دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۲۹

موطا امام مالک — باب ۲۹Divorce

۱۱۸ احادیث (نمبر ۱۱۵۰ تا ۱۲۷۱) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ إِنَّمَا طَلاَقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ ‏.‏ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا پوچھنے لگا جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے جماع سے پہلے اس کا کیا حکم ہے عطا نے کہا کہ باکرہ پر ایک طلاق پڑتی ہے عبداللہ بن عمرو نے کہا تو قصہ خوان ہے ایک طلاق سے بائن ہو جاتی ہے اور تین طلاق سے حرام ہو جاتی ہے یہاں تک کہ دوسرے شخص سے نکاح کرے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ فَاذْهَبْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا ‏.‏ فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لأَبِي هُرَيْرَةَ أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَالثَّيِّبُ إِذَا مَلَكَهَا الرَّجُلُ فَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا إِنَّهَا تَجْرِي مَجْرَى الْبِكْرِ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ‏.‏
معاویہ بن ابوعیاش عبداللہ بن زیبر اور عاصم بن عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں محمد بن ایاس بن بکیر آئے اور کہا کہ ایک بدوی شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں صحبت سے پہلے تو تمہاری کیا رائے ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس مسئلے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ کے پاس جاؤ میں ان دونوں کو حضرت عائشہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں اور جو وہ کہیں اس سے مجھے بھی خبر کرنا محمد بن ایاس وہاں گئے اور ان سے جا کر پوچھا عبداللہ بن عباس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا تم بتاؤ کہ ایک مشکل مسئلہ تمہارے پاس آیا ہے ابوہریرہ نے کہا ایک طلاق میں دو صورت بائن ہوگئی اور تین طلاق میں حرام ہوگئی جب تک دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے پھر عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اگر ثیبہ عورت کوئی نکاح کرے اور جماع سے پہلے اسے تین طلاق دے دے تو وہ حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، - قَالَ وَكَانَ أَعْلَمَهُمْ بِذَلِكَ - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا ‏.‏
عبدالرحمن بن عوف نے بیماری کی حالت میں اپنی عورت کو تین طلاق دیں حضرت عثمان نے عبدا الرحمن کے ترکے میں سے ان کو حصة دلایا عدت گزرنے کے بعد ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَرَّثَ نِسَاءَ ابْنِ مُكْمِلٍ مِنْهُ وَكَانَ طَلَّقَهُنَّ وَهُوَ مَرِيضٌ ‏.‏
عبدالرحمن بن ہرمز اعرج سے روایت ہے عثمان بن عفان نے ابن مکمل کی عورتوں کو ترکہ دلایا اور وہ بیماری میں طلاق دے کر مر گیا تھا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَقَالَ إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّى مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَكُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلاَقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا ‏.‏
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے عبدالرحمن بن عوف کی بی بی نے ان سے طلاق مانگی عبدالرحمن نے یہ کہا جب تو حیض سے پاک ہو مجھے خبر کر دینا اس کو حیض ہی نہ آیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بیمار ہو گئے اس وقت حیض سے پاک ہوئی اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا عبدالرحمن نے اس کو تین طلاق دے دیں یا آخری طلاق دے دی پھر عبدالرحمن مر گئے حضرت عثمان نے ان کی بی بی کو عدت گزر جانے کے باوجود ترکہ دلایا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ كَانَتْ عِنْدَ جَدِّي حَبَّانَ امْرَأَتَانِ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَكَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ فَقَالَتْ أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَتَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَى لَهَا بِالْمِيرَاثِ فَلاَمَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ فَقَالَ هَذَا عَمَلُ ابْنِ عَمِّكِ هُوَ أَشَارَ عَلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏
محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ میرے دادا حبان بن منقذ کے پاس دو بیبیاں تھیں ایک ہاشمی اور ایک انصاری۔ انصاری کو انہوں نے طلاق دی اور وہ ایک برس تک دودھ پلایا کرتی تھیں اس کو حیض نہ آیا اس کے بعد حبان مر گئے وہ بولی میں ترکہ لوں گی کیونکہ مجھے حیض نہیں آیا اور میری عدت نہیں گزری جب حضرت عثمان کے پاس یہ مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے ترکہ دلانے کا حکم کیا ہاشمی عورت حضرت عثمان کو برا کہنے لگی انہوں نے کہا یہ حکم تو تیرے چچا کے بیٹے کا ہے انہوں نے مجھ سے ایسا ہی کہا تھا یعنی حضرت علی کا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا وَهُوَ مَرِيضٌ فَإِنَّهَا تَرِثُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ طَلَّقَهَا وَهُوَ مَرِيضٌ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَلاَ عِدَّةَ عَلَيْهَا وَإِنْ دَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ كُلُّهُ وَالْمِيرَاثُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ فِي هَذَا عِنْدَنَا سَوَاءٌ ‏.‏
مسنگ
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فَمَتَّعَ بِوَلِيدَةٍ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن عوف نے اپنی عورت کو طلاق دی متعہ میں ایک لونڈی دی
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ إِلاَّ الَّتِي تُطَلَّقُ وَقَدْ فُرِضَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَمْ تُمَسَّ فَحَسْبُهَا نِصْفُ مَا فُرِضَ لَهَا ‏.‏
عبدا اللہ بن عمر کہتے تھے ہر مطلقہ کو متعہ ملے گا مگر جس عورت کا مہر مقرر ہو گیا ہو اور صحبت سے پہلے اس کو طلاق دی جائے تو اس کو آدھا مہر دینا کافی ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ مُطَلَّقَةٍ مُتْعَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ لِلْمُتْعَةِ عِنْدَنَا حَدٌّ مَعْرُوفٌ فِي قَلِيلِهَا وَلاَ كَثِيرِهَا ‏
کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے ہر مطلقہ کو متعہ ملے گا قاسم بن محمد سے بھی مجھے ایسا ہی پہنچا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ عَبْدًا لَهَا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَيَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالاَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ نفیع حضرت ام سلمہ کا مکاتب تھا یا غلام تھا اس کے نکاح میں ایک عورت آزاد تھی اس کو دو طلاق دیں پھر رجعت کرنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں نے اس کو حکم کیا کہ حضرت عثمان سے جا کر مسئلہ پوچھ وہ حضرت عثمان سے جا کر ملا درج میں وہ حضرت زید بن ثابت کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے جب اس نے مسئلہ پوچھا دونوں نے کہا وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَلَّقَ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نفیع جو مکاتب تھا حضرت ام سلمہ کا اسی نے اپنی بی بی کو طلاق دی پھر حضرت عثمان سے مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا تجھ پر حرام ہوگئی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا كَانَ لأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اسْتَفْتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَةً حُرَّةً تَطْلِيقَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ حَرُمَتْ عَلَيْكَ ‏.‏
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ نضیع جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکاتب تھا اس نے زید بن ثابت سے مسئلہ پوچھا کہ میں نے اپنی آزاد عورت کو دو طلاق دی ہیں زید بن ثابت نے کہا وہ عورت تیرے اوپر حرام ہوگئی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً وَعِدَّةُ الْحُرَّةِ ثَلاَثُ حِيَضٍ وَعِدَّةُ الأَمَةِ حَيْضَتَانِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب غلام اپنی عورت کو دو طلاق دے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے خواہ اس کی بی بی لونڈی ہو یا آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے ،۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلاَقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلاَقِهِ شَىْءٌ فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلاَمِهِ أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہوگی نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ فَقَدَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ تَدْرِ أَيْنَ هُوَ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَحِلُّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ تَزَوَّجَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا فَدَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلاَ سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ إِلَيْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا وَإِنْ أَدْرَكَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَتَزَوَّجَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَدْرَكْتُ النَّاسَ يُنْكِرُونَ الَّذِي قَالَ بَعْضُ النَّاسِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ يُخَيَّرُ زَوْجُهَا الأَوَّلُ إِذَا جَاءَ فِي صَدَاقِهَا أَوْ فِي امْرَأَتِهِ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا جس عورت کا خاوند گم ہو جائے اور اس کا پتہ معلوم نہ ہو کہاں ہے تو جس روز سے اس کی خبر بند ہوئی ہے چار برس تک عورت انتظار کرے چار برس کے بعد چار مہینے دس دن عدت کر کے اگر چاہے تو دوسرا نکاح کرے ۔ کہا مالک نے اگر عورت کی عدت گزر گئی اور اس نے دوسرا نکاح کر لیا تو پھر پہلے خاوند کو اختیار نہ رہے گا۔ خواہ دوسرے خاوند نے اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے مجھے حضرت عمر سے پہنچا آپ نے فرمایا جس عورت کا خاوند کسی ملک میں چلا گیا ہو وہاں سے طلاق کہلا بھیجے اس کے بعد رجعت کر لے مگر عورت کو رجعت کی خبر نہ ہو اور وہ دوسرا نکاح کر لے اس کے بعد پہلا خاوند آئے تو اس کو کچھ اختیار نہ ہوگا خواہ دوسرے خاوند نے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔ کہا مالک نے مجھے یہ روایت اور مفقود کی روایت بہت پسند ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَلاَ يَبْلُغُهَا رَجْعَتُهُ وَقَدْ بَلَغَهَا طَلاَقُهُ إِيَّاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَنَّهُ إِنْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا الآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلاَ سَبِيلَ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا إِلَيْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي هَذَا وَفِي الْمَفْقُودِ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ‏"‏ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دی حضرت عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو حکم کرو رجعت کر لیں پھر رہنے دیں یہاں تک کہ حیض سے پاک ہو پھر حائضہ ہو پھر حیض سے پاک ہو اب اختیار ہے خواہ رکھے یا طلاق دے اگر طلاق دے تو اس طہر میں صحبت نہ کرے یہی عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق دینے کا حکم دیا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا انْتَقَلَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ حِينَ دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ صَدَقَ عُرْوَةُ وَقَدْ جَادَلَهَا فِي ذَلِكَ نَاسٌ فَقَالُوا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ‏}‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ صَدَقْتُمْ تَدْرُونَ مَا الأَقْرَاءُ إِنَّمَا الأَقْرَاءُ الأَطْهَارُ ‏.‏
حضرت عائشہ نے اپنی بھتجیی حفص بن عبدالرحمن کو عدت سے اٹھایا جب تیسرا حیض شروع ہوا ابن شہاب نے کہا میں نے یہ عمرہ سے بیان کیا عمرہ نے کہا عروہ نے سچ کہا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس باب میں لوگوں نے جھگڑا کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مطلقہ عورتیں روک رکھیں اپنے نفسوں کو تین قروء تک انہوں نے کہا سچ کہتے ہو لیکن قروء سے جانتے ہو کیا مراد ہے قروء سے طہر مراد ہے ۔ ابن شہاب نے کہا میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنا کہتے تھے میں نے سب فقیہوں کو حضرت عائشہ کی مثل کہتے ہوئے پایا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ مَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَهَائِنَا إِلاَّ وَهُوَ يَقُولُ هَذَا ‏.‏ يُرِيدُ قَوْلَ عَائِشَةَ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ الأَحْوَصَ، هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ إِنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا وَلاَ تَرِثُهُ وَلاَ يَرِثُهَا ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ احوص نے اپنی عورت کو طلاق دیدی تھی جب تیسرا حیض اس کو شروع ہوا احوص مر گئے معاویہ بن ابی سفیان نے زید بن ثابت کو لکھ کر بھیجا اس کا کیا حکم ہے زید بن ثابت نے جواب لکھا کہ جب اس کو تیسرا حیض شروع ہو گیا تو خاوند کو اس سے علاقہ نہ رہا اور نہ اس کو خاوند سے نہ اس کی وارث ہوگی نہ وہ اس کا وارث ہوگا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد بن سالم بن عبداللہ اور ابوبکر بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جب مطلقہ عورت کو تیسرا حیض شروع ہو جائے تو وہ اپنے خاوند سے بائن ہو جائے گی اور خاوند کو رجعت کا اختیار نہ رہے گا اب ایک کا ترکہ دوسرے کو نہ ملے گا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَلاَ مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا وَلاَ رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور تیسرا حیض شروع ہو جائے تو اس عورت کو خاوند سے علاقہ نہ رہا اور خاوند کو اس سے نہ تو وہ اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ اس کی ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَا يَقُولاَنِ إِذَا طُلِّقَتِ الْمَرْأَةُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَحَلَّتْ ‏.‏
فضیل بن عبداللہ سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ کہتے تھے جب مطلقہ عورت کو تیسرا حیض شروع ہو جائے تو وہ اپنے خاوند سے بائن ہو جائی گی اور اس کو دوسرا نکاح کرنا درست ہو جائے گا ۔ سعید بن مسیب اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے جو عورت خلع کرے اس کی عدت تین قروء ہیں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَابْنِ، شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ ثَلاَثَةُ قُرُوءٍ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ الأَقْرَاءُ وَإِنْ تَبَاعَدَتْ ‏.‏
ابن شہاب کہتے تھے مطلقہ کی عدت طہر سے ہوگی اگرچہ بہت دن لگیں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ امْرَأَتَهُ، سَأَلَتْهُ الطَّلاَقَ فَقَالَ لَهَا إِذَا حِضْتِ فَآذِنِينِي ‏.‏ فَلَمَّا حَاضَتْ آذَنَتْهُ فَقَالَ إِذَا طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمَّا
ایک انصاری کی بی بی نے اپنے خاوند سے طلاق مانگی اس نے کہا جب تجھے حیض آئے تو مجھے خبر کر دینا جب حیض آیا اس نے خبر کی کہا جب پاک ہونا تو مجھے خبر کرنا جب پاک ہوئی اور خبر کی اس وقت انہوں نے طلاق دے دی۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتِ اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ أَوَمَا بَلَغَكَ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنْ كَانَ بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ ‏.‏
قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار ذکر کرتے تھے کہ یحیی بن سعید نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ان کے باپ عبدالرحمن نے اس مکان سے اٹھوا منگوایا تو حضرت عائشہ نے مروان کے پاس کہلا بھیجا اللہ سے ڈر ان دنوں میں وہ مدینہ کا حاکم تھا اور عورت کو اسی گھر میں پہنچا دے جس میں طلاق ہوئی ہے سلیمان کی روایت میں ہے کہ مروان نے کہا عبدالرحمن مجھ پر غالب ہے اور قاسم کی روایت میں ہے کہ مروان نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کیا تم کو فاطمہ بنت قیس کی حدیث یاد نہیں حضرت عائشہ نے کہا اگر فاطمہ کی حدیث تم یاد نہ کرو تو کچھ ضرر نہیں مروان نے کہا اگر تمہارے نزدیک فاطمہ کی نقل مکان کرنے کی یہ وجہ تھی کہ جورو اور خاوند میں لڑائی تھی تو وہ وجہ یہاں بھی موجود ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی انہوں نے اس کو تین طلاقین دیں وہ اس مکان سے اٹھ گئی عبداللہ بن عمر نے اسے برا جانا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فِي مَسْكَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ طَرِيقَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَكَانَ يَسْلُكُ الطَّرِيقَ الأُخْرَى مِنْ أَدْبَارِ الْبُيُوتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ عَلَيْهَا حَتَّى رَاجَعَهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بی بی کو حضرت حفصہ کے مکان میں طلاق دی اور ان کے گھر میں سے مسجد کو راستہ جاتا تھا عبداللہ بن عمر گھروں کے پیچھے سے ہو کر دوسرے راستے سے جاتے تھے کیونکہ مکروہ جانتے تھے مطلقہ عورت کے گھر میں جانے کو اذن لے کر بغیر رجعت کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ، يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ فِي بَيْتٍ بِكِرَاءٍ عَلَى مَنِ الْكِرَاءُ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَلَى زَوْجِهَا ‏.‏ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَ زَوْجِهَا قَالَ فَعَلَيْهَا ‏.‏ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهَا قَالَ فَعَلَى الأَمِيرِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ اگر عورت گھر میں کرایہ سے ہو اور خاوند طلاق دے دے تو عدت تک کرایہ کون دے گا سعید نے کہا خاوند دے گا اس نے کہا اگر خاوند کے پاس نہ ہو سعید نے کہا بی بی دے گی اس نے کہا اگر بی بی کے پاس بھی نہ ہو سعید نے کہا حاکم دے گا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ ‏.‏ فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمِ بْنَ هِشَامٍ خَطَبَانِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ ‏.‏
فاطمہ بنت قیس کو ابوعمرو بن حفص نے طلاق بتہ دی اور وہ شام میں تھیں انہوں نے اپنے وکیل کو جو دے کر بھیجا فاطمہ بنت قیس خفا ہوئی وکیل بولا تمہارا تو کچھ نہیں دینا فاطمہ خفا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تیرا خرچ خاوند پر نہیں ہے ۔ اور تو شریک کے گھر میں عدت گزار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام شریک کے گھر میں رات دن میرے اصحاب آیا جایا کرتے ہیں عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر میں تو عدت کر کیونکہ وہ اندھا ہے تو اگر تو اپنے کپڑے اتارے گی تو بھی کچھ قباحت نہیں جب تیری عدت گزر جائے تو مجھے کہنا فاطمہ بنت قیس نے کہا جب میری عدت گزر گئی تو میں نے حضرت سے کہا کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوفہم بن ہشام دونوں نے مجھے پیام دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوجہم تو اپنی لکڑی کبھی ہاتھ سے رکھتا ہی نہیں اور معاویہ مفلس ہیں ان کے پاس مال نہیں تو اسامہ بن زید سے نکاح کر میں نے اسامہ کو ناپسند کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا تو اسامہ سے نکاح کر فاطمہ نے کہا میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا اللہ نے اس میں برکت دی اور لوگ رشک کرنے لگے۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ الْمَبْتُوتَةُ لاَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى تَحِلَّ وَلَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ حَامِلاً فَيُنْفَقُ عَلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
ابن شہاب کہتے ہیں جس عورت کو تین طلاق ہوئی ہوں وہ اپنے گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ عدت سے فارغ ہو اور اس کو نفقہ نہ ملے گا مگر جب حاملہ ہو تو وضع حمل تک ملے گا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک بھی یہی حکم ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَتْهَا حَيْضَتُهَا فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَلِكَ وَإِلاَّ اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ الأَشْهُرِ ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کہ جس عورت کو طلاق ہو پھر ایک یا دو حیض کے بعد اس کا حیض بند ہو جائے تو وہ نو مہینے تک انتظار کرے گی اگر حمل معلوم ہو تو بہتر ہے ورنہ پھر تین مہینے عدت کر کے دوسرا نکاح کرے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الطَّلاَقُ لِلرِّجَالِ وَالْعِدَّةُ لِلنِّسَاءِ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ طلاق مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت عورتوں کے لحاظ سے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي تَرْفَعُهَا حَيْضَتُهَا حِينَ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا أَنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهِنَّ اعْتَدَّتْ ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتْ قَبْلَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ الأَشْهُرَ الثَّلاَثَةَ اسْتَقْبَلَتِ الْحَيْضَ فَإِنْ مَرَّتْ بِهَا تِسْعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ اعْتَدَّتْ ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتِ الثَّانِيَةَ قَبْلَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ الأَشْهُرَ الثَّلاَثَةَ اسْتَقْبَلَتِ الْحَيْضَ فَإِنْ مَرَّتْ بِهَا تِسْعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ اعْتَدَّتْ ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ حَاضَتِ الثَّالِثَةَ كَانَتْ قَدِ اسْتَكْمَلَتْ عِدَّةَ الْحَيْضِ فَإِنْ لَمْ تَحِضِ اسْتَقْبَلَتْ ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا فِي ذَلِكَ الرَّجْعَةُ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ قَدْ بَتَّ طَلاَقَهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَاعْتَدَّتْ بَعْضَ عِدَّتِهَا ثُمَّ ارْتَجَعَهَا ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا أَنَّهَا لاَ تَبْنِي عَلَى مَا مَضَى مِنْ عِدَّتِهَا وَأَنَّهَا تَسْتَأْنِفُ مِنْ يَوْمَ طَلَّقَهَا عِدَّةً مُسْتَقْبَلَةً وَقَدْ ظَلَمَ زَوْجُهَا نَفْسَهُ وَأَخْطَأَ إِنْ كَانَ ارْتَجَعَهَا وَلاَ حَاجَةَ لَهُ بِهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ وَزَوْجُهَا كَافِرٌ ثُمَّ أَسْلَمَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا دَامَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَلاَ سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا وَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا لَمْ يُعَدَّ ذَلِكَ طَلاَقًا وَإِنَّمَا فَسَخَهَا مِنْهُ الإِسْلاَمُ بِغَيْرِ طَلاَقٍ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا مستحاضہ عورت کی عدت ایک برس تک ہے ۔، کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مطلقہ عورت کا اگر حیض بند ہو جائے تو وہ نو مہینے تک انتظار کرے اگر اس وقت تک بھی حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت کرے اگر تین مہینے پورے ہونے سے پہلے حیض آنے لگے تو پھر عدت حیض سے شروع کرے اگر پھر نو مہینے تک حیض نہ آئے پھر تین مہینے عدت کرے اگر تین مہینے کے اندر پھر حیض آ جائے پھر حیض سے شروع کرے پھر اگر نو مہینے تک حیض نہ آئے تین مہینے عدت کرے اگر پھر ان تین مہینوں میں حیض آ جائے تو اب عدت حیضوں سے پوری ہو اور جب حیض نہ آئے تو تین مہینے عدت کر کے دوسرا نکاح کر لے اس تین برس کی عدت میں خاوند کو اختیار ہے رجعت کر لے مگر جب تین طلاق دے چکا ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ اگر عورت مسلمان ہو جائے اور خاوند کافر ہو پھر خاوند بھی مسلمان ہو عدت کے اندر تو وہ عورت اسی کی رہے گی اگر عدت گزر جائے پھر عورت سے کچھ علاقہ نہ رہے گا البتہ نکاح کر سکتا ہے پھر تین طلاق کا مالک ہوگا کیونکہ عورت کے مسلمان ہونے سے طلاق نہیں پڑی بلکہ نکاح فسخ ہوگیا تھا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ فِي الْحَكَمَيْنِ اللَّذَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا‏}‏ إِنَّ إِلَيْهِمَا الْفُرْقَةَ بَيْنَهُمَا وَالاِجْتِمَاعَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْحَكَمَيْنِ يَجُوزُ قَوْلُهُمَا بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ فِي الْفُرْقَةِ وَالاِجْتِمَاعِ ‏.‏
حضرت علی نے فرمایا جو اللہ جل جلالہ نے فرمایا اگر تم کو خاوند اور جورو کی آپس میں لڑائی کا خوف ہو تو ایک حاکم خاوند والوں میں سے مقرر کرو اور ایک حاکم جورو والوں میں سے اگر وہ بھلائی چاہیں گے تو اللہ اس کی توفیق دے گا بے شک اللہ جانتا خبرادر ہے ان حاکموں کو اختیار ہے کہ خاوند اور جورو میں تفریق کر دیں یا ملاپ کر دیں ،۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا کہ حاکموں کا قول تفریق اور ملاپ میں معتبر اور نافذ ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَابْنَ، شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ بِطَلاَقِ الْمَرْأَةِ قَبْلَ أَنْ يَنْكِحَهَا ثُمَّ أَثِمَ إِنَّ ذَلِكَ لاَزِمٌ لَهُ إِذَا نَكَحَهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ قَالَ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ قَبِيلَةً أَوِ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ أَنْتِ الطَّلاَقُ وَكُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ وَمَالُهُ صَدَقَةٌ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ كَذَا وَكَذَا فَحَنِثَ قَالَ أَمَّا نِسَاؤُهُ فَطَلاَقٌ كَمَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهُ كُلُّ امْرَأَةٍ أَنْكِحُهَا فَهِيَ طَالِقٌ فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ امْرَأَةً بِعَيْنِهَا أَوْ قَبِيلَةً أَوْ أَرْضًا أَوْ نَحْوَ هَذَا فَلَيْسَ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ وَلْيَتَزَوَّجْ مَا شَاءَ وَأَمَّا مَالُهُ فَلْيَتَصَدَّقْ بِثُلُثِهِ ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود اور سالم بن عبداللہ اور قاسم بن محمد اور ابن شہاب اور سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جو کوئی شخص قسم کھا لے کسی عورت کی طلاق پر نکاح سے پہلے پھر نکاح کے بعد وہ قسم ٹوٹے تو طلاق پر جائے گی ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کہے میں جس عورت سے نکاح کروں اس عورت کو طلاق ہے اور کسی قبیلہ خاص اور عورت معین کا ذکر نہیں کیا تو یہ کلام لغو ہو جائے گا ۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے کہے اگر میں فلاں کام نہ کروں تو تجھ پر طلاق ہے اور جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اور اس کا مال اللہ کی راہ میں صدقہ ہے پھر اس نے وہ کام نہ کیا تو اس کی عورت پر طلاق پڑ جائے گی مگر یہ جو کہا کہ جس عورت سے نکاح کروں اس پر طلاق ہے اگر کسی عورت معین یا قبیلہ معین کا نام نہ لیا تو لغو ہو جائے گی اور مال میں سے تلائی صدقہ دینا ہوگا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلاَّ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے جماع نہ کر سکے اس کو ایک برس کی مہلت دی جائے اور اس عرصہ میں اگر جماع کرے گا تو بہتر نہیں تو تفریق کر دی جائے گی ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif