موطا امام مالک — باب ۲۴Slaughtering Animals
۱۰ احادیث (نمبر ۱۰۴۲ تا ۱۰۵۱) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ وَلاَ نَدْرِي هَلْ سَمَّوُا اللَّهَ عَلَيْهَا أَمْ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهَا ثُمَّ كُلُوهَا " . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ بدو لوگ گوشے لے کر ہمارے پاس آتے اور ہم کو نہیں معلوم کہ انہوں نے بسم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہی تھی یا نہیں ذبح کے وقت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بسم اللہ کہہ کے اس کو کھالو ۔ کہا مالک نے یہ حدیث ابتدائے اسلام کی ہے ،۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ، أَمَرَ غُلاَمًا لَهُ أَنْ يَذْبَحَ ذَبِيحَةً فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهَا قَالَ لَهُ سَمِّ اللَّهَ . فَقَالَ لَهُ الْغُلاَمُ قَدْ سَمَّيْتُ . فَقَالَ لَهُ سَمِّ اللَّهَ وَيْحَكَ . قَالَ لَهُ قَدْ سَمَّيْتُ اللَّهَ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهَا أَبَدًا .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عیاش نے حکم کیا اپنے غلام کو ایک جانور ذبح کرنے کا جب وہ ذبح کرنے لگا تو عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ، غلام نے کہا میں کہہ چکا، پھر عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ خرابی ہو تیرے لئے، غلام نے کہا میں کہہ چکا عبداللہ نے کہا قسم ہے اللہ کی میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً لَهُ بِأُحُدٍ فَأَصَابَهَا الْمَوْتُ فَذَكَّاهَا بِشِظَاظٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ فَكُلُوهَا " .
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری اپنی اونٹنی چرا رہا تھا احد میں، یکایک وہ مرنے لگی تو اس نے ایک دھاری دار لکڑی سے ذبح کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اندیشہ نہیں کھاؤ اس کا گوشت ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ، أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّ جَارِيَةً، لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهَا بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا فَأَدْرَكَتْهَا فَذَكَّتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " لاَ بَأْسَ بِهَا فَكُلُوهَا " .
معاذ بن سعد سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی سلع میں، ایک بکری اس سے مرنے لگی تو اس نے پتھر سے ذبح کر دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ حرج نہیں کھاؤ اس کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ، نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا وَتَلاَ هَذِهِ الآيَةَ {وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ }.
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ عرب کے نصاری کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں انہوں نے کہا درست ہے بعد اس کے پڑھا اس آیت کو ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۔ مالک کو پہنچا ہے کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے جو چیز کاٹ دے رگوں کو پس کھا لے اس کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ مَا فَرَى الأَوْدَاجَ فَكُلُوهُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَا ذُبِحَ بِهِ إِذَا بَضَعَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَيْهِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے جس چیز سے ذبح کیا جائے جب وہ کاٹ دے کچھ حرج نہیں کھانے میں اس کے جب ضرورت ہو ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ شَاةٍ، ذُبِحَتْ فَتَحَرَّكَ بَعْضُهَا فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْكُلَهَا ثُمَّ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَتَتَحَرَّكُ وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ شَاةٍ تَرَدَّتْ فَتَكَسَّرَتْ فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَذَبَحَهَا فَسَالَ الدَّمُ مِنْهَا وَلَمْ تَتَحَرَّكْ فَقَالَ مَالِكٌ إِذَا كَانَ ذَبَحَهَا وَنَفَسُهَا يَجْرِي وَهِيَ تَطْرِفُ فَلْيَأْكُلْهَا .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کیا گیا کہ ایک بکری ذبح کرتے وقت تھوڑا سا ہلی؟ ابوہریرہ نے اس کے کھانے کا حکم دیا، پھر ابومرہ نے زید بن ثابت سے پوچھا انہوں نے کہا مردہ بھی ہلتا ہے اور منع کیا اس کے کھانے سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا نُحِرَتِ النَّاقَةُ فَذَكَاةُ مَا فِي بَطْنِهَا فِي ذَكَاتِهَا إِذَا كَانَ قَدْ تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعَرُهُ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ ذُبِحَ حَتَّى يَخْرُجَ الدَّمُ مِنْ جَوْفِهِ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب نحر کی جائے اونٹنی تو اس کے پیٹ کے بچے کی بھی زکاة ہو جائے گی بشرطیکہ اس بچے کے تمام اعضا پورے ہو گئے ہوں اور بال بالکل نکل آئے ہوں اگر وہ بچہ پیٹ سے زندہ نکل آئے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے تاکہ خون اس کے پیٹ سے نکل جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَكَاةُ مَا فِي بَطْنِ الذَّبِيحَةِ فِي ذَكَاةِ أُمِّهِ إِذَا كَانَ قَدْ تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعَرُهُ .
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ زکاة پیٹ کے بچہ کی اس کی ماں کی زکات سے ہو جائے گی جب وہ بچہ پورا ہو گیا ہو اور بال نکل آئے ہوں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih