موطا امام مالک — باب ۵۰The Evil Eye
۱۹ احادیث (نمبر ۱۷۱۱ تا ۱۷۲۹) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ قَالَ وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلاً أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ - قَالَ - فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلاَ جِلْدَ عَذْرَاءَ . قَالَ فَوُعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْكُهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلاً وُعِكَ وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلاَمَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَلاَّ بَرَّكْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ " . فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے تھے میرے باپ نے غسل کیا خرار میں تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا اور عامر بن ربیعہ دیکھ رہے تھے اور سہل خوش رنگ تھے عامر بن ربیعہ نے دیکھ کر کہا میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا اور نہ کسی بکر عورت کا پوست اسی وقت سہل کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سہل کو بخار آگیا ہے اب وہ آپ کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سہل کے پاس آئے سہل نے عامر بن ربیعہ کا کہنا بیان کیا آپ نے سن کر فرمایا کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو (اور عامر کو کہا) کیوں تو نے بارک اللہ نہیں کہا (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہ ، یا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ جیسے دوسری روایت میں ہے) نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر عامر نے سہل کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے) بعد اس کے سہل اچھے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلاَ جِلْدَ مُخْبَأَةٍ . فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ . فَقَالَ " هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا " قَالُوا نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ . قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ " عَلاَمَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَلاَّ بَرَّكْتَ اغْتَسِلْ لَهُ " . فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا نہ کسی پردہ نشین بالکل باہر نہ نکلنے والی عورت کی ایسی کھال دیکھی یہ کہتے ہی سہل اپنی جگہ سے گر پڑے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ سہل بن حنیف کی خبر بھی لیتے ہیں قسم اللہ کی وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی انہوں نے کہا عامر بن ربیعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے اور فرمایا کیوں قتل کرنا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو تو نے بارک اللہ کیوں نہ کہا اب غسل کر اس کے واسطے عامر نے اپنے منہ اور ہاتھ اور کہنیاں اور گٹھنے اور پاؤں کے کنارے اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا وہ پانی سہل پر ڈالا گیا سہل اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ دُخِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنَىْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِحَاضِنَتِهِمَا " مَا لِي أَرَاهُمَا ضَارِعَيْنِ " . فَقَالَتْ حَاضِنَتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ تَسْرَعُ إِلَيْهِمَا الْعَيْنُ وَلَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِيَ لَهُمَا إِلاَّ أَنَّا لاَ نَدْرِي مَا يُوَافِقُكَ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْتَرْقُوا لَهُمَا فَإِنَّهُ لَوْ سَبَقَ شَىْءٌ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب کے دو لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ان کی دایہ سے کہا کیا سبب ہے یہ لڑکے دبلے ہیں وہ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نظر لگ جاتی ہے اور ہم نے منتر اس واسطے نہ کیا کہ معلوم نہیں آپ ان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے فرمایا منتر کرو ان کے واسطے کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھتی تو نظر بڑھتی۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ بَيْتَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ يَبْكِي فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ بِهِ الْعَيْنَ - قَالَ عُرْوَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بی بی ام سلمہ کے مکان میں گئے اور گھر میں ایک لڑکا رو رہا تھا لوگوں نے کہا اس کو نظر لگ گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منتر کیوں نہیں کرتے اس کے لئے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ فَقَالَ انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ . فَإِنْ هُوَ - إِذَا جَاءُوهُ - حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ - وَهُوَ أَعْلَمُ - فَيَقُولُ لِعَبْدِي عَلَىَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ وَأَنْ أُكَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ " .
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسے خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے بعد اس کے، فرماتا ہے اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلالوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةُ إِلاَّ قُصَّ بِهَا أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " . لاَ يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّهُمَا قَالَ عُرْوَةُ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ نے کہ مومن کو کوئی رنج یا مصیبت لاحق نہیں ہوتی مگر یہ کہ اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر لگے تو اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں یزید نے کہا مجھے یہ یاد نہیں کہ عروہ نے قص اور کفر میں سے کونسا لفظ استعمال کیا تھا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ جل جلالہ بہتری کرنا چاہتا ہے اس پر مصبتیں ڈالتا ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَيْحَكَ وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلاَهُ بِمَرَضٍ يُكَفِّرُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص مر گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص بولا واہ کیا اچھی موت ہوئی نہ کچھ بیماری ہوئی نہ کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بھلا یہ کیا کہتا ہے تجھے کیا معلوم ہے کہ اگر جل جلالہ اس کو کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
Salim al-Hilali: Daif
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عُثْمَانُ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُهْلِكُنِي . قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " امْسَحْهُ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ " . قَالَ فَقُلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهَا أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ .
عثمان بن ابی عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ان کے ایسا درد ہوتا تھا جس سے قریب ہلاکت کے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا داہنا ہاتھ اپنے درد کے مقام پر سات بار پھیر اور کہہ " اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شر ما اجد " عثمان کہتے ہیں میں نے یہی کہا اللہ نے میرا درد دور کر دیا پھر میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دیا کرتا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفِثُ . قَالَتْ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَنَا أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَمِينِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو قل ہو اللہ احدا اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذبرب الناس پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داہنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک پر پھیرتی برکت کے واسطے
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَشْتَكِي وَيَهُودِيَّةٌ تَرْقِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ارْقِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر پڑھ کر پھونک رہی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کلام اللہ پڑھ کر پھونک ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصَابَهُ جُرْحٌ فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي أَنْمَارٍ فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمَا " أَيُّكُمَا أَطَبُّ " . فَقَالاَ أَوَ فِي الطِّبِّ خَيْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنْزَلَ الدَّوَاءَ الَّذِي أَنْزَلَ الأَدْوَاءَ " .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زخم لگا اور خون وہاں آکر بھر گیا تو اس شخص نے دو شخصوں کو بلایا بنی انمار میں سے ان دونوں نے آکر دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم دونوں میں سے کون طب زیادہ جانتا ہے وہ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طب میں بھی کچھ فائدہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دوا بھی اسی نے اتاری ہے جس نے بیماری اتاری ہے ۔
Salim al-Hilali: Isnaad Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ، اكْتَوَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الذُّبَحَةِ فَمَاتَ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن زرارہ نے داغ لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خناق کی بیماری میں تو مر گئے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، اكْتَوَى مِنَ اللَّقْوَةِ وَرُقِيَ مِنَ الْعَقْرَبِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داغ لیا لقوہ میں اور متنر کیا بچھو کا
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ وَقَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا أَخَذَتِ الْمَاءَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُبْرِدَهَا بِالْمَاءِ .
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس جب کوئی عورت آتی جو بخار میں مبتلا ہوتی تو پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ حکم دیتے تھے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا پانی سے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بخار جہنم کا جوش ہے اس کو ٹھنڈا کرو پانی سے ،۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ " . أَوْ نَحْوَ هَذَا .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا ۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلِ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ أَذًى " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Daif