موطا امام مالک — باب ۴۱Hudud
۳۵ احادیث (نمبر ۱۵۰۰ تا ۱۵۳۶) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ " . فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ . فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ . فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تورات میں کیا حکم ہے رجم کا؟ یہودیوں نے کہا ہم میں جو کوئی زنا کرے اس کو ہم رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں عبداللہ بن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں رجم ہے لاؤ تم تورات کو پڑھو اس کو ، انہوں نے تورات کو کھولا اور ایک شخص نے ان میں سے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ لیا اور اس کے اول اور آخر کی آیتیں پڑھیں عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے جو ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت نکلی تب سب یہودی کہنے لگے کہ سچ کہا عبداللہ بن سلام نے آیت رجم کی موجود ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا رجم کا تو وہ مرد اور عورت رجم کئے گئے عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے مرد کو دیکھا کہ وہ عورت کی طرف جھکتا تھا اس کو بچانے پتھروں سے۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ لَهُ إِنَّ الأَخِرَ زَنَا . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لأَحَدٍ غَيْرِي فَقَالَ لاَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَتُبْ إِلَى اللَّهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ . فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لأَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّ الأَخِرَ زَنَا فَقَالَ سَعِيدٌ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ " أَيَشْتَكِي أَمْ بِهِ جِنَّةٌ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ " . فَقَالُوا بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص اسلم کے قبیلے کا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے (اپنی طرف اشارہ کرکے) زنا کیا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو نے یہ بات اور کسی سے تو بیان نہیں کیا بولا نہیں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو توبہ کر اللہ سے اور چھپا رہ اللہ کے پردے میں کیونکہ اللہ جل جلالہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی اس کو تسکین نہ ہوئی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا حضرت عمر سے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا حضرت عمر نے بھی وہی جواب دیا پھر بھی اس کو تسکین نہ ہوئی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے زنا کیا تین بار اس نے کہا اور تینوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا جب بہت اس نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کیا یہ بیمار ہوگیا ہے یا اس کو جنون ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تندرست ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا نکاح ہوا ہے یا نہیں لوگوں نے کہا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا اس کو سنگسار کرنے کا وہ سنگسار کر دیا گیا ۔
Salim al-Hilali: Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ هَزَّالٌ " يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِرِدَائِكَ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ الأَسْلَمِيِّ فَقَالَ يَزِيدُ هَزَّالٌ جَدِّي وَهَذَا الْحَدِيثُ حَقٌّ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ایک شخص کو جو اسلم کے قبیلے سے تھا اس کا نام ہزال تھا کہ اے ہزال اگر اس خبر کو تو چھپا لیتا تو تیرے واسطے بہتر ہوتا یحیی بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو ایک مجلس میں بیان کیا جس میں یزید بن عنیم بن ہزال اسلمی بیٹھے تھے تو یزید نے کہا کہ ہزال میرے دادا تھے اور یہ حدیث سچ ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ . أَنَّ رَجُلاً اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُجِمَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِهِ عَلَى نَفْسِهِ
ابن شہاب کہتے تھے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اور چار بار اقرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے رجم کرنے کا حکم کیا وہ رجم کیا گیا ابن شہاب نے کہا کہ اسی وجہ سے آدمی اپنے پر جواقرار کرے اس کا مواخذہ ہوتا ہے۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبِي حَتَّى تَضَعِي " . فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اذْهَبِي حَتَّى تُرْضِعِيهِ " . فَلَمَّا أَرْضَعَتْهُ جَاءَتْهُ فَقَالَ " اذْهَبِي فَاسْتَوْدِعِيهِ " . قَالَ فَاسْتَوْدَعَتْهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ .
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک عورت (غامدیہ) آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا میں نے زنا کیا اور وہ حاملہ تھی آپ نے فرمایا جب وضع حمل ہو جائے تو آنا جب اس نے (بچہ) جنا تو پھر آئی آپ نے فرمایا جب دودھ چھڑا لینا تو آنا پھر جب وہ دودھ پلاچکی تو آئی آپ نے فرمایا جا لڑکے کو کسی کے سپرد کردے (حفاظت اور پرورش کے واسطے وہ سپرد کرکے پھر آئی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا اور وہ رجم کی گئی ۔)
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ . قَالَ " تَكَلَّمْ " . فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَا بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ " . وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا .
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ کے پاس ایک بولا یا رسول اللہ آپ فیصلہ کیجیے ہمارا موافق کتاب اللہ کے اور دوسرا شخص جو زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا ہاں یا رسول اللہ فیصلہ کیجیے کتاب اللہ کے اور اجازت دیجیے مجھے بات کرنے کی آپ نے فرمایا اچھا بولو اس نے کہا میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے میں نے سوبکریاں اس کی طرف سے فدیہ دیں اور ایک لونڈی دی پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں اور ایک برس جلاوطنی اور رجم اس کی عورت پر ہے رسول اللہ نے فرمایا تم دنوں کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے موافق کرتا ہوں تیری بکریاں اور لونڈی تیرا مال ہے اس کولے لے اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے مارنے کا حکم کیا اور ایک برس تک جلاوطن کیا اور حکم کیا انیس اسلمی کو کہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جا اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اس کو رجم کر اس نے زنا کا اقرار کیا وہ رجم کی گئی۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلاً أَأُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا میں اس کو مہلت دوں چار گواہ جمع کرنے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا أُحْصِنَ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے سنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا فرماتے تھے کہ رجم اللہ کی کتاب میں ہے سچ ہے جو شخص زنا کرے مرد ہو یا عورت وہ محصن ہو تو وہ رجم کیا جائے گا جب ثابت ہو چار گواہوں سے یا عورت پر حمل سے یا مرد اور عورت دونوں پر اقرار سے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالشَّامِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَى امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا فَذَكَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لاَ تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِكَ لِتَنْزِعَ فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ وَتَمَّتْ عَلَى الاِعْتِرَافِ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَرُجِمَتْ .
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام میں تھے اس نے بیان کیا کہ میں نے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا آپ نے ابوواقد کو بھیجا کہ عورت سے جا کر پوچھے وہ عورت کے پاس گئے اس کے پاس اور عورتیں بیٹھی تھیں انہوں نے کہا وہ جو اس کے خاوند نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا کہ خاوند کے کہنے سے تجھے مواخذہ نہ ہوگا اس کو سکھانے بھی لگے اس قسم کی باتیں تاکہ وہ اقرار نہ کرے لیکن اس نے نہ مانا اور اقرار کیا زنا کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو رجم کا حکم کیا اور رجم کی گئی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ مِنًى أَنَاخَ بِالأَبْطَحِ ثُمَّ كَوَّمَ كَوْمَةً بَطْحَاءَ ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا رِدَاءَهُ وَاسْتَلْقَى ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ كَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي . فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلاَ مُفَرِّطٍ . ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَكُمُ السُّنَنُ وَفُرِضَتْ لَكُمُ الْفَرَائِضُ وَتُرِكْتُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ إِلاَّ أَنْ تَضِلُّوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالاً وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ لاَ نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى . لَكَتَبْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ . فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا . قَالَ مَالِكٌ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا انْسَلَخَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّى قُتِلَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ قَوْلُهُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ يَعْنِي الثَّيِّبَ وَالثَّيِّبَةَ فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ . حَدَّثَنِي مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ عَلَيْهِ الرَّجْمُ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاَثُونَ شَهْرًا} وَقَالَ {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} فَالْحَمْلُ يَكُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلاَ رَجْمَ عَلَيْهَا . فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَوْطٍ فَأُتِيَ بِسَوْطٍ مَكْسُورٍ فَقَالَ " فَوْقَ هَذَا " . فَأُتِيَ بِسَوْطٍ جَدِيدٍ لَمْ تُقْطَعْ ثَمَرَتُهُ فَقَالَ " دُونَ هَذَا " . فَأُتِيَ بِسَوْطٍ قَدْ رُكِبَ بِهِ وَلاَنَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجُلِدَ ثُمَّ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تَنْتَهُوا عَنْ حُدُودِ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ هَذِهِ الْقَاذُورَاتِ شَيْئًا فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ يُبْدِي لَنَا صَفْحَتَهُ نُقِمْ عَلَيْهِ كِتَابَ اللَّهِ " .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آپ نے کوڑا منگوایا تو نیا کوڑا آیا جس کا سرا بھی نہیں کٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے نرم لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو بالکل ٹوٹا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما اس سے سخت لاؤ پھر ایک کوڑا آیا جو سواری میں کام آیا تھا اور نرم ہو گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا اس کوڑے سے مارنے کا بعد اس کے فرمایا اے لوگوں اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم باز رہو اللہ کی حدوں سے جو شخص اس قسم کا کوئی گناہ کرے تو چاہیے کہ چھپا رہے اللہ کے پردے میں اور جو کوئی کھول دے گا اپنے پردے کو تو ہم موافق کتاب اللہ کے اس پر حد قائم کریں گے ۔
Salim al-Hilali: Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةٍ بِكْرٍ فَأَحْبَلَهَا ثُمَّ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا وَلَمْ يَكُنْ أَحْصَنَ فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ نُفِيَ إِلَى فَدَكَ .
صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص کو لائے جس نے ایک باکرہ لونڈی سے زنا کر کے اس کو حاملہ کر دیا تھا بعد اس کے زنا کا اقرار کیا اور وہ محصن نہ تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم کیا اس کو کوڑا مارنے کا اس کو حد پڑی بعد اس کے نکال دیا گیا فدک کی طرف ایک موضع ہے مدینہ سے دو دن کی راہ پر ۔ کہا مالک نے جو شخص زنا کا اقرار کرے بعد اس کے منکر ہوجائے اور کہے میں نے زنا نہیں کیا بلکہ میں نے فلانا کام کیا (جیسے اپنی عورت سے حالت حیض میں جماع کیا اس کو زنا سمجھا) تو اس پر حد نہ پڑے گی کیونکہ حد پڑنے میں یا تو گواہ عادل ہونے چاہئیں یا اقرار ہو جس پر وہ قائم رہے حد پڑنے تک۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ فَقَالَ " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ لونڈی غیر محصنہ جب زنا کرے تو کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرے تو اس کو کوڑے مار پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے مارو بعد اس کے چوتھی مرتبہ یا تیسری مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیچ ڈالو ایسی لونڈی کو اگرچہ ایک رسی کے عوض میں ہو۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدًا، كَانَ يَقُومُ عَلَى رَقِيقِ الْخُمُسِ وَأَنَّهُ اسْتَكْرَهَ جَارِيَةً مِنْ ذَلِكَ الرَّقِيقِ فَوَقَعَ بِهَا فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَنَفَاهُ وَلَمْ يَجْلِدِ الْوَلِيدَةَ لأَنَّهُ اسْتَكْرَهَهَا .
نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام مقرر تھا ان غلام اور لونڈیوں پر جو خمس میں آئی تھیں اس نے انہیں غلام اور لونڈیوں میں سے ایک لونڈی سے زبردستی جماع کیا حضرت عمر بن خطاب نے اس کو کوڑے مارے اور نکال دیا اور لونڈی کو نہ مارا کیونکہ اس پر جبر ہوا تھا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَلَدْنَا وَلاَئِدَ مِنْ وَلاَئِدِ الإِمَارَةِ خَمْسِينَ خَمْسِينَ فِي الزِّنَا .
عبداللہ بن عیاش سے روایت ہے کہ مجھ کو اور کئی جوانوں کو جو قریش کے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم کیا حد مارنے کا تو ہم نے لونڈیوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے زنا میں وہ لونڈیاں امارت یعنی بیت المال کی تھیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ قَالَ جَلَدَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ ثَمَانِينَ . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَدْرَكْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَالْخُلَفَاءَ هَلُمَّ جَرًّا فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا جَلَدَ عَبْدًا فِي فِرْيَةٍ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ .
ابو زناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک غلام کو حد قذف کے اسی کوڑے لگائے تو میں نے عبداللہ بن عامر سے پوچھا انہوں نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان اور خلفاء کو ان کے بعد دیکھا کہ کسی نے غلام کو حد قذف میں چالیس کوڑے سے زیادہ نہیں لگائے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ الأَيْلِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، يُقَالُ لَهُ مِصْبَاحٌ اسْتَعَانَ ابْنًا لَهُ فَكَأَنَّهُ اسْتَبْطَأَهُ فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ لَهُ يَا زَانٍ . قَالَ زُرَيْقٌ فَاسْتَعْدَانِي عَلَيْهِ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَجْلِدَهُ قَالَ ابْنُهُ وَاللَّهِ لَئِنْ جَلَدْتَهُ لأَبُوأَنَّ عَلَى نَفْسِي بِالزِّنَا . فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ أَشْكَلَ عَلَىَّ أَمْرُهُ فَكَتَبْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ - وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ - أَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَىَّ عُمَرُ أَنْ أَجِزْ عَفْوَهُ . قَالَ زُرَيْقٌ وَكَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَيْضًا أَرَأَيْتَ رَجُلاً افْتُرِيَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا . قَالَ فَكَتَبَ إِلَىَّ عُمَرُ إِنْ عَفَا فَأَجِزْ عَفْوَهُ فِي نَفْسِهِ وَإِنِ افْتُرِيَ عَلَى أَبَوَيْهِ وَقَدْ هَلَكَا أَوْ أَحَدُهُمَا فَخُذْ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلاَّ أَنْ يُرِيدَ سِتْرًا . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَذَلِكَ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ الْمُفْتَرَى عَلَيْهِ يَخَافُ إِنْ كُشِفَ ذَلِكَ مِنْهُ أَنْ تَقُومَ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَإِذَا كَانَ عَلَى مَا وَصَفْتُ فَعَفَا جَازَ عَفْوُهُ .
زریق بن حکیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام مصباح تھا اپنے بیٹے کو کسی کام کے واسطے بلایا اس نے دیر کی جب آیا تو مصباح نے کہا کہ اے زانی، کہا زریق نے اس لڑکے نے میرے پاس فریاد کی میں نے جب اس کے باپ کو حد مارنی چاہی تو وہ لڑکا بولا اگر تم میرے باپ کو کوڑوں سے مارو گے تو میں زنا کا اقرار کر لوں گا میں یہ سن کر حیران ہوا اور اس مقدمے کا فیصلہ کرنا مجھ پر دشوار ہوا تو میں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں حاکم تھے مدینہ کے (سلمان بن عبدالملک کی طرف سے) عمر بن عبدالعزیز نے جواب لکھا کہ لڑکے کے عفو کو جائز رکھ(یعنی بیٹے نے اگر باپ کو حد معاف کردی ہے تو عفو صحیح ہے) زریق نے کہا میں نے عمربن عبدالعزیز کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر تہمت زنا کی لگائے یا اس کے ماں باپ کو اور ماں باپ اس کے مر گئے ہوں یا دونوں میں سے ایک مر گیا ہو تو پھر کیا کرے، عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ جس شخص کو تہمت زنا کی لگائے اگر وہ معاف کر دے تو عفو درست ہے لیکن اگر اس کے والدین کو تہمت زنا کی لگائے تو اس کا عفو کر دینا درست نہیں جب کہ والدین مر گئے ہوں یا ان دو میں سے ایک مر گیا ہو بلکہ حد لگا اس کو موافق کتاب اللہ کے مگر جب بیٹا اپنے والدین کا حال چھپانے کے واسطے عفو کر دے تو عفو درست ہے ۔ کہا مالک نے یعنی اس کو خوف ہو اگر میں تہمت لگانے والے کو معاف نہ کروں گا تو والدین کا زنا گواہوں سے ثابت ہوجائے گا اس وجہ سے عفو کردے تو عفو درست ہے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَذَفَ قَوْمًا جَمَاعَةً أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ تَفَرَّقُوا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ حَدٌّ وَاحِدٌ . حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلَيْنِ، اسْتَبَّا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ وَاللَّهِ مَا أَبِي بِزَانٍ وَلاَ أُمِّي بِزَانِيَةٍ . فَاسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ قَائِلٌ مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ وَقَالَ آخَرُونَ قَدْ كَانَ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَدْحٌ غَيْرُ هَذَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ الْحَدَّ . فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ . قَالَ مَالِكٌ لاَ حَدَّ عِنْدَنَا إِلاَّ فِي نَفْىٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ تَعْرِيضٍ يُرَى أَنَّ قَائِلَهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ نَفْيًا أَوْ قَذْفًا فَعَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْحَدُّ تَامًّا . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا نَفَى رَجُلٌ رَجُلاً مِنْ أَبِيهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الَّذِي نُفِيَ مَمْلُوكَةً فَإِنَّ عَلَيْهِ الْحَدَّ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لِرَجُلٍ خَرَجَ بِجَارِيَةٍ لاِمْرَأَتِهِ مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَهَا فَغَارَتِ امْرَأَتُهُ . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَهَبَتْهَا لِي . فَقَالَ عُمَرُ لَتَأْتِينِي بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لأَرْمِيَنَّكَ بِالْحِجَارَةِ . قَالَ فَاعْتَرَفَتِ امْرَأَتُهُ أَنَّهَا وَهَبَتْهَا لَهُ .
ربیعہ بن ابو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کی لونڈی کو سفر میں ساتھ لے کر نکلا وہاں اس سے صحبت کی عورت نے رشک کے مارے حضرت عمر سے کہہ دیا حضرت عمر نے مرد سے پوچھا وہ بولا کہ عورت نے اس لونڈی کو مجھے ہبہ کردیا تھا حضرت عمر نے کہا یا تو تو گواہ لا ہبہ کے نہیں تو تجھے رجم کروں گا۔ اس وقت عورت نے کہہ دیا کہ ہاں میں نے ہبہ کر دیا تھا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کاٹا ایک ڈھال کی چوری میں جس کی قیمت تین درہم تھی
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ وَلاَ فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ " فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِينُ فَالْقَطْعُ فِيمَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْمِجَنِّ .
عبداللہ بن عبدالرحمن مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو میوہ درخت پر لٹکتا ہو یا جو بکری پہاڑ پر پھرتی ہو اس کے اٹھا لینے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مگر جب وہ بکری اپنے گھر میں آجائے یا میوہ کاٹ کر کھانے کو کہیں رکھا جائے پھر اس کو کوئی چرائے تو ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ قیمت اس کی ڈھال کے برابر ہو ۔
Salim al-Hilali: Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ سَارِقًا، سَرَقَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ أُتْرُجَّةً فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَنْ تُقَوَّمَ فَقُوِّمَتْ بِثَلاَثَةِ دَرَاهِمَ مِنْ صَرْفِ اثْنَىْ عَشَرَ دِرْهَمًا بِدِينَارٍ فَقَطَعَ عُثْمَانُ يَدَهُ .
حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ترنج چرایا حضرت عثمان نے اس کی قیمت لگوائی وہ تین درہم کا نکلا بارہ درہم فی دینار کے حساب سے تو حضرت عثمان نے اس کا ہاتھ کاٹا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا طَالَ عَلَىَّ وَمَا نَسِيتُ " الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ابھی کچھ زیادہ زمانہ نہیں ہوا اور نہ میں بھولی ہوں کہ چور کا ہاتھ ربع دینا میں یا زیادہ میں کاٹا جائے گا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَمَعَهَا مَوْلاَتَانِ لَهَا وَمَعَهَا غُلاَمٌ لِبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَبَعَثَتْ مَعَ الْمَوْلاَتَيْنِ بِبُرْدٍ مُرَجَّلٍ قَدْ خِيطَ عَلَيْهِ خِرْقَةٌ خَضْرَاءُ قَالَتْ فَأَخَذَ الْغُلاَمُ الْبُرْدَ فَفَتَقَ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهُ وَجَعَلَ مَكَانَهُ لِبْدًا أَوْ فَرْوَةً وَخَاطَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَوْلاَتَانِ الْمَدِينَةَ دَفَعَتَا ذَلِكَ إِلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا فَتَقُوا عَنْهُ وَجَدُوا فِيهِ اللِّبْدَ وَلَمْ يَجِدُوا الْبُرْدَ فَكَلَّمُوا الْمَرْأَتَيْنِ فَكَلَّمَتَا عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ كَتَبَتَا إِلَيْهَا وَاتَّهَمَتَا الْعَبْدَ فَسُئِلَ الْعَبْدُ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُطِعَتْ يَدُهُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ الْقَطْعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ کو گئیں ان کے ساتھ دو لونڈیاں تھیں ان کی آزاد کی ہوئیں اور ایک غلام تھا عبداللہ بن ابی بکر کی اولاد کا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مکہ سے ان دو لونڈیوں کے ہاتھ ایک چادر بھیجی جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں مردوں کی۔ ایک سبز کپڑے میں لپیٹ کر سی دیا تھا اس غلام نے کیا کیا کپڑے کی سیون ادھیڑ کر اس میں سے چادر نکال لی اور اس کی جگہ ایک تھیلا پوستین رکھ دی اور پھر سی دیا جب وہ لونڈیاں مدینہ کو آئیں اور وہ امانت جن کو حضرت عائشہ نے کہا تھا کہ سپرد کی انہوں نے اڈھیر کر دیکھا تو نمدہ ہے چادر نہیں ہے لونڈیوں سے پوچھا لونڈیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کیا یا ان کولکھ بھیجا اور اپنا گمان غلام پر ظاہر کیا جب غلام سے پوچھا گیا تو اس نے اقرار کیا حضرت عائشہ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا حضرت عائشہ نے فرمایا ربع دینار یا زیادہ میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ فَأَرْسَلَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ - وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - لِيَقْطَعَ يَدَهُ فَأَبَى سَعِيدٌ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ وَقَالَ لاَ تُقْطَعُ يَدُ الآبِقِ السَّارِقِ إِذَا سَرَقَ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي أَىِّ كِتَابِ اللَّهِ وَجَدْتَ هَذَا ثُمَّ أَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ .
نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام عبداللہ بن عمر کا بھاگا ہوا تھا اس نے چوری کی عبداللہ بن عمر نے اس غلام کو سعید بن العاص کے پاس بھیجا جو حاکم تھے مدینہ کے ہاتھ کاٹنے کو، سعید بن عاص نے نہ مانا اور کہا جب کوئی بھاگ جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تو نے یہ حکم کس کتاب اللہ میں پایا، پھر عمد اللہ بن عمر نے حکم کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زُرَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا قَدْ سَرَقَ قَالَ فَأَشْكَلَ عَلَىَّ أَمْرُهُ - قَالَ - فَكَتَبْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ وَهُوَ الْوَالِي يَوْمَئِذٍ - قَالَ - فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّنِي كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ إِذَا سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ لَمْ تُقْطَعْ يَدُهُ - قَالَ - فَكَتَبَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ نَقِيضَ كِتَابِي يَقُولُ كَتَبْتَ إِلَىَّ أَنَّكَ كُنْتَ تَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ إِذَا سَرَقَ لَمْ تُقْطَعْ يَدُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالاً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} . فَإِنْ بَلَغَتْ سَرِقَتُهُ رُبُعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا فَاقْطَعْ يَدَهُ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ الآبِقُ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ قُطِعَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ الآبِقَ إِذَا سَرَقَ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ قُطِعَ .
زر یق بن حکیم نے ایک بھاگے ہوئے غلام کو گر فتار کیا جس نے چوری کی تھی پھر ان کو یہ مسئلہ مشکل معلوم ہوا انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا وہ اس زمانے میں امیرالمو منین تھے اور یہ بھی لکھا کہ میں سنتا تھا جو غلام بھاگ جائے پھر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے عمر بن عبد العز یز نے جواب میں لکھا اور میری تحریر کا حوالہ دیا اور کہا کہ تو نے لکھا ہے کہ تو سنتا تھا جو غلام بھاگا ہوا ہو وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان کے ہاتھ کاٹو یہ بدلہ ہے ان کے کام کا اور عذاب ہے اللہ کی طرف سے اللہ غالب ہے حکمت والا پس اگر اس غلام نے ربع دینار کے موافق یا اس سے زیادہ چوری کی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈال۔ قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ اور عروہ بن الزبیر کہتے تھے بھاگا ہوا غلام جب اس قدر چرائے جس میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قِيلَ لَهُ إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ . فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا " . قَالَ نَعَمْ . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ سے کسی نے کہا کہ جس نے ہجرت نہیں کی تو وہ تباہ ہوا تو صفوان مدینہ میں آئے اور مسجد نبوی میں اپنی چادر سر کے تلے رکھ کر سو رہے چور آیا اور چادر ان کی لے گیا صفوان نے اٹھ کر چور کو گرفتار کیا اور رسول اللہ کے پاس لے آئے آپ نے چور سے پوچھا کہ کیا تو نے صفوان کی چادر چرائی وہ بولا ہاں آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم کیا صفوان نے کہا میری نیت یہ نہ تھی یا رسول اللہ وہ چادر تو اس پر صدقہ ہے آپ نے فرمایا تجھ کو یہ امر میرے پاس لانے سے پہلے کرنا تھا
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، لَقِيَ رَجُلاً قَدْ أَخَذَ سَارِقًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِهِ إِلَى السُّلْطَانِ فَشَفَعَ لَهُ الزُّبَيْرُ لِيُرْسِلَهُ فَقَالَ لاَ حَتَّى أَبْلُغَ بِهِ السُّلْطَانَ . فَقَالَ الزُّبَيْرُ إِذَا بَلَغْتَ بِهِ السُّلْطَانَ فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفِّعَ .
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ زبیر بن عوام نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ چور کو پکڑے ہوئے حاکم کے پاس لئے جاتا تھا زبیر نے سفارش کی کہا چھوڑ دے وہ بولا کبھی نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ حاکم کے پاس نہ لے جاؤں گا زبیر نے کہا جب تو حاکم کے پاس لے گیا تو اللہ کی لعنت سفارش کرنے والے پر اور سفارش ماننے والے پر
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامِلَ الْيَمَنِ قَدْ ظَلَمَهُ فَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ . ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا عِقْدًا لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ . فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغٍ زَعَمَ أَنَّ الأَقْطَعَ جَاءَهُ بِهِ فَاعْتَرَفَ بِهِ الأَقْطَعُ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِهِ فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي عَلَيْهِ مِنْ سَرِقَتِهِ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَسْرِقُ مِرَارًا ثُمَّ يُسْتَعْدَى عَلَيْهِ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلاَّ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ لِجَمِيعِ مَنْ سَرَقَ مِنْهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَإِنْ كَانَ قَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ قَبْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَرَقَ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ قُطِعَ أَيْضًا .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا ہاتھ پاؤں کٹا ہوا مدینہ میں آیا اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اتر کر بولا کہ یمن کے حاکم نے مجھ پر ظلم کیا اور وہ راتوں کو نماز پڑھتا تھا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ قسم تیرے باپ کی تیری رات چوروں کی رات نہیں ہے۔ اتفاقا ایک ہار اسما بنت عمیس ابوبکر کی بی بی کا گم ہو گیا لوگوں کے ساتھ وہ لنگڑا بھی ڈھونڈتا پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ اے پروردگار تباہ کر اس کو جس نے ایسے نیک گھر والوں کے ہاں چوری کی، پھر وہ ہار ایک سنار کے پاس ملا سنار بولا مجھے اس لنگڑے نے دیا ہے اس لنگڑے نے اقرار کیا یا گواہی سے ثابت ہوا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم کیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا قسم اللہ کی مجھے اس کی بدعا جو اپنے اوپر کرتا تھا چوری سے زیادہ سخت معلوم ہوئی ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے کئی بار چوری کی بعد اس کے گرفتار ہوا تو سب چوریوں کے بدلے میں صرف اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا جب اس کا ہاتھ نہ کٹاہو اور جو ہاتھ کٹنے کے بعد اس نے چوری کی ربع رینار کے موافق تو بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ نَاسًا فِي حِرَابَةٍ وَلَمْ يَقْتُلُوا أَحَدًا فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ أَوْ يَقْتُلَ فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَوْ أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ . قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَسْرِقُ أَمْتِعَةَ النَّاسِ الَّتِي تَكُونُ مَوْضُوعَةً بِالأَسْوَاقِ مُحْرَزَةً قَدْ أَحْرَزَهَا أَهْلُهَا فِي أَوْعِيَتِهِمْ وَضَمُّوا بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ إِنَّهُ مَنْ سَرَقَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا مِنْ حِرْزِهِ فَبَلَغَ قِيمَتُهُ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَإِنَّ عَلَيْهِ الْقَطْعَ كَانَ صَاحِبُ الْمَتَاعِ عِنْدَ مَتَاعِهِ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَيْلاً ذَلِكَ أَوْ نَهَارًا . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَسْرِقُ مَا يَجِبُ عَلَيْهِ فِيهِ الْقَطْعُ ثُمَّ يُوجَدُ مَعَهُ مَا سَرَقَ فَيُرَدُّ إِلَى صَاحِبِهِ إِنَّهُ تُقْطَعُ يَدُهُ . قَالَ مَالِكٌ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ كَيْفَ تُقْطَعُ يَدُهُ وَقَدْ أُخِذَ الْمَتَاعُ مِنْهُ وَدُفِعَ إِلَى صَاحِبِهِ فَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الشَّارِبِ يُوجَدُ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ الْمُسْكِرِ وَلَيْسَ بِهِ سُكْرٌ فَيُجْلَدُ الْحَدَّ . قَالَ وَإِنَّمَا يُجْلَدُ الْحَدَّ فِي الْمُسْكِرِ إِذَا شَرِبَهُ وَإِنْ لَمْ يُسْكِرْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِنَّمَا شَرِبَهُ لِيُسْكِرَهُ فَكَذَلِكَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي السَّرِقَةِ الَّتِي أُخِذَتْ مِنْهُ وَلَوْ لَمْ يَنْتَفِعْ بِهَا وَرَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَإِنَّمَا سَرَقَهَا حِينَ سَرَقَهَا لِيَذْهَبَ بِهَا . قَالَ مَالِكٌ فِي الْقَوْمِ يَأْتُونَ إِلَى الْبَيْتِ فَيَسْرِقُونَ مِنْهُ جَمِيعًا فَيَخْرُجُونَ بِالْعِدْلِ يَحْمِلُونَهُ جَمِيعًا أَوِ الصُّنْدُوقِ أَوِ الْخَشَبَةِ أَوْ بِالْمِكْتَلِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يَحْمِلُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا إِنَّهُمْ إِذَا أَخْرَجُوا ذَلِكَ مِنْ حِرْزِهِ وَهُمْ يَحْمِلُونَهُ جَمِيعًا فَبَلَغَ ثَمَنُ مَا خَرَجُوا بِهِ مِنْ ذَلِكَ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ - وَذَلِكَ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا - فَعَلَيْهِمُ الْقَطْعُ جَمِيعًا . قَالَ وَإِنْ خَرَجَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ بِمَتَاعٍ عَلَى حِدَتِهِ فَمَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ بِمَا تَبْلُغُ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةَ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْهُمْ بِمَا تَبْلُغُ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةَ دَرَاهِمَ فَلاَ قَطْعَ عَلَيْهِ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ إِذَا كَانَتْ دَارُ رَجُلٍ مُغْلَقَةً عَلَيْهِ لَيْسَ مَعَهُ فِيهَا غَيْرُهُ فَإِنَّهُ لاَ يَجِبُ عَلَى مَنْ سَرَقَ مِنْهَا شَيْئًا الْقَطْعُ حَتَّى يَخْرُجَ بِهِ مِنَ الدَّارِ كُلِّهَا وَذَلِكَ أَنَّ الدَّارَ كُلَّهَا هِيَ حِرْزُهُ فَإِنْ كَانَ مَعَهُ فِي الدَّارِ سَاكِنٌ غَيْرُهُ وَكَانَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يُغْلِقُ عَلَيْهِ بَابَهُ وَكَانَتْ حِرْزًا لَهُمْ جَمِيعًا فَمَنْ سَرَقَ مِنْ بُيُوتِ تِلْكَ الدَّارِ شَيْئًا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَخَرَجَ بِهِ إِلَى الدَّارِ فَقَدْ أَخْرَجَهُ مِنْ حِرْزِهِ إِلَى غَيْرِ حِرْزِهِ وَوَجَبَ عَلَيْهِ فِيهِ الْقَطْعُ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يَسْرِقُ مِنْ مَتَاعِ سَيِّدِهِ أَنَّهُ إِنْ كَانَ لَيْسَ مِنْ خَدَمِهِ وَلاَ مِمَّنْ يَأْمَنُ عَلَى بَيْتِهِ ثُمَّ دَخَلَ سِرًّا فَسَرَقَ مِنْ مَتَاعِ سَيِّدِهِ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَلاَ قَطْعَ عَلَيْهِ وَكَذَلِكَ الأَمَةُ إِذَا سَرَقَتْ مِنْ مَتَاعِ سَيِّدِهَا لاَ قَطْعَ عَلَيْهَا . وَقَالَ فِي الْعَبْدِ لاَ يَكُونُ مِنْ خَدَمِهِ وَلاَ مِمَّنْ يَأْمَنُ عَلَى بَيْتِهِ فَدَخَلَ سِرًّا فَسَرَقَ مِنْ مَتَاعِ امْرَأَةِ سَيِّدِهِ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ إِنَّهُ تُقْطَعُ يَدُهُ . قَالَ وَكَذَلِكَ أَمَةُ الْمَرْأَةِ إِذَا كَانَتْ لَيْسَتْ بِخَادِمٍ لَهَا وَلاَ لِزَوْجِهَا وَلاَ مِمَّنْ تَأْمَنُ عَلَى بَيْتِهَا فَدَخَلَتْ سِرًّا فَسَرَقَتْ مِنْ مَتَاعِ سَيِّدَتِهَا مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَلاَ قَطْعَ عَلَيْهَا . قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ أَمَةُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لاَ تَكُونُ مِنْ خَدَمِهَا وَلاَ مِمَّنْ تَأْمَنُ عَلَى بَيْتِهَا فَدَخَلَتْ سِرًّا فَسَرَقَتْ مِنْ مَتَاعِ زَوْجِ سَيِّدَتِهَا مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ أَنَّهَا تُقْطَعُ يَدُهَا . قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ الرَّجُلُ يَسْرِقُ مِنْ مَتَاعِ امْرَأَتِهِ أَوِ الْمَرْأَةُ تَسْرِقُ مِنْ مَتَاعِ زَوْجِهَا مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ إِنْ كَانَ الَّذِي سَرَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ مَتَاعِ صَاحِبِهِ فِي بَيْتٍ سِوَى الْبَيْتِ الَّذِي يُغْلِقَانِ عَلَيْهِمَا وَكَانَ فِي حِرْزٍ سِوَى الْبَيْتِ الَّذِي هُمَا فِيهِ فَإِنَّ مَنْ سَرَقَ مِنْهُمَا مِنْ مَتَاعِ صَاحِبِهِ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ فِيهِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الصَّبِيِّ الصَّغِيرِ وَالأَعْجَمِيِّ الَّذِي لاَ يُفْصِحُ أَنَّهُمَا إِذَا سُرِقَا مِنْ حِرْزِهِمَا أَوْ غَلْقِهِمَا فَعَلَى مَنْ سَرَقَهُمَا الْقَطْعُ وَإِنْ خَرَجَا مِنْ حِرْزِهِمَا وَغَلْقِهِمَا فَلَيْسَ عَلَى مَنْ سَرَقَهُمَا قَطْعٌ . قَالَ وَإِنَّمَا هُمَا بِمَنْزِلَةِ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ وَالثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَنْبِشُ الْقُبُورَ أَنَّهُ إِذَا بَلَغَ مَا أَخْرَجَ مِنَ الْقَبْرِ مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ فَعَلَيْهِ فِيهِ الْقَطْعُ . وَقَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّ الْقَبْرَ حِرْزٌ لِمَا فِيهِ كَمَا أَنَّ الْبُيُوتَ حِرْزٌ لِمَا فِيهَا . قَالَ وَلاَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْقَطْعُ حَتَّى يَخْرُجَ بِهِ مِنَ الْقَبْرِ .
ابو زناد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ایک عامل نے چند آدمیوں کو ڈکیتی میں گرفتار کیا پھر انہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا عامل نے چاہا کہ ان کے ہاتھ کاٹے یا ان کو قتل کرے پھر عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ اگر تو آسان امر کو اختیار کرے تو بہتر ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو شخص بازار کے ان مالوں کو چرائے جن کو مالکوں نے کسی برتن میں محفوظ کرکے رکھاہو ملا کر ایک درسرے سے، ربع دینار کے موافق چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا برابر ہے کہ مالک وہاں موجود ہو یا نہ ہو رات کو ہو یا دن کو۔ کہا مالک نے جو شخص ربع دینار کے موافق مال چرائے پھر مال مسروقہ مالک کے حوالے کردے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نشے کی چیز پی چکا ہو اور اس کی بو آتی ہو اس کے منہ سے لیکن اس کو نشہ نہ ہو تو پھر بھی حد ماریں گے کیونکہ اس نے نشے کے واسطے پیا تھا اگرچہ نشہ نہ ہوا ہو، ایسا ہی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ وہ چیز مالک کو پھیر دے کیونکہ اس نے لے جانے کے واسطے چرایا تھا اگرچہ لے نہ گیا۔ کہا مالک نے اگر کئی آدمی مل کر مال چرانے کے لئے ایک گھر میں گھسے اور وہاں سے ایک صندوق یا لکڑی یا زیور سب ملا کر اٹھا لائے اگر اس کی قیمت ربع دینار ہو تو سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگر ہر ایک ان میں سے جدا جدا مال لے کر نکلا تو جس کا مال ربع دینار تک پہنچے گا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور جس کا اس سے کم ہوگا اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک گھر ہو اس میں ایک ہی آدمی رہتا ہو اب کوئی آدمی اس گھر میں سے کوئی شئے چرائے لیکن گھر سے باہر نہ لے جائے (مگراسی گھر میں ایک کوٹھڑی سے دوسری کوٹھڑی میں رکھے یا صحن میں لائے) تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا جب تک گھر سے باہر نہ لے جائے البتہ اگر ایک گھر میں کئی کوٹھڑیاں الگ الگ ہوں اور ہر کوٹھڑی میں لوگ رہتے ہوں اب کوئی شخص کوٹھڑی والے کا مال چرا کر کوٹھڑی سے باہر نکال لائے لیکن گھر سے باہر نہ نکالے تب ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے جو غلام گھر میں آجاتا ہو یا لونڈی آجاتی ہو اور اس کے مالک کو اس پر اعتبار ہو وہ اگر کوئی چیز چرائے اپنے مالک کی تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اسی طرح جو غلام یا لونڈی آمدو رفت نہ رکھتے ہوں نہ ان کا اعتبار ہو وہ بھی اگر اپنے مالک کا مال چرائیں تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور جو اپنے مالک کی بیوی کا مال چرائیں یا اپنی مالکہ کے خاوند کا مال چرائیں تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے اسی طرح مرد اپنی عورت کے اس مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں بلکہ ایک اور گھر میں محفوظ ہو یا عورت اپنے خاوند کے ایسے مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں بلکہ ایک اور گھر میں بند ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کہا مالک نے چھوٹا بچہ یا غیر ملک کا آدمی جو بات نہیں کرسکتا ان کو اگر کوئی ان کے گھر سے چرا لے جائے تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور جو راہ میں سے لے جائے یا گھرکے باہر سے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور ان کا حکم پہاڑ کی بکری اور درخت پر لگے ہوئے میوے کا ہوگا۔ کہا مالک نے قبر کھود کر اگر ربع دینار کے موافق کفن چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ قبر ایک محفوظ جگہ ہے جیسے گھر لیکن جب تک کفن قبر سے باہر نکال نہ لے تب تک ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عَبْدًا، سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " . وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ . فَقَالَ الرَّجُلُ فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلاَمًا لِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَهُ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِيَ إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَمَشَى مَعَهُ رَافِعٌ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ أَخَذْتَ غُلاَمًا لِهَذَا فَقَالَ نَعَمْ . فَقَالَ فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ قَالَ أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ . فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " . فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ .
محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک شخص کے باغ میں سے کھجور کا پودا چرا کر اپنے مولیٰ کے باغ میں لگادیا پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا اس نے پالیا اور مروان بن حکم کے پاس غلام کی شکایت کی مروان نے غلام کو بلا کر قید کیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا اس غلام کا مولیٰ رافع بن خدیج کے پاس گیا اور ان سے یہ حال کہا رافع نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ نہیں کاٹا جائے گا ہاتھ پھل میں نہ پودے میں وہ شخص بولا مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیے اور مروان سے اس حدیث کو بیان کر دیجیے، رافع اس شخص کے ساتھ مران کے پاس گئے اور پوچھا کیا تو نے اس شخص کے غلام کو پکڑا ہے مروان نے کہا ہاں رافع نے پوچھا اس غلام کے ساتھ کیا کرے گا مروان نے کہا ہاتھ کاٹوں گا رافع نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے کہ پھل اور پودے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مروان نے یہ سن کر حکم دیا کہ اس غلام کو چھوڑ دو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، جَاءَ بِغُلاَمٍ لَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ اقْطَعْ يَدَ غُلاَمِي هَذَا فَإِنَّهُ سَرَقَ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَاذَا سَرَقَ فَقَالَ سَرَقَ مِرْآةً لاِمْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا . فَقَالَ عُمَرُ أَرْسِلْهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ .
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے اپنے ایک غلام کو لے کر آیا اور کہا میرے اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے اس نے چوری کی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا چرایا؟ وہ بولا میری بیوی کا آئینہ چرایا جس کی قیمت ساٹھ درہم تھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا چھوڑ دو اس کا ہاتھ نہ کا ٹا جائے گا تمہارا خادم تھا تمہارا مال چرایا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أُتِيَ بِإِنْسَانٍ قَدِ اخْتَلَسَ مَتَاعًا فَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس ایک شخص آیا جو کسی کا مال اچک لے گیا تھا مروان نے اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا پھر زید بن ثابت کے پاس ایک شخص کو بھیجا یہ مسئلہ پوچھنے کو انہوں نے کہا اچکے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ أَخَذَ نَبَطِيًّا قَدْ سَرَقَ خَوَاتِمَ مِنْ حَدِيدٍ فَحَبَسَهُ لِيَقْطَعَ يَدَهُ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلاَةً لَهَا يُقَالُ لَهَا أُمَيَّةُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَتْنِي وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ فَقَالَتْ تَقُولُ لَكَ خَالَتُكَ عَمْرَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي أَخَذْتَ نَبَطِيًّا فِي شَىْءٍ يَسِيرٍ ذُكِرَ لِي فَأَرَدْتَ قَطْعَ يَدِهِ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَتْ فَإِنَّ عَمْرَةَ تَقُولُ لَكَ لاَ قَطْعَ إِلاَّ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَأَرْسَلْتُ النَّبَطِيَّ . قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي اعْتِرَافِ الْعَبِيدِ أَنَّهُ مَنِ اعْتَرَفَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِشَىْءٍ يَقَعُ الْحَدُّ وَالْعُقُوبَةُ فِيهِ فِي جَسَدِهِ . فَإِنَّ اعْتِرَافَهُ جَائِزٌ عَلَيْهِ وَلاَ يُتَّهَمُ أَنْ يُوقِعَ عَلَى نَفْسِهِ هَذَا . قَالَ مَالِكٌ وَأَمَّا مَنِ اعْتَرَفَ مِنْهُمْ بِأَمْرٍ يَكُونُ غُرْمًا عَلَى سَيِّدِهِ فَإِنَّ اعْتِرَافَهُ غَيْرُ جَائِزٍ عَلَى سَيِّدِهِ . قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ عَلَى الأَجِيرِ وَلاَ عَلَى الرَّجُلِ يَكُونَانِ مَعَ الْقَوْمِ يَخْدُمَانِهِمْ إِنْ سَرَقَاهُمْ قَطْعٌ لأَنَّ حَالَهُمَا لَيْسَتْ بِحَالِ السَّارِقِ وَإِنَّمَا حَالُهُمَا حَالُ الْخَائِنِ وَلَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَسْتَعِيرُ الْعَارِيَةَ فَيَجْحَدُهَا إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَجَحَدَهُ ذَلِكَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيمَا جَحَدَهُ قَطْعٌ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي السَّارِقِ يُوجَدُ فِي الْبَيْتِ قَدْ جَمَعَ الْمَتَاعَ وَلَمْ يَخْرُجْ بِهِ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ وَضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ خَمْرًا لِيَشْرَبَهَا فَلَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ وَمِثْلُ ذَلِكَ رَجُلٌ جَلَسَ مِنِ امْرَأَةٍ مَجْلِسًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَهَا حَرَامًا فَلَمْ يَفْعَلْ وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ مِنْهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي ذَلِكَ حَدٌّ . قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ بَلَغَ ثَمَنُهَا مَا يُقْطَعُ فِيهِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ .
ابو بکر بن محمد عمر بن حزم نے ایک نبطی (نبط کا رہنے والا) کو پکڑا جس نے انگوٹھیاں لوہے کی چرائی تھیں اور اس کو قید کیا ہاتھ کا ٹنے کے واسطے عمرہ بنت عبدالرحمن نے اپنی مولاۃ(آزاد لونڈی) کو جس کا نام امیہ تھا ابوبکر کے پاس بھیجا ابوبکر نے کہا وہ مولاۃ میرے پاس چلی آئی اور میں لوگوں میں بٹیھا ہوا تھا، بولی تمہاری خالہ عمرہ نے کہا ہے کہ اے میرے بھانجے تو نے ایک نبطی کو پکڑا ہے تھوڑی چیز کے واسطے اور چاہتا ہے اس کا ہاتھ کاٹنا میں نے کہا ہاں! اس نے کہا عمرہ نے کہا ہے کہ قطع نہیں ہے مگر ربع دینار کی مالیت میں یا زیادہ میں تو میں نے نبطی کو چھوڑ دیا ۔ کہا مالک نے غلام اگر ایسے قصور کا اقرار کرے جس میں اس کے بدن کا نقصان ہو تو درست ہے اس کو تہمت نہ لگائیں گے اس بات کی کہ اس نے مولیٰ کے ضرر کے واسطے جھوٹا اقرار کرلیا۔ کہا مالک نے اگر ایسے قصور کا اقرار کرے جس کا تاوان مولیٰ کو دینار پڑے تو اس کا اقرار صحیح نہ سمجھا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر مزدور یا اور کوئی شخص لوگوں میں رہتا ہو اور آتا ہو پھر وہ ان کی کوئی چیز چرائے تو اس پر قطع نہیں ہے کیونکہ وہ مثل خائن کے ہوا اور خائن پر قطع نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز بطور عاریتا کے لے پھر مکر جائے تو اس پر قطع نہیں ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی کا قرض کسی پر ہو اور وہ مکر جائے تو قطع نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اچک لینے میں قطع نہیں ہے اگرچہ اس شئے کی قیمت ربع دینار یا زیادہ ہو۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih