دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 46) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ‏.‏
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن نجاشی فوت ہوئے ، لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ باہر جنازہ گاہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چارتکبیریں کہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ‏.‏
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے اور ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ والے ( حکمران ) نجاشی کی ، جس دن وہ فوت ہوئے ، موت کی خبر دی اور فرمایا : "" اپنے بھائی کے لئے بخشش کی دعاکرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ ان کو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں ان کی صفیں بنوائیں ، نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور اور پر چار تکبیریں کہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، كَرِوَايَةِ عُقَيْلٍ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ‏.‏
صالح نے دونوں سندوں کے ساتھ ابن شہاب سے عقیل ( بن خالد ) کی روایت کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى
سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نمازجنازہ ادا کی تو اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ ‏.‏
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصمحہ فوت ہوگیا ہے ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے ، لہذا تم لوگ اٹھو اور اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھو ۔ " ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر ہم اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ‏"‏ إِنَّ أَخَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏
(زہیر بن حرب ، علی بن حجر ، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ۔ " آپ کی مراد نجاشی سے تھی ۔ اور زہیر کی روایت میں ان اخالكم " تمھارا ایک بھائی " کی بجائے ) ان اخاكم ( تمھارا بھائی ) کےالفاظ ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا قَالَ الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏ قُلْتُ لِعَامِرٍ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔ شیبانی نے کہا : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حدیث کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی ( نئی ) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھی اور انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں ۔ میں نے عامر ( بن شراحیل شعبی ) سے پوچھا : آپ کو ( یہ حدیث ) کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏
ہشیم ، عبدالواحد بن زیاد ، جریر ، سفیان ، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ ‏.‏ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ‏.‏
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ( بھی ) وكبر اربعا ( آپ نے چار تکبیریں کہیں ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ - أَوْ شَابًّا - فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عَنْهَا - أَوْ عَنْهُ - فَقَالُوا مَاتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا - أَوْ أَمْرَهُ - فَقَالَ ‏"‏ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلاَتِي عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ۔ یا ایک نوجوان تھا ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : وہ فوت ہوگیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ " کہا : گویا ان لوگوں نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اس کی قبردکھاؤ ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دیکھائی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر فرمایا : " اہل قبور کے لئے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اورمیری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان ( قبروں ) کو منور فرمادیتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ شُعْبَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُهَا ‏.‏
۔ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا : زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن ارقم ) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، انھوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ، میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) اتنی ( پانچ ) تکبیریں کہا کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہوجاؤیہاں تک کہ وہ تم کو پیچھے چھوڑ دے ( آگے نکل جائے ) یا اسے رکھ دیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ ‏"‏ ‏.‏
لیث اور یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ انھوں ( عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ فرمارہے تھے ۔ ( اسی طرح ) قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جنازے کو دیکھے ، تو اگر وہ جنازے کے ساتھ چل نہیں رہا ، تو کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ ( جنازہ ) اس کو پیچھے چھوڑ دے یا اس کو پیچھے چھوڑنے سے پہلے اس کو رکھ دیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا ‏"‏ ‏.‏
ایوب ، عبیداللہ ، ابن عون اور ابن جریج سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ لیث بن سعد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ابن جریج کی حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی جنازے کو دیکھے تو اگر وہ اس کے پیچھے ( ساتھ ) چلنے والا نہیں ۔ تو اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ اس کو پیچھے چھوڑ جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً فَلاَ تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ ‏"‏ ‏.‏
ابو صالح نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم کسی جنازے کے پیچھے ( ساتھ ) جاؤ تو نہ بیٹھو یہاں تک کہ اس کو رکھ دیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ، هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازے کے پیچھے ( ساتھ ) جائے تو وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اس ( جنازے ) کو رکھ دیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے پھر ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تو ایک یہودی عو رت ( کا جنازہ ) ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " موت خوف اور گھبراہٹ ( کا باعث ) ہے ، پس جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ ‏.‏
محمد بن رافع نےکہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ( نگاہوں سے ) اوجھل ہوگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ ‏.‏
ابن جریج سے روایت ہے ‘ انہوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نےیہ خبر دی کہ انھوں نے حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ( نگاہوں سے ) اوجھل ہوگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، وَسَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، كَانَا بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ‏.‏ فَقَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَلَيْسَتْ نَفْسًا ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِيهِ فَقَالاَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّتْ عَلَيْنَا جَنَازَةٌ ‏.‏
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی کہ حضرت قیس بن سعد اور سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ قادسہ میں ( مقیم ) تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے اس پر ان دونوں سے کہا گیا کہ وہ اسی زمین ( کے ذمی ) لوگوں میں سے ہے تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : یہ تو یہودی ( کا جنازہ ) ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا یہ ایک جان نہیں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، وَسَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، كَانَا بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ‏.‏ فَقَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَلَيْسَتْ نَفْسًا ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِيهِ فَقَالاَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّتْ عَلَيْنَا جَنَازَةٌ ‏.‏
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی کہ حضرت قیس بن سعد اور سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ قادسہ میں ( مقیم ) تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے اس پر ان دونوں سے کہا گیا کہ وہ اسی زمین ( کے ذمی ) لوگوں میں سے ہے تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : یہ تو یہودی ( کا جنازہ ) ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا یہ ایک جان نہیں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ رَآنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَنَحْنُ فِي جَنَازَةٍ قَائِمًا وَقَدْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ فَقَالَ لِي مَا يُقِيمُكَ فَقُلْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ لِمَا يُحَدِّثُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ‏.‏ فَقَالَ نَافِعٌ فَإِنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏
لیث نے یحییٰ بن سعید سے اور انھوں نے واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نافع بن جبیر نے مجھے کھڑے ہونے کی حالت میں دیکھا جبکہ ہم ایک جنازے میں شریک تھے اور وہ خود بیٹھ کر جنازے کو رکھ دیئے جانے کا انتظار کررہے تھے ۔ تو انھوں نے مجھے کہا : تمھیں کس چیز نے کھڑا کررکھا ہے؟میں نے کہا : میں انتظار کررہا ہوں کہ جنازہ رکھ دیا جائے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اسکے بارے میں ) حدیث بیان کرتے ہیں ۔ تو نافع نے کہا : مجھے مسود بن حکم نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابتداء میں جنازوں کے لئے ) کھڑے ہوئے ، پھر ( بعد میں ) بیٹھتے رہے ۔ اور انھوں نے ( نافع ) نے یہ روایت اس لئے بیا ن کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیئے جانے تک کھڑے رہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي وَاقِدُ، بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ فِي شَأْنِ الْجَنَائِزِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏ وَإِنَّمَا حَدَّثَ بِذَلِكَ لأَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ رَأَى وَاقِدَ بْنَ عَمْرٍو قَامَ حَتَّى وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ ‏.‏
(عبد الوھاب ) نےکہا میں نےیحیٰ بن سعید سے سنا ‘ کہا : مجھے واقد بن عمروبن سعدبن معاذ انصاری نے خبر دی کہ نافع بن جبیر نے ان کو خبر دی کہ ان کو مسعود بن حکم انصاری نے بتایا کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سنا ‘ وہ جنازوں کے بارے میں کہتے تھے : ( پہلے ) رسول اللہﷺ کھڑے ہوتے تھے ( بعد میں ) بیٹھے رہتے ۔ اور انہوں ( نافع ) نے یہ روایت اس لیے بیان کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیے جانے تک کھڑے رہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابن ابی زائدہ نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیا ن کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا ‏.‏ يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ ‏.‏
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن منکدر سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے مسعود بن حکم سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے اور آپ بیٹھنے لگے تگو ہم بھی بیٹھنے لگے ، یعنی جنازے میں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
یحییٰ قطان نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا ‏.‏
ابن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے حبیب بن عبید سے خبر دی ، انھوں نے اس حدیث کو جبیر بن نفیر سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں اسے یاد کرلیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" کہا : یہاں تک ہوا کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ یہ میت میں ہوتا! ( معاویہ نے ) کہا : مجھے عبدالرحمان بن جبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حبیب بن عبیدکی ) اسی حدیث کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا ‏.‏
ابن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے حبیب بن عبید سے خبر دی ، انھوں نے اس حدیث کو جبیر بن نفیر سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں اسے یاد کرلیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" کہا : یہاں تک ہوا کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ یہ میت میں ہوتا! ( معاویہ نے ) کہا : مجھے عبدالرحمان بن جبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حبیب بن عبیدکی ) اسی حدیث کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ، صَالِحٍ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ ‏.‏
عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" حضرت عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس میت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی وجہ سے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ، ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلصَّلاَةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا ‏.‏
عبدالوارث بن سعیدنے حسین بن ذکوان سے خبردی ، انھوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پاگئیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ ‏.‏
ابن مبارک ، یزید بن ہارون اور فضل بن موسیٰ سب نے حسین سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت بیان کی اور انھوں نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ أَنَّ هَا هُنَا رِجَالاً هُمْ أَسَنُّ مِنِّي وَقَدْ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حسین ( بن ذکوان ) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( احادیث سن کر ) یاد کیا کر تا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سےبڑے ہیں ، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جوحالت نفاس میں وفات پاگئیں تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے ( حسین نے ) کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا : آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کےلئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، سَمُرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ ‏.‏
مالک بن مغول سے نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بغیرزین کے ) ننگی پشت والا ایک گھوڑا لایاگیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازے سے لوٹے تو اس پر سوار ہوگئے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ( پیدل ) چل رہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْىٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ - أَوْ مُدَلًّى - فِي الْجَنَّةِ لاِبْنِ الدَّحْدَاحِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ شُعْبَةُ ‏"‏ لأَبِي الدَّحْدَاحِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر ننگی پشت والا ( بغیرزین کے ) ایک گھوڑا لایا گیا ، ایک آدمی نے اسے ( پکڑ کر ) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کردلکی چال چلنے لگا ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےپیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے ، کہا : لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا جھکے ہوئے ۔ ۔ ۔ خوشے ہیں! " یا شعبہ نے ( ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے ) " ابو دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کہا :
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ، مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ الْحَدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَىَّ اللَّبِنَ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس بیماری کے دوران میں جس میں وہ فوت ہوگئے تھے ، ( اپنے لواحقین سے ) کہا : میرے لئے لحد تیار کرنا اور میرے اوپر اچھے طریقے سے کچی اینٹیں لگانا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) قبر مبارک ) کے ساتھ کیا گیا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ مَاتَا بِسَرَخْسَ ‏.‏
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی ( بچھائی ) گئی تھی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے ۔ ( ان کا نام سند میں نہیں ) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم ؒ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا ) ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، - فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ - أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ - وَفِي، رِوَايَةِ هَارُونَ - أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ، شُفَىٍّ حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ‏.‏
اثامہ بن شفی نے بیان کیا ، کہا : ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس ( Rhodes ) میں فضالہ بن عبید ( اوسی انصاری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پاگیا ۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابرکردیا گیا ، پھر انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( قبروں ) کو ( زمین کے ) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي، الْهَيَّاجِ الأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلاَّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ وَلاَ صُورَةً إِلاَّ طَمَسْتَهَا ‏.‏
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے ابو الہیاج اسدی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کردینا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح