چلا کرتے تھے ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ تبوک کے سوا اور کسی غزوہ میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہوا ہوں۔ البتہ غزوہ بدر میں بھی شریک نہیں ہوا تھا لیکن جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی خفگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر صرف قریش کے قافلے کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی پہلی تیاری کے بغیر، آپ کی دشمنوں سے ٹکر ہو گئی اور میں لیلہ عقبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ یہ وہی رات ہے جس میں ہم نے ( مکہ میں ) اسلام کے لیے عہد کیا تھا اور مجھے تو یہ غزوہ بدر سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگرچہ بدر کا لوگوں کی زبانوں پر چرچہ زیادہ ہے۔ میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں کبھی اتنا قوی اور اتنا صاحب مال نہیں ہوا تھا جتنا اس موقع پر تھا۔ جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کے غزوے میں شریک نہیں ہو سکا تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اونٹ جمع نہیں ہوئے تھے لیکن اس موقع پر میرے پاس دو اونٹ موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ اس کے لیے ذومعنی الفاظ استعمال کیا کرتے تھے لیکن اس غزوہ کا جب موقع آیا تو گرمی بڑی سخت تھی، سفر بھی بہت لمبا تھا، بیابانی راستہ اور دشمن کی فوج کی کثرت تعداد! تمام مشکلات سامنے تھیں۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے اس غزوہ کے متعلق بہت تفصیل کے ساتھ بتا دیا تھا تاکہ اس کے مطابق پوری طرح سے تیاری کر لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت کی بھی نشاندہی کر دی جدھر سے آپ کا جانے کا ارادہ تھا۔ مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت تھے۔ اتنے کہ کسی رجسٹر میں سب کے ناموں کا لکھنا بھی مشکل تھا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کوئی بھی شخص اگر اس غزوے میں شریک نہ ہونا چاہتا تو وہ یہ خیال کر سکتا تھا کہ اس کی غیر حاضری کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ سوا اس کے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس غزوہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو پھل پکنے کا زمانہ تھا اور سایہ میں بیٹھ کر لوگ آرام کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیاریوں میں مصروف تھے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی۔ لیکن میں روزانہ سوچا کرتا تھا کہ کل سے میں بھی تیاری کروں گا اور اس طرح ہر روز اسے ٹالتا رہا۔ مجھے اس کا یقین تھا کہ میں تیاری کر لوں گا۔ مجھے آسانیاں میسر ہیں، یوں ہی وقت گزرتا رہا اور آخر لوگوں نے اپنی تیاریاں مکمل بھی کر لیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ بھی ہو گئے۔ اس وقت تک میں نے تیاری نہیں کی تھی۔ اس موقع پر بھی میں نے اپنے دل کو یہی کہہ کر سمجھا لیا کہ کل یا پرسوں تک تیاری کر لوں گا اور پھر لشکر سے جا ملوں گا۔ کوچ کے بعد دوسرے دن میں نے تیاری کے لیے سوچا لیکن اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ پھر تیسرے دن کے لیے سوچا اور اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ یوں ہی وقت گزر گیا اور اسلامی لشکر بہت آگے بڑھ گیا۔ غزوہ میں شرکت میرے لیے بہت دور کی بات ہو گئی اور میں یہی ارادہ کرتا رہا کہ یہاں سے چل کر انہیں پا لوں گا۔ کاش! میں نے ایسا کر لیا ہوتا لیکن یہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر نکلتا تو مجھے بڑا رنج ہوتا کیونکہ یا تو وہ لوگ نظر آتے جن کے چہروں سے نفاق ٹپکتا تھا یا پھر وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور اور ضعیف قرار دے دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن جب آپ تبوک پہنچ گئے تو وہیں ایک مجلس میں آپ نے دریافت فرمایا کہ کعب نے کیا کیا؟ بنو سلمہ کے ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کے غرور نے اسے آنے نہیں دیا۔ ( وہ حسن و جمال یا لباس پر اترا کر رہ گیا ) اس پر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بولے تم نے بری بات کہی۔ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہمیں ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے ہیں تو اب مجھ پر فکر سوار ہوا اور میرا ذہن کوئی ایسا جھوٹا بہانہ تلاش کرنے لگا جس سے میں کل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی سے بچ سکوں۔ اپنے گھر کے ہر عقلمند آدمی سے اس کے متعلق میں نے مشورہ لیا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے بالکل قریب آ چکے ہیں تو غلط خیالات میرے ذہن سے نکل گئے اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس معاملہ میں جھوٹ بول کر میں اپنے کو کسی طرح محفوظ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں نے سچی بات کہنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ جب آپ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہ آپ کی عادت تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے۔ جب آپ اس عمل سے فارغ ہو چکے تو آپ کی خدمت میں لوگ آنے لگے جو غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور قسم کھا کھا کر اپنے عذر بیان کرنے لگے۔ ایسے لوگوں کی تعداد اسی کے قریب تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر کو قبول فرما لیا، ان سے عہد لیا۔ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے۔ آپ کی مسکراہٹ میں خفگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، میں چند قدم چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم غزوہ میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ کیا تم نے کوئی سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کیا، میرے پاس سواری موجود تھی۔ اللہ کی قسم! اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دنیادار شخص کے سامنے آج بیٹھا ہوتا تو کوئی نہ کوئی عذر گھڑ کر اس کی خفگی سے بچ سکتا تھا، مجھے خوبصورتی کے ساتھ گفتگو کا سلیقہ معلوم ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بیان کر کے آپ کو راضی کر لوں تو بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اس کے بجائے اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی بات بیان کر دوں تو یقیناً آپ کو میری طرف سے خفگی ہو گی لیکن اللہ سے مجھے معافی کی پوری امید ہے۔ نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اللہ کی قسم اس وقت سے پہلے کبھی میں اتنا فارغ البال نہیں تھا اور پھر بھی میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتا دی۔ اچھا اب جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر دے۔ میں اٹھ گیا اور میرے پیچھے بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی دوڑے ہوئے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! ہمیں تمہارے متعلق یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہے اور تم نے بڑی کوتاہی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ویسا ہی کوئی عذر نہیں بیان کیا جیسا دوسرے نہ شریک ہونے والوں نے بیان کر دیا تھا۔ تمہارے گناہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں نے مجھے اس پر اتنی ملامت کی کہ مجھے خیال آیا کہ واپس جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی جھوٹا عذر کر آؤں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کیا میرے علاوہ کسی اور نے بھی مجھ جیسا عذر بیان کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں دو حضرات نے اسی طرح معذرت کی جس طرح تم نے کی ہے اور انہیں جواب بھی وہی ملا ہے جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے نام کیا ہیں؟ انہوں نے بتا کیا کہ مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دو ایسے صحابہ کا نام انہوں نے لے دیا تھا جو صالح تھے اور بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا طرز عمل میرے لیے نمونہ بن گیا۔ چنانچہ انہوں نے جب ان بزرگوں کا نام لیا تو میں اپنے گھر چلا آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی، بہت سے لوگ جو غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے، ان میں سے صرف ہم تین تھے! لوگ ہم سے الگ رہنے لگے اور سب لوگ بدل گئے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ ہم سے ساری دنیا بدل گئی ہے۔ ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ پچاس دن تک ہم اسی طرح رہے، میرے دو ساتھیوں نے تو اپنے گھروں سے نکلنا ہی چھوڑ دیا، بس روتے رہتے تھے لیکن میرے اندر ہمت تھی کہ میں باہر نکلتا تھا، مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھوما کرتا تھا لیکن مجھ سے بولتا کوئی نہ تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا تھا، آپ کو سلام کرتا، جب آپ نماز کے بعد مجلس میں بیٹھتے، میں اس کی جستجو میں لگا رہتا تھا کہ دیکھوں سلام کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہونٹ ہلے یا نہیں، پھر آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگ جاتا اور آپ کو کنکھیوں سے دیکھتا رہتا جب میں اپنی نماز میں مشغول ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے لیکن جونہی میں آپ کی طرف دیکھتا آپ رخ مبارک پھیر لیتے۔ آخر جب اس طرح لوگوں کی بےرخی بڑھتی ہی گئی تو میں ( ایک دن ) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے اور مجھے ان سے بہت گہرا تعلق تھا، میں نے انہیں سلام کیا، لیکن اللہ کی قسم! انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا، ابوقتادہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ اور اس کے رسول سے مجھے کتنی محبت ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اللہ کی قسم دے کر لیکن اب بھی وہ خاموش تھے، پھر میں نے اللہ کا واسطہ دے کر ان سے یہی سوال کیا۔ اس مرتبہ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اس پر میرے آنسو پھوٹ پڑے۔ میں واپس چلا آیا اور دیوار پر چڑھ کر ( نیچے، باہر اتر آیا ) انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میں مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ شام کا ایک کاشتکار جو غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ کعب بن مالک کہاں رہتے ہیں؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ میرے پاس آیا اور ملک غسان کا ایک خط مجھے دیا، اس خط میں یہ تحریر تھا۔ ”امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہار ے صاحب ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے ساتھ زیادتی کرنے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی ذلیل نہیں پیدا کیا ہے کہ تمہارا حق ضائع کیا جائے، تم ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہارے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کریں گے۔“ جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک اور امتحان آ گیا۔ میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا۔ ان پچاس دنوں میں سے جب چالیس دن گزر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی میرے پاس آئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی کے بھی قریب نہ جاؤ۔ میں نے پوچھا میں اسے طلاق دے دوں یا پھر مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ انہوں نے بتایا کہ نہیں صرف ان سے جدا ہو، ان کے قریب نہ جاؤ میرے دونوں ساتھیوں کو ( جنہوں نے میری طرح معذرت کی تھی ) بھی یہی حکم آپ نے بھیجا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب اپنے میکے چلی جاؤ اور اس وقت تک وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا کوئی فیصلہ نہ کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہلال بن امیہ ( جن کا مقاطعہ ہوا تھا ) کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ بہت ہی بوڑھے اور کمزور ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے، کیا اگر میں ان کی خدمت کر دیا کروں تو آپ ناپسند فرمائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف وہ تم سے صحبت نہ کریں۔ انہوں نے عرض کی۔ اللہ کی قسم! وہ تو کسی چیز کے لیے حرکت بھی نہیں کر سکتے۔ جب سے یہ خفگی ان پر ہوئی ہے وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ان کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے۔ میرے گھر کے بعض لوگوں نے کہا کہ جس طرح ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو ان کی خدمت کرتے رہنے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی ہے، آپ بھی اسی طرح کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیجئے۔ میں نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لوں گا، میں جوان ہوں، معلوم نہیں جب سے اجازت لینے جاؤں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں۔ اس طرح دس دن اور گزر گئے اور جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اس کے پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ چکا اور اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا، اس طرح جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، میرا دم گھٹا جا رہا تھا اور زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود میرے لیے تنگ ہوتی جا رہی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا، اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب فراخی ہو جائے گی۔ فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ میرے یہاں بشارت دینے کے لیے آنے لگے اور میرے دو ساتھیوں کو بھی جا کر بشارت دی۔ ایک صاحب ( زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) اپنا گھوڑا دوڑائے آ رہے تھے، ادھر قبیلہ اسلم کے ایک صحابی نے پہاڑی پر چڑھ کر ( آواز دی ) اور آواز گھوڑے سے زیادہ تیز تھی۔ جن صحابی نے ( سلع پہاڑی پر سے ) آواز دی تھی، جب وہ میرے پاس بشارت دینے آئے تو اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس بشارت کی خوشی میں، میں نے انہیں دے دئیے۔ اللہ کی قسم کہ اس وقت ان دو کپڑوں کے سوا ( دینے کے لائق ) اور میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ پھر میں نے ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جوق در جوق لوگ مجھ سے ملاقات کرتے جاتے تھے اور مجھے توبہ کی قبولیت پر بشارت دیتے جاتے تھے، کہتے تھے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، آخر میں مسجد میں داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ چاروں طرف صحابہ کا مجمع تھا۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑ کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! ( وہاں موجود ) مہاجرین میں سے کوئی بھی ان کے سوا، میرے آنے پر کھڑا نہیں ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا: ( چہرہ مبارک خوشی اور مسرت دمک اٹھا تھا ) اس مبارک دن کے لیے تمہیں بشارت ہو جو تمہاری عمر کا سب سے مبارک دن ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے؟ فرمایا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر خوش ہوتے تو چہرہ مبارک روشن ہو جاتا تھا، ایسا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ کی مسرت ہم تو چہرہ مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔ پھر جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں، میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کچھ مال اپنے پاس بھی رکھ لو، یہ زیادہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لوں گا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی۔ اب میں اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا سچ کے سوا اور کوئی بات زبان پر نہ لاؤں گا۔ پس اللہ کی قسم! جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے اتنا نوازا ہو، جتنی نوازشات اس کی مجھ پر سچ بولنے کی وجہ سے ہیں۔ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، پھر آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت ( ہمارے بارے میں ) نازل کی تھی۔ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کی“ اس کے ارشاد «وكونوا مع الصادقين‏» تک اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے لیے ہدایت کے بعد، میری نظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سچ بولنے سے بڑھ کر اللہ کا مجھ پر اور کوئی انعام نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور اس طرح اپنے کو ہلاک نہیں کیا۔ جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے تھے۔ نزول وحی کے زمانہ میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے اتنی شدید وعید فرمائی جتنی شدید کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی ہو گی۔ فرمایا ہے «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم‏» ارشاد «فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين‏» تک۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ چنانچہ ہم تین، ان لوگوں کے معاملے سے جدا رہے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم کھا لی تھی اور آپ نے ان کی بات مان بھی لی تھی، ان سے بیعت بھی لی تھی اور ان کے لیے طلب مغفرت بھی فرمائی تھی۔ ہمارا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلى الثلاثة الذين خلفوا‏» سے یہی مراد ہے کہ ہمار ا مقدمہ ملتوی رکھا گیا اور ہم ڈھیل میں ڈال دئیے گئے۔ یہ نہیں مراد ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر اپنے عذر بیان کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجْرِ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَجَازَ الْوَادِيَ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام حجر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں کی بستیوں سے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جب گزرنا ہو تو روتے ہوئے ہی گزرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک پر چادر ڈال لی اور بڑی تیزی کے ساتھ چلنے لگے، یہاں تک کہ اس وادی سے نکل آئے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِ الْحِجْرِ ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ‏"‏‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا کہ اس «معذب» قوم کی بستی سے جب تمہیں گزرنا ہی ہے تو تم روتے ہوئے گزرو، کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے جو ان پر آیا تھا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ـ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ـ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ ‏ "‏ هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو ( مدینہ کی طرف اشارہ کر کے ) فرمایا کہ یہ «طابة» ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلاَّ كَانُوا مَعَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ‏"‏‏.‏
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے قطع کیا وہ ( اپنے دل سے ) تمہارے ساتھ ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ ان کا قیام اس وقت بھی مدینہ میں ہی رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی ( اپنے دل سے تمہارے ساتھ تھے ) وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے تھے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ ـ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ ـ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ‏.‏
ہم سے اسحاق بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( شاہ فارس ) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں ( جو کسریٰ کا عالم تھا ) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ الْجَمَلِ، بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى قَالَ ‏ "‏ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ‏"‏‏.‏
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آ گیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر ( علی رضی اللہ عنہ کی ) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَقُولُ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَعَ الصِّبْيَانِ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( «مع الغلمان» کے بجائے ) «مع الصبيان‏.‏» بیان کیا۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ، أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح