دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 27) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ ‏.‏
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ‏.‏ بِنَحْوِهِ ‏.‏
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاَةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ‏"‏ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلاَمُ فِي النَّاسِ ‏.‏ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‏.‏
عمرو بن سوّاد عامری اور حرملہ بن یحییٰ دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے یونس نےخبر دی کہ انھیں ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز خوب اندھیرا ہونے تک مؤخر فرمائی اور اسی نماز کو عتمہ ( گہری تاریکی کے وقت کی نماز ) کہا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ ( اس وقت تک ) گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( مسجد میں آنے والی ) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور نکل کر مسجد کے حاضرین سے فرمایا : ’’اہل زمین میں سے تمھارے سوا اس نماز کا اور کوئی بھی انتظار نہیں کررہا ‘ ‘ اور یہ لوگوں میں ( مدینہ سے باہر ) اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے ۔ حرملہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھارے لیے مناسب نہ تھا کہ تم اللہ کے رسول ﷺ سے نماز کے لیے اصرار کرتے ۔ ‘ ‘ یہ تب ہوا جب عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بلند آواز سے پکارا ۔ ( انھوں نے غالباً یہ سمجھا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا سو گئے ہیں)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ وَذُكِرَ لِي ‏.‏ وَمَا بَعْدَهُ ‏.‏
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سنج کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی لیکن اس میں زہر ی کا قول : وذکرلی ( مجھے بتایا گیا ) اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ‏"‏ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏
محمد بن بکر ، حجاج بن محمد اور عبدالرزاق ۔ سب کے الفاظ باہم ملتے جلتے ہیں ۔ سب نے کہا : ابن جریج سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : مجھے مغیرہ بن حکیم نے ام کلثوم بنت ابی بکر سے خبر دی کہ انھوں نے انھیں ( مغیرہ کو ) حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انھوں نے کہا : ایک رات نبی اکرم ﷺ ےعشاء کی نماز میں دیر کر دی یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے ، پھر آپ باہر تشریف لے گئے ، نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ اگر ( مجھے ) یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو یہی اس کا ( بہترین ) وقت ہے ۔ ‘ ‘ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : ’’ اگریہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے مشقت کا سبب بنے گا ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلاَ نَدْرِي أَشَىْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ ‏ "‏ إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلاَةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلاَ أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَصَلَّى ‏.‏
حکم نےنافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک رات ہم عشاء کی آخری نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے ، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا یا اس کے ( بھی ) بعد آپ تشریف لائے ، ہمیں معلوم نہیں کہ آپ کو گھر والوں ( کے معاملے ) میں کسی چیز نے مشغول رکھا تھا یا کوئی اور بات بھی ، جب آپ باہر آئے تو فرمایا : ’’بلا شبہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جسکا تمھارے سوا کسی اور دین کے پیرو کار انتظار نہیں کر رہے ، اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ میری امت کے لیے گراں ہو گا تو میں انھیں اسی گھڑی میں ( یہ ) نماز پڑھایا کرتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا ، اس نے اقامت کہی اور آب نے نماز پڑھائی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے نافع نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہم سے حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ ( کسی بنا پر ) اس ( عشاء کی نماز ) سے مشغول ہو گئے ، آپ نے اسے مؤخر کر دیا یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سو گئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر آپ ( گھر سے ) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’آج رات تمھارے سوا اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو نماز کا انتظار کر رہا ہو ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، ‏.‏ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصَرِ ‏.‏
ثابت سے روایت ہےکہ انھوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے رسول اللہ ﷺ یک مہر ( یا انگوٹھی ) کے بارے میں پوچھا تو ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز آدھی رات تک مؤخر کی یا آدھی رات گزرنےکو تھی ، پھر آپ تشریف لائے اور فرمایا : ’’بلاشبہ ( دوسرے ) لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سوچکے ، اور تم ہو کہ نماز ہی میں ہو جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھے ہو ۔ ‘ ‘ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : جیسے میں ( اب بھی ) آپ کی چاندی سے بنی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انھوں نے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھاتے ہوئے چھوٹی انگلی سے ( اشارہ کیاکہ انگوٹھی اس میں تھی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ نَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ ‏.‏
ابوزید سعید بن ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ہم نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا انتظار کیا حتی کہ آدھی رات کے قریب ( کا وقت ) ہوگیا ، پھر آپ آئے اور نماز پڑھائی ۔ پھر آپ نے ہمارے طرف رخ فرمایا ، ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ، وہ آپ کے ہاتھ میں تھی ، چاندی کی بنی ہوئی تھی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ‏.‏
عبیداللہ بن عبدالمجید حنفی نے قرہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی اور یہ بیان نہ کیا : ’’پھر آپ نے ہمار ی طرف رخ فرمایا ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ، قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولاً فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو مُوسَى فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغُلِ فِي أَمْرِهِ حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلاَةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ ‏"‏ عَلَى رِسْلِكُمْ أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ لاَ نَدْرِي أَىَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں اور میرے ( وہ ) ساتھ ۔ جو میرے ساتھ بڑی کشتی میں ( حبشہ سے واپس ) آئے تھے ۔ بطحان کے نشیبی میدان میں اترے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے اور ہر رات ان میں سے ایک جماعت باری باری عشاء کی نمازمیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یوں اتفاق پیش آیا کہ آپ اپنے کسی معاملے میں ( اتنے ) مشغول ہو گئے کہ آپ نے نماز کو مؤخر کر دیا حتی کہ آدھی رات ہو گئی ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے ناز مکمل کر لی تو ان لوگوں سے جو آپ کے سامنے حاضر تھے ، فرمایا : ’’ذرا ٹھہر و میں تمھیں بتاتا ہوں اور تم خوش ہو جاؤ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ لوگوں میں اس وقت ، تمھارے سوا ، کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا ۔ ‘ ‘ یا آپ نے فرمایا : ’’اس وقت تمھارے سوا کسی نے نماز نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘ ہمیں یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سا جملہ کہا تھا ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے بتایا : ہم رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر خوش خوش واپس آئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَىُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِمَامًا وَخِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ - قَالَ - حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ ثُمَّ صَبَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لاَ يُقَصِّرُ وَلاَ يَبْطِشُ بِشَىْءٍ إِلاَّ كَذَلِكَ ‏.‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ قَالَ لاَ أَدْرِي ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً كَمَا صَلاَّهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَتَئِذٍ فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسَطًا لاَ مُعَجَّلَةً وَلاَ مُؤَخَّرَةً ‏.‏
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ کے نزدیک کون سی گھڑی زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس میں عشاء کی نماز ، جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں ، امام کے ساتھ یا انفرادی طور پر پڑھوں ؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کویہ فرماتے ہوئےسنا : ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں دیر کر دی حتی کہ لوگ سوئے ، پھر بیدار ہوئے ، پھر سوئے اور بیدار ہوئے تو حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے کہا : نماز ! عطاء نے کہا : ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : تو نبی اکرمﷺ نکلے ، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں ، آپ کے سر مبارک سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا تھا اور ( بالوں میں سے پانی نکالنے کے لیے ) آپ نے اپنا ہاتھ سر کے آدھے حصے پر رکھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امت کےلیے مشقت ہو گی تو میں انھیں حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں ۔ ‘ ‘ ( ابن جریج نے ) کہا : میں نے عطاء سے اچھی طرح چوچھا کہ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انھیں کس طرح بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ کس انداز سے اپنے سر پر رکھا تھا ؟ تو عطاء نے میرے سامنے اپنی انگلیاں کسی قدر کھولیں ، پھر اپنی انگلیوں کے کنارے سر کی ایک جانب رکھے ، پھر ان کو دباتے ہوئے اسطرح ان کو سر پر پھیرا یہا ں تک کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے کو چھونے لگا جو چہرے کے قریب ہوتا ہے ، پھر کنپٹی اور داڑھی کے کنارے کو ( چھوا ) بس اس طرح کیا نہ ( دباؤ میں ) کمی کی نہ کسی چیز کو پکڑا ( اور نچوڑا ۔ ) میں نے عطاء سے پوچھا : آب کو کیا بتایا گیا کہ اس رات نبی اکرم ﷺ نے کتنی تخیر کی ؟ انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ۔ عطاء نے کہا : میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہےکہ میں امام ہوں یا اکیلا ، یہ نماز تاخیر سے پڑھوں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے اس رات پڑھی تھی ۔ اگر یہ بات تمھارے لیے انفرادی طور پر با جماعت کی صورت میں لوگوں کےلیے جب تم ان کے امام ہو ، دشواری کا باعث ہو تو اس کو درمیان وقت میں پڑھو ، نہ جلد ی اور نہ مؤخر کرکے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ صَلاَةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ‏.‏
ابواحوص نے سماک سے ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ، کہا : رسول اللہ ﷺ رات کی دوسری نماز تاخیر سے پڑھتے تھے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلاَتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلاَتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ يُخَفِّفُ ‏.‏
قتیبہ بن سعید اور ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نمازیں تمھاری طرح ( اوقات میں ) پڑھتے تھے ، البتہ عشاء مؤخر کرکے تمھاری نماز سے کچھ دیر بعد پڑھتے تھے اور نماز میں تخفیف کرتےتھے ۔ اور ابو کامل کی روایت میں ( یخف فی الصلاۃ کے بجائے ) ’’یخفف کے الفاظ ہیں ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ أَلاَ إِنَّهَا الْعِشَاءُ وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
زہیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عینہ نے ابو لبید سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’تمھاری نماز کے نام پر تمھارے گنوار لوگ غالب نہ آجائیں ، خبردار !یہ عشاء ہے ، وہ اونٹنیوں کا دودھ دوہنے کی وجہ سے اندھیرا کر دیتے ہیں ( اور اندھیرے ( عتمہ ) کی بنا پر اس وقت پڑھی جانے والی نماز کو صلاۃ العتمہ ، یعنی اندھیرے کی نماز کہتےہیں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلاَبِ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
وکیع نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تمھاری صلاۃ عشاء کے نام پر بدوتم پر غالب نہ آجائیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں ا س کا نام عشاء ہے : اور بدو اونٹنیوں کا دودھ دوہنے میں اندھیرا کر دیتے ہیں ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ، كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لاَ يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ ‏.‏
سفیان بین عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سےاور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ مومن عورتیں صبح کی نماز نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتی تھیں ، پھر اپنی چادریں اوڑھے ہوئے واپس آتیں اور ( اندھیرے کی وجہ سے ) کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کچھ مومن عورتیں فجر کی نماز میں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں ، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو رسول اللہ ﷺ کے اندھیرے میں نماز پڑھنے کی بنا پر وپہچانی نہ جا سکتی تھیں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ ‏.‏ وَقَالَ الأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ مُتَلَفِّفَاتٍ ‏.‏
نصر بن علی جہضمی اور اسحاق بن موسیٰ انصاری نے کہا : ہمیں معن نے مالک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایسا تھا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے تو عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے گھروں کو لوٹتیں ، ( اور ) اندھیرےکی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ انصاری کی روایت میں ( متلفعات کے بجائے ) متلففات ( چادروں میں لپٹی ہوئی ) کے الفاظ ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ - قَالَ - كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ ‏.‏
محمد بن جعفر غندر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے اور انھوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ( بن ابی طالب ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : جب حجاج مدینہ منورہ آیا ( اور تاخیر سے نمازیں پڑھنے لگا ) تو ہم نے ( نماز کےاوقات کے بارے میں ) جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نما دوپہر کو ( زوال کے فورا بعد ) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف ( اور روشن ہوتا ) تھا اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے اور عشاء کی نماز کو کبھی مؤخر کرتے اور کبھی جلدی ادا کرتے ، جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے ارو جب انھیں دیکھتے کہ دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے ۔ اور صبح ( کی نماز ) یہ لوگ ۔ ۔ یا کہا : نبی ﷺ اندھیرے میں پڑھتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ‏.‏
معاذ عنبری نے شعبہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حجاج نمازوں میں تاخیر کر دیتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) غندر کی روایت کی طرح ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ، عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ فَقَالَ كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ - قَالَ - سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - قَالَ يَعْنِي الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَلاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ - قَالَ - وَالْمَغْرِبَ لاَ أَدْرِي أَىَّ حِينٍ ذَكَرَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سیار بن سلامہ نے خبر دی ، کہا : میں نے سنا کہ میرے والد ، حضرت ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے پوچھا : کیا آپ نے خود انھیں سنا ؟ انھوں نے کہا : ( اسی طرح ) جیسے میں ابھی تمھیں سن رہا ہوں ، کہا : میں نے سنا ، میرے والد ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انھوں نے بتایا کہ آپ اس ، یعنی عشاء کی نماز کو کچھ ( تقریباً ) آدھی رات تک مؤخر کرنے میں مضائقہ نہ سمجھتے تھے اور اس نماز سے پہلے سونے اور اس کے بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں بعد ازاں ( دوبارہ ) ان سے ملاتو میں نے ان سے ( پھر ) پوچھا تو انھوں ( سیار ) نے کہا : آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان نماز پڑھ کر مدینہ کے دور ترین حصے تک پہنچ جاتا اور سورج ( اسی طرح ) زندہ ( روشن اور گرم ) ہوتا تھا اور انھوں نے کہا : مغرب کے لیے میں نہیں جانتا ، انھوں نے کون سا وقت بتایا تھا ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں اس کے بعد ( پھر ) سیار سے ملا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا : ( آپ ﷺ ) صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ انسان سلام پھیرتا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کے چہرے کو ، جسے وہ جانتا ہوتا ، دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس ( نماز ) میں ساٹھ سے سو تک آیتیں تلاوت فرماتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَكَانَ لاَ يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلاَ الْحَدِيثَ بَعْدَهَا ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ‏.‏
معاذ عنبری نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور انھوں نے سیار بن سلامہ سے روایت کی کہ میں نے ابو برزہ کو کہتے ہوئے سنا ، رسول اللہ عشاء کی نماز میں کچھ ( یعنی ) آدھی رات تک تا خیر کی پروانہ کرتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ شعبہ نے کہا : پھر میں انھیں دوبارہ ملاتو انھوں نے کہا : یا تہائی رات تک ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ ‏.‏
(شعبہ کے بجائے ) حماد بن سلمہ نے ابو منہال ( سیار بن سلامہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےسنا ، کہتے تھےکہ رسول اللہ ﷺ عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتے تھے اور اس سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں سو سے لے کر ساٹھ تک آیتیں تلاوت فرماتے اور ایسے وقت میں سلام پھیرتے تھے جب ہم ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان سکتے تھے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا أَوْ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ ‏"‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ عَنْ وَقْتِهَا ‏.‏
خلف بن ہشام ، ابوربیع زہرانی اور ابو کامل جحدری نے حدیث بیان کی کی ، کہا ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو عمران جونی سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انھوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ’’تمھارا کیا حال ہوگا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کردیں گے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کیگ تو آپ مجھے ( اس کے بارے میں ) کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمھیں ان کے ساتھ ( بھی ) نماز مل جائے تو پڑھ لینا ، وہ تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ۔ ‘ ‘ خلف نےعن وقتھا ( اس کے وقت سے ) کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلاَّ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
جعفر بن سلیمان نے ابو عمران جونس سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : ’’ابو ذر! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو ماردیں گے ( ان کا وقت ختم کردیں گے ) تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ، اگر تم نے نماز وقت پرپڑھ لی تو ( ان کے ساتھ ادا کی گئی دوسری نماز ) تمھارے لیے نفل ہو جائے گی ورنہ تم نے اپنی نماز تو بچا ہی لی ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ‏ "‏ فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ وَإِلاَّ كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ابو عمران سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میرے خلیل نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں سنوں اور فرمانبرداری کروں ، چاہے کٹے ہوئے بازوں والا غلام ( ہی حکمران ) ہو اور یہ کہ میں نماز وقت پر پڑھوں ( آپ ﷺ نے فرمایا : ) ’’پھر اگر تم لوگوں کو اس حالت میں پاؤ کہ انھوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تم اپنی نماز بچا چکے ہو ( وقت پر پہلے پڑھ چکے ہو ) ، اور اگر ( انھوں نے نہیں پڑھی اور تم ان کے ساتھ شریک ہوئے ) تو تمھاری یہ نماز نفل ہو گی ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَضَرَبَ فَخِذِي ‏"‏ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ ‏"‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ ‏"‏ ‏.‏
بدیل سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ابو عالیہ سے سنا ، وہ عبداللہ بن صامت سے اور وہ حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کر رہے تھے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا : ’’تمھارا کیاحال ہو گا جب تم ایسے لوگوں میں اپنی بقیہ زندگی گزار رہے ہو گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیں گے ؟ ‘ ‘ ( عبداللہ بن صامت نے ) کہا : انھوں نے کہا : آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟فرمایا : ’’تم نماز کواس کے وقت پر ادا کرلینا ، اور اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا ، پھر اگر نماز کی اقامت کہی گئی اور تم مسجد میں ہوئے تو ( دوبارہ ) پڑھ لینا ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاَةَ فَجَاءَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ وَقَالَ ‏ "‏ صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلاَ تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلاَ أُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ایوب نے ابو عالیہ برّاء سے روایت کی ، کہا : ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کر دی تو میرے پاس عبداللہ بن صامت تشریف لے آئے ، میں نے ان کے لیے کرسی رکھوا دی ، وہ اس پر بیٹھ گئے ، میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کی حرکت کا تذکرہ کیا تواس پر انھوں نے اپنا ( نچلا ) ہونٹ دانتوں میں دبایا اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا : جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے ، اسی طرح میں نے ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا تھا ، انھوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمھاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا : ’’تم نماز بروقت ادا کرلینا ، پھر اگرتمھیں ان کے ساتھ نماز پڑھنی پڑھ تو ( پھر سے ) نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا : میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لیے اب نہیں پڑھوں گا ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ ‏ "‏ كَيْفَ أَنْتُمْ - أَوْ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ - إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو نعامہ نے عبداللہ بن صامت سےاور انھوں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’تم لوگوں کا کیا حال ہو گا ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تمھاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا ، پھر اگر ( تمھاری موجودگی میں ) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهْوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ - قَالَ - فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِكَ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ صَلُّوا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلاَتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏
مطر نے ابو عالیہ بّراء سے روایت کی ، کہا : میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں ۔ تو انھوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا : میں نے اس کے بارےمیں ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا تو انھوں نے ( بھی ) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا : میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’نماز اس کے وقت پر ادا رکر لو ، پھر ان ( حکمرانوں ) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنالو ۔ ‘ ‘ کہا : عبداللہ نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ( بھی ) ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی ران پر ہاتھ مارا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ‏"‏ ‏.‏
مالک نےابن شہاب ( زہری ) سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت یک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ باجماعت نماز تمھارے اکیلے کی نماز سے پچیس گنا ہ افضل ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ تَفْضُلُ صَلاَةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلاَةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَتَجْتَمِعُ مَلاَئِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا‏}‏
عبدالاعلی نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا اکیلے انسان کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے ۔ ’’آپ نے فرمایا : ’’رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ( جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے ) : ’’ اور فجر کے وقت قرآن پڑھنا بلاشبہ فجر کی قراءت میں حاضری دی جاتی ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا ‏"‏ ‏.‏
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سعیداور ابو سلمہ نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میں نے نبی ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ آگے معمر سے عبدالاعلیٰ کی ( مذکورہ بالا ) حدیث کی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ طرح ہے ، اس کے سوا کہ انھوں نے ( درجے کی بجائے ) ’’پچیس جز ‘ ‘ کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلاَةِ الْفَذِّ ‏"‏ ‏.‏
سلمان اغر نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’باجماعت نماز اکیلے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانٍ مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ فَدَعَاهُ نَافِعٌ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةٌ مَعَ الإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلاَةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن عطاء بن ابی خوار نے خبر دی کہ میں نے نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس اثنا میں ہمارے پاس سے جہنیوں کے آزاد کردہ غلام زید بن زبان کے بہنوئی ابو عبداللہ گزرے ، نافع نے انھیں بلایا ( اور حدیث سنا نے کو کہا ۔ ) انھوں نے کہا : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’امام کے ساتھ ( پڑھی گئی ) نماز ایسی پچیس نمازوں سے افضل ہے جو انسان اکیلے پڑھتا ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
مالک نے نافع سے اورانھوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’با جماعت نماز پڑھنا اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے افضل ہے ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلاَتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏
یحییٰ نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اسکی اکیلے پڑھی گئی ستائیس نمازوں سے بڑھ کر ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، ‏"‏ بِضْعًا وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ نےہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ اور ( محمد بن عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث سنائی ، نیز ابن نمیر نے ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی ، ان دونوں ) ( ابو اسامہ اور ابن نمیر ) نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے اسی سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر نے اپنےوالد سے روایت کردہ حدیث میں بضعا و عشرین ( بیس سے زائد ) کے الفاظ روایت کیے اور ابوبکر بن ابی شبیہ نے اپنی روایت میں ستائیس درجے کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بِضْعًا وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏
ضحاک نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، فرمایا : ’’بیس سے زائد ۔ ‘ ‘
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح