دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۱۸

موطا امام مالک — باب ۱۸Fasting

۵۸ احادیث (نمبر ۶۳۰ تا ۶۸۹) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچو تم تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا آپ رکھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے رات کو میرا رب کھلا دیتا ہے اور پلا دیتا ہے ۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نذر کی ایک مہینہ روزے رکھنے کی اب اس کو نفل روزہ رکھنا درست ہے جواب دیا کہ پہلے نذر کے روزے رکھ لے پھر نفل رکھے ۔
Salim al-Hilali: Daif
قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ مِنْ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا أَوْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ بَدَنَةٍ فَأَوْصَى بِأَنْ يُوَفَّى ذَلِكَ عَنْهُ مِنْ مَالِهِ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ وَالْبَدَنَةَ فِي ثُلُثِهِ وَهُوَ يُبَدَّى عَلَى مَا سِوَاهُ مِنَ الْوَصَايَا إِلاَّ مَا كَانَ مِثْلَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ مِنَ النُّذُورِ وَغَيْرِهَا كَهَيْئَةِ مَا يَتَطَوَّعُ بِهِ مِمَّا لَيْسَ بِوَاجِبٍ وَإِنَّمَا يُجْعَلُ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ خَاصَّةً دُونَ رَأْسِ مَالِهِ لأَنَّهُ لَوْ جَازَ لَهُ ذَلِكَ فِي رَأْسِ مَالِهِ لأَخَّرَ الْمُتَوَفَّى مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الأُمُورِ الْوَاجِبَةِ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ وَصَارَ الْمَالُ لِوَرَثَتِهِ سَمَّى مِثْلَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَتَقَاضَاهَا مِنْهُ مُتَقَاضٍ فَلَوْ كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا لَهُ أَخَّرَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ مَوْتِهِ سَمَّاهَا وَعَسَى أَنْ يُحِيطَ بِجَمِيعِ مَالِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُسْأَلُ هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، فَيَقُولُ لاَ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلاَ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِيهِ، خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَفْطَرَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدِ اجْتَهَدْنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ الْخَطْبُ يَسِيرٌ الْقَضَاءَ فِيمَا نُرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَخِفَّةَ مَؤُونَتِهِ وَيَسَارَتِهِ يَقُولُ نَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ ‏.‏
خالد بن اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک روزہ افطار کیا رمضان میں اور اس دن ابر تھا ان کو یہ معلوم ہوا کہ شام ہوگئی اور آفتاب ڈوب گیا پس ایک شخص آیا اور بولا یا امیر المومنین آفتاب نکل آیا حضرت عمر نے فرمایا اس کا تدارک سہل ہے ہم نے اپنے ظن پر عمل کیا تھا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ يَصُومُ قَضَاءَ رَمَضَانَ مُتَتَابِعًا مَنْ أَفْطَرَهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ فِي سَفَرٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جس شخص کے رمضان کے روزے قضا ہوں بیماری سے یا سفر سے تو ان کی قضا لگاتار رکھے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ اخْتَلَفَا فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ لاَ يُفَرِّقُ بَيْنَهُ ‏.‏ لاَ أَدْرِي أَيَّهُمَا قَالَ يُفَرِّقُ بَيْنَهُ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ نے اختلاف کیا رمضان کی قضا میں ایک نے کہا کہ رمضان کے روزوں کی قضا پے درپے رکھنے ضروری نہیں دوسرے نے کہا پے درپے رکھنا ضروری ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ کس نے ان دونوں میں سے پے درپے رکھنے کو کہا اور کس نے یہ کہا کہ پے درپے رکھنا ضروری نہیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنِ اسْتَقَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قصدا قے کرے روزے میں تو اس پر قضا واجب ہے اور جس کو خود قے آجائے تو اس پر قضا نہیں ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُسْأَلُ عَنْ قَضَاءِ، رَمَضَانَ فَقَالَ سَعِيدٌ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ لاَ يُفَرَّقَ قَضَاءُ رَمَضَانَ وَأَنْ يُوَاتَرَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِيمَنْ فَرَّقَ قَضَاءَ رَمَضَانَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ وَذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَحَبُّ ذَلِكَ إِلَىَّ أَنْ يُتَابِعَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِي رَمَضَانَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا أَوْ مَا كَانَ مِنْ صِيَامٍ وَاجِبٍ عَلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ قَضَاءَ يَوْمٍ مَكَانَهُ ‏.‏
یحیی بن سعید نے سنا سعید بن مسیب سے پوچھا گیا ان سے رمضان کی قضا کے بارے میں تو کہا سعید نے میرے نزدیک یہ بات اچھی ہے کہ رمضان کی قضا پے درپے رکھے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَسَأَلَهُ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ الْكَفَّارَةِ أَمُتَتَابِعَاتٍ أَمْ يَقْطَعُهَا قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ يَقْطَعُهَا إِنْ شَاءَ ‏.‏ قَالَ مُجَاهِدٌ لاَ يَقْطَعُهَا فَإِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَكُونَ مَا سَمَّى اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ يُصَامُ مُتَتَابِعًا ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الْمَرْأَةِ تُصْبِحُ صَائِمَةً فِي رَمَضَانَ فَتَدْفَعُ دَفْعَةً مِنْ دَمٍ عَبِيطٍ فِي غَيْرِ أَوَانِ حَيْضِهَا ثُمَّ تَنْتَظِرُ حَتَّى تُمْسِيَ أَنْ تَرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَلاَ تَرَى شَيْئًا ثُمَّ تُصْبِحُ يَوْمًا آخَرَ فَتَدْفَعُ دَفْعَةً أُخْرَى وَهِيَ دُونَ الأُولَى ثُمَّ يَنْقَطِعُ ذَلِكَ عَنْهَا قَبْلَ حَيْضَتِهَا بِأَيَّامٍ فَسُئِلَ مَالِكٌ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي صِيَامِهَا وَصَلاَتِهَا قَالَ مَالِكٌ ذَلِكَ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَإِذَا رَأَتْهُ فَلْتُفْطِرْ وَلْتَقْضِ مَا أَفْطَرَتْ فَإِذَا ذَهَبَ عَنْهَا الدَّمُ فَلْتَغْتَسِلْ وَتَصُومُ ‏.‏ وَسُئِلَ عَمَّنْ أَسْلَمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَلْ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ كُلِّهِ أَوْ يَجِبُ عَلَيْهِ قَضَاءُ الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمَ فِيهِ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ مَا مَضَى وَإِنَّمَا يَسْتَأْنِفُ الصِّيَامَ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَقْضِيَ الْيَوْمَ الَّذِي أَسْلَمَ فِيهِ ‏.‏
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ میں ساتھ تھا مجاہد کے اور طواف کر رہے تھے خانہ کعبہ کا اتنے میں ایک آدمی آیا اور پوچھا کہ قسم کے کفارے کے روزے پے درپے ہیں یا جدا جدا حمید نے کہا ہاں جدا جدا بھی رکھ سکتا ہے اگر چاہے مجاہد نے کہا نہیں کیونکہ ابی بن کعب کی قرأت میں ہے ثلثة ایام متتابعات یعنی روزے تین دن کے پے درپے ۔
Salim al-Hilali: Hasan
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَبَدَرَتْنِي بِالْكَلاَمِ - وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا - يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْضِيَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ اور ام المومنین حفصہ صبح اٹھیں نفل روزہ رکھ کر پھر کھانے کا حصہ آیا تو انہوں نے روزہ کھول ڈالا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے عائشہ فرماتی ہیں کہ حفصہ نے کہا شروع کر دیا مجھے بولنے نہ دیا آخر اپنے باپ کی بیٹی تھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور عائشہ صبح کو اٹھیں نفل روزہ رکھ کر تو ہمارے پاس حصہ آیا کھانے کا ہم نے روزہ کھول ڈالا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے عوض میں ایک روزہ قضا کا رکھو ۔
Salim al-Hilali: Munkar
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، كَبِرَ حَتَّى كَانَ لاَ يَقْدِرُ عَلَى الصِّيَامِ فَكَانَ يَفْتَدِي ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ أَرَى ذَلِكَ وَاجِبًا وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَفْعَلَهُ إِذَا كَانَ قَوِيًّا عَلَيْهِ فَمَنْ فَدَى فَإِنَّمَا يُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مُدًّا بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ، إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا وَاشْتَدَّ عَلَيْهَا الصِّيَامُ قَالَ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَرَوْنَ عَلَيْهَا الْقَضَاءَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‏}‏ وَيَرَوْنَ ذَلِكَ مَرَضًا مِنَ الأَمْرَاضِ مَعَ الْخَوْفِ عَلَى وَلَدِهَا ‏.‏
امام مالک کو پہنچا انس بن مالک بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ روزہ نہ رکھ سکتے تھے تو فدیہ دیتے تھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ حاملہ عورت اگر خوف کرے اپنے حمل کا اور روزہ نہ رکھ سکے تو کہا انہوں نے روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد گیہوں دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقْضِهِ - وَهُوَ قَوِيٌّ عَلَى صِيَامِهِ - حَتَّى جَاءَ رَمَضَانُ آخَرُ فَإِنَّهُ يُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ وَعَلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے وہ کہتے تھے جس شخص پر رمضان کی قضا لازم ہو پھر وہ قضا نہ کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آجائے اور وہ قادر رہا ہو روزے پر تو ہر روزے کے بدلے میں ایک ایک مسکین کو ایک ایک مد گیہوں کا دے اور قضا بھی رکھے ۔ امام مالک کو سعید بن جبیر سے بھی ایسا ہی پہنچا
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَىَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَصُومُهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ
ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں میرے اوپر روزے ہوتے تھے رمضان کے اور میں قضا رکھ نہیں سکتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلاَّ رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ‏.‏
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب افطار نہ کریں گے اور پھر افطار کرتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب روزہ نہ رکھیں گے اور میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ کسی مہینہ کے پورے روزہ رکھے ہوں سوائے رمضان کے اور کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہ رکھتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے تو جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو چاہیے کہ بے ہودہ نہ بکے اور جہالت نہ کرے اگر کوئی شخص اسے گالیاں بکے یا لڑے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلاَّ الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ روزہ دار کے منہ کی بو زیادہ پسند ہے مشک کی بو سے اللہ جل جلالہ کے نزدیک کیونکہ وہ چھوڑ دیتا ہے اپنی خواہشوں کو اور کھانے کو اور پانی کو میرے واسطے تو وہ روزہ میرے واسطے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا جو نیکی ہے اس کا ثواب دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گا مگر روزہ وہ میرے واسطے ہے اور اس کا ثواب بھی میں ہی دوں گا۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ‏.‏
ابوہریرہ نے کہا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور شیطان باندھ دیئے جاتے ہیں
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih