دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۱۶

صحیح مسلم — باب ۱۶The Book of Marriage

۳۱۵۲ احادیث (نمبر ۳۸۸ تا ۳۵۶۷) (صفحہ 19) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہﷺ عید کے دن نکلتے تو نیزے کا حکم دیتے ، وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا ، آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے ، سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے ، اس بنا پر حکام نے اس ( نیزہ گاڑنے ) کو اپنا لیا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْكُزُ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَغْرِزُ - الْعَنَزَةَ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا ‏.‏ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَهْىَ الْحَرْبَةُ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے استد ابن نمیر نے يركز اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے يغزر کا لفظ استعمال کیا ( دونوں کے معنیٰ ہیں : آپ گاڑتے تھے ۔ ) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : عبید اللہ نے کہا : اس ( عنزة ) سے مراد حربة ( برچھی ) ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا ‏.‏
معتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ( بوقت ضرورت ) اپنی سواری کو سامنے کر کے ( بٹھا لیتے اور ) اس کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھ لیتے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ( کبھی کبھی ) اپنی سواری کو سامنے رکھتے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ اور ( محمد ) بن نمیر نے کہا : نبی اکرمﷺ نے اونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ( قبلہ رو ہو کر ) نماز پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ - قَالَ - فَخَرَجَ بِلاَلٌ بِوَضُوئِهِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ - قَالَ - فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ - قَالَ - فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلاَلٌ - قَالَ - فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا - يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالاً - يَقُولُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ - قَالَ - ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنْ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لاَ يُمْنَعُ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏
۔ سفیان نے بیان کیا : ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد ( حضرت ابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں مکہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں ( قیام پذیر ) تھے ۔ ( ابو جحیفہ نے ) کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے ( بعد ازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو ) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے ( دوسرے سے اس کی ) نمی لے لی ۔ انہوں نے کہا : پھر نبی اکرمﷺ سرخ حلہ ( لباس کے اوپر لمبا چوغہ ) پہنے ہوئے نکلے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے ( آج بھی ) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ آپ نے وضو کیا اور بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اذان کہی ، انہوں نے کہا : میں بھی ان کے منہ پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا ، ( جب ) وہ حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا ، کہا : پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہری کی دو رکعتیں ( قصر ) پڑھائیں ، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزر تا تھا ، انہیں روکا نہ جاتا تھا ، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلاَلاً أَخْرَجَ وَضُوءًا فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلاَلاً أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَىِ الْعَنَزَةِ ‏.‏
۔ عمر بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا ( کہا : ) اور میں نے بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا وہ آپ کے وضو کا پانی باہر لے آئے تو میں نے دیکھا لوگ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو اس سے نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کے ہاتھ کی نمی سے نمی حاصل کر لی ، پھر میں نے بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور کو گاڑ دیا ، رسول اللہﷺ سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے جو آپ نے پنڈلیوں تک اونچا کیا ہوا تھا ، آپ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو نیزے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلاَلٌ فَنَادَى بِالصَّلاَةِ ‏.‏
ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔ ان ( چاروں سفیان ، عمر ، ابو عمیس اور مالک ) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں ۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے : جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ ‏.‏
۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو جحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا : سخت گرمی کے وقت رسول اللہﷺ بطحا کی طرف نکلے ، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا ۔ شعبہ نے کہا : عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ ‏.‏
۔ ( عبد الرحمان ) بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں ( حکم اور عون کی ) دونوں سندوں کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے ( ابن مہدی ) نے حکم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے ( پانی ) لینے لگے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ، قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏
مالک نے ابن شاب سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں گدھی پر سوار ہو کر آیا ، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا ، رسول اللہﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ - قَالَ - فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ ‏.‏
۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، انہوں نے کہا : گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا ، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِعَرَفَةَ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی ، کہا : نبی اکرمﷺ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالبا منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کےلیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنًى وَلاَ عَرَفَةَ وَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ ‏.‏
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اوراس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرحمان بن ابی سعید نے ( اپنے والد ) حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اس کو ہٹائے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ‘ ‘ ( مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو اس گناہ سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور نماز کی حرمت کا اہتمام کیا جائے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ هِلاَلٍ، - يَعْنِي حُمَيْدًا - قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ أَنَا أُحَدِّثُكَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَرَأَيْتُ، مِنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلاَّ بَيْنَ يَدَىْ أَبِي سَعِيدٍ فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الأُولَى فَمَثَلَ قَائِمًا فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ - قَالَ - وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مَا لَكَ وَلاِبْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَىْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
۔ ابن ہلال ، یعنی حمید نے کہا : ایک دن میں اور میرا ایک ساتھی ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان کہنے لگے : میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی اور ( ان کا عمل ) جو ان سے دیکھا ۔ کہا : ایک موقع پر ، جب میں حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف ( رخ کر کے ) ، جو انہیں لوگوں سے ستر ہ مہیا کر رہی تھی ، نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا ، اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے اس کے سینے سے ( پیچھے ) دھکیلا ۔ اس نے نظر دوڑائی ، اسے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے سامنے سے ( گزرنے ) کے سوا کوئی راستہ نہ ملا ، اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت کے ساتھ اس کے سینے سے پیچھے دھکیلا ، وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو برا بھلا کہا ، پھر لوگوں کی بھیڑ میں گھستا ہوا نکل کر مروان کےسامنے پہنچ گیا اور جو ان کے ساتھ بیتی تھی اس کی شکایت کی ، کہا : ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا : آپ کا اپنے بھتیجے کا ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اس کے سینے سے دھکیلے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ یقیناً شیطان ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان سے ، انہوں نے صدقہ بن یسار سے ، اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کی معیت میں ( اس کا ) ہمراہی ( شیطان ) ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
۔ ( ابن ابی فدیک کے بجائے ) ابو بکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی ( مذکورہ ) سند کےساتھ روایت کی کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ... آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً
۔ امام مالک کے ابو نضر سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں ابو جہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا؟ ابو جہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کس قدر ( گناہ ) ہے تو اسے چالیس ( سال ) تک کھڑے رہنا ، اس کے آگے گزرنے سے بہتر ( معلوم ) ہو ۔ ‘ ‘ ابو نضر نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال ۔ ( مسند بزار میں چالیس سال کے الفاظ ہیں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
سفیان نے ابو نضر سالم سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( انہیں ) ابو جہیم انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس بھیجا ( تاکہ پوچھے ) کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو کیا فرماتے سنا .... پھر ( سفیان نے ) مالک کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ ‏.‏
حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کی درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، - عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ - عَنْ سَلَمَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الأَكْوَعِ أَنَّهُ كَانَ يَتَحَرَّى مَوْضِعَ مَكَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ ‏.‏ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَحَرَّى ذَلِكَ الْمَكَانَ وَكَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَةِ قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ ‏.‏
۔ حماد بن مسعدہ نے یزید بن ابی عبید سے اور انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ وہ ( سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کوشش کر کے ( مسجد نبوی میں ) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف ( رکھا ہوا ) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اسی جگہ کی کوشش فرماتے تھے اور ( یہاں ) منبر اور قبلے کی دیوار کے درمیان بکری کے راستے کے برابر فاصلہ تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ، قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا قَالَ كَانَ سَلَمَةُ يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ هَذِهِ الأُسْطُوَانَةِ ‏.‏ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَهَا ‏.‏
۔ مکی ( بن ابراہیم ) نے کہا : ہمیں یزید بن ابی عبید نے خبر دی ، انہوں نے کہا : حضرت سلمہ ( بن اکوع ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کی جستجو کرتے جو مصحف کے پاس تھا ۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو اس کے قریب نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے دیکھا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاَتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ ‏"‏ الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
۔ یونس نے حمید بن ہلال سے ، انہوں نے عبد اللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر ( غفاری ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی ، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا ، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے ۔ ‘ ‘ میں نے کہا : اے ابو ذر! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟ انہوں نے کہا : بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا : ’’ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَيْضًا أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَ بْنَ أَبِي الذَّيَّالِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِ ‏.‏
سلیمان بن مغیرہ ، شعبہ ، جریر ، سلم بن ابو ذیال اور عاصم احول سب نے حمید بن ہلال سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورت ، گدھا اور کتا نماز قطع کر دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اسے بچاتی ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ ‏.‏
زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے ، میں جنازے کی طرح آپ کے اور قبلے کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوتی تھی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ كُلَّهَا وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ ‏.‏
۔ ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ رات کو اپنی پوری نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے ، مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھ لیتی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ قَالَ فَقُلْنَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سَوْءٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي ‏.‏
ابو بکر بن حفص نے عروہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کون سی چیز نماز قطع کر دیتی ہے؟ تو ہم نے کہا : عورت اور گدھا ۔ اس پر انہوں نے کہا : عورت برا چوپایہ ہے! میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے چوڑائی رخ جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ، عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ شَبَّهْتُمُونَا بِالْحَمِيرِ وَالْكِلاَبِ ‏.‏ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فَأُوذِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ ‏.‏
اعمش نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسود سے اور اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ اعمش نے ( مزید ) کہا : مجھے مسلم بن صبیح نے مسروق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، ان کے سامنے ان چیزوں کا تذکرہ کیا گیا جو نماز قطع کرتی ہیں ( یعنی ) کتا ، گدھا اور عورت ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے مشابہ بنا دیا ہے! اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ میں چار پائی پر آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی ، مجھے ضرورت پیش آتی تو میں بیٹھ کر رسول اللہﷺ کو تکلیف دینا پسند نہ کرتی ، اس لیے میں اس ( چار پائی یا بستر ) کے پایوں ( والی جگہ کی طرف ) سے کھسک جاتی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلاَبِ وَالْحُمُرِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَىِ السَّرِيرِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي ‏.‏
منصور نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : تم نے ہمیں کتوں اورگدھوں کے برابر کر دیا ہے ، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ( اس طرح ) دیکھا ہے کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی ، رسول اللہﷺ تشریف لاتے اور چارپائی کے وسط میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ، میں آپ کے سامنے ہونا پسند نہ کرتی ، اس لیے میں چار پائی کے پایوں کی طرف سے کھسکتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے نکل جاتی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلاَىَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَىَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا - قَالَتْ - وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے ( والے حصے ) میں ہوتے ، جب آپ سجدہ کرتے تو ( پاؤں پر ہاتھ لگا کر ) مجھے اشارہ کر دیتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سکیٹر لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو پھیلا لیتی ۔ انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : گھر ان دنوں ایسے تھے کہ ان میں چراغ نہیں ہوتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، جَمِيعًا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ ‏.‏
۔ نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سامنے ہوتی ، بسا اوقات آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے لگ رہا ہوتا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَىَّ مِرْطٌ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ إِلَى جَنْبِهِ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو کی جانب ہوتی ۔ مجھ پر چادر ہوتی اور اس چادر کا کچھ حصہ آپ کے پہلو ( کی طرف ) سے آپ پر ( بھی ) ہوتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ‏"‏ ‏.‏
۔ امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک سائل نے رسول اللہﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
۔ یونس اور عقیل بن خالد دونوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت بیان کی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَادَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
۔ محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے نبی ﷺ کو پکار کر پوچھا : کیا ہم میں سے کوئی شخص صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏
ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مُتَوَشِّحًا ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ مُشْتَمِلاً ‏.‏
۔ وکیع نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند سے حدیث سنائی ، ہاں یہ فرق ہے کہ اس نے متوشحا کہا مشتملا نہ کہا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ثَوْبٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ‏.‏
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ نے اس کے دونوں کناروں کو ادل بدل کر رکھا تھا ، یعنی دائیں کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو دائیں طرف لے گئے تھے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح