موطا امام مالک — باب ۲۲Vows and Oaths
۱۸ احادیث (نمبر ۱۰۰۹ تا ۱۰۲۷) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْضِهِ عَنْهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میری ماں مر گئی اور اس پر ایک نذر واجب تھی اس نے ادا نہیں کی آپ نے فرمایا تو ادا کرو اس کی طرف سے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا كَانَتْ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا مَشْيًا إِلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ فَمَاتَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ فَأَفْتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ابْنَتَهَا أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لاَ يَمْشِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ .
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اپنی پھوپھی سے انہوں نے بیان کیا کہ ان کی دادی نے نذر کی مسجد قبا میں پیدل جانے کی پھر مر گئیں اور اس نذر کو ادا نہیں کیا تو عبداللہ بن عباس نے ان کی بیٹی کو حکم کیا کہ وہ ان کی طرف سے اس نذر کو ادا کریں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، مَا عَلَى الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ عَلَىَّ نَذْرُ مَشْىٍ . فَقَالَ لِي رَجُلٌ هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا الْجِرْوَ - لِجِرْوِ قِثَّاءٍ فِي يَدِهِ - وَتَقُولُ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقُلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ ثُمَّ مَكَثْتُ حَتَّى عَقَلْتُ فَقِيلَ لِي إِنَّ عَلَيْكَ مَشْيًا فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِي عَلَيْكَ مَشْىٌ . فَمَشَيْتُ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا .
عبداللہ بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا ایک شخص سے اور میں کمسن تھا کہ اگر کوئی شخص صرف اتنا ہی کہے کہ علی مشئی الی بیت اللہ یعنی میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور یہ نہیں کہا کہ میرے اوپر نذر ہے پیدل چلنے کی بیت اللہ تک تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا، وہ شخص مجھ سے بولا کہ میرے ہاتھ میں یہ ککڑی ہے تجھے دیتا ہوں تو اتنا کہہ دے کہ میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک میں نے کہا ہاں کہتا ہوں تو میں نے کہہ دیا اور میں کم سن تھا پھر ٹھہر کر تھوڑی دیر میں مجھے عقل آئی اور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تجھ پیدل چلنا بیت اللہ تک واجب ہوا میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور ان سے پوچھا انہوں نے بھی کہا کہ تجھ پر پیدل چلنا واجب ہوا بیت اللہ تک تو میں پیدل چلا بیت اللہ تک ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًى لَهَا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ثُمَّ لْتَمْشِي مِنْ حَيْثُ عَجَزَتْ . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَنَرَى عَلَيْهَا مَعَ ذَلِكَ الْهَدْىَ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولاَنِ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
عروہ بن اذینه لیثی سے روایت ہے کہ کہا میں نکلا اپنی دادی کے ساتھ اور اس نے نذر کی تھی بیت اللہ تک پیدل جانے کی، راستے میں تھک گئیں تو اپنے غلام کو بھیجا عبداللہ بن عمر کے پاس مسئلہ پوچھنے کو میں بھی ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ اب سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے جہاں سے سوار ہوئی تھیں وہاں سے پیدل چلے ۔ کہا مالک نے اور باوجود اس کے ایک ہدیہ بھی اس پر واجب ہے ۔ سعید بن مسیب اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے اس مسئلہ میں جیسا عبداللہ بن عمر نے کہا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ عَلَىَّ مَشْىٌ فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ فَقَالُوا عَلَيْكَ هَدْىٌ . فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ عُلَمَاءَهَا فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مَرَّةً أُخْرَى مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ فَمَشَيْتُ . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فَالأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ يَقُولُ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ رَكِبَ ثُمَّ عَادَ فَمَشَى مِنْ حَيْثُ عَجَزَ فَإِنْ كَانَ لاَ يَسْتَطِيعُ الْمَشْىَ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَرْكَبْ وَعَلَيْهِ هَدْىُ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَوْ شَاةٍ إِنْ لَمْ يَجِدْ إِلاَّ هِيَ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَقَالَ مَالِكٌ إِنْ نَوَى أَنْ يَحْمِلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْمَشَقَّةَ وَتَعَبَ نَفْسِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلْيَمْشِ عَلَى رِجْلَيْهِ وَلْيُهْدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى شَيْئًا فَلْيَحْجُجْ وَلْيَرْكَبْ وَلْيَحْجُجْ بِذَلِكَ الرَّجُلِ مَعَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَإِنْ أَبَى أَنْ يَحُجَّ مَعَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ . قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِنُذُورٍ مُسَمَّاةٍ مَشْيًا إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ بِكَذَا وَكَذَا نَذْرًا لِشَىْءٍ لاَ يَقْوَى عَلَيْهِ وَلَوْ تَكَلَّفَ ذَلِكَ كُلَّ عَامٍ لَعُرِفَ أَنَّهُ لاَ يَبْلُغُ عُمْرُهُ مَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ هَلْ يُجْزِيهِ مِنْ ذَلِكَ نَذْرٌ وَاحِدٌ أَوْ نُذُورٌ مُسَمَّاةٌ فَقَالَ مَالِكٌ مَا أَعْلَمُهُ يُجْزِئُهُ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ الْوَفَاءُ بِمَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنَ الزَّمَانِ وَلْيَتَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا اسْتَطَاعَ مِنَ الْخَيْرِ .
یحیی بن سعید نے کہا میں نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر کی تھی میری ناف میں درد ہونے لگا میں سوار ہو کر مکے میں آیا اور عطا بن ابی رباح وغیرہ سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو ہدی لازم ہے جب میں مدینہ آیا وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو دوبارہ پیدل چلنا چاہئے جہاں سے سوار ہوا تھا تو پیدل چلائیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور چلے پھر عاجز ہو جائے تو سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے تو جہاں سے سوار ہوا تھا وہاں سے پیدل چلے اگر چلنے کی طاقت نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے چلے پھر سوار ہو جائے اور ہدی میں ایک اونٹ یا گائے دے اگر نہ ہو سکے تو بکری دے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ وَلاَ يَجْلِسَ وَيَصُومَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " . قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِكَفَّارَةٍ وَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتِمَّ مَا كَانَ لِلَّهِ طَاعَةً وَيَتْرُكَ مَا كَانَ لِلَّهِ مَعْصِيَةً .
حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تَنْحَرِي ابْنَكِ وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، . فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ وَ {الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ} ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک عورت عبداللہ بن عباس کے پاس آئی اور بولی میں نے نذر کی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی ابن عباس نے کہا مت ذبح کر اپنے بیٹے کو اور کفارہ دے اپنی قسم کا ایک شخص بولا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس نذر میں کفارہ کیوں ہوگا ابن عباس نے جواب دیا کہ ظہار بھی ایک معصیت ہے اور اس میں اللہ نے کفارہ مقرر کیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ " .
کہا مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا اگر کوئی نذر کرے اللہ کی معصیت کی تو معصیت نہ کرے مراد اس سے یہ ہے کہ مثلا آدمی نذر کرے شام یا مصر یا جدہ یا زبدہ میں جانے کی یا اور کسی کام کی جو ثواب نہیں ہے اگر ایسے امورات میں اس کی قسم ٹوٹے مثلا یوں کہے کہ اگر میں زید سے بات کروں تو مصر جاؤں گا پھر زید سے پات کرے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا بلکہ اس نذر کا پورا کرنا ضرور ہے جس میں ثواب ہو۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ لَغْوُ الْيَمِينِ قَوْلُ الإِنْسَانِ لاَ وَاللَّهِ بَلَى وَاللَّهِ . قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي هَذَا أَنَّ اللَّغْوَ حَلِفُ الإِنْسَانِ عَلَى الشَّىْءِ يَسْتَيْقِنُ أَنَّهُ كَذَلِكَ ثُمَّ يُوجَدُ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ اللَّغْوُ . قَالَ مَالِكٌ وَعَقْدُ الْيَمِينِ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ أَنْ لاَ يَبِيعَ ثَوْبَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ ثُمَّ يَبِيعَهُ بِذَلِكَ أَوْ يَحْلِفَ لَيَضْرِبَنَّ غُلاَمَهُ ثُمَّ لاَ يَضْرِبُهُ وَنَحْوَ هَذَا فَهَذَا الَّذِي يُكَفِّرُ صَاحِبُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَلَيْسَ فِي اللَّغْوِ كَفَّارَةٌ . قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الَّذِي يَحْلِفُ عَلَى الشَّىْءِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ آثِمٌ وَيَحْلِفُ عَلَى الْكَذِبِ وَهُوَ يَعْلَمُ لِيُرْضِيَ بِهِ أَحَدًا أَوْ لِيَعْتَذِرَ بِهِ إِلَى مُعْتَذَرٍ إِلَيْهِ أَوْ لِيَقْطَعَ بِهِ مَالاً فَهَذَا أَعْظَمُ مِنْ أَنْ تَكُونَ فِيهِ كَفَّارَةٌ .
حضرت ام المومنین عائشہ فرماتی تھیں کہ لغو قسم وہ ہے جو آدمی باتوں میں کہتا ہے نہیں و اللہ ہاں و اللہ ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ قَالَ وَاللَّهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ لَمْ يَفْعَلِ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ لَمْ يَحْنَثْ . قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الثُّنْيَا أَنَّهَا لِصَاحِبِهَا مَا لَمْ يَقْطَعْ كَلاَمَهُ وَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ نَسَقًا يَتْبَعُ بَعْضُهُ بَعْضًا قَبْلَ أَنْ يَسْكُتَ فَإِذَا سَكَتَ وَقَطَعَ كَلاَمَهُ فَلاَ ثُنْيَا لَهُ . قَالَ يَحْيَى وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ كَفَرَ بِاللَّهِ أَوْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ ثُمَّ يَحْنَثُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَلَيْسَ بِكَافِرٍ وَلاَ مُشْرِكٍ حَتَّى يَكُونَ قَلْبُهُ مُضْمِرًا عَلَى الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ وَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَلاَ يَعُدْ إِلَى شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَبِئْسَ مَا صَنَعَ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قسم کھائے اللہ کی پھر کہے انشاء اللہ پھر نہ کرے اس کام کو جس پر قسم کھائی تھی تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی ۔
Salim al-Hilali: Hasan
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف بہتر معلوم ہو تو کفارہ دے قسم کا اور کرے جو بہتر معلوم ہو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَوَكَّدَهَا ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ أَوْ كِسْوَةُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ وَمَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَلَمْ يُؤَكِّدْهَا ثُمَّ حَنِثَ فَعَلَيْهِ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قسم کھائے پھر اس کو مکرر سہ کرر کہے پھر قسم توڑے تو اس پر ایک بردے کا آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا لازم آئے گا اگر ایک ہی مرتبہ کہے تو دس مسکینوں کو کھانا دے ہر مسکین کو ایک مد گہیوں کا اگر اس پر قدرت نہ ہو تو تین روزے رکھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ، بِإِطْعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ وَكَانَ يَعْتِقُ الْمِرَارَ إِذَا وَكَّدَ الْيَمِينَ .
عبداللہ بن عمر جب اپنی قسم کا کفارہ دیتے تھے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہر مسکین کو ایک مد گہیوں کا دیتے تھے اور جب ایک قسم کو چند بار کہتے تھے تو اتنے ہی بردے آزاد کرتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ إِذَا أَعْطَوْا فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ أَعْطَوْا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِالْمُدِّ الأَصْغَرِ وَرَأَوْا ذَلِكَ مُجْزِئًا عَنْهُمْ . قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الَّذِي يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ بِالْكِسْوَةِ أَنَّهُ إِنْ كَسَا الرِّجَالَ كَسَاهُمْ ثَوْبًا ثَوْبًا وَإِنْ كَسَا النِّسَاءَ كَسَاهُنَّ ثَوْبَيْنِ ثَوْبَيْنِ دِرْعًا وَخِمَارًا وَذَلِكَ أَدْنَى مَا يُجْزِي كُلاًّ فِي صَلاَتِهِ .
سلیمان بن یسار نے کہا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جب کفارہ قسم کا دیتے تھے تو ہر ایک مسکین کو ایک مد گہیوں کا چھوٹے مد سے دیا کرتے تھے اور اس کو کافی سمجھتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے عمر بن خطاب سے اور وہ جا رہے تھے سواروں میں اور قسم کھا رہے تھے اپنے باپ کی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ منع کرتا ہے تم کو اس بات سے کہ قسم کھاؤ تم اپنے باپو کی جو شخص تم میں سے قسم کھانی چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے ۔ امام مالک کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قسم مقلب القلوب کی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، حِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْجُرُ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ وَأُجَاوِرُكَ وَأَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ " .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابولبابہ کی توبہ جب اللہ نے قبول کی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا چھوڑ دوں میں اپنی قوم کے گھر کو جس میں میں نے گناہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہوں اور اپنے مال میں سے صدقہ نکالوں اللہ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی مال تجھ کو اپنے مال میں سے صدقہ نکالنا کافی ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، - رضى الله عنها أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ رَجُلٍ قَالَ مَالِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَقُولُ مَالِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَحْنَثُ قَالَ يَجْعَلُ ثُلُثَ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَذَلِكَ لِلَّذِي جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرِ أَبِي لُبَابَةَ .
حضرت عائشہ سے سوال ہوا ایک شخص نے کہا مال میرا کعبہ کے دروازے پر وقف ہے انہوں نے کہا اس میں کفارہ قسم کا لازم آئے گا ۔ کہا مالک نے جو شخص یہ کہے کہ مال میرا اللہ کی راہ میں ہے تو تہائی مال صدقہ کرے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی لبابہ کو ایسا ہی حکم کیا ۔
Salim al-Hilali: Sahih