صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues
۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 142) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ، الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ - قَالَ - وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ .
علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سر اور داڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی داڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے ، کچھ سفیدی تھی ، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
عبدالصمد نے مثنیٰ ( بن سعید ) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَمِعَ أَبَا إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا شَانَهُ اللَّهُ بِبَيْضَاءَ .
خلید بن جعفر نے ابو ایاس سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کے ساتھ آپ کے جمال میں کمی نہیں کی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءَ وَوَضَعَ زُهَيْرٌ بَعْضَ أَصَابِعِهِ عَلَى عَنْفَقَتِهِ قِيلَ لَهُ مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبْرِي النَّبْلَ وَأَرِيشُهَا .
زہیر نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ کی اس جگہ پر سفیدی تھی ، زہیر نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے اپنے بالوں پر انگلی رکھ دی ، ان ( ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہاگیا : ان دنوں آپ ( حاضرین میں سے ) کس کی طرح ( کس عمرکے ) تھے ( آپ سب سے چھوٹے ہوں گے؟ ) انھوں نے کہا : میں تیروں کے پیکان اور ان کے پر لگاتا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبْيَضَ قَدْ شَابَ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ .
محمد بن فضیل نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا ، آپ گورے تھے ، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے مشابہت رکھتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، بِهَذَا وَلَمْ يَقُولُوا أَبْيَضَ قَدْ شَابَ .
سفیان ، خالد بن عبداللہ اورمحمد بن بشر ، سب نےاسماعیل سے ، انھوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان سب نے یہ نہیں کہا : آپ گورے تھے ، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ، بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ شَىْءٌ وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْ رُئِيَ مِنْهُ .
سماک بن حرب نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق سوال کیاگیاتھا ، انھوں نےکہا : جب آپ سر مبارک کو تیل لگاتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تونظر آتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لاَ بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ .
اسرائیل نے سماک سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی بہت گھنی تھی ۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح اور گول تھا اور میں نے نبوت کی مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ رَأَيْتُ خَاتِمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ .
شعبہ نے سماک سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پرمہر نبوت دیکھی ، جیسے وہ کبوتری کا انڈا ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
حسن بن صالح نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ . فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتِمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ .
جعد بن عبدالرحمان نے کہا : میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھانجا بہت بیمار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی ۔ پھر وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو مجھے آپ کے د ونوں کندھوں کے درمیان آپ کی مہر ( نبوت ) مسہری کے لٹو کی طرح نظر آئی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا - أَوْ قَالَ ثَرِيدًا - قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَكَ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ { وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} قَالَ ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيلاَنٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ .
عاصم احول نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا اور میں نے آپ کے ساتھ روٹی اورگوشت یا کہا : ثریدکھایاتھا ، ( عاصم نے ) کہا : میں نے ان ( عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے لئے دعائے مغفرت کی تھی ، انھوں نے کہا : ہاں ، اورتمھارے لئے بھی ، پھر یہ آیت پڑھی ، "" اور اپنے گناہ کے لئے استغفار کیجئے اور ایماندار مردون اور ایماندار عورتوں کے لئے بھی ۔ "" کہا : پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے ہواتو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ، آپ کے بائیں شانے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح ، اس پر خال ( تل ) تھے جس طرح جلد پر آغاز شباب کے کالے نشان ہوتے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالأَبْيَضِ الأَمْهَقِ وَلاَ بِالآدَمِ وَلاَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلاَ بِالسَّبِطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ .
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےان ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت درازقد تھے نہ پستہ قامت ، بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی ، نہ سخت گھنگرالے بال تھے اور بہ بالکل سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آ پ کو چالیس سال کی عمر میں بعثت سے نوازا ، آپ دس سال مکہ مکرمہ میں رہے ، اور دس سال مدینہ میں ، اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال ( سے کچھ زائد ) عمر میں آپ کو وفات دی جبکہ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ، بِلاَلٍ كِلاَهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِمَا كَانَ أَزْهَرَ .
اسماعیل بن جعفر اور سلیمان بن بلال دونوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے مانندحدیث بیان کی اور ان دونوں نےاپنی حدیث میں مذید بیان کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، بْنُ زَائِدَةَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
زبیر بن عدی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ ( 63 ) سال کے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( فوت ہوئے ) اور وہ تریسٹھ سال کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی شہادت ہوئی ) اور وہ تریسٹھ سال کے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً . وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بِمِثْلِ ذَلِكَ .
عقل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ63 سال کے تھے ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح بتایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ .
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے دونوں سندوں سے عقیل کی حدیث کے مانند ( بیان کیا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ قُلْتُ لِعُرْوَةَ كَمْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًا . قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ ثَلاَثَ عَشْرَةَ .
ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم ہذلی نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو ( بن دینار ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عروہ سے پوچھا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بعثت کے بعد ) مکہ میں کتنا عرصہ رہے؟انھوں نے کہا : دس ( سال ۔ ) انھوں ( عمرو ) نے کہا : میں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرہ ( سال ) کہتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ قُلْتُ لِعُرْوَةَ كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًا . قُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بِضْعَ عَشْرَةَ . قَالَ فَغَفَّرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ .
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عروہ سے پوچھا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بعثت کے بعد ) مکہ میں کتنے سال رہے؟انھوں نے کہا : دس ( سال ۔ ) کہا : میں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو دس ( سال ۔ ) سے کچھ زائد بتاتے ہیں ۔ انھوں ( عمرو بن دینار ) نے کہا : توانھوں ( عروہ رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا : اللہ ان کی مغفرت کرے!اور کہا : انھوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے ، آپ کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم 63 سال کے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً .
ابو جمرہ ضبعی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجی جاتی تھی اور مدینہ میں دس سال رہ ، آپ کی وفات ہوئی اور آپ تریسٹھ سال کے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَكْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
اسلام ابواحوص نے ابو اسحاق سے روایت کی ، کہا : میں عبداللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہواتھا تو ( وہاں بیٹھےہوئے ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے بارے میں بات کی ۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑ ے تھے عبداللہ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ سال کے تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاانتقال ہوا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ۔ کہا : ان لوگوں میں سے ایک شخص نے ، جنھیں عامر بن سعد کہا جاتاتھا ، کہا : ہمیں جریر ( بن عبداللہ بن جابر بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیاتو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ برس کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے اور وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ فَقَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سےسنا ، وہ عامر بن سعد بجلی سے حدیث روایت کررہے تھے ، انھوں نے جریر سے روایت کی ، انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانتقال ہوا تو آپ تریسٹھ برس کے تھے اور ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بھی اتنی ہی عمر کے ہوئے ) اوراب میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَكَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَاكَ - قَالَ - قُلْتُ إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَىَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ . قَالَ أَتَحْسُبُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ .
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں یونس ب عبید نے بنو ہاشم کے آزادکردہ غلام عمار سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی عمر مبارک ) کے کتنے سال گزرے تھے؟انھوں نے کہا : میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم جیسے شخص پر ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی قوم سے ( متعلق ) تھا ، یہ بات مخفی ہوگی ۔ کہا : میں نے عرض کی : میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں سوال کیا تو میرے سامنے ان لوگوں نے باہم اختلاف کیا ۔ تو مجھے اچھامعلوم ہوا کہ میں اس کے بارے میں آپ کا قول معلوم کروں ، انھوں نے کہا : تم حساب کرسکتے ہو؟کہا : میں نے عرض کی : جی ہاں ، انھوں نے کہا : ( پہلے ) تو چالیس لو ، جب آپ کو مبعوث کیا گیا ، ( پھر ) پندرہ سال مکہ میں ، کبھی امن میں اور کبھی خوف میں دس سال مدینہ کی طرف ہجرت سے ( لے کر جمع کرلو ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ .
شعبہ نے یونس سے اسی سند کے ساتھ یزید بن زریع کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمارنے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پینسٹھ برس کے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
ابن علیہ نے خالد سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلاَ يَرَى شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا .
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابی عمار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ برس تک آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے سات برس تک ، لیکن کوئی صورت نہیں دیکھتے تھے پھر آٹھ برس تک وحی آیا کرتی تھی اور دس برس تک مدینہ میں رہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ مُحَمَّدَ، بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ " . وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيُّ .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ( مٹانے والا ) ہوں ، میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر مٹادے گا ، میں حاشر ( جمع کرنے والا ) ہوں ، لوگوں کو میرے پیچھے حشر کے میدان میں لایاجائےگا اور میں عاقب ( آخر میں آنے والا ) ہوں اور عاقب وہ ہوتاہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَىَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ " . وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَءُوفًا رَحِيمًا .
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم سے ، انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ۔ اور میں حاشر ہوں ، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لئے اکٹھے ہوں گے ۔ اور میں عاقب ہوں ، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا ( بہت نرم اور بہت مہربان ) ( صلی اللہ علیہ وسلم)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ . وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْكَفَرَةَ . وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْكُفْرَ .
عقیل ، معمر اور شعیب ، سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، شعیب اور معمر کی حدیث میں ( حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ) یہ الفاظ ( منقول ) ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ معمرکی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے زہری سے کہا : عاقب ( سے مراد ) کیا ہے؟انھوں نے کہا : جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ، معمر اورعقیل کی حدیث میں ہے : کافروں کو ( مٹادے گا ) اورشعیب کی حدیث میں ہے : کفر کو ( مٹادے گا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ " أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور احمد اور مقفی ( آخر میں آنے والا ہوں ) اور حاشر اور نبی التوبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کثیر خلقت توبہ کرے گی ) اور نبی الرحمۃ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انسان بہت سی نعمتوں سے نوازے جائیں گے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ " مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو ضحیٰ ( مسلم ) سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں بعض کو یہ خبر پہنچی ، انھوں نے گویا کہ اس ( رخصت اور اجازت ) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ۔ ؛ " ان لوگوں کا کیاحال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انھوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا ۔ اللہ کی قسم!میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اوراس ( اللہ ) کی خشیت میں ان سب سےبڑھ کر ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
حفص بن غیاث اورعیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ . يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ { فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا}
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں ( برساتی نالیوں ) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے ۔ انصاری کہتا تھا : پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے ، انھوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کونرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان ) سے کہا : " تم ( جلدی سے اپنے باغ کو ) پلاکر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کردو ۔ " انصاری غضبناک ہوگیا اورکہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس لئے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے ۔ ( صدمے سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کارنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : " زبیر! ( باغ کو ) پانی دو ، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے " زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت : " نہیں!آپ کےرب کی قسم !وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے " اسی ( واقعے ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالاَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلاَفُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ " .
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا ، "" میں جس کام سے تمھیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کا م کا حکم دوں ، اپنی استطاعت کے مطا بق اس کو کرو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہ السلام سے اختلا ف نے ہلا ک کردیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، - وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ - أَخْبَرَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً .
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كُلُّهُمْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ " . وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ " مَا تُرِكْتُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ابو صالح ، اعرج ، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ ، سب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ( آپ نے فرمایا : ) " جب تک میں تمھیں چھوڑ رکھوں ( کو ئی حکم نہ دوں ) تم بھی مجھے چھوڑ ے رکھو ( خواہ مخواہ کے سوال مت کرو ) " اور ہمام کی حدیث میں ہے ۔ " جب تک تمھیں چھوڑ دیا جا ئے ، کیونکہ وہ لو گ جو تم سے پہلے تھے ( کثرت سوال سے ) ہلا ک ہو گئے ۔ پھر انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح ( آگے ) بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ، سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَىْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " .
ابرا ہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عامر بن سعد سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارےمیں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرا م کر دیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح