دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۱۶

صحیح مسلم — باب ۱۶The Book of Marriage

۳۱۵۲ احادیث (نمبر ۳۸۸ تا ۳۵۶۷) (صفحہ 28) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
یزید بن اصم نے ابو ہریرہ ﷺ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی طرح حدیث روایت کی ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان لوگوں سے جو جمعے سے پیچھے رہ جاتے ہیں ، فرمایا : ’’میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو حکم دو ں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر ان لوگوں کے گھروں کو ان پر ( اس سمیت ) جلادوں جو جمعے سے پیچھے رہتے ہیں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَجِبْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اکی نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کےرسول ! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو ( ہاتھ سے پکڑ کر ) مجھے مسجد میں لے آئے ۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے ۔ آپ نے اسے اجازت دے دی ، جب وہ واپس ہو ا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا : ’’کیا تم نماز کا بلاوا ( اذان ) سنتے ہو؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تو اس پر لبیک کہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلاَةِ إِلاَّ مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلاَةَ - وَقَالَ - إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلاَةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ ‏.‏
عبد الملک بن عمیر نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نےکہا : ساتھیوں سمیت میں نےخود کو دیکھا کہ نماز سے کوئی شخص پیچھے نہ رہتا ، سوائے منافق کے ، جس کا نفاق معلوم ہوتا یا سوائے بیمار کے اور ( بسا اوقات ) بیمار بھی دو آدمیوں کے سہائے سے چلتا آ جاتا یہاں تک کہ نماز میں شامل ہو جاتا ۔ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نےہمیں ہدایت کے طریقوں کی تعلیم دی اور ہدایت کے طریقوں میں سے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان دی جاتی ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ ‏.‏
علی بن اقمر نے ابو احوص سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، کہا : جو یہ چاہے کہ کل ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ سے مسلمان کی حیثیت سے ملے تو وہ جہاں سے ان ( نمازوں ) کے لیے بلایا جائے ، ان نمازوں کی حفاظت کرے ( وہاں مساجد میں جا کر صحیح طرح سے انھیں ادا کرے ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھائے نبی ﷺ کے لے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ ( مساجد میں باجماعت نماز یں ) بھی انھی طریقوں میں سے ہیں ۔ کیونکہ اگر تم نمازیں اپنے گھروں میں پڑھو گے ، جیسے یہ جماعت سے پیچھے رہنے والا ، اپنے گھر میں پڑھتا ہےتو تم اپنے نبی کی راہ چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی راہ کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے ۔ کوئی آدمی جو پاکیز گی حاصل کرتا ہے ( وضوکرتا ہے ) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ، جو وہ اٹھاتا ہے ، ایک نیکی لکھتا ہے ، اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کر دیتا ہے ، اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سے کوئی ( بھی ) جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا ، سوائے ایسے منافق کے جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا ( بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ) ایک آدمی کو اس طرح لایا جاتا کہ اسے دو آ دمیوں کے درمیان سہارا دیا گیا ہوتا ، حتی کہ صف میں لاکھڑا کیا جاتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابراہیم بن مہاجر نے ابو شعثاء سے روایت کی ، کہا : ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان کہی ، ایک آدمی مسجدسے اٹھ کر چل پڑا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےمسلسل اس پر نظر رکھی حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا ، حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : یہ شخص ، یقینا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى، رَجُلاً يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ خَارِجًا بَعْدَ الأَذَانِ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
اشعث بن ابی شعثاء محاربی نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا : انھوں نے ایک شخص کو اذان کے بعد مسجد میں سے چل کر باہر نکلتے دیکھتا تو فرمایا : یہ شخص ، بلاشبہ اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ فَقَعَدَ وَحْدَهُ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہم سے عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے حدیث سنائی ، کہا : حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ مغر ب کی نماز کے بعد مسجد میں تشریف لائے اور اکیلے بیٹھ گئے ، میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ، وہ کہنے لگے : بھتیجے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات کا قیام کیا اور جس نےصبح کی نماز ( بھی ) جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
سفیان نے ابو سہل عثمان بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَيُدْرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
بشر ، یعنی ابن مفضل نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے خالد سے اور انھوں نے انس بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جندب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی و ہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ( امان ) میں ہے ۔ تو ایسانہ ہو کہ ( ایسے شخص کو کسی طرح نقصان پہنچانے کی بناپر ) اللہ تعالیٰ تم ( میں سے کسی شخص ) سے اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ کرے ، پھر وہ اسے پکڑ لے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَهْوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلاَ يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَىْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل نے خالد سے او ر انھوں نے انس بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے جندب ( بن عبداللہ ) قسری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےسنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے صبح کی نماز ادا کی ، وہ اللہ کے ذمے میں آگیا ، ( دعا ہے ) اللہ تم سے اپنے ذمے کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہ کرے کیونکہ جس سے وہ اپنے ذمے میں سے کسی چیز کا مطالبہ کر لے ، اسے پالیتا ہے ، پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیتا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏
یہی روایت حسن بصری نے جندب بن سفیان کے حوالے سے نبی ﷺ سے روایت کی ( لیکن آخری فقرہ ) فیکبہ فی نار جہنم ( اس کو جہنم میں اوندھے منہ پھینک دیتا ہے ) بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى ‏.‏ فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ - قَالَ - وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ - قَالَ - فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ أَلاَ تَرَاهُ قَدْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ - وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ - عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سےروایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے بیان کیاکہ حضرت عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ، ( بیان کیا ) کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میری نظر خراب ہو گئی ہے ، میں اپنی قوم کو نماز پڑھتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کےدرمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے ، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انھیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ ( میرگھر ) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو ( مستقل طور پر ) جائے نماز بنالوں ۔ کہا : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا ۔ ‘ ‘ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ ﷺ اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ، رسول اللہ ﷺ نے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب فرمائی ، میں نے تشریف آوری کا کہا ، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر ( کے حصے میں ) داخل ہوئے ، پھر پوچھا : ’’تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں ( وہاں ) نماز پڑھوں ؟ ‘ ‘ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، آپ نے دورکعتیں ادا فرمائیں ، پھر سلام پھیر دیا ۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر ( گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھا نے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا ۔ ( عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ( آپ کی آمد کا سن کر ) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعدا د میں لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا : مالک بن دخشن کہاں ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا : وہ تو منافق ہے ، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کے بارے میں ایسا نہ کہو ، کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لاالہ الاللہ کہا ہے ؟ ‘ ‘ ( عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ اور اس سکے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اس ( الزام لگانے والے ) نےکہا : ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لے دیکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لاالہ الا اللہ کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : میں نے ( بعد میں ) حصین بن محمد انصاری سے ، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں ، محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس میں ان ( محمود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کی تصدیق کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَيْشِنِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا قُلْتَ - قَالَ - فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ - قَالَ - فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ نُرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يَغْتَرَّ فَلاَ يَغْتَرَّ ‏.‏
معمر نے زہر ی سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ یہ کہا : تو ایک آدمی نے کہا : مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے ؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : محمود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہاں : میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو ، جن میں ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی موجود تھے ، سنائی تو انھوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہو ۔ اس پر میں نے ( دل میں ) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے ( اس کے بارے میں ضرور ) پوچھوں گا ۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا ، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں ، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ ( اب بھی ) اپنی قوم کے امام تھے ۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھے بالکل اسی طرح ( ساری ) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی ۔ زہری نے کہا : اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور ( احکام ) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انھی پر تمام ہوا ، لہذا جو انسان چاہتا ہےکہ ( عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے ) دھو کا نہ کھائے ، وہ دھوکا کھا نے سے بچے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ إِنِّي لأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا ‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ ‏.‏
اوزاعی سے روایت ہے ، کہا : مجھے زہری نے حضرت محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کا وہ کلی کرنا اچھی طرح یا د ہے جو آپ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے ( پانی لے کر ) کی تھی ( اور اس کا پانی میر منہ پر ڈالا تھا ) ۔ محمود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ مجھے عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میری نظر میں خرابی پیداہو گئی ہےغاور اس بات تک حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے دو رکعات نماز پڑھائی اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جشیشہ ( خزیر سے ملتے جلتے کھانے ) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے بنایا تھا ۔ انھوں ( اوزاعی ) نےاس کے بعد یونس اور معمر والا اضافہ بیان نہیں کیا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نےحضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ان کی نانی ملیکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کوکھانے پر بلایا جو انھوں نے تیار کیا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس میں سے ( کچھ ) تناول کیا ، پھر فرمایا : ’’کھڑے ہو جاؤ میں تمھاری ( برکت کی ) خاطر نماز پڑھوں ۔ ‘ ‘ انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں کھڑا ہوا اور اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو لمبا عرصہ استعمال ہونےکی وجہ سے کالی ہو چکی تھی ، میں نے ( اسےصاف کرنے کےلیے ) اس پر پانی بہایا تو رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے ، میں اور ( وہاں موجود ایک ) یتیم بچے نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے ( کھڑی ) ہوگئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ( حصول برکت کے ) لیے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر تشریف لے گئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلاَةُ وَهْوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ ‏.‏
ابو التیاح نےحضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اخلاق کے مالک تھے ۔ بسا اوقات آپ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا ، پھر آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی ، اسے جھاڑا جاتا ، پھر اس پر پانی چھڑکا جاتا ، پھر آپ امامت فرماتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے ۔ کہا : ان کی چٹائی کجھور کے پتوں کی ہوتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ ‏"‏ قُومُوا فَلأُصَلِّيَ بِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ فَصَلَّى بِنَا ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ ‏.‏ ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، کہا : نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے ، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ کھڑے ہو جاؤ میں تمھیں نماز پڑھا دوں ۔ ٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗٗ’ ( فرض ) نماز کے وقت کے بغیر ، آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا : آپ ﷺنے انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انھوں نے کہا : آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا ۔ پھر آپ نے ہمارے ، سب گھر والوں کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی ، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی : اللہ کے رسول! ( یہ ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے ، اللہ سے اس کے لئے ( خصوصی ) دعا کریں ۔ کہا : آپ نے میرے لئےہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لئے آپ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا ، آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے اللہ!اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے ان میں برکت ڈال دے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ ‏.‏ قَالَ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا ‏.‏
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن مختار سے حدیث سنائی ، انھوں نے موسیٰ بن انس سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے انھیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی ، کہا : آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب اور عورت کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حریث بیان کی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ ‏.‏
عبداللہ بن شداد سے روایت ہے ، کہا : مجھے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ، فرمایا : ٰ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور اکثر ایسا ہوتا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا اور آپ ( کھجور کے پتوں اور دھاگوں سے بنی ہوئی ) ایک جائے نماز پر نماز پڑھتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ ‏.‏
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہمیں حضرت ابو سعید خرری رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں ، اسی پر سجدہ کر رہے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلاَتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلاَّ رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي الصَّلاَةِ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلاَئِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ آدمی کی باجماعت ( ادا کی گئی ) نماز اس کی گھر میں یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز کی نسبت بیس سے زیادہ درجے بڑھ کر ہے اور وہ یوں کہ جب ان میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر مسجد آتا ہے ، اسے نماز ہی نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ۔ تو وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے سبب سے اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے ، پھر جب مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ( اس کے انتظار کا وقت نماز میں شمار ہوتا ہے ) اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اس جگہ رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ‘ ‘ اے اللہ اس پر رحم فرما !اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما! جب تک وہ اس جگہ ( پر کسی کو ) تکلیف نہیں پہنچاتا اور جب تک وہ اس جگہ بے وضو نہیں ہوتا ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ ‏.‏
عبثر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، اسماعیل بن زکریا اور شعبہ ، سب نے اعمش کی اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت بیان کی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، نیز جب تک تم میں سے کسی شخض کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاَةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلاَّهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ وَتَقُولُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ‏.‏ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ ‏.‏
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں : اے اللہ! اسے معاف فرما!اے اللہ!اس پررحم فرما! یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ ( ابو رافع کہتے ہیں : ) میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : يحدث كا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا : آواز کے بغیر یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کر دے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ لاَ يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلاَةُ ‏"‏ ‏.‏
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جب تک تم میں سے کسی کو نماز روکے رکھتی ہے وہ مسلسل نماز میں ہوتا ہے ، اسے گھر کی طرف لوٹنے سے نماز کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا ہوتا ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحَدُكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فِي صَلاَةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلاَئِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ‏"‏ ‏.‏
ابن شہاب نے ( عبدالرحمان ) بن ہرمز ( اعرج ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جتنی دیر نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے نماز ہی میں رہتا ہے جب تک بے وضو نہ ہو جائے ۔ فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے : اے اللہ ! اسے معاف فرما! اے اللہ!اس پؓر رحم فرما ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا ‏.‏
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ‏"‏ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن براداشعری اور ابو کریب دونوں نے کہا : ہم سے ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوبردہ سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ نماز میں سب سے زیادہ ثواب اس کا ہے جو اس کے لیے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ پھر ( اس کے بعد ) جو ان میں سے سب سے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ اور جوآدمی نماز کا انتظار کرتا ہے تاکہ اسے امام کے ساتھ ادا کرے ، اجر میں اس سے بہت بڑھ کر ہے جو نماز پڑھتا ہے ، پھر سو جاتا ہے ۔ ’’ ابو کریب کی روایت میں ہے : ‘ ‘ یہاں تک کہ وہ اسے امام کے ساتھ جماعت میں ادا کرے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ رَجُلاً أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ أَوْ قُلْتُ لَهُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ وَفِي الرَّمْضَاءِ ‏.‏ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَاىَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏
عبثر نے ہمیں خبر دی ، انھوں نے سلیمان تیمی سے ، انھوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک آدمی تھا ، میرے علم میں کوئی اور آدمی اس کی نسبت مسجد سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہتا تھا اور اس کی کوئی نماز نہیں چوکتی تھی ، اس سے کہا گیا-یا میں نے ( اس سے ) کہا- : اگر آپ گدھا خرید لیں کہ ( رات کی ) تاریکی اور ( دوپہر کی ) گرمی میں آپ اس پر سوار ہو جایا کریں ۔ اس نے جواب دیا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو ، میں چاہتا ہوں میرا مسجد تک چل کر جانا اور جب میں گھر والوں کی طرف لوٹوں تو میرا لٹنا میرے لئے لکھا جائے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ تمھارے لئے اکٹھا کر دیا ہے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
عتمر بن سلیمان اور جریر دونوں نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ الصَّلاَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلاَنُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلاً حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ - قَالَ - فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الأَجْرَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ ‏"‏ ‏.‏
عباد بن عباد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عاصم نے ابو عثمان سے حدیث سنائی ، کہا : انصار میں ایک آدمی تھا ، اس کا گھر ، مدینہ میں سب سے دور ( واقع ) تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں پڑھنے سے چوکتی نہیں تھی ، ہم نے اس کے لئے ہمدردی محسوس کی تو میں نے اسے کہا : جناب ! اگر آپ ایک گدھا خرید لیں جو آپ کو گرمی اور زمین کے ( زہریلے ) کیڑوں سے بچائے ( تو کتنا اچھا ہو! ) اس نے کہا : مکر اللہ کی قسم! جھے یہ نہیں کہ میرا گھر ( خیمے کی طرح ) کنابوں کے ذریعے سے محمد ﷺ کے گھر سے بندھا ہوا ہو ۔ مجھے اس کی یہ بات بہت گراں گزری حتی کہ میں اسی کیقیت میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی ۔ آپ نے اسے بلوایا تو اس نے آپ کو بھی وہی جواب دیا اور آپ کو بتایا کہ وہ آنے جانے پر اجر کی امید رکھتا ہے ۔ تو نبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ تمھیں یقینا وہی اجر ملے گا جسے تم حاصل کرنا چاہتے ہو ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
ابن عینیہ اور وکیع نے اپنے والد کے حوالے سے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ، بُيُوتَنَا فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
ابوزبیر نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا : ہمارے گھر مسجد سے دور واقع تھے ، ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو فروخت کر کے مسجد کے قریب آجائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روک دیا اور فرمایا : ‘ ‘ تمھارے لئے ہر قدم کے بدلے میں ایک درجہ ہے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
جریری نے ابونضرہ سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : ( رسول اللہ ﷺ کی ) مسجد کے ارد گرد کی جگہیں خالی ہوئیں تو ( ان کے قبیلے ) بنو سلمہ کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں ، رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے کہا : ’’مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو ۔ ‘ ‘ انھوں نے عرض کی : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول! ہم یہی چاہتے ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ بنو سلمہ! اپنے گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ، ( پھر فرمایا : ) اپنے گھروں ہی میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ كَهْمَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا، إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ ‏.‏ - قَالَ - وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا ‏.‏
کہمس نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ، کہا : اور ( مسجد کے قریب ) جگہیں ( بھی ) خالی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ‘ ‘ اے بنو سلمہ!اپنے گھروں میں رہو ، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ۔ ’’ تو انھوں نے کہا : ( اس کے بعد ) ہمیں یہ بات اچھی ( بھی ) نہ لگتی کہ ہم منتقل ہو چکے ہو تے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ جس نے اپنے گھر میں وضو کیا ، پھر اللہ کے گھروں میں سے اس کے کسی گھر کی طرف چل کر گیا تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے ایک فریضے کو ادا کرے تو اس کے دونوں قدم ( یہ کرتے ہیں کہ ) ان میں سے ایک گناہ نٹاتا ہے اور دوسرا درجہ بلند کرتا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَفِي حَدِيثِ بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِه��نَّ الْخَطَايَا ‏"‏ ‏.‏
لیث اور بکر دونوں نے ہاد سے ، انھوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا-اور بکر کی روایت میں ہے کہ انھوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آ پ نے فرمایا- ‘ ‘ تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو ، کیا اس ( کے جسم ) کا کوئی میا کچیل باقی رہ جائے گا؟’’ صحابہ نے عرض کی : اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا ۔ آپ نے فرمایا یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے ۔ ’’
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ
اعمش نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر چلتی ہویئ بہت بڑی نہر کی سی ہے ، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو ۔ ’’ ( اعمش نے ابوسفیان کی بجائے حسن کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : حسن نے کہا : یہ غسل اس کے جسم پر کوئی میل کچیل نہیں چھوڑے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح