دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۹

موطا امام مالک — باب ۹Shortening the Prayer

۱۰۲ احادیث (نمبر ۳۲۶ تا ۴۲۷) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ أَحَدٍ وَلاَ يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے منی میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہو گیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا ۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں ۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلاَةُ قَائِمَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَبَعْدَ أَنْ يُحْرِمَ الإِمَامُ وَلَمْ يَجِدِ الْمَرْءُ مَدْخَلاً إِلَى الْمَسْجِدِ إِلاَّ بَيْنَ الصُّفُوفِ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا أَهْوَى لِيَسْجُدَ مَسَحَ الْحَصْبَاءَ لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا ‏.‏
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، كَانَ يَقُولُ مَسْحُ الْحَصْبَاءِ مَسْحَةً وَاحِدَةً وَتَرْكُهَا خَيْرٌ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَإِذَا جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ كَبَّرَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کو صفیں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے جب وہ لوگ لوٹ کر خبر دیتے کہ صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر کہتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَامَتِ الصَّلاَةُ وَأَنَا أُكَلِّمُهُ، فِي أَنْ يَفْرِضَ، لِي فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ وَهُوَ يُسَوِّي الْحَصْبَاءَ بِنَعْلَيْهِ حَتَّى جَاءَهُ رِجَالٌ قَدْ كَانَ وَكَلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ ‏.‏ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ فَقَالَ لِي اسْتَوِ فِي الصَّفِّ ‏.‏ ثُمَّ كَبَّرَ ‏.‏
مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ تھا میں عثمان بن عفان کے ساتھ اتنے میں تکبیر ہوئی نماز کی اور میں ان سے باتیں کرتا رہا اس لئے کہ میرا کچھ وظیفہ مقرر کریں اور وہ برابر کر رہے تھے کنکریوں کو اپنے جوتوں سے یہاں تک کہ آن پہنچے وہ لوگ جن کو صفیں برابر کرنے کے لئے مقرر کیا تھا اور انہوں نے خبر دی ان کو اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں تو کہا مجھ سے کہ شریک ہو جا صف میں پھر تکبیر کہی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ الْبَصْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحِي فَافْعَلْ مَا شِئْتَ وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فِي الصَّلاَةِ يَضَعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَتَعْجِيلُ الْفِطْرِ وَالاِسْتِينَاءُ بِالسَّحُورِ ‏.‏
عبدالکریم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا نبوت کی باتوں میں سے یہ بات ہے کہ جب تجھے حیاء نہ ہو تو جو جی چاہے کر اور نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا اور روزہ جلدی افطار کرنا اور سحری کھانے میں دیر کرنا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ يَنْمِي ذَلِكَ ‏.‏
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا تھا نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا کہا ابوحازم نے کہا میں سمجھتا ہوں سہل اس حدیث کو مرفوع کہتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَقْنُتُ فِي شَىْءٍ مِنَ الصَّلاَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قنوت نہیں پڑھتے تھے کسی نماز میں
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الأَرْقَمِ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم امامت کرتے تھے اپنے لوگوں کی تو ایک دن نماز تیار ہوئی لیکن آپ چلے گئے حاجت کو پھر آئے اور بولے کو سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جب قصد کرے کوئی تم میں سے پائخانہ کا تو پہلے پائخانہ کر لے پھر نماز پڑھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ضَامٌّ بَيْنَ وَرِكَيْهِ ‏.‏
حضرت عمر نے فرمایا کہ کوئی تم میں نماز نہ پڑھے جب وہ روکے پیشاب یا پائخانہ کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاَّهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ اس شخص کے لئے جو بیٹھا رہے اس جگہ میں جہاں وہ نماز پڑھ چکا ہے جب تک اس کو حدث نہ ہو کہتے ہیں اے اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں رہتا ہے وہ شخص جس کو نماز گھر میں جانے سے روکے رہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ يَقُولُ مَنْ غَدَا أَوْ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ لاَ يُرِيدُ غَيْرَهُ لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رَجَعَ غَانِمًا ‏.‏
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص صبح کو یا سہ پہر کو جائے مسجد میں نیک امر سیکھنے کو یا سکھانے کو پھر لوٹ آئے اپنے گھر میں تو گویا جہاد سے غنیمت لے کر لوٹا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلاَّهُ لَمْ تَزَلِ الْمَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِنْ قَامَ مِنْ مُصَلاَّهُ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ لَمْ يَزَلْ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ ‏.‏
ابوہریرہ کہتے تھے جو شخص تم میں سے نماز پڑھ کر وہیں بیٹھا رہے تو ملائکہ دعا کرتے ہیں اس کے لئے یا اللہ بخش دے اس کو رحم کر اس پر اگر کھڑا ہو گیا اس جگہ سے لیکن بٹیھا رہا مسجد میں نماز کے انتظار میں تو گویا وہ نماز ہی میں ہے جب تک نماز پڑھے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نہ بتاؤں میں تم کو وہ چیزیں جو دور کرتی ہیں گناہوں کو اور بڑھاتی ہیں درجوں کو پورا کرنا وضو کا تکلیف کے وقت اور قدم بہت ہونا مسجد تک اور انتظار کرنا نماز کا بعد ایک نماز کے یہی رباط ہے یہی رباط ہے یہی رباط۔ سعید بن مسیب نے کہا کہتے ہیں مسجد سے بعد اذان کے جو نکل جائے اور پھر آنے کا اردہ نہ ہو تو وہ منافق ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ يُقَالُ لاَ يَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَاءِ - إِلاَّ أَحَدٌ يُرِيدُ الرُّجُوعَ إِلَيْهِ - إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ ‏"‏ ‏.‏
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ أَلَمْ أَرَ صَاحِبَكَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَيَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَنْ يَجْلِسَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ حَسَنٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ ‏.‏
ابو النضر سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا مجھ سے میں نہیں دیکھتا تمہارے صاحب یعنی عمر بن عبیداللہ کو تحیةالمسجد پڑھتے ہوئے جب آتے ہیں مسجد کو تو بیٹھ جاتے ہیں بغیر پڑھے ہوئے ابونضر نے کہا کہ ابوسلمہ عیب کرتے تھے اس امر کا عمر بن عبیداللہ پر ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْبَرْدِ وَإِنَّهُ لَيُخْرِجُ كَفَّيْهِ مِنْ تَحْتِ بُرْنُسٍ لَهُ حَتَّى يَضَعَهُمَا عَلَى الْحَصْبَاءِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب سجدہ کرتے تھے تو جس چیز پر سجدہ کرتے تھے اسی پر ہاتھ رکھتے تھے نافع نے کہا کہ سخت جاڑے کے دن میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا اپنے ہاتھ نکالتے تھے جبہ سے اور رکھتے تھے ان کر پتھریلی زمین پر ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَى الَّذِي يَضَعُ عَلَيْهِ جَبْهَتَهُ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی زمین پر رکھے پھر منہ اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے اس لئے کہ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں جیسے منہ سجدہ کرتا ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَلَمَةَ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ وَحَانَتِ الصَّلاَةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فِي الصَّلاَةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لاَ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ مِنَ التَّصْفِيقِ الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيحِ مَنْ نَابَهُ شَىْءٌ فِي صَلاَتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے بنی عمرو بن عوف کے پاس ان میں صلح کرنے کو اور وقت آگیا نماز کا تو مؤذن ابوبکر صدیق کے پاس آکر بولا اگر تم نماز پڑھاؤ تو میں تکبیر کہوں بولے اچھا پس شروع کی نماز ابوبکر نے اور آگئے رسول اللہ اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیر کر پہلی صف میں آکر کھڑے ہو گئے پس دستک دی لوگوں نے مگر ابوبکر نماز میں کسی طرف دھیان نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے بہت زور سے دستکیں دینا شروع کیں تب دیکھا ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ارادہ کیا پیچھے ہٹنے کا پس اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر رہو تو دونوں ہاتھ اٹھا کر ابوبکر نے اللہ کا شکر کیا اس بات پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امام رہنے کا حکم دیا پھر پیچھے ہٹ آئے ابوبکر اور آگے بڑھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نماز پڑھا کر فارغ ہوئے پھر فرمایا اے ابوبکر تم کیوں اپنی جگہ پر کھڑے نہ رہے جب میں نے تم کو اشارہ کیا تھا ابوبکر نے کہا بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات پہنچتی ہے کہ نماز پڑھاۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے تم نے اس قدر دستکیں کیوں بجائیں جس شخص کو نماز میں کچھ حادثہ پیش آئے تو سبحان اللہ کہے لوگ اس طرف دیکھ لیں گے اور دستک دینا عورتوں کے لئے ہے
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، لَمْ يَكُنْ يَلْتَفِتُ فِي صَلاَتِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز میں التفات نہیں کرتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَرَائِي وَلاَ أَشْعُرُ فَالْتَفَتُّ فَغَمَزَنِي ‏.‏
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ میں پڑھتا تھا اور عبداللہ بن عمر میرے پیچھے تھے مجھے خبر نہ تھی میں نے ان کو دیکھا تو دباد یا انہوں نے مجھ کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ النَّاسَ رُكُوعًا فَرَكَعَ ثُمَّ دَبَّ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ ‏.‏
ابو امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ زید بن ثابت مسجد میں آئے تو امام کو رکوع میں پایا پس رکوع کر لیا پھر آہستہ چل کر صف میں مل گئے ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ رکوع میں آہتسہ چلتے تھے صف میں مل جانے کو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَدِبُّ رَاكِعًا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ صحابہ نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اے پروردگار رحمت اتار اپنی محمد اور ان کی بیبیوں اور آل پر جیسے رحمت کی تو نے ابراہیم پر اور برکت اتار محمد اور ان کی بیبیوں پر اور آل پر جیسے تو نے برکت اتاری ابراہیم کی اولاد پر بے شک تو تعریف کے لائق اور بڑا ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلاَمُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہمارے پاس سعد بن عبادہ کے مکان میں تو کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بشیر بن سعد نے حکم کیا ہم کو اللہ جل جلالہ نے درود بھیجنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کیوں کر درود بھیجیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پس چپ ہو رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ ہم کو تمنا ہوئی کہ کاش نہ پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہو اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید اور سلام بھیجنے کی ترکیب جیسے تم جان چکے ہو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقِفُ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر درود بھیجتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ابوبکر اور عمر پر ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لاَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ظہر کی اول دو رکعتیں اور بعد ظہر کے دو رکعتیں اور بعد مغرب کے دو رکعتیں اپنے گھر میں اور بعد عشا کے دو رکعتیں اور نہیں پڑھتے تھے بعد جمعہ کے مسجد میں یہاں تک کہ گھر میں آتے تو دو رکعتیں پرھتے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَتَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ خُشُوعُكُمْ وَلاَ رُكُوعُكُمْ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم دیکھتے ہو میرا منہ قبلہ کی طرف قسم اللہ کی مجھ سے چھپا نہیں ہے خشوع تمہارا نماز میں اور رکوع تمہارا میں دیکھتا ہوں تم کو پیٹھ کے پیچھے سے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تھے قبا میں سوار ہو کر اور پیدل ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا تَرَوْنَ فِي الشَّارِبِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ فِيهِمْ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ وَأَسْوَأُ السَّرِقَةِ الَّذِي يَسْرِقُ صَلاَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلاَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلاَ سُجُودَهَا ‏"‏ ‏.‏
نعمان بن مرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا رائے ہے تمہاری اس شخص میں جو شراب پئے اور چوری کرے اور زنا کرے اور تھا یہ امر قبل اترنے حکم کے ان کے باب میں تو کہا صحابہ نے اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برے کام ہیں ان میں سزا ضرور ہے اور سب چوریوں میں بری نماز کی چوری ہے پوچھا صحابہ نے نماز کا چور کیونکر ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا چور وہ ہے جو رکوع اور سجدہ کو پورا نہ کرے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ ایک حصہ اپنی نماز میں سے اپنے گھروں میں ادا کرو ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعِ الْمَرِيضُ السُّجُودَ أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً وَلَمْ يَرْفَعْ إِلَى جَبْهَتِهِ شَيْئًا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے بیمار کو اگر سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو سر سے اشارہ کرے لیکن کوئی چیز اپنی پیشانی کے سامنے اونچی نہ رکھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih