صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues
۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 13) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلاَةِ كُلَّمَا رَفَعَ وَوَضَعَ . فَقُلْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا التَّكْبِيرُ قَالَ إِنَّهَا لَصَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں جب بھی ( سر ) اٹھاتے اور جھکاتے ، تکبیر کہتے ، اس پر ہم نے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ تکبیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا : یقیناً یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ جب بھی ( نماز میں سر ) جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور بتاتے کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلاَةِ - قَالَ - أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم . أَوْ قَالَ قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
۔ مطرف سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی ۔ جب وہ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر کہا : انہوں نے ہمیں محمدﷺ کی نماز پڑھائی ہے یا کہا : انہوں نے مجھے محمدﷺ کی نماز یاد دلا دی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے ، انہوں نے محمود بن ربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس بات کی نسبت نبیﷺ کی طرف کرتے تھے ( کہ آپﷺ نے فرمایا : ) ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القریٰ ( فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الَّذِي، مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا رضی اللہ عنہ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا .
۔ زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’ ( فاتحہ ) اور اس کے بعد ( قرآن کا کچھ حصہ ۔ ) ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهْىَ خِدَاجٌ - ثَلاَثًا - غَيْرُ تَمَامٍ " . فَقِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ . فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ { الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَثْنَى عَلَىَّ عَبْدِي . وَإِذَا قَالَ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} . قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي - وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَىَّ عَبْدِي - فَإِذَا قَالَ { إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} . قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ . فَإِذَا قَالَ { اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} . قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ .
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے : ﴿الرحمن الرحيم﴾ ’’سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا ۔ ‘ ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿ مالك يوم الدين﴾ ’’جزا کے دن کا مالک ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے ( اپنے معاملات ) میرے سپرد کر دیے ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ ’’ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ ( حصہ ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے : ﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ ’’ہمیں راہ راست دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا ۔ سفیان نے کہا : مجھے یہ روایت علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے سنائی ، میں ان کے پاس گیا ، وہ گھر میں بیمار تھے ۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ( تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي " .
مالک بن انس نے علاء بن عبد الرحمان سے روایت کی ، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جس طرح پچھلی روایت ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ، وَكَانَا، جَلِيسَىْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهْىَ خِدَاجٌ " . يَقُولُهَا ثَلاَثًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبد الرحمان نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد اللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ‘ ‘ ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور ( مالک بن انس اور ابن جریج ) دونوں کی روایت میں ہے : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے ، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةٍ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ .
حبیب بن شہید سے روایت ہے ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جو ( نماز ) رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس ( نماز ) میں آپ نے ( قراءت کو ) مخفی رکھا ، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي كُلِّ الصَّلاَةِ يَقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَالَ إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ .
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ .
۔ حبیب معلم سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہر نماز میں قراءت ہے ۔ تو جو ( قراءت ) نبی ﷺ نے ہمیں سنائی ہم نے تمہیں سنائی اور جو انہوں نے ہم سے پوشیدہ رکھی ، ہم نے وہ تم سے پوشیدہ رکھی اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی تو اس کے لیے وہ کافی ہے اور جس نے ( اس سے ) زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمَ قَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ " . ثُمَّ قَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي . قَالَ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا " .
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا : ’’ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پرھی ۔ “ تو اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ “ چنانچہ اسی طرح وہ نماز پڑھتا اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کرتا ۔ اور آپ ﷺ یہی فرماتے : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے ادا نہیں کی ۔ “ آخر اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق بنایا ہے ، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناوقف ہوں ۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بتا دیجئے ؟ تو ارشاد ہوا : ” تم جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن کریم تم باآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو اس کے بعد رکوع کرو اور پھر بہ آرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اس کے بعد بہ اطمینان سجدہ کرو اور پھر بہ اطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو ۔ “
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَاحِيَةٍ وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ " .
ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی ، رسول اللہﷺ ایک جانب ( تشریف فرما ) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور ( حدیث کے حصے ) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا : ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف رخ کرو ، پھر تکبیر کہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى " . فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ . قَالَ " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " أَيُّكُمْ قَرَأَ " أَوْ " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ " فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا . فَقَالَ " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا ، وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی شروع کر دی ۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا : ’’تم میں سے کس نے پڑھا ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ وَقَالَ " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
۔ قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ كِلاَهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} .
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ، میں نے ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں سنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ .
محمد بن ( جعفر کے بجائے ) ابو داؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ، کہا : ہاں ، ہم نے سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ . وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} لاَ يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلاَ فِي آخِرِهَا .
وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے : سبحانك اللهم! وبحمدك ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘ ‘ ( نیز اوزاعی ہی کی ) قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ( اپنی ) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان ( اوزاعی ) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے ( انس رضی اللہ عنہ ) نے قتادہ کو حدیث سنائی ، کہا : میں نے نبیﷺ ، ابو بکر ، عمر اورعثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ ( نماز کا ) آغاز الحمد لله رب العالمين سے کرتے تھے ، وہ بسم الله الرحمن الرحيم ( بلند آواز سے ) نہیں کہتے تھے ، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی ( دوسری سورت کے آغاز پر)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَذْكُرُ ذَلِكَ .
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سنا ، وہ یہی ( سابقہ ) حدیث بیان کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آنِفًا سُورَةٌ " . فَقَرَأَ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ { إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ} " . ثُمَّ قَالَ " أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ " . فَقُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي . فَيَقُولُ مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ " . زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ . وَقَالَ " مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ " .
علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ( الفاظ انہی کے ہیں ) علی بن مسہر سے روایت کی ، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا : ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے پڑھا : ﴿ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴿<http : //tanzil.net/tanzil.net>﴾﴾ ’’بلاشبہ ہم آپ کو کوثر عطا کی ۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں ، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے کہا : ’’ کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں ۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے ۔ تو وہ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں ۔ ‘ ‘ ( علی ) ابن حجر نے اپنی حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور ( أحدثوا بعدك کی جگہ ) أحدث بعدك ’’اس نے نئی بات نکالی ‘ ‘ کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِغْفَاءَةً . بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ " . وَلَمْ يَذْكُرْ " آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ " .
ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، ( آگے ) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے ، البتہ انہوں ( ابن فضیل ) نے یہ الفاظ کہے : ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ نہیں کہا : ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى، لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ، وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ - وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ - ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ .
ہمام نے کہا : ہمیں محمد بن جحادہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عبد الجبار بن وائل نے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل اور ان کے آزادہ کردہ غلام سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان کے والد حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا ، آپ نے نماز میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، تکبیر کہی ( ہمام نے بیان کیا : کانوں کے برابر بلند کیے ) پھر اپنا کپڑا اوڑھ لیا ( دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر لے گئے ) ، پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر انہیں بلند کیا ، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا ، پھر جب سمع الله لمن حمده کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلاَةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ . فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ " إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ " .
۔ جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ " ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ " .
(جریر کے بجائے ) شعبہ نے منصور سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور انہوں ( شعبہ ) نے ’’پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ‘ ‘ ( کے کلمات ) بیان نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ " ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ " .
منصور کے ایک اور شاگرد زائدہ نے ان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( جریر اور شعبہ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، لیکن آخری کلمات میں ماشاء ( جو چاہے ) کی جگہ ما أحب ( جو پسند کرے ) کے الفاظ کہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَقَالَ " ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ " .
اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب ہم نماز میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے .... ( آگے ) منصور کی حدیث کی طرح ( ہے ) اور کہا : ’’ اس کے بعد دعا کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ . وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا .
۔ عبد اللہ بن سخبرہ نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے مجھے تشہد سکھایا ، میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی ، ( بالکل اسی طرح ) جیسے آپ مجھے قرآنی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور انہوں نے ( ابن سخبرہ ) نے تشہد اسی طرح بیان کیا جس طرح سابقہ راویوں نے بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ .
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ .
عبد الرحمن بن حمید نے کہا : مجھے ابو زبیر نے طاؤس کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلاَةً فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أُقِرَّتِ الصَّلاَةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ - قَالَ - فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلاَةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ . فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلاَتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ . يُجِبْكُمُ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ . وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ . وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ قَتَادَةَ مِنَ الزِّيَادَةِ " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ " فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . إِلاَّ فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مُسْلِمٌ تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا . فَقَالَ هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ . فَقَالَ لِمَ لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا قَالَ لَيْسَ كُلُّ شَىْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا . إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ .
ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی ، ان سب ( ابن ابی عروبہ ، ہشام اور سلیمان ) نے قتادہ سے اسی ( سابقہ ) حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو ۔ ‘ ‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ۔ ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ابو اسحاق نے کہا : ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا : آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث؟ پھر ( ابو بکر نے ) کہا : وہ صحیح ہے ، یعنی ( یہ اضافہ کہ ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ۔ امام مسلم نے ( جوابا ) کہا : وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے ۔ تو ابو بکر نے کہا : آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا ( درج کیا ) ؟ ( امام مسلم نے جواباً ) کہا : ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے ، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا ۔ یہاں میں نے صرف ان ( احادیث ) کو رکھا جن ( کی صحت ) پر انہوں ( محدثین ) نے اتفاق کیا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " .
قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : ’’چنانچہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فیصلہ کر دیا : ( کہ ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ( قال کے بجائے قضى کالفظ روایت کیا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ - أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُولُوا " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . وَالسَّلاَمُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ " .
نعیم بن عبد اللہ مجمر سے روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید انصاری نے ( محمد کے والد عبد اللہ بن زید وہی ہیں جن کو نماز کے لیے اذان خواب میں دکھائی گئی تھی ) انہیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ انہوں نے کہا : ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، چنانچہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے کہا : اس پر رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا ، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت فرمائی ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے سب جہانوں میں برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے اور سلام اسی طرح ہے جیسے تم ( پہلے ) جان چکے ہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حَکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : ہم تو جان چکے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، ( یہ بتائیں ) ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! محمد اور محمد کی آل پر رحمت فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ، عظمتوں والا ہے ۔ اے اللہ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکت نازل فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکت نازل فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ مِسْعَرٍ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً
۔ وکیع نے شعبہ اور مسعر سے اسی سند کے ساتھ حکم سے اسی کی مانند روایت کی اور مسعر کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَعَنْ مِسْعَرٍ، وَعَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ " . وَلَمْ يَقُلِ اللَّهُمَّ .
اسماعیل بن زکریا نے اعمش ، مسعر اور مالک بن مغول سے روایت کی اور ان سب نے حکم سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ، البتہ اسماعیل نے کہا : وبارك على محمد اور ( اس سے پہلے ) اللهم نہیں کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
عمرو بن سلیم نے کہا : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں ( صحابہ ) نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح