دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۱۵

صحیح مسلم — باب ۱۵The Book of Pilgrimage

۶۰۳ احادیث (نمبر ۲۷۹۱ تا ۳۳۹۷) (صفحہ 11) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ‏.‏
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبد الرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے ( کے جانوروں ) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح. وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا حَمَّادُ، بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَىَّ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ ‏.‏
ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی طرح ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلاَ يَتْرُكُهُ
عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں : میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ ( ایسی ) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ ( ایسی کوئی چیز ) ترک کرتے تھے ( جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلاًّ ‏.‏
افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بینوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا ( کوہان پر چیر لگا ئے ) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور ( خود ) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر ( انکی وجہ سے ) کو ئی چیز جو ( پہلے ) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَأَبِي، قِلاَبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَبْعَثُ بِالْهَدْىِ أَفْتِلُ قَلاَئِدَهَا بِيَدَىَّ ثُمَّ لاَ يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ لاَ يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلاَلُ ‏.‏
ایوب نے قاسم اور ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیت اللہ کی طرف ) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کو ئی بھی غیر محرم ( بغیر احرام والا شخص ) اجتناب نہیں کرتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَنَا فَتَلْتُ، تِلْكَ الْقَلاَئِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلاَلاً يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلاَلُ مِنْ أَهْلِهِ أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ‏.‏
ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ ( اپنی ازواج کے پاس ) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک ( عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلاَلاً ‏.‏
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قر بانی ) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرا م کے بغیر ہی رہتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلاَئِدَ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور بو کریب میں یحییٰ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں خبردی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں کہا : ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جا نے والے جا نور ) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ ( ہار ) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر آپ ( مدینہ ہی میں ) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فر ما تے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا فَقَلَّدَهَا ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی ( قر بانی ) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انھیں ہار ڈالے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلاَلٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏.‏
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انھیں ( بیت اللہ کی طرف ) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز ( جو پہلے آپ پر حلا ل تھی ) حرام نہ ہو تی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي فَاكْتُبِي إِلَىَّ بِأَمْرِكِ ‏.‏ قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ ‏.‏
عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبردی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جس نے ہدی ( بیت اللہ کے لیے قربانی ) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرا م ہو جا ئے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرا م ہو تا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جا ئے ۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے ( اس بارے میں ) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( بات ) اس طرح نہیں جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ ( ہار ) انھیں پہنائے پھر انھیں میرے والد کے ساتھ ( مکہ ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر ( قر بان ) ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( ایسی ) کو ئی چیز حرا م نہ ہو ئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلا ل کی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهْىَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ وَتَقُولُ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَىْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ
اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
داوداور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے اسی سند ( حدیث ) کے مطا بق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ‏"‏ ‏.‏ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ ‏.‏
امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً ‏.‏
مغیرہ بن عبد الرحمٰن حزامی نے ابو زناد سے اور انھوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہاتھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، أَنَسٍ ح. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏
ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَإِنْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَخْنَسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا ‏.‏ فَقَالَ لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ ‏.‏ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا - قَالَ - فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَىَّ مِنْهَا قَالَ ‏ "‏ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ ‏.‏
اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَىْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلاَ تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فِي ‏.‏
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ ( حج کے بعد ) ہر سمت میں نکل ( کر چلے ) جا تے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری ( بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت " اور " ( ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ، آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ‏.‏
طاؤس کے بیٹے ( عبد اللہ ) نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضر ی بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے ( وہآخری طواف سے مستثنیٰ ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لاَ فَسَلْ فُلاَنَةَ الأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ مَا أَرَاكَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ ‏.‏
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انھوں نے کہا : میں حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری ( طواف ) سے پہلے ( اس کے بغیر ) لو ٹ سکتی ہے ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر ( آپ کو یقین ) نہیں تو فلاں انصار یہ سے پو چھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کا حکم دیا تھا ؟ کہا : اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ‏"‏ ‏.‏
۔ ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سلمہ اور عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے حیض کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا وہ ہمیں ( واپسی سے ) روکنے والی ہیں ؟ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ( طواف افاضہ کے لیے ) گئی تھیں اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا پھر ( طواف ) افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو ئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( پھر ہمارے ساتھ ہی ) کو چ کریں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتْ طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبردی ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حجۃالوداع کے موقع پر طہارت کی حالت میں طواف افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہو گئیں ۔ ۔ ۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں آگے زہری کی حدیث کے ہم معنی ( الفاظ ہیں)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ، صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ - قَالَتْ - فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
افلح نے ہمیں قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی انھوں نے حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم ڈر رہی تھیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے سے پہلے حائضہ نہ ہو جا ئیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور فر ما یا : " کیا صفیہ ہمیں روکنے والی ہیں ؟ہم نے عرض کی وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ نے فر ما یا تو پھر نہیں روکیں گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاخْرُجْنَ ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شاید ہمیں ( واپسی سے ) روک لیں گی کیا نھوں نے تمھا رے ساتھ بیت اللہ کا طواف ( طواف افاضہ ) نہیں کیا ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں آپ نے فر ما یا تو پھر کو چ کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ‏.‏ فَقَالُوا إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایسا کو ئی کا م چا ہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چا ہتا ہے تو سب ( ازواج ) نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ حائضہ ہیں آپ نے فر ما یا : " تو ( کیا ) یہ ہمیں ( کو چ ) کرنے سے ) روکنے والی ہیں ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انھوں نے قر بانی کے دن طواف زیارت ( طواف افاضہ ) کر لیا تھا آپ نے فر ما یا : " تو وہ بھی تمھارے ساتھ کو چ کر یں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهَا ‏"‏ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْفِرِي ‏"‏ ‏.‏
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لاَ يَذْكُرَانِ كَئِيبَةً حَزِينَةً ‏.‏
اعمش اور منصور دونوں نے ابر اہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) حکم کی حدیث کے ہم معنی رو ایت ہے البتہ وہ دونوں ( ان کے ) غمزدہ اور پریشان ہو نے کا ذکر نہیں کرتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
امام مالک نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( آپ کے لیے ) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہر ے رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) کیا کیا ؟ انھوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے ۔ ان دنوں بیت اللہ ( کی عمارت ) چھ ستونوں پر ( قائم ) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ فَفَتَحَ الْبَابَ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجًا وَبِلاَلٌ عَلَى إِثْرِهِ فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ أَيْنَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ‏.‏ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے آ پ بیت اللہ کے صحن میں اترے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ چا بی لے کر حاضر ہو ئے اور دروازہ کھو لا کہا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اسامہ بن زید اور عچمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر دا خل ہو ئے آپ نے دروازے کے بارے میں حکم دیا تو اسے بند کر دیا گیا وہ سب خاصی دیر وہاں ٹھہرے پھر انھوں نے ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دروازہ کھو لا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے سب لوگوں سے سبقت کی اور باہر نکلتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فر ما ئی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں میں نے پوچھا کہاں ؟ انھوں نے کہا : دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَقَالَ ‏ "‏ ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُعْطِينِيهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي - قَالَ - فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ ‏.‏ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انھون نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی پر ( سوار ہو کر ) تشر یف لا ئے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھا یا پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور کہا : مجھے ( بیت اللہ کی ) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انھیں چا بی دینے سے انکا ر کر دیا انھوں نے کہا یا تو تم یہ چا بی مجھے دوگی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جا ئے گی ، کہا تو اس نے وہ چابی انھیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چا بی انھی کو دے دی تو انھوں ( ہی ) نے دروازہ کھو لا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ طَوِيلاً ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ ‏.‏ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
عبید اللہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ کے ساتھ اسامہ بلا ل اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے انھوں نے اپنے پیچھے خاصی دیر دروازہ بند کیے رکھا پھر ( دروازہ ) کھو لا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو ( دروازے سے ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کی ؟انھوں نے کہا : آگے کے دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں ادا کی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح