صحیح مسلم — باب ۳۶The Book of Drinks
۲۶۷ احادیث (نمبر ۵۱۱۴ تا ۵۳۸۳) (صفحہ 4) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلا یا ہے ۔ شہد نبیذ پانی اور دودھ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق ( ہمدانی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ، انھوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ دودھ دوہا ، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا ، آپ نے اسے نوش فرمایا ، یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ - قَالَ - فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ - قَالَ - فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو اسحاق ہمدانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کا گھوڑا ( زمین میں ) دھنس گیا ( یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا ) ۔ وہ بولا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی ( تو اس کو نجات ملی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ .
یونس نے زہری سے روایت کی ، کہا : ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے ۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی ( یعنی اسلام کی اور استقامت کی ) ۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ .
معقل نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دو پیالے ) لائے گئے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں ( معقل ) نے " ایلیاء " کا ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا فَقَالَ " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " . قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أُمِرَ بِالأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلاً وَبِالأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلاً .
ابو عاصم ضحاک نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ دودھ کا ( مقام ) نقیع سے لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) ایک آڑی لکڑی ہی اس پر رکھ لیتا ۔ ابوحمید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ ہمیں رات کے وقت مشکیزوں کو باندھنے اور دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَزَكَرِيَّاءُ، بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ، السَّاعِدِيُّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحِ لَبَنٍ . بِمِثْلِهِ . قَالَ وَلَمْ يَذْكُرْ زَكَرِيَّاءُ قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ .
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج اور زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لائے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ زکریا نے ( اپنی روایت کردہ حدیث میں ) حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول : " رات کے وقت " بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْقِيكَ نَبِيذًا فَقَالَ " بَلَى " . قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " . قَالَ فَشَرِبَ .
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے پانی مانگا ، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ نہ پلائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیوں نہیں! " پھر وہ شخص دوڑتا ہوا گیا اور ایک پیالے میں نبیذ لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم نے اسے ڈھانک کر کیوں نہیں دیا؟چاہے تم اس کے اوپر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ( ہی ) رکھ دیتے ۔ " ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " .
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے سفیان ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص جو ابو حمید کہلاتاتھا ، نقیع ( مقام سے ) سے دودھ کا ایک پیالہ لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) چاہے تم اس کے اوپر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ( ہی ) رکھ دیتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَحُلُّ سِقَاءً وَلاَ يَفْتَحُ بَابًا وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ " . وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ " وَأَغْلِقُوا الْبَابَ " .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیرسے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برتنوں کو ڈھانک دو ، مشکوں کا منہ بند کردو ، دروازہ بند کردو ، اورچراغ بجھادو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کامنہ نہیں کھولتا ، وہ دروازہ ( بھی ) نہیں کھولتا ، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتاہے ۔ اگر تم میں سے کسی کو اسکے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے ، یا اس پر اللہ کا نام ( بسم اللہ ) پڑ ھ دے تو ( یہی ) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر ( یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں ) ان کا گھر جلادیتی ہے ۔ " قتیبہ نے اپنی حدیث میں : " اور دروازہ بند کردو " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَاكْفِئُوا الإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الإِنَاءَ " . وَلَمْ يَذْكُرْ تَعْرِيضَ الْعُودِ عَلَى الإِنَاءِ .
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ، مگر انھوں نے ( یوں ) کہا : " برتن الٹ کر رکھ دو یا انھیں ڈھانک دو ۔ " اور برتن پر چوڑائی کے رُخ لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَغْلِقُوا الْبَابَ " . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَخَمِّرُوا الآنِيَةَ " . وَقَالَ " تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ " .
زہیر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دروازہ بند کردو " پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ انھوں نے کہا؛ " اور برتنوں کو ڈھانک دو " اور ی کہا : " وہ ( چوہیا ) گھر والوں پر ان کے کیڑے جلا دیتی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَ " وَالْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ " .
سفیان نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کے مانند روایت کی اور فرمایا؛ " چوہیا گھر والوں کے اوپر گھر کو جلا دیتی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ - أَوْ أَمْسَيْتُمْ - فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ " .
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عطاء نے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب رات ہو جائے یا فرمایا کہ تم شام کرو تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ۔ پھر جب کچھ رات گذر جائے تو بچوں کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے دروازے بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا ۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا بندھن باندھ دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانک لو اللہ کا نام لے کر ۔ ( اگر برتن ڈھانکنے کے لئے اور کچھ نہ ملے سوا اس کہ ) ان برتنوں کے اوپر کوئی چیز چوڑائی میں رکھو ( تو وہی رکھ دو ) اور اپنے چراغوں کو بجھا دو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَحْوًا مِمَّا أَخْبَرَ عَطَاءٌ، إِلاَّ أَنَّهُ لاَ يَقُولُ " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، وہ اس طرح کہہ رہے تھے جس طرح عطاء نے بتایا ، البتہ انھوں نے یہ نہیں کہا؛ " اللہ عزوجل کا نام لو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَطَاءٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، كَرِوَايَةِ رَوْحٍ .
ابو عاصم نے کہا : ہمیں ابن جریج نے یہی حدیث عطاء اور عمرو بن دینار دے روح کی روایت کے مانند بیا ن کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ " .
ابو خثیمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " سورج غروب ہونے لگے تو اپنے پھیل جانے والے جانوروں اور بچوں کو باہرنہ بھیجو یہاں تک کہ عشاء کی تک کی آمد جھٹپٹا رخصت ہوجائے ، کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد عشاء کی آمد کا جھٹپٹا ختم ہونے تک شیطانوں کو چھوڑا جاتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ .
سفیان بن ابو زبیر سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لاَ يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلاَّ نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ " .
ہاشم بن قاسم نے کہا : " ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے ، انھوں نے قعقاع بن حکیم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " برتن ڈھانک دو ، مشکیزے کامنہ باندھ دو ، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے ۔ پھر جس بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے ۔ تو اس وبا میں سے ( کچھ حصہ ) اس میں اُتر جاتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ " . وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ قَالَ اللَّيْثُ فَالأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الأَوَّلِ .
علی جہضمی نے کہا : ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انھوں نے اس ( حدیث ) میں یہ کہا؛ " سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبانازل ہوتی ہے ۔ " ( علی نے ) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : لیث نے کہا : ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول ( یعنی دسمبر ) میں اس وبا سے بچتے ہیں ( بچنے کے حیلے کرتے ہیں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " .
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : " جب تم سونے لگو تواپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑا کرو ( اسے پوری طرح بجھا دیا کرو ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ احْتَرَقَ بَيْتٌ عَلَى أَهْلِهِ بِالْمَدِينَةِ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَأْنِهِمْ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ " .
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل گرا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے ۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے ( ہٹانے کے لیے ) بجھا ہٹا دیاکرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهَا ثُمَّ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لاَ يُذْكَرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهَذَا الأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهَا " .
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے خیثمہ سے ، انھوں ن ابوحذیفہ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ ڈالتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ ڈالتے ۔ ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے اور ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہے اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ پھر ایک دیہاتی دوڑتا ہوا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پھر فرمایا کہ شیطان اس کھانے پر قدرت پا لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو لایا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر اس دیہاتی کو اسی غرض سے لایا تو میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اس ( شیطان ) کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الأَرْحَبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى طَعَامٍ . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ " كَأَنَّمَا يُطْرَدُ " . وَفِي الْجَارِيَةِ " كَأَنَّمَا تُطْرَدُ " . وَقَدَّمَ مَجِيءَ الأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ .
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے ابو حذیفہ ارحبی سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی ، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اورکہا : جیسے اس ( بدو ) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جارہا ہو ۔ اورلڑکی کے بارے میں کہا : جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جارہا ہو ، انھوں نے ا پنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکرپہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الأَعْرَابِيِّ .
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا ، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لاَ مَبِيتَ لَكُمْ وَلاَ عَشَاءَ . وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ . وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
ابو عاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " کہ جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے ، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے ، تو شیطان ( اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے ) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے ، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ " وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِهِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ " .
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئےسنا ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ۔ ابوعاصم کی حدیث کے مانند ، البتہ انھوں نے یہ کہا : " اور اگر اس نے اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا اور اگر اس نے داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ " .
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے ابو بکر بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تواپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیےتواپنے دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے اوربائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ سُفْيَانَ .
عبیداللہ نے زہری سے سفیان کی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عُمَرَ حَدَّثَهُ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَأْكُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشِمَالِهِ وَلاَ يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِهَا " . قَالَ وَكَانَ نَافِعٌ يَزِيدُ فِيهَا " وَلاَ يَأْخُذُ بِهَا وَلاَ يُعْطِي بِهَا " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ " لاَ يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ " .
ابوطاہر اورحرملہ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عمر بن محمد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے قاسم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" تم میں سے کوئی شخص نہ بائیں ہاتھ سے کھائے نہ اس ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔ اور اسی سے پیتا ہے ۔ نافع اس روایت میں یہ اضافہ کرتے ہیں ؛ "" نہ اس ( بائیں ہاتھ ) سے لے اور نہ اس کے ذریعے سےدے ۔ "" اورابوطاہر کی روایت میں ہے : "" تم میں سےکوئی شخص ( بائیں ہاتھ سے ) ہر گز نہ کھائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشِمَالِهِ فَقَالَ " كُلْ بِيَمِينِكَ " . قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ قَالَ " لاَ اسْتَطَعْتَ " . مَا مَنَعَهُ إِلاَّ الْكِبْرُ . قَالَ فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ .
۔ سیدنا ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھا ۔ وہ بولا کہ میرے سے نہیں ہو سکتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے ۔ اس نے ایسا غرور کی راہ سے کیا تھا ۔ راوی کہتا ہے کہ وہ ساری زندگی اس ہاتھ کو منہ تک نہ اٹھا سکا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، سَمِعَهُ مِنْ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي " يَا غُلاَمُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ " .
ولید بن کثیر نے وہب بن کیسان سے روایت کی ، انھوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پارہا تھا ) اور میرا ہاتھ پیالے میں سب طرف گھوم رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لڑکے : بسم اللہ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے کھا اور جو پاس ہو ادھر سے کھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي، مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلْتُ آخُذُ مِنْ لَحْمٍ حَوْلَ الصَّحْفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلْ مِمَّا يَلِيكَ " .
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ انھوں نےکہا : ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھاناکھایااورمیں نے پیالے کی ہر جانب سے گوشت لیناشروع کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے آگے سے کھاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ .
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منہ لگا کر پینے کے لیے ) مشکوں کو الٹانے سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا .
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کوالٹنے سے ( یعنی براہ راست ) ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَاخْتِنَاثُهَا أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ .
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، البتہ انھوں نے کہا : ان ( مشکوں ) کا اختناث یہ ہے کہ مشک کا منہ الٹ کر اس میں سے ( براہ راست ) پانی پیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا .
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکرپانی پینے سے ڈانٹ کر منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا . قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْنَا فَالأَكْلُ فَقَالَ ذَاكَ أَشَرُّ أَوْ أَخْبَثُ .
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا ۔ قتادہ نے کہا : ہم نے پوچھا اور ( کھڑے ہوکر ) کھانا؟تو ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ زیادہ برا اورگندا ( طریقہ ) ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ .
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور قتادہ کاقول ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح