صحیح مسلم — باب ۳۶The Book of Drinks
۲۶۷ احادیث (نمبر ۵۱۱۴ تا ۵۳۸۳) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ " . زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ .
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےاور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا ( واجب/جائز ) ہے ، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے ۔ "" ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا ، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی : انھوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث روایت کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔ "" سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان نہیں کرتے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بتاتے ہیں ) ، انھوں نے کہا : لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ " . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ .
اسحاق بن ابراہیم نے کہا : سفیان نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مرفوعاً روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو ، وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا " . قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لاَ يَرْفَعُهُ قَالَ لَكِنِّي أَرْفَعُهُ .
یحییٰ بن کثیر عنبری ابو غسان نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمر بن مسلم سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کاا رادہ رکھتا ہو ، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو ( نہ کاٹے ) اپنے حال پر رہنے دے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، تَرْفَعُهُ قَالَ " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلاَ يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے عمر یا عمرو بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ " .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں محمد بن عمر ولیثی نے عمر بن مسلم بن عمارہ بن اُکیمہ لیثی سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے ، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ، یہاں تک کہ قربانی کرلے ( پھر بال اور ناخن کاٹے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
ابواسامہ نے کہا : مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی ، کہا : عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے ، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے ، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا : سعید بن مسیب اس فعل ( عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے ) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں ۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا : بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کردی گئی ہے ۔ ، ( یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے ) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے محمد بن عمر و سے معاذ کی حدیث کےہم معنی حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ . وَذَكَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
سعید بن ابی ہلال نے عمرو بن مسلم جندعی سے روایت کی کہ حضرت سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا ( پھر ) ان سب کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ مَرْوَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسِرُّ إِلَيْكَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسِرُّ إِلَىَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ . قَالَ فَقَالَ مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ قَالَ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الأَرْضِ " .
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا : ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا : ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا : میں حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو راز داری سے کیا فر ما تے تھے؟ آپ ناراض ہو ئے اور کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کو ئی راز نہیں بتا یا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو ۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فر ما ئی تھیں ۔ اس نے پو چھا : امیر المومنین ! وہ کیا باتیں ہیں ؟ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین ( کی حد بندی ) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ مَنْصُورِ، بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبِرْنَا بِشَىْءٍ، أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَىَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ " .
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انھوں نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ، ہمیں کو ئی ایسی چیز بتا ئیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری سے آپ کو بتا ئی ہو ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے راز داری سے کو ئی بات نہیں بتا ئی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا : " جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے ۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے ۔ جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے کرے جس نے ( زمین کی حد بندی کا ) نشان تبدیل کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ فَقَالَ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً إِلاَّ مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا - قَالَ - فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
شعبہ نے کہا : میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ سوال کیا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کو ئی چیز آپ کو عطا فرمائی ؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کو ئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتا ئی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو ۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکا م ہیں ۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکا لا جس میں لکھا ہوا تھا : " جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی ( حد بندی کی ) نشانی چرا ئے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے ، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لأَبِيعَهُ وَمَعِيَ صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ فَقَالَتْ أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا . قُلْتُ لاِبْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ .
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک ( جوان اونٹنی حاصل ہو ئی ۔ ایک اور جوان اونٹنی ( خمس میں سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما ئی ۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھا یا اور میں ان دو نوں پر بیچنے کے لیے اذخر ( کی خوشبو دار گھاس ) لا دکر لا نا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ اور اس ( کی قیمت ) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کے ساتھ اپنی شادی ) کے ولیمے میں مدد لینا چا ہتا تھا ۔ حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں ( بیٹھے ) شراب پی رہے تھے ، ان کے قریب ایک گا نے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گا نے لگی ۔ سنیں حمزہ ! ( اٹھ کر ) فربہ اونٹنیوں کی طرف بڑھیں ( دوسرا مصرع ہے ۔ وَهُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ "" اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہو ئی ہیں ۔ ) "" حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑسے کاٹ لیا ان کے پہلو چیردیے پھر ان کے کلیجے نکا ل لیے ۔ میں نے ابن شہاب سے کہا : اور کو ہان بھی ؟ انھوں نے کہا : وہ ( حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دونوں کے کو ہان جڑ سے کا ٹ کر لے گئے ۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس مو جو د تھے ۔ آپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ نکل پڑے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فر ما یا ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ اٹھا ئی اور کہنے لگے : تم میرے آبا واجداد کے غلاموں سے برھ کر کیا ہو ! ( وہ دونوں جناب عبد المطلب کے پو تے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے ۔ انھوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبا لغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو ئے اور ان کی محفل سے نکل آئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ، بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَىَّ مَتَاعًا مِنَ الأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَاىَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَاىَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَىَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ - قَالَ - فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكَ " قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَىَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ - قَالَ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ فَقَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ .
۔ عبد اللہ بن وہب نے کہا : مجھے یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے علی بن حسین بن علی نے بتا یا کہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی ۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں ۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان ، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں ۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں ، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لئے گئے ۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں ( یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمۃالزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی ، اس خیال سے تھا ) میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں ، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لئے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر ( کلیجہ ) نکال لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا ، ان کے کوہان کاٹ لئے ، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے ، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ لوگوں نے اجازت دی ۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں ( نشے کی وجہ سے ) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، پھر آپ رضی اللہ عنہ کے گھٹنوں کو دیکھا ، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا ۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور ( نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے ) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
عبد اللہ بن مبارک نے یو نس سے انھوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُهُمْ إِلاَّ الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ . فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي فَقَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ - قَالَ - فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا . فَهَرَقْتُهَا فَقَالُوا أَوْ قَالَ بَعْضُهُمْ قُتِلَ فُلاَنٌ قُتِلَ فُلاَنٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ - قَالَ فَلاَ أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ}
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن شرا ب حرام کی گئی ، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ( لو گوں کو ) شراب پلا رہا تھا ۔ ان کی شرا ب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شرا ب کے سوا اور کو ئی نہ تھی ، اتنے میں ایک اعلا ن کرنے والا پکا رنے لگا ۔ انھوں نے کہا : میں جاؤں اور دیکھوں تو ( دیکھا کہ وہاں ) ایک منا دی اعلا ن کر رہا تھا : ( لوگو ) سنو! شراب حرام کر دی گئی ۔ کہا : پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ ( سب ) بہادی ۔ تو لو گوں نے کہا ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا ۔ ۔ ۔ فلا ں شہید ہوا تھا اور فلا ں شہید ہوا تھا تو یہ ( شراب ) ان کے پیٹ میں مو جو د تھی ۔ ۔ ۔ ( ایک راوی نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں یہ ( بھی ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں سے ہے ( یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ( لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا إِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ) نازل فرمائی : " جو لو گ ایمان لا ئے اور نیک کا م کیے جب انھوں نے تقوی اختیار کیا ایمان لا ئے اور نیک عمل کیے ( تو ) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انھوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھا یا پیا ( تھا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ وَرِجَالاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ قُلْنَا لاَ قَالَ فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ يَا أَنَسُ أَرِقْ هَذِهِ الْقِلاَلَ قَالَ فَمَا رَاجَعُوهَا وَلاَ سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ .
عبد العز یز بن صہیب نے کہا : لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ ( ملی جلی کچی اور پکی ہو ئی کھجوروں کا رس جس میں خمیراٹھ جا ئے ) کے متعلق سوال کیا ۔ انھوں نے کہا : تمھا رے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کو ئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو ، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابو طلحہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : تمھیں خبر پہنچی ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ اس نے کہا : شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انس ! ( شراب کے ) یہ سارے مٹکے بہا دو ۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں ( کبھی ) کچھ پوچھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَىِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فَقَالُوا اكْفَأْهَا يَا أَنَسُ . فَكَفَأْتُهَا . قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ . قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ . قَالَ سُلَيْمَانُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا .
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے بتا یا کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی ( شراب ) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا ، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا : "" شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ان ) لوگوں نے کہا : انس ! اس کو بہا دو ۔ میں نے وہ سب بہا دی ۔ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : وہ کیا تھا ( جس سے شراب بنا ئی گئی تھی ؟ ) انھوں نے کہا : وہ کچی اور پکی کھجور یں تھیں ( تیمی نے ) کہا : ابو بکر بن انس نے کہا : ان دنوں یہی ان کی شراب تھی ۔ سلیمان نے کہا : مجھے ایک شخص نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انھوں نے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھی یہی کہا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَىِّ أَسْقِيهِمْ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ . وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ . وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہوا قبیلے ( کے لوگوں ) کو شراب پلا رہا تھا ، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انھوں نے ( معتمر ) نے کہا : ابو بکر بن انس نے بتا یا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خود بھی ) مو جو د تھے اور انھوں نے اس کا انکا ر نہیں کیا ۔ ( سلیمان نے کہا : ) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا : اس نے ( خود ) انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ فَقَالَ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ . فَكَفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ . قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ .
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں انصاری کی ایک جمیعت میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شراب پلا رہاتھا ، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا : شراب کی حُرمت نازل ہوگئی ہے ، ( یہ سنتے ہی ) ہم نے اسی دن اسے ( شراب کو ) بہادیا ، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب تھی ۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : شراب حرام کردی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی ، نیم پختہ اور خشک کھجور کی ( بنی ہوئی ) ہوتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ، بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ إِنِّي لأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ . بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ .
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایک مشکیزے سے شراب پلارہاتھا ، ملی جلی نیم پختہ اورخشک کھجوروں کی شراب تھی ، جس طرح سعید ( بن ابی عروبہ ) کی حدیث ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ ثُمَّ يُشْرَبَ وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ .
عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط ( پانی ملارس ) بنایاجائے ، پھر ( اس میں خمیر اٹھنے کے بعد ) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا . فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ .
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت ابو طلحہ اورحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب پلارہاتھا ، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا : شراب حرام کردی گئی ہے ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انس!جاکر اس گھڑے کو توڑدو ، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر ( ہاون دستہ ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلاَّ مِنْ تَمْرٍ .
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور ( کسی چیز کی بنی ہوئی ) شراب نہیں پی جاتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلاًّ فَقَالَ " لاَ " .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کو سرکہ بنانے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَا أَوْ كَرِهَ أَنْ يَصْنَعَهَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ " .
حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوا ل کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انھوں نےکہا : میں اس کو دوا کے لئے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي، عُثْمَانَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ ابو کثیر نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شراب ان دو درختوں ( کے پھلوں ) سے بنائی جاتی ہے ۔ : کھجور اورانگورسے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ " .
عبداللہ بن نمیر نےکہا : اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو کثیر نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرمارہے تھے : " شراب ان دودرختوں ( کے پھلوں ) سے تیار ہوتی ہے : کھجور سے اورانگور سے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، وَعِكْرِمَةَ، بْنِ عَمَّارٍ وَعُقْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْكَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ " الْكَرْمِ وَالنَّخْلِ " .
زہیر بن حرب اور ابوکریب نے کہا : ہمیں وکیع نےاوزاعی ، عکرمہ بن عمار اورعقبہ بن توام سے حدیث بیان کی ، انھوں نےابوکثیر سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شراب ان دودرختوں سے بنائی جاتی ہے : انگور کی بیل اورکھجور کے درخت ( کے پھل ) سے ۔ ابو کریب کی روایت میں ( الْكَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ کی بجائے ) " الكرم والنخل " ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ .
جریر بن حازم نے کہا : میں نے عطاء ابن ابی رباح سے سنا ، کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش اور کچی کھجوروں اورپختہ کھجوروں کو ملا کر مشروب بنانے سے منع فرمایا ۔ ( کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں اس کا خمیر اٹھ جاتاہے اور یہ شراب میں تبدیل ہوجاتاہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا .
لیث نے عطاء ابن ابی رباح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اورتازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ، جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ لِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَبَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا " .
ابن جریج نے کہا : عطاء نے مجھ سے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تازوہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو اور کشمش اور خشک کھجوروں کو نبیذ بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا .
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کشمش اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے اورکچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَعَنِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا .
تیمی نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بناتے ہوئے ) خشک کھجوروں اورکشمش کو ملانے سے اورپختہ کھجوروں اورکچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَخْلِطَ بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَأَنْ نَخْلِطَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ .
سعید بن یزید ابو مسلمہ نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ( نبیذ بنانے کے لئے ) کشمش اور خش کھجوروں کو ایک دوسرے سے ملا دیں اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم یکجا کرلیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي، مَسْلَمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانندروایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي، الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَرِبَ النَّبِيذَ مِنْكُمْ فَلْيَشْرَبْهُ زَبِيبًا فَرْدًا أَوْ تَمْرًا فَرْدًا أَوْ بُسْرًا فَرْدًا " .
وکیع نے اسماعیل بن مسلم عبدی سے ، انھوں نے ابو متوکل ناجی سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سےجو شخص نبیذ پیے وہ صرف کشمش کا نبیذ پیے یا صرف خشک کھجوروں کو نبیذ پیے یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، الْعَبْدِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَخْلِطَ بُسْرًا بِتَمْرٍ أَوْ زَبِيبًا بِتَمْرٍ أَوْ زَبِيبًا بِبُسْرٍ . وَقَالَ " مَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ " . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن مسلم عبدی نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نبیذ میں ) کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے ساتھ ملانے ، یا کشمش کوخشک کھجور کے ساتھ یا کشمش کو نیم پختہ کھجوروں کے سات ملانے سے منع کیا اور یہ فرمایا : " تم میں سے جوشخص اسے پیے ۔ ۔ ۔ " آگے وکیع کی حدیث ( 5152 ) کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ، أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنْتَبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلاَ تَنْتَبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ " .
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ادھ پکی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور کشمش اور خشک کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ اور دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي، عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
حجاج بن ابی عثمان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح