صحیح مسلم — باب ۱The Book of Faith
۴۳۶ احادیث (نمبر ۹۳ تا ۵۳۳) (صفحہ 3) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
ابوحصین نے ابوصالح سے اور انہو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ پہنچائے ، اور جوشخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے ، او رجوشخص اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے ، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ " .
اعمش نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ...... آگے ابو حصین کی روایت کے مانند ہے ، البتہ اعمش نے ( وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے کے بجائے ) یہ الفاظ کہے ہیں : ’’ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
ابو شریح ( خویلد بن عمرو ) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرے ، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے ، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اچھی بات کہے یا خاموشی اختیار کرے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلاَةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلاَةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ . فَقَالَ قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ " .
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث سنائی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے اورانہیں شعبہ نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( سفیان اور شعبہ ) نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، الفاظ ابو بکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ طارق بن شہاب نے کہا کہ پہلا شخص جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز کیا ، مروان تھا ۔ ایک آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا : ’’نما ز خطبے سے پہلے ہے ؟ ‘ ‘ مروان نے جواب دیا : جو طریقہ ( یہاں پہلے ) تھا ، وہ ترک کر دیا گیا ہے ۔ اس پر ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : اس انسان نے ( جس سے صحیح بات کہی تھی ) اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ تم میں سے جوشخص منکر ( ناقابل قبول کام ) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ ( قوت ) سے بدل دے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے ( اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے ) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ .
اعمش نے اسماعیل بن رجاء سے ، انہوں نے اپنے والد ( رجاء بن ربیعہ ) سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، نیز اعمش نے قیس بن مسلم سے ، انہوں نے طارق بن شہاب سے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروان کا مذکورہ بالا واقعہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث جو انہوں نے نبی ﷺ سے سنی ، اسی طرح بیان کی جس طرح شعبہ اور سفیان نے بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلاَّ كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لاَ يُؤْمَرُونَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ " . قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَحَدَّثْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْكَرَهُ عَلَىَّ فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ . قَالَ صَالِحٌ وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِكَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ .
صالح بن کیسان نے حارث ( بن فضیل ) سے ، انہوں نے جعفر بن عبد اللہ بن حکم سے ، انہوں نے عبد الرحمٰن بن مسور سے ، انہوں نے ( رسول اللہ ﷺکے آزاد کردہ غلام ) ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ نے مجھ پر پہلے کسی امت میں جتنے بھی نبی بھیجے ، ان کی امت میں سے ان کے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے جوان کی سنت پر چلتے اور ان کے حکم کی اتباع کرتے تھے ، پھر ایسا ہوتا تھا کہ ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشیں بن جاتے تھے ۔ وہ ( زبان سے ) ایسی باتیں کہتے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کا م کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہ دیا گیا تھا ، چنانچہ جس نے ان ( جیسے لوگوں ) کے خلاف اپنے دست و بازو سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کیا ، وہ مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے ( لیکن ) اس سے پیچھے رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ‘ ‘ ابو رافع نے کہا : میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنائی تو وہ اس کو نہ مانے ۔ اتفاق سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ( مدینہ ) آ گئے اور وادی قتاۃ ( مدینہ کی وادی ہے ) میں ٹھہرے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بھی ان کی عیادت کے لیے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا ہم جب جاکر بیٹھ گیا تو میں نےعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوسنائی تھی ۔ صالح بن کیسان نےکہا : یہ حدیث ابو رافع سے ( براہ راست بھی ) اسی طرح روایت کی گئی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِ وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ " . مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاجْتِمَاعَ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ .
حارث بن فضیل خطمی سے ( صالح بن کیسان کے بجائے ) عبدالعزیز بن محمد کی سند کےساتھ رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ابو رافع سے روایت ہے ۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو بھی نبی گزرا ہے اس کے ساتھ کچھ حواری تھے جو اس ( نبی ) کے نمونہ زندگی کو اپناتے اور اس کی سنت کی پیروی کرتے تھے .... ‘ ‘ صالح کی روایت کی طرح ۔ لیکن ( عبد العزیز نے ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی آمد اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات کا ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا، يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَشَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ الإِيمَانَ هَا هُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ’’ دیکھو ! ایمان ادھر ہے ۔ اور شقاوت اور سنگ لی اونٹوں کی دموں کی جڑوں کے پاس چیخنے والوں ربیعہ اور مضر میں ہے ، جس کی طرف سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
ایوب نے کہا : ہمیں محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اہل یمن آئے ہیں ۔ یہ لوگ بہت زیادہ نرم دل ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، فقہ یمنی ہے اور دانائی ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
(عبد اللہ ) ابن عون نے محمد ( ابن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےر وایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ... اسی پچھلی ( حدیث ) کے مانند ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
صالح نے اعرج سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسو ل ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس یمنی لوگ آئے ہیں ، وہ زیادہ کمزور دل اور سینوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ فقہ یمنی ہے اور حکمت ( بھی ) یمنی ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالإِبِلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
و زناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کفر کی ریاست مشرق کی طرف ہے ۔ فخر و تکبر گھوڑوں اور اونٹوں والوں میں ہے ( جو اونچی آواز میں چلانے والے اوراون کے خیموں میں رہنے والے ہیں ) اور اطمینان و سکون بکریاں پالنے والوں میں ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ " .
علاء ( بن عبدالرحمان الجہنی ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایمان یمن سے ہے ، کفر مشرق کی طرف سے ، سکون و اطمینان بھیڑ بکریاں پالنے والوں میں اور فخرو ریا شور شرابے کے عادی گھوڑے پالنے والوں اور اونی خیموں کے باسی ، چلانے والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’فخر و تکبر چلا کر بولنے والے ، خیموں کے باسیوں میں ہے اور اطمینان و سکون بھیڑ بکریاں والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ " الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی اور ( آخرمیں یہ ) اضافہ کیا : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَضْعَفُ قُلُوبًا الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ السَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ قِبَلَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ " .
سعید بن مسیت نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ اہل یمن آئے ہیں ، ان کے دل ( دوسروں سے ) زیادہ نرم ہیں اور مزاجوں میں زیادہ رقت ہے ۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ۔ سکون ، بھیڑ بکریاں پالنے والوں میں ہے اور فخر و تکبر اونی خیموں کے باسی ، چیخنے چلانے والے لوگوں میں ، جو سورج طلوع ہونے تک کی سمت میں ( رہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں ۔ وہ دلوں کے زیادہ نرم اور مزاجوں میں زیادہ رقت رکھنے والے ہیں ۔ ایمان یمنی ہے ، حکمت بھی یمن سے ہے اور کفر کا مرکز مشرق کی طرف کی طرف ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ " رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن اس نے ’’ کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے ‘ ‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ " وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلاَءُ فِي أَصْحَابِ الإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ " .
شعبہ نے اعمش سے سابقہ سند کے ساتھ جریر کی طرح حدیث سنائی اور یہ ا لفاظ زائد بیان کیے کہ ’’غرور اور گھمنڈ اونٹ والوں میں اور سکون ووقار بھیڑ بکری ( پالنے ) والوں میں ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ " .
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دلوں کی سختی اور جفا ( اکھڑپن ) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا . أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَىْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " .
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا " . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٍ .
(ابو معاویہ اور وکیع کے بجائے ) جریر نے اعمش سے ان کی اسی سند سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے ، جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے ... ‘ ‘ جس طرح ابو معاویہ اور و کیع کی حدیث ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِسُهَيْلٍ إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ، عَنِّي رَجُلاً قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " قُلْنَا لِمَنْ قَالَ " لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ( سفیان نے کہا : ) مجھے امید تھی کہ وہ ( مجھے خود روایت سنا کر ) ایک راوی کم کر دے گا ( چنانچہ سہیل نےکہا ) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد سے سنی ، وہ شام میں ان کا دوست تھا ۔ ( محمد بن عباد نے کہا ) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سےروایت سنائی کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘ ‘ ہم ( صحابہ رضی اللہ عنہ ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانون کی ( خیرخواہی ۔ ) ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
سفیان ثوری نے سہیل بن ابی صالح سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسو ل اللہ رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابو صالح کو حدیث بیان کر رہے تھے ، ( کہا : ) تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ( کہا : ) رسو ل اللہ ﷺ سے روایت ہے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
قیس ( بن ابی حازم ) نے حضرت جریر ( بن عبد اللہ ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، سَمِعَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
زیاد بن علاقہ ( کوفی ) سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے نبی ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " . وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ . قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ .
سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔ ) سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولاَنِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلاَءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ " وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
یونس بن ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کرر ہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن نے مجھےخبر دی کہ ( اس کے والد ) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سب باتیں روایت کرتے ، پھرکہتے : اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ’’کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو ، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوں ، وہ نہیں لوٹتا کہ جب لوٹ رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي " . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ يَذْكُرُ مَعَ ذِكْرِ النُّهْبَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَاتَ شَرَفٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ هَذَا إِلاَّ النُّهْبَةَ .
عقیل بن خالد نے حدیث سنائی کہ ابن شہاب ( زہری ) نےکہا : مجھے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا ..... ‘ ‘ پھر گزشتہ حدیث کی طرح بیان کیا جس میں لوٹ کا ذکر تو ہے ، لیکن ’’قدر و منزلت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔ ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث سنائی جس طرح ابوبکر کی روایت ہے لیکن اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا ذکر نہیں ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَذَكَرَ النُّهْبَةَ وَلَمْ يَقُلْ ذَاتَ شَرَفٍ .
اوزاعی نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب ، ابو سلمہ اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نےزہری سے حدیث بیان کی اور اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا تذکرہ کیا لیکن ’’قدر وقیمت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہون نے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّ هَؤُلاَءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ الْعَلاَءَ وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا " يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ " . وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ " يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ " . وَزَادَ " وَلاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ " .
قتیبہ بن سعید ‘ عبد العزیز دراوردی ‘ علاء بن عبدالرحمٰن نے ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ، انہوں نے نبی ﷺ سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ " .
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، ان سب ( صفوان ، علاء اور معمر ) کی روایات ( 205 ۔ 207 ) امام زہری کی روایت ( 204 ) کے مانند ہیں ، البتہ علاء اور صفوان کی بیان کردہ حدیث روایت ( 205 ، 206 ) میں ’’ جس کی طرف سے لوگ نظر اٹھاتے ہیں ‘ ‘ کے ا لفاظ موجود نہیں ۔ اور ہمام کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’مومن لوگ ( اس چیز کی قدر و قیمت کی بنا پر ) اس کی طرف سے اپنی نظریں اٹھاتے ہیں اور وہ ( لوٹتے وقت ) مومن نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ اور معمر نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : اور تم میں سے کوئی خیانت نہیں کرتا کہ جب خیانت کررہا ہو تو وہ مومن ہو ، لہٰذا تم ( ان تمام کاموں سے ) بچو ، تم بچو
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ .
شعبہ نے سلیمان سے ، انہوں نے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تا ہے تو مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب وہ پی رہا ہو تو مومن ہو ۔ اور ( ان کو ) بعد میں توبہ کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ " وَإِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ " .
عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اعمش سے ، انہوں نے نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چار عادتیں ہیں جس میں وہ ( چاروں ) ہوں گی ، وہ خالص منافق ہو گا اور جس کسی میں ان میں سے ایک عادت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے ۔ ( وہ چار یہ ہیں : ) جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے ۔ ‘ ‘ البتہ سفیان کی روایت میں خلقة کے بجائے خصلةکا لفظ ہے ( معنی وہی ہیں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ " .
نافع بن مالک بن ابی عامر نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو ( اس کی ) خلاف ورزی کرے اور جب اسے ( کسی چیز کا ) امین بنایا جائے تو ( اس میں ) خیانت کرے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ عَلاَمَاتِ الْمُنَافِقِ ثَلاَثَةٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں حرقہ کے آزاد کردہ غلام علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے اپنے والد سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور امین بنایا جائے تو خیانت کرے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ أَبُو زُكَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ " .
یحییٰ بن محمد بن قیس ابو زکیر نے کہا : میں نے علاء بن عبدالرحمٰن کو اسی ( مذکورہ بالا ) سند کے ساتھ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : ’’ منافق کے علامات تین ہیں ، چاہے وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَءِ ذَكَرَ فِيهِ " وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ " .
حماد بن سلمہ نے داؤد بن ابی ہندہ سے ، انہوں نے سعید بن مسیب کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو یحییٰ بن محمد کی علاء سے بیان کردہ روایت کے مطابق ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں : ’’خواہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح