موطا امام مالک — باب ۳۱Business Transactions
۹۵ احادیث (نمبر ۱۲۹۰ تا ۱۳۸۵) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ .
عبداللہ بن عمر نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اناج خریدتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے وہ ہم کو حکم کرتا تھا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لے جائیں جہاں خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو بیع کریں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، . أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ لاَ تَبِعْ طَعَامًا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ . أَنَّ صُكُوكًا، خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِي زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ فَتَبَايَعَ النَّاسُ تِلْكَ الصُّكُوكَ بَيْنَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَدَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالاَ أَتُحِلُّ بَيْعَ الرِّبَا يَا مَرْوَانُ . فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالاَ هَذِهِ الصُّكُوكُ تَبَايَعَهَا النَّاسُ ثُمَّ بَاعُوهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ يَتْبَعُونَهَا يَنْزِعُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ وَيَرُدُّونَهَا إِلَى أَهْلِهَا .
نافع سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو حضرت عمر نے لوگوں کو دلوایا تھا پھر حکیم بن حزام نے اس غلہ کو بیچ ڈالا قبضہ سے پہلے جب حضرت عمر کو اس کی خبر پہنچی آپ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو پھر وا دیا اور کہا جس غلہ کو تو خریدے پھر اس کو مت بیچ جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکومت میں لوگوں کو سندیں ملیں جار کے غلہ کی لوگوں نے ان سندوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضة میں لائیں تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابہ مروان کے پاس گئے اور کہا کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان مروان نے کہا معاذاللہ کیا کہتے ہو انہوں نے کہا کہ یہ سندیں جن لوگوں نے خریدا پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبلہ غلہ لینے کے مروان نے چوکیدار کو بھیجا کہ وہ سندیں لوگوں سے چھین کر سند والوں کے حوالے کر دیں ۔ امام مالک کو پہنچا ایک شخص نے اناج خریدنا چاہا ایک شخص سے وعدے پر تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو بازار میں لے گیا اور اس کو بورے دکھا کر کہنے لگا کون سے غلہ میں تمہاری واسطے خرید کروں مشتری (خریدنے والا) نے کہا کیا تو میرے ہاتھ اس چیز کا بیچتا ہے جو خود تیرے پاس نہیں ہے پھر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا عبداللہ بن عمر نے مشتری (خریدنے والا) سے کہا مت خریدو اس چیز کو جو بائع (بچنے والا) کے پاس نہیں ہے اور بائع (بچنے والا) سے کہا مت بیچ اس چیز کو جو تیرے پاس نہیں ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ طَعَامًا مِنْ رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ فَذَهَبَ بِهِ الرَّجُلُ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ الطَّعَامَ إِلَى السُّوقِ فَجَعَلَ يُرِيهِ الصُّبَرَ وَيَقُولُ لَهُ مِنْ أَيِّهَا تُحِبُّ أَنْ أَبْتَاعَ لَكَ فَقَالَ الْمُبْتَاعُ أَتَبِيعُنِي مَا لَيْسَ عِنْدَكَ فَأَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِلْمُبْتَاعِ لاَ تَبْتَعْ مِنْهُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ . وَقَالَ لِلْبَائِعِ لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَىَّ إِلَى أَجَلٍ . فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ فَقَالَ نَعَمْ . فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ أَوْ شَيْئًا مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشَّبْرَقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأُدْمِ فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لاَ يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ .
جمیل بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب سے کہا میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں سعید نے کہا تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے جمیل نے کہا ہاں سعید بن مسیب نے اس سے منع کیا ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں جو جوار باجرہ ڈالیں وغیرہ جن میں زکوة واجب ہوتی ہے یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل یا گھی یا شہد یا سرکہ یا پنیر یا دودھ یا تل کا تیل اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کر لے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَنْهَيَانِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ، حِنْطَةً بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار منع کرتے تھے اس بات سے کوئی شخص گیہوں کو سونے کے بدلے میں یبچے معیاد لگا کر پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور لے لے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، . أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ الرَّجُلِ، يَبِيعُ الطَّعَامَ مِنَ الرَّجُلِ بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا نَهَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنْ لاَ يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ ثُمَّ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ مِنْ بَيْعِهِ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ الْحِنْطَةَ فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ الَّتِي بَاعَ بِهَا الْحِنْطَةَ إِلَى أَجَلٍ تَمْرًا مِنْ غَيْرِ بَائِعِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ وَيُحِيلَ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ التَّمْرَ عَلَى غَرِيمِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ بِالذَّهَبِ الَّتِي لَهُ عَلَيْهِ فِي ثَمَنِ التَّمْرِ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَلَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا
کثیر بن فرقد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے پوچھا کوئی شخص اناج کو سونے کے بدلے میں میعاد لگا کر بیچے پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور خرید لے انہوں نے کہا یہ مکروہ ہے اور منع کیا اس سے ۔ ابن شہاب سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ کہا مالک نے سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار ابوبکر بن محمد اور ابن شہاب نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آدمی گیہوں کو سونے کے بدلے میں بیچے پھر اس سونے کے بدلے کھجور خرید لے اسی شخص نے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے قبل اس بات کے کہ سونے پر قبضہ کرے اگر اس سونے کے بدلے میں کسی اور شخص سے کھجور خریدے سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے ہیں اور کھجور کی قیمت کا حوالے کر دے اس شخص پر جس کے ہاتھوں گیہوں بیچے ہیں تو درست ہے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لاَ بَأْسَ بِأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى مَا لَمْ يَكُنْ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلاَحُهُ أَوْ تَمْرٍ لَمْ يَبْدُ صَلاَحُهُ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي طَعَامٍ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَحَلَّ الأَجَلُ فَلَمْ يَجِدِ الْمُبْتَاعُ عِنْدَ الْبَائِعِ وَفَاءً مِمَّا ابْتَاعَ مِنْهُ فَأَقَالَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ إِلاَّ وَرِقَهُ أَوْ ذَهَبَهُ أَوِ الثَّمَنَ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ بِعَيْنِهِ وَإِنَّهُ لاَ يَشْتَرِي مِنْهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ شَيْئًا حَتَّى يَقْبِضَهُ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا أَخَذَ غَيْرَ الثَّمَنِ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ أَوْ صَرَفَهُ فِي سِلْعَةٍ غَيْرِ الطَّعَامِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهُوَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى . قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى . قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ نَدِمَ الْمُشْتَرِي فَقَالَ لِلْبَائِعِ أَقِلْنِي وَأُنْظِرُكَ بِالثَّمَنِ الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ . فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمَّا حَلَّ الطَّعَامُ لِلْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ أَخَّرَ عَنْهُ حَقَّهُ عَلَى أَنْ يُقِيلَهُ فَكَانَ ذَلِكَ بَيْعَ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى . قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ الْمُشْتَرِيَ حِينَ حَلَّ الأَجَلُ وَكَرِهَ الطَّعَامَ أَخَذَ بِهِ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِالإِقَالَةِ وَإِنَّمَا الإِقَالَةُ مَا لَمْ يَزْدَدْ فِيهِ الْبَائِعُ وَلاَ الْمُشْتَرِي فَإِذَا وَقَعَتْ فِيهِ الزِّيَادَةُ بِنَسِيئَةٍ إِلَى أَجَلٍ أَوْ بِشَىْءٍ يَزْدَادُهُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَوْ بِشَىْءٍ يَنْتَفِعُ بِهِ أَحَدُهُمَا فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالإِقَالَةِ وَإِنَّمَا تَصِيرُ الإِقَالَةُ إِذَا فَعَلاَ ذَلِكَ بَيْعًا وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِي الإِقَالَةِ وَالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ مَا لَمْ يَدْخُلْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ سَلَّفَ فِي حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مَحْمُولَةً بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ . قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ مَنْ سَلَّفَ فِي صِنْفٍ مِنَ الأَصْنَافِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ خَيْرًا مِمَّا سَلَّفَ فِيهِ أَوْ أَدْنَى بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي حِنْطَةٍ مَحْمُولَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ شَعِيرًا أَوْ شَامِيَّةً وَإِنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ صَيْحَانِيًّا أَوْ جَمْعًا وَإِنْ سَلَّفَ فِي زَبِيبٍ أَحْمَرَ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْوَدَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ بَعْدَ مَحِلِّ الأَجَلِ إِذَا كَانَتْ مَكِيلَةُ ذَلِكَ سَوَاءً بِمِثْلِ كَيْلِ مَا سَلَّفَ فِيهِ .
عبداللہ بن عمر نے کہا کچھ قباحت نہیں اگر ایک مرد دوسرے مرد سے سلف کرے اناج میں جب اس کا وصف بیان کر دے نرخ مقرر کر کے میعاد معین پر جب وہ سلم کسی ایسے کھیت میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو یا ایسی کھجور میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص سلف کرے اناج میں نرخ مقرر کر کے مدت معین پر تو جب مدت گزرے اور خریدار بائع (بچنے والا) کے پاس وہ اناج نہ پائے اور سلف کو مسخ کرے تو خریدار کو چاہیے اپنی چاندی یا سونا دیا ہو یا قیمت دی ہوئی بعینہ پھیر لے یہ نہ کرے کہ اس کے بدلے میں دوسری چیز بائع (بچنے والا) سے خرید لے جب تک اپنے ثمن پر قبضہ نہ کر لے کیونکہ اگر خریدار نے جو قیمت دی ہے اس کے سوا کچھ لے آیا اس کے بدلے میں دوسرا اسباب خرید لے تو اس نے اناج کو قبل قبضہ کے بیچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا سلف کو فسخ کر ڈال اور ثمن واپس کرنے کے لئے میں تجھ کو مہلت دیتا ہوں تو یہ جائز نہیں اور اہل علم اس کو منع کرتے ہیں کیونکہ جب میعاد گزر گئی اور اناج بائع (بچنے والا) کے ذمہ واجب ہو اب مشتری (خریدنے والا) نے اپنے حق وصول کرنے میں دیر کی اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) سلم کو فسخ کر ڈالے تو گویا مشتری (خریدنے والا) نے اپنے اناج کو ایک مدت پر بیچا قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے کہ جب مدت پوری ہوئی اور خریدار نے اناج لینا پسند نہ کیا تو اس اناج کے بدلے میں کچھ روپے ٹھہرا لئے ایک مدت پر تو یہ اقالہ نہیں ہے اقالہ وہ ہے جس میں کمی بیشی بائع (بچنے والا) یا مشتری (خریدنے والا) کی طرف سے نہ ہو اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا کوئی میعاد بڑھ جائے گی یا کچھ فائدہ مقرر ہوگا بائع (بچنے والا) کا یا مشتری (خریدنے والا) کا تو وہ اقالہ بیع سمجھا جائے گا اور اقالہ اور شرکت اور تولیہ جب تک درست ہیں کہ کمی بیشی یا میعاد نہ ہو اگر یہ چیزیں ہوں گی تو وہ نئی بیع سمجھیں گے ۔ جن وجوہ سے بیع درست ہوتی ہے یہ بھی درست ہوں گی اور جن وجوہ سے بیع نادرست ہوتی ہے یہ بھی نادرست ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص سلف میں عمدہ گیہوں ٹھہرائے پھر میعاد گزرنے کے بعد اس سے بہتر یا بری لے لے تو کچھ قباحت نہیں بشرطیکہ وزن وہی ہو جو ٹھہرا ہو یہی حکم انگور اور کھجور میں ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ فَنِيَ عَلَفُ حِمَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلاَ تَأْخُذْ إِلاَّ مِثْلَهُ .
سلیمان بن یسار نے کہا سعد بن ابی وقاص کے گدھے کا چارہ تمام ہو گیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر میں سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا زیادہ مت لیجیو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَنِيَ عَلَفُ دَابَّتِهِ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ طَعَامًا فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلاَ تَأْخُذْ إِلاَّ مِثْلَهُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ مُعَيْقِيبٍ الدَّوْسِيِّ، مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنْ لاَ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَلاَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ وَلاَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ كُلِّهِ إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الأَجَلُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ حَرَامًا وَلاَ شَىْءَ مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يُبَاعُ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ فَلاَ يُبَاعُ مُدُّ حِنْطَةٍ بِمُدَّىْ حِنْطَةٍ وَلاَ مُدُّ تَمْرٍ بِمُدَّىْ تَمْرٍ وَلاَ مُدُّ زَبِيبٍ بِمُدَّىْ زَبِيبٍ وَلاَ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ وَالأُدْمِ كُلِّهَا إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ لاَ يَحِلُّ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْفَضْلُ وَلاَ يَحِلُّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا اخْتَلَفَ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ زَبِيبٍ وَصَاعٌ مِنْ حِنْطَةٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ سَمْنٍ فَإِذَا كَانَ الصِّنْفَانِ مِنْ هَذَا مُخْتَلِفَيْنِ فَلاَ بَأْسَ بِاثْنَيْنِ مِنْهُ بِوَاحِدٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الأَجَلُ فَلاَ يَحِلُّ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ تَحِلُّ صُبْرَةُ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ وَلاَ بَأْسَ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ جِزَافًا . قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَا اخْتَلَفَ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ جِزَافًا يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَهُ الأَجَلُ فَلاَ خَيْرَ فِيهِ وَإِنَّمَا اشْتِرَاءُ ذَلِكَ جِزَافًا كَاشْتِرَاءِ بَعْضِ ذَلِكَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ جِزَافًا . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّكَ تَشْتَرِي الْحِنْطَةَ بِالْوَرِقِ جِزَافًا وَالتَّمْرَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا فَهَذَا حَلاَلٌ لاَ بَأْسَ بِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ صَبَّرَ صُبْرَةَ طَعَامٍ وَقَدْ عَلِمَ كَيْلَهَا ثُمَّ بَاعَهَا جِزَافًا وَكَتَمَ الْمُشْتَرِي كَيْلَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ فَإِنْ أَحَبَّ الْمُشْتَرِي أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ الطَّعَامَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ بِمَا كَتَمَهُ كَيْلَهُ وَغَرَّهُ وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا عَلِمَ الْبَائِعُ كَيْلَهُ وَعَدَدَهُ مِنَ الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ ثُمَّ بَاعَهُ جِزَافًا وَلَمْ يَعْلَمِ الْمُشْتَرِي ذَلِكَ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ خَيْرَ فِي الْخُبْزِ قُرْصٍ بِقُرْصَيْنِ وَلاَ عَظِيمٍ بِصَغِيرٍ إِذَا كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ أَكْبَرَ مِنْ بَعْضٍ فَأَمَّا إِذَا كَانَ يَتَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَصْلُحُ مُدُّ زُبْدٍ وَمُدُّ لَبَنٍ بِمُدَّىْ زُبْدٍ وَهُوَ مِثْلُ الَّذِي وَصَفْنَا مِنَ التَّمْرِ الَّذِي يُبَاعُ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنْ عَجْوَةٍ حِينَ قَالَ لِصَاحِبِهِ إِنَّ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنَ الْعَجْوَةِ لاَ يَصْلُحُ . فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُجِيزَ بَيْعَهُ وَإِنَّمَا جَعَلَ صَاحِبُ اللَّبَنِ اللَّبَنَ مَعَ زُبْدِهِ لِيَأْخُذَ فَضْلَ زُبْدِهِ عَلَى زُبْدِ صَاحِبِهِ حِينَ أَدْخَلَ مَعَهُ اللَّبَنَ . قَالَ مَالِكٌ وَالدَّقِيقُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ لاَ بَأْسَ بِهِ وَذَلِكَ لأَنَّهُ أَخْلَصَ الدَّقِيقَ فَبَاعَهُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلَوْ جَعَلَ نِصْفَ الْمُدِّ مِنْ دَقِيقٍ وَنِصْفَهُ مِنْ حِنْطَةٍ فَبَاعَ ذَلِكَ بِمُدٍّ مِنْ حِنْطَةٍ كَانَ ذَلِكَ مِثْلَ الَّذِي وَصَفْنَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ فَضْلَ حِنْطَتِهِ الْجَيِّدَةِ حَتَّى جَعَلَ مَعَهَا الدَّقِيقَ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ .
عبدالرحمن بن اسود کے جانور کا چارہ تمام ہو گیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا ۔ ابن معیقب دوسری سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نہ بیچا جائے گا گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور کھجور بدلے کھجور کے اور گیہوں بدلے میں کھجور کے اور کھجور بدلے میں انگور کے مگر نقدا نقد کسی طرف میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو حرام ہو جائے گا اسی طرح جتنی چیزیں روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ بدلے تو نقدا نقد لے۔ کہا مالک نے جتنی کھانے کی چیزیں ہیں یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں ۔ مثلا ایک مد گیہوں کو دو مد گیہوں کے بدلے میں یا ایک مد کھجور کو دو مد کھجور کے بدلے میں یا ایک مد انگور کو دو مد انگور کے بدلے میں نہ بیچیں گے اسی طرح جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب ان کی جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں اگرچہ نقدا نقد ہو جیسے کوئی چاندی کو چاندی کے بدلے میں اور سونے کو سونے کے بدلے میں اور بیچے تو کمی بیشی درست نہیں بلکہ ان سب چیزوں میں ضروری ہے کہ برابر ہوں ۔ اور نقدا نقد ہوں ۔ کہا مالک نے جب جنس میں اختلاف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا چاہیے جیسے کوئی ایک صاع کھجور کو دو صاع گیہوں کے بدلے میں یا ایک صاع کھجور کو دو صاع انگور کے بدلے یا ایک صاع گیہوں کے دو صاع گھی کے بدلے میں خریدے تو کچھ قباحت نہیں جب نقدا نقد ہوں میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو درست نہیں ۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر دوسرا گیہوں کا بورا اس کے بدلے میں لے یہ درست ہے کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر کھجور کا بورا اس کے بدلے میں لے نقدا نقد کیونکہ کھجور کو گیہوں کے بدلے میں ڈھیر لگا کر اٹکل سے بیچنا درست ہے۔ کہا مالک نے جتنی چیزیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی ہیں جب ان میں جنس مختلف ہو تو ایک دوسرے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر بیچنا درست ہے جب نقدا نقد ہو اگر اس میں میعاد ہو تو درست نہیں جیسے کوئی چاندی سونے کے بدلے میں ان چیزوں کا ڈھیر لگا کر بیچے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے گیہوں تول کر ایک ڈھیر بنایا اور وزن چھپا کر کسی کے ہاتھ یبچا تو یہ درست نہیں ۔ اگر مشتری (خریدنے والا) یہ چاہے کہ وہ گیہوں بائع (بچنے والا) کو واپس کر دے اس وجہ سے کہ بائع (بچنے والا) نے دیا ہو دانستہ وزن کو اس سے چھپایا اور دھوکا دیا تو ہو سکتا ہے اسی طرح جو چیز بائع (بچنے والا) وزن چھپا کر بیچے تو مشتری (خریدنے والا) کا اس کے پھیر دینے کا اختیار ہے اور ہمیشہ اہل علم اس بیع کو منع کرتے رہے۔ کہا مالک نے ایک روٹی کو دو روٹیوں سے بدلنا یا بڑی روٹی کو چھوٹی روٹی سے بدلنا اچھا نہیں البتہ اگر روٹی کو دوسری روٹی کے برابر سمجھے تو بدلنا درست ہے اگرچہ وزن نہ کرے۔ کہا مالک نے ایک مدزبد اور ایک مدلبن کو دو مدزبد کے بدلے میں لینا درست نہیں کیونکہ اس نے اپنے زبد کی عمدگی لبن کے شریک کرکے برابر کرلی اگر علیحدہ لبن کو بیچتا تو کبھی ایک صاع لبن کے بدلے میں ایک صاع زبد نہ آتی۔ اس قسم کا مسئل اوپر بیان ہوچکا۔ سعید بن مسیب سے محمد بن عبداللہ بن مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے میں اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ الطَّعَامَ يَكُونُ مِنَ الصُّكُوكِ بِالْجَارِ فَرُبَّمَا ابْتَعْتُ مِنْهُ بِدِينَارٍ وَنِصْفِ دِرْهَمٍ فَأُعْطَى بِالنِّصْفِ طَعَامًا . فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ وَلَكِنْ أَعْطِ أَنْتَ دِرْهَمًا وَخُذْ بَقِيَّتَهُ طَعَامًا .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تَبِيعُوا الْحَبَّ فِي سُنْبُلِهِ حَتَّى يَبْيَضَّ . قَالَ مَالِكٌ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِصَاحِبِهِ لَيْسَ عِنْدِي طَعَامٌ فَبِعْنِي الطَّعَامَ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ إِلَى أَجَلٍ . فَيَقُولُ صَاحِبُ الطَّعَامِ هَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى . فَيَقُولُ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ فَبِعْنِي طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ حَتَّى أَقْضِيَكَهُ . فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ طَعَامًا ثُمَّ يَرُدُّهُ إِلَيْهِ . فَيَصِيرُ الذَّهَبُ الَّذِي أَعْطَاهُ ثَمَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ عَلَيْهِ وَيَصِيرُ الطَّعَامُ الَّذِي أَعْطَاهُ مُحَلَّلاً فِيمَا بَيْنَهُمَا وَيَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَعَلاَهُ بَيْعَ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ لَهُ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلِغَرِيمِهِ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ مِثْلُ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ أُحِيلُكَ عَلَى غَرِيمٍ لِي عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّعَامِ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ بِطَعَامِكَ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ . قَالَ مَالِكٌ إِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ إِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُحِيلَ غَرِيمَهُ بِطَعَامٍ ابْتَاعَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ وَذَلِكَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ سَلَفًا حَالاًّ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُحِيلَ بِهِ غَرِيمَهُ لأَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِبَيْعٍ وَلاَ يَحِلُّ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى لِنَهْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالإِقَالَةِ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ أَنْزَلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ وَلَمْ يُنْزِلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْبَيْعِ وَذَلِكَ مِثْلُ الرَّجُلِ يُسَلِّفُ الدَّرَاهِمَ النُّقَّصَ فَيُقْضَى دَرَاهِمَ وَازِنَةً فِيهَا فَضْلٌ فَيَحِلُّ لَهُ ذَلِكَ وَيَجُوزُ وَلَوِ اشْتَرَى مِنْهُ دَرَاهِمَ نُقَّصًا بِوَازِنَةٍ لَمْ يَحِلَّ ذَلِكَ وَلَوِ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ حِينَ أَسْلَفَهُ وَازِنَةً وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ نُقَّصًا لَمْ يَحِلَّ لَهُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَأَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ ذَلِكَ أَنَّ بَيْعَ الْمُزَابَنَةِ بَيْعٌ عَلَى وَجْهِ الْمُكَايَسَةِ وَالتِّجَارَةِ وَأَنَّ بَيْعَ الْعَرَايَا عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ لاَ مُكَايَسَةَ فِيهِ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ رَجُلٌ طَعَامًا بِرُبُعٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ كِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ يُعْطَى بِذَلِكَ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَبْتَاعَ الرَّجُلُ طَعَامًا بِكِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يُعْطَى دِرْهَمًا وَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً مِنَ السِّلَعِ لأَنَّهُ أَعْطَى الْكِسْرَ الَّذِي عَلَيْهِ فِضَّةً وَأَخَذَ بِبَقِيَّةِ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً فَهَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ عِنْدَ الرَّجُلِ دِرْهَمًا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنْهُ بِرُبُعٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِكِسْرٍ مَعْلُومٍ سِلْعَةً مَعْلُومَةً فَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ سِعْرٌ مَعْلُومٌ وَقَالَ الرَّجُلُ آخُذُ مِنْكَ بِسِعْرِ كُلِّ يَوْمٍ فَهَذَا لاَ يَحِلُّ لأَنَّهُ غَرَرٌ يَقِلُّ مَرَّةً وَيَكْثُرُ مَرَّةً وَلَمْ يَفْتَرِقَا عَلَى بَيْعٍ مَعْلُومٍ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ طَعَامًا جِزَافًا وَلَمْ يَسْتَثْنِ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ وَذَلِكَ الثُّلُثُ فَمَا دُونَهُ فَإِنْ زَادَ عَلَى الثُّلُثِ صَارَ ذَلِكَ إِلَى الْمُزَابَنَةِ وَإِلَى مَا يُكْرَهُ فَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ وَلاَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ إِلاَّ الثُّلُثَ فَمَا دُونَهُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا .
سعید بن المسیب سے محمدبن عبداللہ بن ابو مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے۔ محمد بن سیرین کہتے تھے مت بیچو دانوں کو بالی کے اندر جب تک پک نہ جائے ۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خریدے نرخ مقرر کرکے میعاد معین پر جب میعاد پوری ہو تو جس کے ذمہ اناج واجب ہے (مسلم الیہ) وہ کہے میرے پاس اناج نہیں ہے جو اناج میرے ذمہ ہے وہ میرے ہی ہاتھ بیچ ڈال اتنی میعاد پر وہ شخص (رب السلم) کہے یہ جائز نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اناج بیچنے کو جب تک قبضے میں نہ آئے جس کے ذمہ پر اناج ہے وہ کہے اچھا تو کوئی اور اناج میرے ہاتھ بیچ ڈال میعاد پر تاکہ میں اسی اناج کو تیرے حوالے کردوں ۔ تو یہ درست نہیں کیونکہ وہ شخص اناج دے کر پھیرلے گا اور بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو جو قیمت دے گا وہ گویا مشتری (خریدنے والا) کی ہوگی جو اس نے بائع (بچنے والا) کو دی اور یہ اناج درمیان میں حلال کرنے والا ہوگا تو گویا اناج کی بیع ہوگی قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے یہ اس واسطے کہ اہل علم نے ان چیزوں میں رواج اور دستور کا اعتبار رکھا ہے اور ان کو مثل بیع کے نہیں سمجھا اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ناقص کم وزن روپے دیئے پھر مسلم الیہ نے اس کو پورے وزن کے روپے ادا کردیئے تو یہ درست ہے مگر ناقص روپوں کی بیع پورے وزن کے روپوں کے بدلے میں درست نہیں اگر اس شخص نے سلم کرتے وقت ناقص کم وزن روپے دے کر پورے روپے لینے کی شرط کی تھی تو درست نہ ہوگا۔ کہا مالک نے اس کی نظیر یہ بھی کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا اور عرایا کی اجازت دی وجہ یہ ہے کہ مزابنہ کا معاملہ رجارت اور ہو شیاری کے طور پر ہوتا ہے اور عرایابطوراحسان اور سلوک کے ہوتا ہے۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ربع یاثلث درہم یا اور کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے اس شرط پر کہ اس ربع یا ثلث یا کسر کے عوض میں اناج دے گا وعدے پر البتہ اس میں کچھ قباحت نہیں کہ ربع یا ثلث درہم یا کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے وعدے پر جب وعدہ گزرے تو ایک درہم حوالے کردے اور باقی کے بدلے میں کوئی اور چیز خرید کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کو ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھا کر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جاڑے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ حُكْرَةَ فِي سُوقِنَا لاَ يَعْمِدُ رِجَالٌ بِأَيْدِيهِمْ فُضُولٌ مِنْ أَذْهَابٍ إِلَى رِزْقٍ مِنْ رِزْقِ اللَّهِ نَزَلَ بِسَاحَتِنَا فَيَحْتَكِرُونَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ أَيُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ عَلَى عَمُودِ كَبِدِهِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَذَلِكَ ضَيْفُ عُمَرَ فَلْيَبِعْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ وَلْيُمْسِكْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ .
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کے ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھاکر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جائے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَرَّ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تُرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے ہو کر گزرے اور وہ انگور بیچ رہے تھے بازار میں حضرت عمر نے فرمایا تو تم نرخ بڑھا دو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ ۔ حضرت عثمان بن عفان منع کرتے تھے احتکار سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحُكْرَةِ، .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، بَاعَ جَمَلاً لَهُ يُدْعَى عُصَيْفِيرًا بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ .
حضرت علی نے اپنا اونٹ جس کا نام عصیفیر تھا بیس اونٹوں کے بدلے میں بیچا وعدے پر ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ .
عبداللہ بن عمر نے ایک سانڈنی چار اونٹوں کے بدلے میں خریدی اور یہ ٹھہرایا کہ ان چار اونٹوں کو زبذہ میں بائع (بچنے والا) کو پہنچائیں گے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ بَيْعٍ الْحَيَوَانِ، اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ بَأْسَ بِالْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ الْجَمَلُ بِالْجَمَلِ يَدًا بِيَدٍ وَالدَّرَاهِمُ إِلَى أَجَلٍ . قَالَ وَلاَ خَيْرَ فِي الْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ الدَّرَاهِمُ نَقْدًا وَالْجَمَلُ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ أَخَّرْتَ الْجَمَلَ وَالدَّرَاهِمَ لاَ خَيْرَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَبْتَاعَ الْبَعِيرَ النَّجِيبَ بِالْبَعِيرَيْنِ أَوْ بِالأَبْعِرَةِ مِنَ الْحَمُولَةِ مِنْ مَاشِيَةِ الإِبِلِ وَإِنْ كَانَتْ مِنْ نَعَمٍ وَاحِدَةٍ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ إِذَا اخْتَلَفَتْ فَبَانَ اخْتِلاَفُهَا وَإِنْ أَشْبَهَ بَعْضُهَا بَعْضًا وَاخْتَلَفَتْ أَجْنَاسُهَا أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ فَلاَ يُؤْخَذُ مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ . قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يُؤْخَذَ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَفَاضُلٌ فِي نَجَابَةٍ وَلاَ رِحْلَةٍ فَإِذَا كَانَ هَذَا عَلَى مَا وَصَفْتُ لَكَ فَلاَ يُشْتَرَى مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ سَلَّفَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْحَيَوَانِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَوَصَفَهُ وَحَلاَّهُ وَنَقَدَ ثَمَنَهُ فَذَلِكَ جَائِزٌ وَهُوَ لاَزِمٌ لِلْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعِ عَلَى مَا وَصَفَا وَحَلَّيَا وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِ النَّاسِ الْجَائِزِ بَيْنَهُمْ وَالَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ . وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ . ثُمَّ تُنْتَجَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا حبل الحبلہ کی بیع سے یہ بیع ایام جاہلت میں مروج تھی آدمی اونٹ خریدتا تھا اس وعدے پر کہ جب اونٹنی کا بچہ ہوگا اور پھر بچے کا بچہ اس وقت میں دام لوں گا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ لاَ رِبًا فِي الْحَيَوَانِ وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنَ الْحَيَوَانِ عَنْ ثَلاَثَةٍ عَنِ الْمَضَامِينِ وَالْمَلاَقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ . وَالْمَضَامِينُ بَيْعُ مَا فِي بُطُونِ إِنَاثِ الإِبِلِ وَالْمَلاَقِيحُ بَيْعُ مَا فِي ظُهُورِ الْجِمَالِ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ أَحَدٌ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ بِعَيْنِهِ إِذَا كَانَ غَائِبًا عَنْهُ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُدَ ثَمَنَهُ لاَ قَرِيبًا وَلاَ بَعِيدًا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّ الْبَائِعَ يَنْتَفِعُ بِالثَّمَنِ وَلاَ يُدْرَى هَلْ تُوجَدُ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَلَى مَا رَآهَا الْمُبْتَاعُ أَمْ لاَ فَلِذَلِكَ كُرِهَ ذَلِكَ وَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ مَضْمُونًا مَوْصُوفًا .
سعید بن مسیب نے کہا حیوان میں ربا نہیں ہے بلکہ حیوان میں تین بیعیں نا درست ہیں ایک مضامیں کی دوسرے ملا قیح کی تیسے حبل الحبلہ کی مضامیں وہ جانور جو مادہ کے شکم میں ہیں ملاقیح وہ جانور جو رن کے پشت میں ہیں حبل الحبلہ کا بیان ابھی ہو چکا ہے ،۔ کہا مالک نے معین جانور کی بیع جب وہ غائب ہو خواہ نزدیک ہو یا دور درست نہیں ہے۔ اگرچہ مشتری (خریدنے والا) اس جانور کو دیکھ چکا ہو اور پسند کرچکا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) سے دام لے کر نفع اٹھائے گا۔ اور مشتری (خریدنے والا) کو معلوم نہیں وہ جانور صحیح سالم جس طور سے اس نے دیکھا تھا ملے یا نہ ملے البتہ اگر غیر معین جانور کو اوصاف بیان کرکے بیچے تو کچھ قباحت نہیں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Hasan Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْعُ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے یہ بھی جاہلیت کا جوا ہے گوشے کو ایک بکری یا دو بکریوں کے عوض میں بیچنا ،۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ، بِاللَّحْمِ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً اشْتَرَى شَارِفًا بِعَشَرَةِ شِيَاهٍ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ كَانَ اشْتَرَاهَا لِيَنْحَرَهَا فَلاَ خَيْرَ فِي ذَلِكَ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنَ النَّاسِ يَنْهَوْنَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَكَانَ ذَلِكَ يُكْتَبُ فِي عُهُودِ الْعُمَّالِ فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ . يَعْنِي بِمَهْرِ الْبَغِيِّ مَا تُعْطَاهُ الْمَرْأَةُ عَلَى الزِّنَا وَحُلْوَانُ الْكَاهِنِ رَشْوَتُهُ وَمَا يُعْطَى عَلَى أَنْ يَتَكَهَّنَ .
ابی مسعود انصاری سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے سے اور خرچی سے فاحشہ کی اور کمائی سے فال نکالنے والے کی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ . قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ آخُذُ سِلْعَتَكَ بِكَذَا وَكَذَا عَلَى أَنْ تُسْلِفَنِي كَذَا وَكَذَا . فَإِنْ عَقَدَا بَيْعَهُمَا عَلَى هَذَا فَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ فَإِنْ تَرَكَ الَّذِي اشْتَرَطَ السَّلَفَ مَا اشْتَرَطَ مِنْهُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ جَائِزًا . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الثَّوْبُ مِنَ الْكَتَّانِ أَوِ الشَّطَوِيِّ أَوِ الْقَصَبِيِّ بِالأَثْوَابِ مِنَ الإِتْرِيبِيِّ أَوِ الْقَسِّيِّ أَوِ الزِّيقَةِ أَوِ الثَّوْبِ الْهَرَوِيِّ أَوِ الْمَرْوِيِّ بِالْمَلاَحِفِ الْيَمَانِيَّةِ وَالشَّقَائِقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ الْوَاحِدُ بِالاِثْنَيْنِ أَوِ الثَّلاَثَةِ يَدًا بِيَدٍ أَوْ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ نَسِيئَةٌ فَلاَ خَيْرَ فِيهِ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَصْلُحُ حَتَّى يَخْتَلِفَ فَيَبِينَ اخْتِلاَفُهُ فَإِذَا أَشْبَهَ بَعْضُ ذَلِكَ بَعْضًا وَإِنِ اخْتَلَفَتْ أَسْمَاؤُهُ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنَ الْهَرَوِيِّ بِالثَّوْبِ مِنَ الْمَرْوِيِّ أَوِ الْقُوهِيِّ إِلَى أَجَلٍ أَوْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنَ الْفُرْقُبِيِّ بِالثَّوْبِ مِنَ الشَّطَوِيِّ فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الأَجْنَاسُ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَلاَ يُشْتَرَى مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ .
رسول اللہ نے منع کیا ہے بیع سے اور سلف سے ۔ کہا مالک نے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے میں تیرا اسباب اس شرط سے لیتا ہوں کہ وہ مجھ سے سلف کرے اس طرح تو یہ جایز نہیں اگر سلف کی شرط موقوف کردے تو بیع جائز ہوجائے گی۔ کہا مالک نے جن کپڑوں میں کھلم کھلا فرق ہے ان میں سے ایک کو دو یا تین کے بدلے میں بیع کرنا نقدا نقد یا میعاد پر طرح سے درست ہے اور جب ایک کپڑا دوسرے کپڑے کے مشابہ ہو اگر نام جدا جدا ہوں تو کمی بیشی درست ہے مگر ادھار درست نہیں ۔ کہا مالک نے جس کپڑے کو خریدا اس کا بیچنا قبل قبضے کے بائع (بچنے والا) کے سوا اور کسی کے ہاتھ درست ہے ۔ جب کہ اس کی قیمت نقد لے لے۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَرَجُلٌ، يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ، سَلَّفَ فِي سَبَائِبَ فَأَرَادَ بَيْعَهَا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ . وَكَرِهَ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا بِهِ وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ بِذَلِكَ بَأْسٌ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي رَقِيقٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ عُرُوضٍ فَإِذَا كَانَ كُلُّ شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ مَوْصُوفًا فَسَلَّفَ فِيهِ إِلَى أَجَلٍ فَحَلَّ الأَجَلُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ لاَ يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ مِنَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي سَلَّفَهُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ مَا سَلَّفَهُ فِيهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا فَعَلَهُ فَهُوَ الرِّبَا صَارَ الْمُشْتَرِي إِنْ أَعْطَى الَّذِي بَاعَهُ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَانْتَفَعَ بِهَا فَلَمَّا حَلَّتْ عَلَيْهِ السِّلْعَةُ وَلَمْ يَقْبِضْهَا الْمُشْتَرِي بَاعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا سَلَّفَهُ فِيهَا فَصَارَ أَنْ رَدَّ إِلَيْهِ مَا سَلَّفَهُ وَزَادَهُ مِنْ عِنْدِهِ . قَالَ مَالِكٌ مَنْ سَلَّفَ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا فِي حَيَوَانٍ أَوْ عُرُوضٍ إِذَا كَانَ مَوْصُوفًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ حَلَّ الأَجَلُ فَإِنَّهُ لاَ بَأْسَ أَنْ يَبِيعَ الْمُشْتَرِي تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنَ الْبَائِعِ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الأَجَلُ أَوْ بَعْدَ مَا يَحِلُّ بِعَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ يُعَجِّلُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ بَالِغًا مَا بَلَغَ ذَلِكَ الْعَرْضُ إِلاَّ الطَّعَامَ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يَبِيعَ تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ عَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ يَقْبِضُ ذَلِكَ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ لأَنَّهُ إِذَا أَخَّرَ ذَلِكَ قَبُحَ وَدَخَلَهُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ وَالْكَالِئُ بِالْكَالِئِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ دَيْنًا لَهُ عَلَى رَجُلٍ بِدَيْنٍ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ سَلَّفَ فِي سِلْعَةٍ إِلَى أَجَلٍ وَتِلْكَ السِّلْعَةُ مِمَّا لاَ يُؤْكَلُ وَلاَ يُشْرَبُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ يَبِيعُهَا مِمَّنْ شَاءَ بِنَقْدٍ أَوْ عَرْضٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهَا مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا مِنَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ إِلاَّ بِعَرْضٍ يَقْبِضُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ كَانَتِ السِّلْعَةُ لَمْ تَحِلَّ فَلاَ بَأْسَ بِأَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِعَرْضٍ مُخَالِفٍ لَهَا بَيِّنٍ خِلاَفُهُ يَقْبِضُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ . قَالَ مَالِكٌ فِيمَنْ سَلَّفَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فِي أَرْبَعَةِ أَثْوَابٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ تَقَاضَى صَاحِبَهَا فَلَمْ يَجِدْهَا عِنْدَهُ وَوَجَدَ عِنْدَهُ ثِيَابًا دُونَهَا مِنْ صِنْفِهَا فَقَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الأَثْوَابُ أُعْطِيكَ بِهَا ثَمَانِيَةَ أَثْوَابٍ مِنْ ثِيَابِي هَذِهِ . إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا أَخَذَ تِلْكَ الأَثْوَابَ الَّتِي يُعْطِيهِ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الأَجَلُ فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ مَحِلِّ الأَجَلِ فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ أَيْضًا إِلاَّ أَنْ يَبِيعَهُ ثِيَابًا لَيْسَتْ مِنْ صِنْفِ الثِّيَابِ الَّتِي سَلَّفَهُ فِيهَا .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے ایک شخص نے پوچھا جو کوئی کپڑوں میں سلف کرے پھر قبل قبضے کے ان کو بیچنا چاہے ابن عباس نے کہا یہ چاندی کی بیع ہے چاندی کے بدلے میں اور اس کو مکروہ جانا ۔ کہا مالک نے ہماری دانست میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ان کپڑوں کو اسی کے ہاتھ بیچنا چاہے جس سے خریدا ہے پہلی قیمت سے کچھ زیادہ پر کیونکہ اگر وہ کسی اور شخص سے ان کپڑوں کو بیچنا چاہے تو کچھ قباحت نہیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص سلف کرے غلام میں یا جانور میں یا کسی اور اسباب میں اور اس کے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزرے تو مشتری (خریدنے والا) ان چیزوں کو اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ پہلی قیمت سے زیادہ پر نہ بیچے جب تک کہ ان چیزوں کو اپنے قبضے میں نہ لائے ورنہ ربا ہوجائے گا گویا بائع (بچنے والا) نے ایک مدت تک مشتری (خریدنے والا) کے روپوں سے فائدہ اٹھایا پھر زیادہ دے کر اس کو پھیر دیا تو یہ عین ربا ہے۔ کہا مالک نے جو شخص سلف کرے سونا چاندی دے کر کسی اساب میں یا جانور میں اور اس سے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزر جائے یا نہ گزرے تو مشتری (خریدنے والا) اس اسباب یا جانور کو بائع (بچنے والا) کے ہاتھ کسی اور اسباب کے بدلے میں بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ اس اسباب کو نقد لے لے اس میں میعاد نہ ہو سوائے غلے کے کہ اس کا بیچنا قبل قبضے کے درست نہیں اور اگر مشتری (خریدنے والا) اس اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ بیچے تو سونے چاندی کے بدلے میں بھی بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ دام نقد لے میعاد نہ ہو ورنہ کالئی کی بیع کالئی کے بدلے میں ہوجائے گی یعنی دین کے بدلے میں دین۔ کہا مالک نے جو شخص کسی اسباب میں جو کھانے پینے کا نہیں ہے سلف کرے ایک میعاد پر تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے کہ اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ سونا یا چاندی یا اسباب کے بدلے میں فروخت کر ڈالے قبضے سے پیشتر مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ بائع (بچنے والا) کے ہاتھ ہی بیچے اگر ایسا کرے تو اسباب کے بدلے میں بید ڈالے تو کچھ قباحت نہیں مگر نقدا نقد بیچے۔ کہا مالک نے جس نے روپے یا اشرفیاں دے کر سلف کی چار کپڑوں میں ایک میعاد پر اور ان کپڑوں کے اوصاف بیان کردیئے ۔ جب مدت گزری تو مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) پر ان چیزوں کا تقاضا کیا لیکن بائع (بچنے والا) کے پاس اس قسم کے کپڑے نہ نکلے بلکہ اس سے ہلکے اس وقت بائع (بچنے والا) نے کہا تو ان ہلکے کپڑوں میں سے آٹھ کپڑے لے لے تو مشتری (خریدنے والا) کو لینا درست ہے مگر اسی وقت نقد لینا چاہیے دیر نہ کرے اگر ان آٹھ کپڑوں کی کوئی معیاد نہ کرے گا تو درست نہیں ہے اگر قبل معیاد گزرنے کے دوسرے کپڑے اسی قسم کے ٹھہرائے تو درست نہیں البتہ دوسرے قسم کے کپڑوں سے بدلنا درست ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَجُلٍ ابْتَعْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ بِنَقْدٍ حَتَّى أَبْتَاعَهُ مِنْكَ إِلَى أَجَلٍ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، اشْتَرَى سِلْعَةً بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ ابْتَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَتْ لِلْمُشْتَرِي بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي ذَلِكَ لأَنَّهُ إِنْ أَخَّرَ الْعَشَرَةَ كَانَتْ خَمْسَةَ عَشَرَ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ نَقَدَ الْعَشَرَةَ كَانَ إِنَّمَا اشْتَرَى بِهَا الْخَمْسَةَ عَشَرَ الَّتِي إِلَى أَجَلٍ . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً بِدِينَارٍ نَقْدًا أَوْ بِشَاةٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لاَ يَنْبَغِي لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهَذَا مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ أَشْتَرِي مِنْكَ هَذِهِ الْعَجْوَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الصَّيْحَانِيَّ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ أَوِ الْحِنْطَةَ الْمَحْمُولَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوِ الشَّامِيَّةَ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ بِدِينَارٍ قَدْ وَجَبَتْ لِي إِحْدَاهُمَا إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لاَ يَحِلُّ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ أَوْجَبَ لَهُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ صَيْحَانِيًّا فَهُوَ يَدَعُهَا وَيَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْعَجْوَةِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنَ الْحِنْطَةِ الْمَحْمُولَةِ فَيَدَعُهَا وَيَأْخُذُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ مِنَ الشَّامِيَّةِ فَهَذَا أَيْضًا مَكْرُوهٌ لاَ يَحِلُّ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهُوَ أَيْضًا مِمَّا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُبَاعَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنَ الطَّعَامِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ .
امام مالک کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا دو بیعوں سے ایک بیع میں ۔ ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میرے واستے یہ اونٹ نقد خرید کرلو میں تم سے وعدے پر خرید کر لوں گا عبداللہ بن عمر نے اس کا برا جانا اور منع کیا قاسم بن محمد سے سوال ہوا ایک شخص نے ایک چیز خریدی دس دینار کے بدلے میں یا پندہ دینار اور ادھار کے بدلے میں تو قاسم بن محمد نے اس کو برا جانا اور اس سے منع کیا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک کپڑا اس شرط سے خریدا اگر نقد دے تو دس دینار دے اگر وعدے پر دے تو پندرہ دینار دے بہر حال مشتری (خریدنے والا) کو دونوں میں ایک قمیت دینا ضروری ہے تو یہ جانق نہیں کیونکہ اس نے اگر دس دینار نقد نہ دیئے تو دس کے بدلے پندرہ ادھار ہوئے اور جو دس نقد دے دیئے تو گویا پندرہ ادھار اس کے بدلے میں لیے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی کھجور پندرہ صاع یا اس قسم کی دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لی دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا یا یوں کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی گیہوں پندرہ صاع یا اس قسم کی گیہوں دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لئے دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا تو یہ درست نہیں گویا اس نے دس صاع کھجور لے کر پھر اس کو چھوڑ کر پندرہ صاع کھجور لی یا دس صاع گیہوں چھوڑ کر اس کے عوض میں پندرہ صاع لئے یہ بھی اس میں داخل ہے یعنی دو بیع کرنا ایک بیع میں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ . قَالَ مَالِكٌ وَمِنَ الْغَرَرِ وَالْمُخَاطَرَةِ أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ قَدْ ضَلَّتْ دَابَّتُهُ أَوْ أَبَقَ غُلاَمُهُ وَثَمَنُ الشَّىْءِ مِنْ ذَلِكَ خَمْسُونَ دِينَارًا فَيَقُولُ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُ مِنْكَ بِعِشْرِينَ دِينَارًا . فَإِنْ وَجَدَهُ الْمُبْتَاعُ ذَهَبَ مِنَ الْبَائِعِ ثَلاَثُونَ دِينَارًا وَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ ذَهَبَ الْبَائِعُ مِنَ الْمُبْتَاعِ بِعِشْرِينَ دِينَارًا . قَالَ مَالِكٌ وَفِي ذَلِكَ عَيْبٌ آخَرُ إِنَّ تِلْكَ الضَّالَّةَ إِنْ وُجِدَتْ لَمْ يُدْرَ أَزَادَتْ أَمْ نَقَصَتْ أَمْ مَا حَدَثَ بِهَا مِنَ الْعُيُوبِ فَهَذَا أَعْظَمُ الْمُخَاطَرَةِ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَالْغَرَرِ اشْتِرَاءَ مَا فِي بُطُونِ الإِنَاثِ مِنَ النِّسَاءِ وَالدَّوَابِّ لأَنَّهُ لاَ يُدْرَى أَيَخْرُجُ أَمْ لاَ يَخْرُجُ فَإِنْ خَرَجَ لَمْ يُدْرَ أَيَكُونُ حَسَنًا أَمْ قَبِيحًا أَمْ تَامًّا أَمْ نَاقِصًا أَمْ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى وَذَلِكَ كُلُّهُ يَتَفَاضَلُ إِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا وَإِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي بَيْعُ الإِنَاثِ وَاسْتِثْنَاءُ مَا فِي بُطُونِهَا وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ ثَمَنُ شَاتِي الْغَزِيرَةِ ثَلاَثَةُ دَنَانِيرَ فَهِيَ لَكَ بِدِينَارَيْنِ وَلِي مَا فِي بَطْنِهَا . فَهَذَا مَكْرُوهٌ لأَنَّهُ غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَحِلُّ بَيْعُ الزَّيْتُونِ بِالزَّيْتِ وَلاَ الْجُلْجُلاَنِ بِدُهْنِ الْجُلْجُلاَنِ وَلاَ الزُّبْدِ بِالسَّمْنِ لأَنَّ الْمُزَابَنَةَ تَدْخُلُهُ وَلأَنَّ الَّذِي يَشْتَرِي الْحَبَّ وَمَا أَشْبَهَهُ بِشَىْءٍ مُسَمًّى مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهُ لاَ يَدْرِي أَيَخْرُجُ مِنْهُ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَهَذَا غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ . قَالَ مَالِكٌ وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا اشْتِرَاءُ حَبِّ الْبَانِ بِالسَّلِيخَةِ فَذَلِكَ غَرَرٌ لأَنَّ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ حَبِّ الْبَانِ هُوَ السَّلِيخَةُ وَلاَ بَأْسَ بِحَبِّ الْبَانِ بِالْبَانِ الْمُطَيَّبِ لأَنَّ الْبَانَ الْمُطَيَّبَ قَدْ طُيِّبَ وَنُشَّ وَتَحَوَّلَ عَنْ حَالِ السَّلِيخَةِ . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ عَلَى أَنَّهُ لاَ نُقْصَانَ عَلَى الْمُبْتَاعِ إِنَّ ذَلِكَ بَيْعٌ غَيْرُ جَائِزٍ وَهُوَ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهُ كَأَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُ بِرِبْحٍ إِنْ كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ وَإِنْ بَاعَ بِرَأْسِ الْمَالِ أَوْ بِنُقْصَانٍ فَلاَ شَىْءَ لَهُ وَذَهَبَ عَنَاؤُهُ بَاطِلاً فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ وَلِلْمُبْتَاعِ فِي هَذَا أُجْرَةٌ بِمِقْدَارِ مَا عَالَجَ مِنْ ذَلِكَ وَمَا كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ مِنْ نُقْصَانٍ أَوْ رِبْحٍ فَهُوَ لِلْبَائِعِ وَعَلَيْهِ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَاتَتِ السِّلْعَةُ وَبِيعَتْ . فَإِنْ لَمْ تَفُتْ فُسِخَ الْبَيْعُ بَيْنَهُمَا . قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا أَنْ يَبِيعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً يَبُتُّ بَيْعَهَا ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي فَيَقُولُ لِلْبَائِعِ ضَعْ عَنِّي فَيَأْبَى الْبَائِعُ وَيَقُولُ بِعْ فَلاَ نُقْصَانَ عَلَيْكَ . فَهَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ لأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ وَإِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ وَضَعَهُ لَهُ وَلَيْسَ عَلَى ذَلِكَ عَقَدَا بَيْعَهُمَا وَذَلِكَ الَّذِي عَلَيْهِ الأَمْرُ عِنْدَنَا .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا دھوکے کی بیع سے کہا مالک نے دھوکے کی بیع میں یہ داخل ہے کسی شخص کا جانور گم ہوگیا ہو یا غلام بھاگ گیا ہو اور اس کی قیمت پچاس دینار ہو ایک شخص اس سے کہے میں تیرے اس جانور یا غلام کو بیس دینار کو لیتا ہوں اگر وہ مل گیا تو بائع (بچنے والا) کے تیس دینار نقصان ہوئے اور جو نہ ملا تو مشتری (خریدنے والا) کے پاس بیس دینار گئے۔ کہا مالک نے اس میں ایک بڑا دھوکا ہے معلوم نہیں وہ جانور یا غلام اسی حال میں ہے یا اس میں کوئی عیب ہوگیا یا ہنر ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قیمت گھٹ بڑھ گئی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ حمل کا خریدنا بھی دھوکے کی بیع میں داخل ہے معلوم نہیں بچہ نکلتا ہے یا نہیں اگر نکلے تو خوبصورت ہوگا یا بدصورت پورا ہوگا یا لنڈورا۔ نر ہو یا مادہ اور ہر ایک کی قیمت کم وبیش ہے۔ کہا مالک نے مادہ کو بیچنا اور اس کے حمل کو مشتثنی کرلینا درست نہیں جیسے کوئی کسی سے کہے میری دودھ والی بکری کی قیمت تین دینار ہیں تو دو دینار کو لے لے مگر اس کے پیٹ کا بچہ جب پیدا ہوگا تو میں لے لوں گا یہ مکروہ ہے درست نہیں ۔ کہا مالک نے زیتون کی لکڑی اس کے تیل کے اور تل تیل کے بدلے میں اور مکھن گھی کے بدلے میں بیچنا درست نہیں اس لئے کہ یہ مزابنہ میں داخل ہے۔ اور اس میں دھوکہ ہے معلوم نہیں اس تل یا لکڑی یا مکھن میں اسی قدر تیل یا گھی نکلتا ہے یا اس سے کم یا زیادہ۔ کہا مالک نے اسی طرح حب البان کا بیچنا روغن بان کے بدلے میں نادرست ہے البتہ حب البان کو خوشبودار بان کے بدلے میں بیچنا درست ہے کیونکہ وہ خوشبو ملانے سے تیل کے حکم میں نہ رہا۔ کہا مالک نے ایک شخص نے اپنی چیز کسی کے ہاتھ اس شرط پر بیچی کہ مشتری (خریدنے والا) کو نقصان نہ ہوگا تو یہ جائز نہیں گویا بائع (بچنے والا) نے مشتری (خریدنے والا) کو نوکر رکھا اگر اس چیز میں نفع ہو اور اگر اتنے ہی کو بکے جتنے کو خریدا ہے یا کم کو مشتری (خریدنے والا) کی محنت برباد ہوئی تو یہ درست نہیں مشتری (خریدنے والا) کو اس کی محنت کے موافق مزدوری ملے گی اور جو کچھ نفع نقصان ہو بائع (بچنے والا) کا ہوگا مگر یہ حکم جب ہے کہ مشتری (خریدنے والا) اس چیز کو بیچ چکا ہو اگر اس نے نہیں بیچا تو بیع کو فسخ کریں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی چیز بیچ ڈالی پھر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہنے لگا کچھ قیمت کم کردے بائع (بچنے والا) نے انکار کیا اور کہا تو غم نہ کھابیچ دے تجھے نقصان نہ ہوگا اس میں کچھ قباحت نہیں نہ دھوکا ہے بلکہ بائع (بچنے والا) نے ایک رائے اپنی بیان کی کچھ اس شرط پر نہیں بیچا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ملامسے اور منابذے سے ۔ کہا مالک نے ملامسہ اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایک کپڑے کو چھوڑ کر خرید کرلے نہ اس کو کھولے نہ اندر سے دیکھے یا اندھیری رات میں خریدے نہ جانے اس میں کیا ہے اور منابذہ اس کو کہتے ہیں کہ بائع (بچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے اور مشتری (خریدنے والا) اپنا کپڑا بائع (بچنے والا) کی طرف نہ سوچیں نہ بچاریں یہ اس کے بدلے میں اور وہ اس کے بدلے میں یہ دونوں بیع ممنوع ہیں ۔ کہا مالک نے جوتھان تہہ کیا یا چادر بستے میں بندھی ہو تو اس کو بیچنا درست نہیں جب تک کھول کر اندر نہ دیکھے۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ " .
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص ایک شہر سے کپڑا خرید کرکے دوسرے شہر میں لائے پھر مرابحہ کے طور پر بیچنا چاہے تو اصل لاگت میں دلالوں کی دلالی اور تہہ کرنے کی مزدوری اور باندھا بوندھی کی اجرت اور اپنا خرچ اور مکان کا کرایہ شریک نہ کرے البتہ کپڑے کی بار برداری اس میں شریک کرلے مگر اس پر نفع نہ لے مگر جب مشتری (خریدنے والا) کو اطلاع دے اور وہ اس پر بھی نفع دینے کو راضی ہوجائے تو کچھ قباحت نہیں ۔ کہا مالک نے کپڑوں کی دھلائی اور نگوائی اس لاگت میں داخل ہوگی اور اس پر نفع لیا جائے گا۔ جیسے کپڑے پر نفع لیا جاتا ہے۔ اگر کپڑوں کو بیچا اور ان چیزوں کا حال بیان نہ کیا تو ان پر نفع نہ ملے گا اب اگر کپڑا تلف ہوگیا تو کرایہ باربرداری کا محسوب ہوگا مگر اس پر نفع نہ لگایا جائے گا۔ اگر کپڑا موجود ہے تو بیع کو فسخ کردیں گے جب دونوں راضی ہوجائیں کسی امر پر۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب سونے یا چاندی کے بدلے میں خریدا تو اس دن چاندی سونے کا بھاؤ یہ تھا کہ دس درہم کو ایک دینار آتا تھا پھر مشتری (خریدنے والا) اس مال کو لے کر دوسرے شہر میں آیا اور اسی شہر میں مرابحہ کے کے طور پر بیچنا چاہا اسی نرخ پر جو سونے چاندی کا اس دن تھا اگر اس نے دراہم کے بدلے میں خریدا تھا اور دیناروں کے بدلے میں بیچا یا دیناروں کے بدلے میں خریدا تھا اور درہموں کے بدلے میں بیچا اور اسباب موجود ہے۔ تلف نہیں ہوا تو خریدار کو اختیار ہوگا چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر وہ اسباب تلف ہوگیا تو مشتری (خریدنے والا) سے وہ ثمن جس کے عوض میں بائع (بچنے والا) نے خریدا تھا نفع حساب کرکے بائع (بچنے والا) کو دلادیں گے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے اپنی چیز جو سو دینار کو پڑی تھی دس فی صدی کے نفع پر بیچی پھر معلوم ہوا کہ وہ چیز نوے دینار کو پڑی تھی اور وہ چیز مشتری (خریدنے والا) کے پاس تلف ہوگئی تو اب بائع (بچنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے اس چیز کی قیمت بازار کی لے لے اس دم کی قیمت جس دن وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے پاس آئی تھی مگر جس صورت میں قیمت بازار کی اس ثمن سے جو اول میں ٹھہری تھی یعنی ایک سو دس دینار سے زیادہ ہو تو بائع (بچنے والا) کو ایک سو دس دینار سے زیادہ نہ ملیں گے اور اگر چاہے تو نوے دینار پر اسی حساب سے نفع لگا کریعنی ننانوے دینار لے لے مگر جس صورت میں یہ ثمن قیمت سے کم ہو تو بائع (بچنے والا) کا اختیار ہوگا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک چیز مرابحہ پر بیچی اور کہا سو دینار کو مجھ کو پڑی ہے پھر اس کو معلوم ہوا ایک سو بیس دینار کو پڑی تو اب خریدار کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو بائع (بچنے والا) کا اس دن کی قیمت بازار کی جس دن وہ شئے لی ہے دے دے اور اگر چاہے تو جس ثمن پر خرید کیا ہے نفع لگا کر جہاں تک پہنچے دے مگر جس صورت میں قیمت بازار کی پہلی ثمن سے (یعنی جو سو دینار پر لگی ہے) کم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ نہیں پہنچتاکہ اس سے کم دے اس واسطے کہ مشتری (خریدنے والا) اس پر راضی ہوچکا ہے مگر بائع (بچنے والا) نے اس سے زیادہ بیان کیا تو خریدار کو اصلی ثمن سے کم کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ فَعَرَضُوا عَلَىَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لاَ آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلاَ تُوكِلَهُ .
ابو صالح نے کہا میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر جب میں کوفے جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کم کردو تم تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں میں نے یہ زید بن ثابت سے بیان کیا انہوں نے کہا میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الآخَرُ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ .
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا ایک شخص کا میعادی قرض کسی پر آتا ہو قرضدار یہ کہے یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے اور قرض خواہ اس پر راضی ہو جائے تو عبداللہ بن عمر نے اس کو مکروہ جانا اور اس سے منع کیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي فَإِنْ قَضَى أَخَذَ وَإِلاَّ زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الأَجَلِ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الْمَكْرُوهُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ الطَّالِبُ وَيُعَجِّلُهُ الْمَطْلُوبُ وَذَلِكَ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُؤَخِّرُ دَيْنَهُ بَعْدَ مَحِلِّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَيَزِيدُهُ الْغَرِيمُ فِي حَقِّهِ قَالَ فَهَذَا الرِّبَا بِعَيْنِهِ لاَ شَكَّ فِيهِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ مِائَةُ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّتْ قَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ بِعْنِي سِلْعَةً يَكُونُ ثَمَنُهَا مِائَةَ دِينَارٍ نَقْدًا بِمِائَةٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَجَلٍ هَذَا بَيْعٌ لاَ يَصْلُحُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ ثَمَنَ مَا بَاعَهُ بِعَيْنِهِ وَيُؤَخِّرُ عَنْهُ الْمِائَةَ الأُولَى إِلَى الأَجَلِ الَّذِي ذَكَرَ لَهُ آخِرَ مَرَّةٍ وَيَزْدَادُ عَلَيْهِ خَمْسِينَ دِينَارًا فِي تَأْخِيرِهِ عَنْهُ فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَلاَ يَصْلُحُ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ حَدِيثَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي بَيْعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَلَّتْ دُيُونُهُمْ قَالُوا لِلَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ إِمَّا أَنْ تَقْضِيَ وَإِمَّا أَنْ تُرْبِيَ . فَإِنْ قَضَى أَخَذُوا وَإِلاَّ زَادُوهُمْ فِي حُقُوقِهِمْ وَزَادُوهُمْ فِي الأَجَلِ .
زید بن اسلم نے کہا کیا جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو جب میعاد گزر جائے تو قرضخواہ قرضدار سے کہے یا تم قرض ادا کرو یا سود دو اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے نہیں تو قرضخواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دوسرے شخص پر سو دینار آتے ہوں وعدے پر جب وعدہ گزر جائے تو قرضدار قرضخواہ سے کہے تو میرے ہاتھ کوئی ایسی چیز جس کی قیمت سو دینار ہوں ڈیڑھ سو دینار کو بیع ڈال ایک میعاد پر یہ بیع درست نہیں اور ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اس لئے کہ قرضخواہ نے اپنی چیز کی قیمت سو دینار وصول کرلی اور وہ جو سو دینار قرضے کے تھے ان کی میعاد بڑھا دی۔ بعوض پچاس دینار کے جو اس کو فائدہ حاصل ہو اس شئے کے بیچنے میں ۔ یہ بیع مشابہ ہے اس کے جو زید بن اسلم نے روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب قرض کی مدت گزر جاتی تو قرضخواہ قرضدار سے کہتا یا تو قرض ادا کر یا سود دے اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا نہیں تو اور مہلت دے کر قرضہ کو بڑھا دیتا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار شخص کا دیر کرنا قرض ادا کرنے میں ظلم ہے اور جب تم میں سے کوئی حوالہ کیا جائے مالدار شخص پر تو چاہے کہ حوالہ قبول کرلے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبِيعُ بِالدَّيْنِ . فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ تَبِعْ إِلاَّ مَا آوَيْتَ إِلَى رَحْلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنَ الرَّجُلِ عَلَى أَنْ يُوَفِّيَهُ تِلْكَ السِّلْعَةَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِمَّا لِسُوقٍ يَرْجُو نَفَاقَهَا فِيهِ وَإِمَّا لِحَاجَةٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الَّذِي اشْتَرَطَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُخْلِفُهُ الْبَائِعُ عَنْ ذَلِكَ الأَجَلِ فَيُرِيدُ الْمُشْتَرِي رَدَّ تِلْكَ السِّلْعَةِ عَلَى الْبَائِعِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لِلْمُشْتَرِي وَإِنَّ الْبَيْعَ لاَزِمٌ لَهُ وَإِنَّ الْبَائِعَ لَوْ جَاءَ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ قَبْلَ مَحِلِّ الأَجَلِ لَمْ يُكْرَهِ الْمُشْتَرِي عَلَى أَخْذِهَا . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَكْتَالُهُ ثُمَّ يَأْتِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنْهُ فَيُخْبِرُ الَّذِي يَأْتِيهِ أَنَّهُ قَدِ اكْتَالَهُ لِنَفْسِهِ وَاسْتَوْفَاهُ فَيُرِيدُ الْمُبْتَاعُ أَنْ يُصَدِّقَهُ وَيَأْخُذَهُ بِكَيْلِهِ إِنَّ مَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ بِنَقْدٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ إِلَى أَجَلٍ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ حَتَّى يَكْتَالَهُ الْمُشْتَرِي الآخَرُ لِنَفْسِهِ وَإِنَّمَا كُرِهَ الَّذِي إِلَى أَجَلٍ لأَنَّهُ ذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا وَتَخَوُّفٌ أَنْ يُدَارَ ذَلِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ كَيْلٍ وَلاَ وَزْنٍ فَإِنْ كَانَ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ مَكْرُوهٌ وَلاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُشْتَرَى دَيْنٌ عَلَى رَجُلٍ غَائِبٍ وَلاَ حَاضِرٍ إِلاَّ بِإِقْرَارٍ مِنَ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَلاَ عَلَى مَيِّتٍ وَإِنْ عَلِمَ الَّذِي تَرَكَ الْمَيِّتُ وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَ ذَلِكَ غَرَرٌ لاَ يُدْرَى أَيَتِمُّ أَمْ لاَ يَتِمُّ . قَالَ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا اشْتَرَى دَيْنًا عَلَى غَائِبٍ أَوْ مَيِّتٍ أَنَّهُ لاَ يُدْرَى مَا يَلْحَقُ الْمَيِّتَ مِنَ الدَّيْنِ الَّذِي لَمْ يُعْلَمْ بِهِ فَإِنْ لَحِقَ الْمَيِّتَ دَيْنٌ ذَهَبَ الثَّمَنُ الَّذِي أَعْطَى الْمُبْتَاعُ بَاطِلاً . قَالَ مَالِكٌ وَفِي ذَلِكَ أَيْضًا عَيْبٌ آخَرُ أَنَّهُ اشْتَرَى شَيْئًا لَيْسَ بِمَضْمُونٍ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ ذَهَبَ ثَمَنُهُ بَاطِلاً فَهَذَا غَرَرٌ لاَ يَصْلُحُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ أَنْ لاَ يَبِيعَ الرَّجُلُ إِلاَّ مَا عِنْدَهُ وَأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي شَىْءٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ أَنَّ صَاحِبَ الْعِينَةِ إِنَّمَا يَحْمِلُ ذَهَبَهُ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَبْتَاعَ بِهَا فَيَقُولُ هَذِهِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَمَا تُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لَكَ بِهَا فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَلِهَذَا كُرِهَ هَذَا وَإِنَّمَا تِلْكَ الدُّخْلَةُ وَالدُّلْسَةُ .
موسی بن میسرہ نے سنا ایک شخص پوچھ رہا تھا سعید بن مسیب سے میں قرض کے بدل میں بیچا کرتا ہوں سعید نے کہا تو نہ بیچ مگر اس چیز کو جو تیرے پاس ہو ۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز خرید کرے اس شرط پر کہ بائع (بچنے والا) وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کو اتنی مدت میں سپرد کردے اس میں مشتری (خریدنے والا) نے کوئی مصلحت رکھی ہو مثلا اس وقت بازار میں اس مال کی نکاسی کی امید ہو یا اور کچھ غرض ہو پھر بائع (بچنے والا) اس وعدے میں خلاف کر اور مشتری (خریدنے والا) چاہے کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو پھیر دے تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ حق نہیں پہنچتا اور بیع لازم رہے گی اگر بائع (بچنے والا) اس شئے کو قبل میعاد کے لئے آیا تو مشتری (خریدنے والا) پر جبر نہ کیا جائے گا اس کے لینے پر۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خرید کر اس کو تول لے پھر ایک خریدار آئے جو مشتری (خریدنے والا) سے اس اناج کو خرید کرنا چاہے مشتری (خریدنے والا) اس سے کہے کہ میں اناج تول چکا ہوں اور وہ شخص مشتری (خریدنے والا) کو سچا سمجھ کر اس غلے کو نقد مول لے لے تو کچھ قباحت نہیں مگر وعدے پر لینا مکروہ ہے جب تک وہ خریدار دوبارہ اس کو تول نہ لے۔ کہا مالک نے دین کا خریدنا درست نہیں خواہ غائب پر ہو یا حاضر پر مگر جب شخص حاضر اس کا اقرار کرے اسی طرح جو دین میت پر ہو اس کا بھی خریدنا درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکا ہے معلوم نہیں وہ قرض ملتا ہے یا نہیں اس واسطے اگر میت یا غائب پر اور بھی دین نکلا تو اس کے پیسے مفت گئے دوسرے یہ کہ وہ قرض اس کی ضمان میں داخل نہیں ہو اگر نہ پنٹا تو اس کے پیسے مفت گئے۔ کہا مالک نے بیع سلف(قرض) میں اور بیع عینہ میں یہ فرق ہے کہ بیع عینہ والا دس دینار نقد دے کر پندرہ دینار وعدے پر لیتا ہے تو یہ صریح دھوکا ہے اور بالکل فریب ہے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih