صحیح مسلم — باب ۴The Book of Prayers
۳۲۱ احادیث (نمبر ۸۳۷ تا ۱۱۶۰) (صفحہ 5) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
(سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ} فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ { وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ وَلاَ تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً يَقُولُ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ .
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) کے درمیان کی راہ اختیار کریں ۔ ‘ ‘ ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے : بلند اور آہستہ کے درمیان ( میں رہیں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا} قَالَتْ أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ .
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
حماد بن زید ، ابو اسامہ ، وکیع اور ابو معاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، - عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْىِ كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} أَخْذَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ . وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَأُهُ { فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ .
جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ - فَقَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَرِّكُهُمَا . فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا . فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَأُهُ { فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَمَا أَقْرَأَهُ .
۔ ( جریر بن عبد الحمید کے بجائے ) ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان : ’’آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے ، آپ ( ساتھ ساتھ ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں ، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے ( اپنے شاگرد سے ) کہا : میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ انہیں ہلاتے تھے ، پھر اپنے ہونٹ ہلائے ) اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری : ’’ آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بےشک ہمارا ذمہ ہے اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ کر رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ۔ ‘ ‘ کہا : آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا ، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں ۔ ’’ پھر جب ہم پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یعنی اس کو غور سےسنیں اور خاموش رہیں ، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل رضی اللہ عنہ ( وحی لے کر ) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل رضی اللہ عنہ چلے جاتے تواسے آپ اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْجِنِّ وَمَا رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ . قَالُوا مَا ذَاكَ إِلاَّ مِنْ شَىْءٍ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ . فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ - وَهُوَ بِنَخْلٍ - عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ . فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا { إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا} فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم { قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ} .
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ ہمارے آسمانی خبر کے درمیان حائل ہونے والی چیز ( کی حقیقت ) کیا ہے؟ وہ نکل کر زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچے ۔ وہ نفری جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا ، گزری ، تو آپ عکاظ کی طرف جاتے ہوئے کجھوروں ( والے مقام نخلہ ) میں تھے ، اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا دیے اور کہنے لگے : یہ ہے جو ہمارے اور آسمانوں کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا : اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمدﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی : ’’ کہہ دیجیئے : میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ - قَالَ - فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ - قَالَ - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ . فَقَالَ " أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " . قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ " لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعَرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَلاَ تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ " .
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کوگم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے ، اس لیے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم ( کبھی ) گزار سکتی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنت قرآن کی قراءت کی ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ﷺ ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے ۔ جنوں نے آپ سے زاد ( خوراک ) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس ( کے جانور ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے ، ( اس پر لگا ہوا ) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور ( ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے ) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے ( انسانوں سے ) فرمایا : ’’ تم ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں ( دین میں ) تمہارے بھائیوں ( جنوں اور ان کے جانوروں ) کا کھانا ہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ . إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلاً مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ .
۔ اسماعیل بن ابراہیم نے داؤد سے اسی سند کے ساتھ وآثار نيرانهم ( ان کی آگ کے نشانات ) تک بیان کیا ۔ شعبی نے کہا : جنوں نے آپ سے خوراک کا سوار کیا اور وہ جزیرہ کے جنوں میں سے تھے ... حدیث کے آخری حصے تک جو شعبی کا قول ہے ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
عبد اللہ بن ادریس نے داؤد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی ﷺسے وآثار نيرانهم تک روایت کیا اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ .
(شعبی کے بجائے ) ابراہیم ( نخعی ) نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی ، کہا : میں لیلۃ الجن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ .
معن ( بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود ہذلی ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : میں نے مسروق سے پوچھا : جس رات جنوں نے کان لگا کر ( قرآن ) سنا ، اس کی اطلاع نبیﷺ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا : مجھے تمہارے والد ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ آپ کو ان جنوں کی اطلاع ایک درخت نے دی تھی ۔ ( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، - يَعْنِي الصَّوَّافَ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ .
حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ .
(حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ الم تَنْزِيلُ وَقَالَ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً .
یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشَرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِكَ وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ .
۔ ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرُوا مِنْ صَلاَتِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَةِ فَقَالَ إِنِّي لأُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ . فَقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ .
ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور ( اس میں ) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : یقیناً میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان ( بھی ) یہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
(ہشیم کے بجائے ) جریر نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاَةِ . قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ . أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ .
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( یہ کہتا ہوں کہ میں ) پہلی دو رکعتوں میں ( قیام کو ) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں ، میں نے جس طرح رسول اللہﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی ، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَبِي، عَوْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَقَالَ تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلاَةِ
۔ مسعر نے عبد الملک ( بن عمیر ) اور ابو عون سے روایت کی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ ( میں نے تو خود رسول اللہﷺ سے نماز سیکھی ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ سَعِيدٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ لَقَدْ كَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِمَّا يُطَوِّلُهَا .
۔ عطیہ بن قیس نے قزعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا ، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا ، پھر ( مسجد میں ) آتا اور رسول اللہﷺ اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَزْعَةُ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاَءِ عَنْهُ - قُلْتُ - أَسْأَلُكَ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ . فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ كَانَتْ صَلاَةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى .
ربیعہ نے کہا : قزعہ نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ( استفادے کے لیے ) کثرت سے لوگ موجود تھے ۔ جب یہ لوگ ان سے ( رخصت ہو کر ) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ۔ میں نے کہا : میں آپ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے ( کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسے نماز نہیں پڑھ سکو گے ) انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا ، اپنی ضرورت پوری کرتا ، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا ، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى - مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ - أَخَذَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَكَعَ . وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ الْعَاصِ .
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، نیز عبد الرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو سلمہ بن سفیان ، عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ( محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے ( بیان کرتے ہوئے ) اختلاف کیا ہے ) ( اس وقت ) رسو ل اللہﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بھی اس نماز میں موجود تھے ۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے : آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے ۔ اور ان کی حدیث میں ( راوی کا نام ) عبد اللہ بن عمرو ہے ، آگے ابن عاص نہیں کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ { وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ}
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فجر کی نماز میں ﴿واليل إذا عسعس﴾ ( قسم ہے رات کی! جب وہ جانے لگتی ہے ) پڑھتے ہوئے سنا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} حَتَّى قَرَأَ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ} قَالَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا وَلاَ أَدْرِي مَا قَالَ .
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ نے مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی ، آپ ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھی حتی کہ آپ نے ﴿والنخل باسقت﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار ( ذہن میں ) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس ( کے مفہوم ) کا پتہ نہ چلا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَابْنُ، عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ}
(ابو عوانہ کے بجائے ) شریک اور سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی اکرمﷺ کو ﴿والنخل باسقت لها طلع نضيد﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ( پیدا کیے ) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ) کی قراءت کرتے ہوئے سنا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ} وَرُبَّمَا قَالَ { ق} .
(ابو عوانہ ، شریک اور ابن عیینہ کے بجائے ) شعبہ نے زیادہ بن علاقہ سے اور انہوں نے اپنے چچا ( حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے پہلی رکعت میں ﴿والنخل باسقت طلع نضيد﴾ پڑھا اور بعض اوقات ( یہی بات سناتے ہوئے ) کہا : سورہ ق پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَكَانَ صَلاَتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا .
زائدہ نے کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھا کرتے تھے ، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ وَلاَ يُصَلِّي صَلاَةَ هَؤُلاَءِ . قَالَ وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بـ { ق وَالْقُرْآنِ} وَنَحْوِهَا .
(زائدہ کے بجائے ) زہیر نے سماک سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے ۔ اور ( سماک نے ) کہا : مجھے انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ رسو ل اللہﷺ کی صبح کی نماز میں ﴿ق والقرآن﴾ اور ( طوالت میں ) اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ { اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ .
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، . أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ .
ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
(سلیمان ) تیمی نے ابو منہال سے اور انہوں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ آيَةً .
(تیمی کے بجائے ) خالد حذاء نے ابو منہال سے ، انہوں نے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ، يَقْرَأُ { وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ يَا بُنَىَّ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ .
۔ مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے ﴿والمرسلات عرفا﴾ پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں : بیٹا! تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد کرا دیا کہ بے شک یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
(امام مالک کے بجائے ) سفیان ( بن عیینہ ) ، یونس ، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ .
مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کی نماز میں رسول اللہﷺ کو سورہ طہ پڑھتے ہوئے سنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
سفیان ، یونس اور معمر نے اپنی اپنی سند سے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ اس جیسی روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ { وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ}
۔ شعبہ نے عدی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپﷺ سفر میں تھے ، آپ نے عشاء کی پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں ﴿والتين والزيتون﴾ پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ .
(شعبہ کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ . فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ .
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح