سنن ابن ماجہ — باب ۶Chapters Regarding Funerals
۲۰۵ احادیث (نمبر ۱۴۳۳ تا ۱۶۳۷) (صفحہ 4) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ . فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ قَالَ اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا وَصَعِّدْ رُوحَهَا وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا . قُلْتُ يَا ابْنَ عُمَرَ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ قَالَ إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ بَلْ شَىْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں ( حالانکہ ایسا نہیں ہے ) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الأَعْلَى، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَىَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( اپنے انتقال کے وقت ) کہا: میرے لیے بغلی قبر ( لحد ) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ. فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا فَأَيُّهُمَا سَبَقَ تَرَكْنَاهُ . فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ. فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
Al-Albani: Hasan SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ . فَقَالَ: عُمَرُ لاَ تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَيًّا وَلاَ مَيِّتًا أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ وَاللاَّحِدِ جَمِيعًا فَجَاءَ اللاَّحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ دُفِنَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔
Al-Albani: HasanMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ، قَالَ جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُرَاءٍ . قَالَ فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ فَقَالَ " أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ . فَقَالَ " أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا " .
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَعْلَمَ قَبْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بِصَخْرَةٍ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا۔
Al-Albani: Hasan SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan SahihShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْقَبْرِ شَىْءٌ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلاَثًا .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ تُحْرِقُهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لأَنْ أَمْشِيَ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ سَيْفٍ أَوْ أَخْصِفَ نَعْلِي بِرِجْلِي أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَمْشِيَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ وَمَا أُبَالِي أَوَسَطَ الْقُبُورِ قَضَيْتُ حَاجَتِي أَوْ وَسَطَ السُّوقِ " .
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں انگارے یا تلوار پہ چلوں، یا اپنا جوتا پاؤں میں سی لوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قضائے حاجت کروں قبروں کے بیچ میں یا بازار کے بیچ میں ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ قَدْ أَتَانِيهِ اللَّهُ . فَمَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ " أَدْرَكَ هَؤُلاَءِ خَيْرًا كَثِيرًا " . ثُمَّ مَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " سَبَقَ هَؤُلاَءِ خَيْرٌ كَثِيرٌ " . قَالَ فَالْتَفَتَ فَرَأَى رَجُلاً يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ فَقَالَ " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ يَقُولُ حَدِيثٌ جَيِّدٌ وَرَجُلٌ ثِقَةٌ .
بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے ( حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے ؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ ( اسی اثناء میں ) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: انہیں بہت بھلائی مل گئی ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوتوں والے! انہیں اتار دے ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے۔
Al-Albani: HasanShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: Sahih LighairihiZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَخَّصَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الآخِرَةَ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎ ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ زَارَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَكَانَ وَكَانَ. فَأَيْنَ هُوَ قَالَ " فِي النَّارِ " . قَالَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ " . قَالَ فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدُ وَقَالَ لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ تَعَبًا مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلاَّ بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ح: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، وَقَبِيصَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ .
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔
Al-Albani: HasanMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanShuaib Al Arnaut: Hasan LighairihiZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: Hasan LighairihiZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ أَبُو نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanShuaib Al Arnaut: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا .
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ فَقَالَ " مَا يُجْلِسُكُنَّ " . قُلْنَ نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ . قَالَ " هَلْ تَغْسِلْنَ " . قُلْنَ لاَ . قَالَ " هَلْ تَحْمِلْنَ " . قُلْنَ لاَ . قَالَ " هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي " . قُلْنَ لاَ . قَالَ " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " .
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى الصَّهْبَاءِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ {وَلاَ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَ: " النَّوْحُ " .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» ( سورة الممتنحة: 12 ) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ۱؎ ۔
Al-Albani: HasanMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ النَّوْحِ .
معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ ( چلّا کر رونے ) سے منع فرمایا ہے
Muhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدُرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔
Al-Albani: HasanMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanShuaib Al Arnaut: Very DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( نوحہ میں ) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ .
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي، بُرْدَةَ قَالاَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ " .
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے ۱؎۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ " لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ . قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهُ شَنَّةٌ . قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا: ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ ۔
Al-Albani: SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: SahihShuaib Al Arnaut: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ - أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهَ حَقَّهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ لَوْلاَ أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ وَأَنَّ الآخِرَ تَابِعٌ لِلأَوَّلِ لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " .
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ ۔
Al-Albani: HasanMuhammad Fouad Abd al-Baqi: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا قُتِلَ أَخُوكِ . فَقَالَتْ رَحِمَهُ اللَّهُ وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . قَالُوا قُتِلَ زَوْجُكِ . قَالَتْ وَاحُزْنَاهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَىْءٍ " .
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا ۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَكِنَّ حَمْزَةَ لاَ بَوَاكِيَ لَهُ " . فَجَاءَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ؟ مُرُوهُنَّ فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلاَ يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔
Al-Albani: Hasan SahihMuhammad Fouad Abd al-Baqi: Hasan SahihShuaib Al Arnaut: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمَرَاثِي .
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Al-Albani: DaifMuhammad Fouad Abd al-Baqi: DaifShuaib Al Arnaut: DaifZubair Ali Zai: Daif