موطا امام مالک — باب ۲۸Marriage
۵۹ احادیث (نمبر ۱۰۹۱ تا ۱۱۴۹) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ أُولاَتُ الأَزْوَاجِ وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا .
سعید بن مسیب نے کہا کہ محصنات سے دو عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرم کیا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَبَلَغَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولاَنِ إِذَا نَكَحَ الْحُرُّ الأَمَةَ فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ . قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ تُحْصِنُ الأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَكَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ . قَالَ مَالِكٌ يُحْصِنُ الْعَبْدُ الْحُرَّةَ إِذَا مَسَّهَا بِنِكَاحٍ وَلاَ تُحْصِنُ الْحُرَّةُ الْعَبْدَ إِلاَّ أَنْ يَعْتِقَ وَهُوَ زَوْجُهَا فَيَمَسَّهَا بَعْدَ عِتْقِهِ فَإِنْ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَعْتِقَ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ حَتَّى يَتَزَوَّجَ بَعْدَ عِتْقِهِ وَيَمَسَّ امْرَأَتَهُ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ تَعْتِقَ فَإِنَّهُ لاَ يُحْصِنُهَا نِكَاحُهُ إِيَّاهَا وَهِيَ أَمَةٌ حَتَّى تُنْكَحَ بَعْدَ عِتْقِهَا وَيُصِيبَهَا زَوْجُهَا فَذَلِكَ إِحْصَانُهَا وَالأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ فَتَعْتِقُ وَهِيَ تَحْتَهُ قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَإِنَّهُ يُحْصِنُهَا إِذَا عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَهُ إِذَا هُوَ أَصَابَهَا بَعْدَ أَنْ تَعْتِقَ . وَقَالَ مَالِكٌ وَالْحُرَّةُ النَّصْرَانِيَّةُ وَالْيَهُودِيَّةُ وَالأَمَةُ الْمُسْلِمَةُ يُحْصِنَّ الْحُرَّ الْمُسْلِمَ إِذَا نَكَحَ إِحْدَاهُنَّ فَأَصَابَهَا .
ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے ہیں اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہو گیا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا جنگ خبیر کے روز متعے سے اور گدھوں کے گوشت کھانے سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ، دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ . فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس گئیں اور کہا کہ ربیعہ بن امیہ نے ایک عورت مولدہ سے متعہ کیا تھا وہ ربیعہ سے حاملہ ہے پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھبرا کر چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہا یہ متعہ ہے اگر میں پہلے اس کی ممانعت کر چکا ہوتا تو رجم کرتا
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِكَاحُهُ وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّكَاحِ التَّحْلِيلُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَكَتْهُ امْرَأَتُهُ أَوِ الزَّوْجُ يَمْلِكُ امْرَأَتَهُ إِنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَكُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلاَقٍ وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِكَاحٍ بَعْدُ لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الْفُرْقَةُ طَلاَقًا . قَالَ مَالِكٌ وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَكَتْهُ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلاَّ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے غلام چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے ۔ کہا مالک نے یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک ۔ کہا مالک نے غلام کا نکاح مالی کی اجازت پر موقوف ہے اگر مالی اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا ۔ کہا مالک نے اگر زوج زوجہ کا مالک ہو جائے یا زوجہ زوج کی مالک ہو جائے تو نکاح خوبخود بغیر طلاق کے فسخ ہو جائے گا اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا ۔ کہا مالک نے اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءً، كُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ . وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الإِسْلاَمِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الإِسْلاَمِ وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ وَإِلاَّ سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ نَادَاهُ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَاءَنِي بِرِدَائِكَ وَزَعَمَ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي إِلَى الْقُدُومِ عَلَيْكَ فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ وَإِلاَّ سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَنْزِلُ حَتَّى تُبَيِّنَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَلْ لَكَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ " . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ . فَأَرْسَلَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلاَحًا عِنْدَهُ فَقَالَ صَفْوَانُ أَطَوْعًا أَمْ كَرْهًا فَقَالَ " بَلْ طَوْعًا " . فَأَعَارَهُ الأَدَاةَ وَالسِّلاَحَ الَّتِي عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ كَافِرٌ فَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ وَهُوَ كَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو جاتی تھیں اپنے ملک میں ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھی جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں جو صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں وہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کو صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا اور یہ کہا کہ میرے پاس آئے اگر تمہای خوشی ہو تو مسلمان ہونا نہ تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی جب صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی چادر لے کر آ آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے اے محمد وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہو جاؤں نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی ۔ آپ نے فرمایا اترو اے ابووہب صفوان نے کہا قسم اللہ کی میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے آپ نے فرمایا وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریتاً مانگا صفوان نے کہا آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے آپ نے فرمایا خوشی سے صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالا سلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی اور عدت کر کے دوسرا نکاح کر لے گی مگر جب اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آ جائے۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ بَيْنَ إِسْلاَمِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ إِسْلاَمِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ إِلاَّ فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِلاَّ أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَتْ، تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الإِسْلاَمِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الإِسْلاَمُ فَلَمْ تُسْلِمْ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَلاَ تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ}.
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ام حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے ام حکیم بھی وہاں چلی گئیں اور ان کو دین اسلام کی طرف بلایا وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم شریف پر چادر نہ تھی پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے ۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہو جائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہو جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا " . فَقَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا مہر دیا ہے انہوں نے کہا ایک گٹھلی برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کا ہو۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُولِمُ بِالْوَلِيمَةِ مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلاَ لَحْمٌ .
یحی بن سعید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولیہ کرتے تھے اس میں روٹی ہوتی تھی نہ گوشت ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں بلایا جائے تو حاضر ہو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے ولیمہ کا کھانا سب کھانوں سے برا ہے اس میں امیر بلائے جاتے ہیں اور فقیر چھوڑ دیئے جاتے ہیں اور جو شخص دعوت میں نہ آئے اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول کی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ . قَالَ أَنَسٌ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ . قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
انس بن مالک کہتے تھے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ کھانا پکا کر دعوت کی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا وہ درزی جو کی روٹی اور کدو کا سالن سامنے لایا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں سے کدو ڈھونڈھ کر کھاتے تھے اس روز سے میں بھی کدؤں کو پسند کرنے لگا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ أَوِ اشْتَرَى الْجَارِيَةَ فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ وَإِذَا اشْتَرَى الْبَعِيرَ فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی پکڑ کر برکت کی دعا کرے اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان پر ہاتھ رکھے اور شیطان مردود سے پناہ مانگے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَجُلاً، خَطَبَ إِلَى رَجُلٍ أُخْتَهُ فَذَكَرَ أَنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَحْدَثَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَضَرَبَهُ - أَوْ كَادَ يَضْرِبُهُ - ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلِلْخَبَرِ
ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کا پیام دیا ایک شخص کی بہن کو اس نے بیان کیا کہ وہ عورت بدکار ہے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر پہنچی آپ نے اس شخص کو بلا کر مارا یا مارنے کا قصد کیا اور کہا کہ تجھے اس خبر پہنچانے سے کیا غرض تھی ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَا يَقُولاَنِ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِنْ شَاءَ وَلاَ يَنْتَظِرُ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا .
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر کہتے تھے جس شخص کی چار عورتیں ہوں پھر وہ اس میں سے ایک عورت کو تین طلاق دے دے تو ایک عورت نئی کر سکتا ہے اس کی عدت گزرنے کا انتظار ضروری نہیں ۔ ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر نے ولید بن عبدالملک کو جس سال وہ مدینہ میں آیا تھا ایسا ہی فتوی دیا تھا مگر قاسم بن محمد نے یہ کہا کہ اس عورت کو کئی مجلسوں میں طلاق دی ہو ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَفْتَيَا الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَامَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِذَلِكَ غَيْرَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ طَلَّقَهَا فِي مَجَالِسَ شَتَّى .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ ثَلاَثٌ لَيْسَ فِيهِنَّ لَعِبٌ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالْعِتْقُ .
سعید بن مسیب نے کہا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کھیل نہیں ہوتا نکاح اور طلاق اور عتاق۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيِّ فَكَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّى كَبِرَتْ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلاَقَ فَقَالَ مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الأُثْرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ . قَالَتْ بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَى الأُثْرَةِ . فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ قَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى الأُثْرَةِ .
رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہیں جب بڑھیاں ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی پھر جب عدت اس کی گرزنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے پھر جب عدت گرنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا اب تجھے کیا منظور ہے ایک طلاق اور رہ گئی ہے اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں اس نے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif