دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 137) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا كَرْمٌ ‏.‏ فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏
سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہو ، کیونکہ ( حقیقت میں ) کرم مو من کا دل ہو تا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ‏"‏ ‏.‏
ہشا م نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر مایا : " ( ا انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم ( اصل میں ) مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمُ ‏.‏ فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مو من کا دل ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ ‏.‏ إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ئیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں یہ بھی تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص انگور اور اس کی بیل کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ، بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا الْكَرْمُ ‏.‏ وَلَكِنْ قُولُوا الْحَبَلَةُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْعِنَبَ ‏.‏
عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے ، انھوں نے سماک بن حرب سے ، انھوں نے علقمہ بن وائل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہا کرو ۔ لیکن حبلہ کہہ لو ۔ " آپ کی مراد انگور سے تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا الْكَرْمُ ‏.‏ وَلَكِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبَلَةُ ‏"‏ ‏.‏
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي ‏.‏ كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلاَمِي وَجَارِيَتِي وَفَتَاىَ وَفَتَاتِي ‏"‏ ‏.‏
لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي ‏.‏ فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَاىَ ‏.‏ وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّي ‏.‏ وَلَكِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي ‏"‏ ‏.‏
جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے ۔ "" حدیث نمبر5876 ۔ ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ "" غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ "" ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ "" کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا ‏"‏ وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلاَىَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ‏"‏ فَإِنَّ مَوْلاَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ ‏.‏ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي ‏.‏ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَىَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي ‏.‏ وَلْيَقُلْ فَتَاىَ فَتَاتِي غُلاَمِي ‏"‏ ‏.‏
ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ‏.‏ وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ لَكِنْ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ۔ ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ‏.‏ وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏
ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٍ مُطْبَقٍ ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ فَلَمْ يَعْرِفُوهَا فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ ‏.‏
ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَالْمُسْتَمِرِّ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ ‏.‏
یزید بن ہارون نے شعبہ سے ، انھوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے ابو نضر ہ کو سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرا ئیل کی ایک عورت کا ذکر کیا ، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھرلی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبوہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلاَ يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ ‏"‏ ‏.‏
عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص کو ریحان ( خوشبو دار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھا نے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالأَلُوَّةِ غَيْرِ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
نافع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عودکا دھواں لیتے ، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو تی اور کافور کا دھواں لیتے ۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے ، پھر بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے ( اور کپڑوں میں بساتے ) تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ ‏"‏ هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ ‏"‏ هِيهِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ قَالَ ‏"‏ إِنْ كَادَ لَيُسْلِمُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ ‏"‏ فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ ‏"‏ ‏.‏
معتمر بن سلیمان اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی سے ، انھوں نے عمروبن شریدسے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرما یا ، ابرا ہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا " قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا ۔ " اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے : " وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہو نے کے قریب تھا ۔ " ( اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جَمِيعًا عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ‏"‏ ‏.‏
شریک نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے : " سن رکھو !اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " ( دوسرا مصرع ہے : وكلُّ نعيمٍ لا مَحالة َ زائِلُ " اور ہر نعمت لا زمی طور پر زائل ہو نے والی ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏ ‏.‏
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بھی شاعرکا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے ۔ " سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جا تا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " شاعروں کے کلا م میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے ۔ " سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ‏"‏ ‏.‏ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏
اسرائیل نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سےروایت کی ، ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " انھوں ( اسرائیل ) نے اس پر کو ئی اضافہ نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ إِلاَّ أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ ‏"‏ يَرِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا ہمیں حفص اور ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابو معاویہ اور حفص ) نے اعمش سے روایت کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی انسا ن کے پیٹ میں پیپ بھر جا نا جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ، شعر کے ساتھ بھر جا نے کی نسبت بہتر ہے ۔ " ابو بکر نے کہا : مگر حفص نے " يَريهِ " ( جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ) کے الفا ظ روایت نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جا ئے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جا ئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ يُحَنِّسَ، مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ " عرج " کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شیطان کو پکڑو ، یا ( فرما یا ) شیطان کوروکو ، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جا نا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ، مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص نے چوسر کھیلی تو گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گو شت سے رنگ لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لاَ أُزَمَّلُ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
عمرو ناقد ، اسحٰق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر ، سب نے ابن عیینہ سے روایت کی ، الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ، کہا : ہمیں سفیان نے زہریسے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : میں خواب دیکھتا تھا اور اس سے بخار اور کپکپی جیسی کیفیت میں مبتلا ہو جا تا تھا ، بس میں چادرنہیں اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور انھیں یہ بات بتا ئی تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ نے فر مارہے تھے : " ( سچا ) خواب اللہ کی طرف سے ہے اور ( برا ) خواب شیطان کی طرف سے ، تم میں سے کو ئی شخص جب ایسا خواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور ( جو اس نے دیکھا ) اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَعَبْدِ رَبِّهِ وَيَحْيَى ابْنَىْ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لاَ أُزَمَّلُ ‏.‏
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبد الرحمٰن سعید کے دوبیٹوں عبد ربہ اور یحییٰ اور محمد بن عمرو بن علقمہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، ان سب نے اپنی حدیث میں ابو سلمہ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا : "" میں خواب دیکھتا تھا جس سے مجھ پر بخار اور کپکپی طاری ہو جا تی تھی مگر میں چادر نہیں اوراوڑھتا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَى مِنْهَا ‏.‏ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ ‏ "‏ فَلْيَبْصُقْ عَلَى يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
یو نس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفا ظ نہیں ہیں : " اس سے میں بخار اور کپکپی میں مبتلا ہو جا تا تھا ۔ " یونس کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں : " وہ جب نیند سے بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَىَّ مِنْ جَبَلٍ فَمَا هُوَ إِلاَّ أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَمَا أُبَالِيهَا ‏.‏
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے کہا : میں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہوئے سنا ، " ( سچا ) خواب اللہ کی جانب سے ہے اور ( برا ) خواب شیطا ن کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کو ئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو وہ اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اس ( خواب ) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگےتو وہ خواب اسے ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکے گا ۔ " تو ( ابو سلمہ نے ) کہا : بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو تا تھا ، پھر یہی ہوا کہ میں نے یہ حدیث سنی تو اب میں اس کی پروانہیں کرتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَإِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ ‏ "‏ وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
قتیبہ اور محمد بن رمح نے لیث بن سعد سے روایت کی ، محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبد لواہاب ثقفی نے حدیث بیان کی ، ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ان سب ( لیث عبدالوہاب ثقفی ٰاور عبد اللہ بن نمیر ) نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، ثقفیٰ کی روایت میں ہے کہ ابو سلمہ نے کہا : میں خواب دیکھا کرتا تھا ۔ لیث اور ابن نمیر کی روایت میں حدیث کے آخر تک ابو سلمہ کا جو قول ( منقول ) ہے وہ موجود نہیں ، ابن رمح نے اس حدیث کی روایت میں مزید یہ کہا : ہے : " وہ جس کروٹ پر لیٹا ہواتھا اس سے دوسری کروٹ ہو جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا السَّوْءُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا فَلْيَنْفِثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ لاَ تَضُرُّهُ وَلاَ يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا فَإِنْ رَأَى رُؤْيَا حَسَنَةً فَلْيُبْشِرْ وَلاَ يُخْبِرْ إِلاَّ مَنْ يُحِبُّ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن حارث نے عبد ربہ بن سعید سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " اچھا خواب اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ہے ، اور برا خواب شیطان کی جانب سے ہے ، جس شخص نے کو ئی خواب دیکھا اور اس میں سے کو ئی چیز اس کو بری لگی تو وہ ( تین بار ) اپنی بائیں جانب تھوکے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ خواب اس کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا اور یہ خواب وہ کسی کو بیان نہ کرے ۔ اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہو اورصرف اس کو بتا ئے جو اس سے محبت کرتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي - قَالَ - فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَقَالَ وَأَنَا كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلاَ يُحَدِّثُ بِهَا إِلاَّ مَنْ يُحِبُّ وَإِنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتْفِلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : بعض اوقات میں ایسا خواب دیکھتا تھا جس سے میں بیمار پڑجاتا تھا ، یہاں تک کہ میری حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا قات ہو ئی تو انھوں نے کہا : میں بھی بعض اوقات خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہو ئے سنا ، " اچھا خواب اللہ کی جانب سے ہو تا ہے ، جب تم میں سے کو ئی شخص اچھا خواب دیکھےتو وہ صرف اس شخص کو بتا ئے جو ( اس سے ) محبت کرتا ہو اور اگر ناپسندیدہ خواب دیکھےتو تین بار اپنی بائیں جا نب تھوکےاور تین بار شیطان اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور وہ خواب کسی کو نہ بتا ئے تو وہ اسے کو ئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاَثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاَثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور جس کروٹ لیٹا ہوا تھا اسے بدل لے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلاَثَةٌ فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ‏"‏ ‏.‏ فَلاَ أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ ‏.‏
عبد الو ہاب ثقفیٰ نے ایوب سختیانی سے ، انھوں نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " ( قیامت کا ) زمانہ قریب آجا ئے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا ۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے ۔ ۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک ( پنتالیسواں ) حصہ ہے خواب تین طرح کے ہو تے ہیں ۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہو تی ہے ۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے ۔ ( اس کے اپنے تخیل کی کا ر فرما ئی ہو تی ہے ۔ ) اگر تم میں سے کو ئی شخص ناپسندیدہ سخواب دیکھے تو کھڑا ہو جا ئے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتا ئے ۔ " فرما یا : " ( پاؤں کی ) بیڑی خواب میں دیکھنا ) مجھے پسند ہے اور گلے کا ) طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کی علامت ) ہے ۔ " ( ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہو ئے کہا : ) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث ( نبوی ) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ‏.‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏"‏ ‏.‏
معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور حدیث میں کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو مجھے بیڑی ( خواب میں دیکھنی ) اچھی لگتی ہے ۔ اور طوق ناپسند ہے ۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی ( کو طاہر کرتی ) ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کا ( سچا ) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ( چھیا لیسواں ) حصہ ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایو ب اور ہشام نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب ( قیامت کا ) زمانہ قریب آجا ئے گا ۔ اور حدیث بیان کی اور ( محمد بن سیرین نے ) اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوف روایت بیان کی ،)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح