دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 59) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه ح. وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ ‏.‏ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ ‏.‏
زہیر بن حرب اورابو بکر بن نافع نے ۔ الفاظ انھی کے ہین ۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہاجاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزےرکھنے چھوڑ دیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رضى الله عنهما لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي ‏.‏
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّومِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَتَّى نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولاً فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ - قَالَ - فَكُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا ‏.‏ فَقَالَ إِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَاءُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا ‏.‏ - قَالَ - فَقُلْنَا لاَ بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا ‏.‏ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضى الله عنهما - قَالَ كُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ - قَالَ - فَإِمَّا ذُكِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا - قَالَ - فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ فَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي لَعَلَّكَ يَطُولُ بِكَ عُمْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَصِرْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا كَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا : میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏"‏ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ ‏"‏ نِصْفُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ ‏"‏ وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏ وَلَكِنْ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ‏"‏ ‏.‏
حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : "" ہر مہینے میں تین دن "" کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے : "" تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس ( نیکیاں ) ہیں ۔ ، تو یہ سارے سال کے ( روزے ) ہیں ۔ "" اور ( اس ) حدیث میں کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا : "" آدھا سال ۔ "" اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛ "" تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے "" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے ، اس کی بجائے انھوں نے کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ - وَأَحْسِبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
شیبان نے یحییٰ سے ، انہوں نے بنو زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ۔ ( یحییٰ نے کہا : ) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابو سلمہ سے سنی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیاکرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سات دنوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قِرَاءَةً قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ تَكُنْ بِمِثْلِ فُلاَنٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
اوزاعی نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے ( عمر ) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عبداللہ!فلاں شخص کی طرح نہ ہوجانا وہ رات کوقیام کرتاتھا ، پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَىَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا وَلِنَفْسِكَ حَظًّا وَلأَهْلِكَ حَظًّا ‏.‏ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَاءٌ فَلاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا وہ کہتے تھے کہ ابو عباس نے ان کوخبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہواور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ۔ ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑو آرام بھی کرو ، اور ہردس دن میں سے ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " توپھر داودعلیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !داودعلیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اورجب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اس کی ضمانت کون دےگا ( کہ میری زندگی کا ہردن روزے سے شمار ہوگا؟ ) عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔ تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ ‏.‏
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا کہ ابو عباس الشاعر نے ان کوخبر دی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو عباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں ، ثقہ اورعدول ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَهِكَتْ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو عباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روازانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جا گ جاگ کر ) کمزور ہوجائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تیس دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔ " میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ وَنَفِهَتِ النَّفْسُ ‏"‏ ‏.‏
(مسعر سے روایت ہے ، کہا : ) ہمیں حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کےساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا : " اور ( ہمیشہ روزے رکھنے والے کی ) جان درماندہ ہوجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنَاكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ لِعَيْنِكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلأَهْلِكَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عینیہ نے عمر و سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : " کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ " میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی ۔ اور تمھاری جان کمزورہوجائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کاحق ہے ۔ قیام کرو اورنیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاَةُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ كَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ ) خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سوجاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعدرات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔ "" حدیث نمبر ۔ میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینارسے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے : "" وہ آدھی رات کے بعد رات کاتہائی حصہ قیام کرتے تھے؟ "" انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَحَدَ عَشَرَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو قلابہ ( بن زید بن عامر الجرمی البصری ) نے کہا : مجھے ابوملیح نے خبر دی ، کہا : میں تمھارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو انھوں نے ہمیں حدیث سنائی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کاذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کاایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکہہ میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " کیا تمھیں ہر مہینے میں سے تین دن ( کے روزے ) کافی نہیں؟ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نو ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گیارہ ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی ر وزے نہیں ہیں ، آدھا زمانہ ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏
زیاد بن فیاض سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو عیاض سے سنا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا : " ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جوباقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دودن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین دن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " چاردن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے ، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، - حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ ‏.‏
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کاروزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پرتمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرناضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "" وہ کہا کرتے تھے : کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَىِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ ‏.‏
سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں ( روزے رکھتے تھے؟ ) انہوں نے کہا کہ کچھ پرواہ نہ کرتے ، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ ‏"‏ يَا فُلاَنُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ۔ یاکسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے : ۔ " اےفلاں!کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟ " اس نے جواب دیا نہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تو جب ( رمضان مکمل کرکے ) روزے ترک کروتو ( ہرمہینے ) دو دن کے روزے رکھتے رہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ - رضى الله عنه - غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ‏.‏ فَجَعَلَ عُمَرُ - رضى الله عنه - يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلاَمَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ - أَوْ قَالَ - لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ‏"‏ ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثَلاَثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
حماد نے غیلان سے ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے اورانھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ کے غصے سے اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ، توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر ( مسلسل ) روزہ رکھتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطارکیا ۔ " یا فرمایا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا اس نے افطار نہیں کیا ۔ " کہا : اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاکوئی اس کی طاقت رکھتاہے؟ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور دو دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان ( کے روزوں ) سے ( لے کردوسرے ) رمضان ( کے روزے ) یہ ( عمل ) سارے سال کے روزوں ( کے برابر ) ہے ۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کاروزہ ، میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ صَوْمُ ثَلاَثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نَرَاهُ وَهْمًا ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نارض ہوگئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ۔ ( جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ ) کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔ "" اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی طاقت کون رکھتاہے؟ "" کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔ "" کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ "" کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "" کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔ "" امام مسلمؒ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ‏.‏
معاذ بن معاذ ، شبابہ اورنضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ ( سابق حدیث کے مانند ) روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الاِثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ ‏.‏
ابان عطار نے کہا : ہمیں غیلان بن جریر نے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی مانند حدیث بیا ن کی ، مگر انھوں نے ( اپنی ) اس حدیث میں سوموار کا ذکرکیا ، جمعرات کا ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ غَيْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّرَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَيْنِ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، انھوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بار ے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، - وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ أَوْ لآخَرَ ‏"‏ أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
ثا بت نے مطر ف سے انھوں نے حضرت عمرا ن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ۔ ۔ ۔ یا یا کسی اور آدمی سے ۔ ۔ ۔ فر ما یا : " کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزے رکھے ہیں ؟ " اس نے جواب دیا : نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم روزے ختم کر لو تو دو دن کے روزے رکھنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو علا ء نے مطر ف سے اور انھوں نے حضرت حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے کے دورا ن میں کچھ روزے رکھے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم تمضا ن کے روزے ختم کر لو تو اس کی جگہ دو رازے رکھ لینا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّصلى الله عليه وسلم قَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ هَلْ صُمْتَ مِنْ سِرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي شَعْبَانَ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنا ئی کہا : میں نے مطرف کو حضرت عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبا ن کے وسط ( یا دوران ) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟اس نے جواب دیا : نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرما یا : " جب تم رمضا ن کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا ۔ شعبہ نے ۔ ۔ ۔ جن کو شک ہوا ۔ ۔ کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُؤِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي، مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
نضر نے ہمیں خبر دی ( کہا ) ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبد اللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلاَةُ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
ابو بشر نے حمید بن عبد الرحمان حمیری سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے " محرم " کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - يَرْفَعُهُ قَالَ سُئِلَ أَىُّ الصَّلاَةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ وَأَىُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ ‏ "‏ أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلاَةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے محمد بن منتشر سے انھوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کر رہے تھے ۔ کہا : آپ سے در یافت کیا گیا : فرض نماز کے بعد کو ن سی نماز افضل ہے اور ماہ رمضان کے بعد کو ن سے روزے افضل ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات کی نماز ہے اور رمضا ن کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے ذکر میں اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ، بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں اسما عیل بن جعفر نے حدیث سنا ئی ، ( کہا : ) مجھے سعد بن سعید قیس نے عمر بن ثا بت بن حارث خزعجی سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے ان کو حدیث سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے رمضا ن کے روزے رکھے ۔ پھر اس کے بعد شوال کے چھروزے رکھے تو یہ ( پوراسال ) مسلسل روزے رکھنے کی طرح ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث کے مانند ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
عبد اللہ بن مبا رک نے سعد بن سعید سے روایت کی ، کہا : میں نے عمر بن ثا بت سے سنا ، کہا : میں نے حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ آخری سات راتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو خواب میں لیلۃ القدردکھا ئی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں دیکھتا ہوں کہ تمھا را خواب آخری ساتھ راتوں میں ایک دوسرے کے موافق ہو گیا ہے اب جو اس ( لیلۃالقدر ) کو تلاش کرنا چا ہے وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کردہ مکمل الفا ظ آگے حدیث : 2764میں ہیں)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
۔ عبد اللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فر ما یا : " لیلۃالقدر کو ( رمضان کی ) آخری سات راتوں میں تلا ش کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ رَأَى رَجُلٌ أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرَى رُؤْيَاكُمْ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے ( خواب میں ) دیکھا کہ لیلۃالقدر ستائیسویں رات ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں دیکھ رہا ہوں کہ تمھا را خواب آخری عشرے کے بارے میں ہے تم اس ( لیلۃ القدر ) کو اس ( عشرے ) کی طاق ( راتوں ) میں تلا ش کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ‏ "‏ إِنَّ نَاسًا مِنْكُمْ قَدْ أُرُوا أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الأُوَلِ وَأُرِيَ نَاسٌ مِنْكُمْ أَنَّهَا فِي السَّبْعِ الْغَوَابِرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ ‏"‏ ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر نے خبرد ی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں سنا ، فر مارہے تھے : " تم میں سے کچھ لوگوں کو ( خواب میں ) دکھا یا گیا ہے کہ یہ پہلی ساتھ را توں میں ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو دکھا یا گیا ہے کہ یہ بعد میں آنے والی سات راتوں میں ہے تو تم اس کو بعد میں آنے والی ( آخری ) دس راتوں میں تلاش کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ، - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ - يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ - فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلاَ يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ‏"‏ ‏.‏
عقبہ نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو اگر تم میں سے کو ئی کمزور پڑ جا ئے یا بے بس ہو جا ئے تو وہ باقی کی سات راتوں میں ( کسی صورت سستی کمزوری سے ) مغلوب نہ ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ مُلْتَمِسَهَا فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے جبلہ سے روایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ آپ نے فرما یا : "" جو اس رات کا متلا شی ہو تو وہ اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح