دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 71) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَيْلَكَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ، أَنَسٍ ح. وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏
ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ ‏"‏ ارْكَبْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَإِنْ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَخْنَسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبَدَنَةٍ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ‏"‏ ‏.‏
ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْىِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ‏"‏ ‏.‏
ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا ‏.‏ فَقَالَ لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ ‏.‏ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا - قَالَ - فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَىَّ مِنْهَا قَالَ ‏ "‏ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلاَ تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ ‏.‏
اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَىْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلاَ تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فِي ‏.‏
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ ( حج کے بعد ) ہر سمت میں نکل ( کر چلے ) جا تے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری ( بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت " اور " ( ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ، آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ‏.‏
طاؤس کے بیٹے ( عبد اللہ ) نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضر ی بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے ( وہآخری طواف سے مستثنیٰ ہے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لاَ فَسَلْ فُلاَنَةَ الأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ مَا أَرَاكَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ ‏.‏
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انھوں نے کہا : میں حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری ( طواف ) سے پہلے ( اس کے بغیر ) لو ٹ سکتی ہے ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر ( آپ کو یقین ) نہیں تو فلاں انصار یہ سے پو چھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کا حکم دیا تھا ؟ کہا : اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ - قَالَتْ عَائِشَةُ - فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ‏"‏ ‏.‏
۔ ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سلمہ اور عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے حیض کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا وہ ہمیں ( واپسی سے ) روکنے والی ہیں ؟ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ( طواف افاضہ کے لیے ) گئی تھیں اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا پھر ( طواف ) افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو ئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( پھر ہمارے ساتھ ہی ) کو چ کریں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتْ طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبردی ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حجۃالوداع کے موقع پر طہارت کی حالت میں طواف افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہو گئیں ۔ ۔ ۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں آگے زہری کی حدیث کے ہم معنی ( الفاظ ہیں)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ، صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ - قَالَتْ - فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
افلح نے ہمیں قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی انھوں نے حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم ڈر رہی تھیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے سے پہلے حائضہ نہ ہو جا ئیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور فر ما یا : " کیا صفیہ ہمیں روکنے والی ہیں ؟ہم نے عرض کی وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ نے فر ما یا تو پھر نہیں روکیں گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاخْرُجْنَ ‏"‏ ‏.‏
عمرہ بنت عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شاید ہمیں ( واپسی سے ) روک لیں گی کیا نھوں نے تمھا رے ساتھ بیت اللہ کا طواف ( طواف افاضہ ) نہیں کیا ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں آپ نے فر ما یا تو پھر کو چ کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، - لَعَلَّهُ قَالَ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ‏.‏ فَقَالُوا إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایسا کو ئی کا م چا ہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چا ہتا ہے تو سب ( ازواج ) نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ حائضہ ہیں آپ نے فر ما یا : " تو ( کیا ) یہ ہمیں ( کو چ ) کرنے سے ) روکنے والی ہیں ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انھوں نے قر بانی کے دن طواف زیارت ( طواف افاضہ ) کر لیا تھا آپ نے فر ما یا : " تو وہ بھی تمھارے ساتھ کو چ کر یں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهَا ‏"‏ أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْفِرِي ‏"‏ ‏.‏
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لاَ يَذْكُرَانِ كَئِيبَةً حَزِينَةً ‏.‏
اعمش اور منصور دونوں نے ابر اہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) حکم کی حدیث کے ہم معنی رو ایت ہے البتہ وہ دونوں ( ان کے ) غمزدہ اور پریشان ہو نے کا ذکر نہیں کرتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
امام مالک نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( آپ کے لیے ) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہر ے رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) کیا کیا ؟ انھوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے ۔ ان دنوں بیت اللہ ( کی عمارت ) چھ ستونوں پر ( قائم ) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - قَالَ أَبُو كَامِلٍ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ فَفَتَحَ الْبَابَ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجًا وَبِلاَلٌ عَلَى إِثْرِهِ فَقُلْتُ لِبِلاَلٍ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ أَيْنَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ‏.‏ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے آ پ بیت اللہ کے صحن میں اترے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ چا بی لے کر حاضر ہو ئے اور دروازہ کھو لا کہا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اسامہ بن زید اور عچمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر دا خل ہو ئے آپ نے دروازے کے بارے میں حکم دیا تو اسے بند کر دیا گیا وہ سب خاصی دیر وہاں ٹھہرے پھر انھوں نے ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دروازہ کھو لا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے سب لوگوں سے سبقت کی اور باہر نکلتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فر ما ئی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں میں نے پوچھا کہاں ؟ انھوں نے کہا : دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَقَالَ ‏ "‏ ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُعْطِينِيهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي - قَالَ - فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ ‏.‏ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انھون نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی پر ( سوار ہو کر ) تشر یف لا ئے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھا یا پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور کہا : مجھے ( بیت اللہ کی ) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انھیں چا بی دینے سے انکا ر کر دیا انھوں نے کہا یا تو تم یہ چا بی مجھے دوگی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جا ئے گی ، کہا تو اس نے وہ چابی انھیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چا بی انھی کو دے دی تو انھوں ( ہی ) نے دروازہ کھو لا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ طَوِيلاً ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ ‏.‏ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
عبید اللہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ کے ساتھ اسامہ بلا ل اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے انھوں نے اپنے پیچھے خاصی دیر دروازہ بند کیے رکھا پھر ( دروازہ ) کھو لا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو ( دروازے سے ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کی ؟انھوں نے کہا : آگے کے دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں ادا کی
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَبِلاَلٌ وَأُسَامَةُ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ قَالَ فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا هَا هُنَا ‏.‏ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى
عبد اللہ عون نے ہمیں نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں دا خل ہو چکے تھے عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا ۔ کہا وہ اس میں کا فی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھو لا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا ئے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں دا خل ہوا میں نے پو چھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ں نما زپڑھی ؟ انھوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلاَلاً فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.‏
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا جب انھوں نے دروازہ کھو لا تو میں سب سے پہلا شخص تھا جو ( کعبہ میں ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے پو چھا : کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی ؟ انھوںنے جواب دیا : ہاں آپ نے دو یمنی ستونوں کے در میان نماز ادا کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَخْبَرَنِي بِلاَلٌ أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ.‏
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ( کہا ) مجھے سالم بن عبد اللہ نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ اور کو ئی دا خل نہیں ہوا پھر ان کے پیچھے دروازہ بند کر دیا گیا ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بلال یا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر دو یمنی ستونوں کے در میان نماز ادا کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ‏.‏ قَالَ لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ الْقِبْلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَهُ مَا نَوَاحِيهَا أَفِي زَوَايَاهَا قَالَ بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ‏.‏
ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا : میں نے عطا ء سے پو چھا : کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہے کہ تمھیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس ( بیت اللہ ) میں دا خل ہو نے کا حکم نہیں دیا گیا انھوں نے جواب دیا وہ اس میں دا خل ہو نے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی ۔ یہاںتک کہ باہر آگئے جب آپ تشر یف لا ئے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دورکعتیں ادا کیں اور فر ما یا : " یہ قبلہ ہے میں نے ان سے پو چھا : اس کے اطراف سے کیا مرا د ہے ؟کیا اس کے کو نوں میں؟ انھوں نے کہا : بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ ‏.‏
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے اور اس میں چھ ستون تھے آپ نے ایک ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور ( وہاں ) نماز ادا نہیں کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَدَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ قَالَ لاَ ‏.‏
ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرے کے دوران میں بیت اللہ میں داخل ہو ئے تھے ؟انھوں نے جواب دیا نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْلاَ حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا ‏"‏ ‏.‏
ابو معاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انھوں نے حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " اگر تمھا ری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہو تا تو میں ضرور کعبہ کو گرا تا اور اسے حضرت ابراہیم ؑکی اساس پر استوار کرتا قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا تھا میں ( اصل تعمیر کے مطا بق ) اس کا پچھلا دروازہ بھی بناتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ اسْتِلاَمَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلاَّ أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم نے نہیں دیکھا تمھا ری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں سے کم کر دیا ۔ کہا میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ اسے دوبارہ ابرا ہیمؑ کی بنیا دوں پر نہیں لو ٹا ئیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر تمھا ری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہو تا تو میں ( ضرورایسا ) کرتا ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا ( ہواصل وجہ یہ تھی ) کہ بیت اللہ ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں پر پورا 0تعمیر ) نہیں کیا گیا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ، بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ - أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ - لأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالأَرْضِ وَلأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے عبد اللہ بن ابی بکر ابی قحانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنارہے تھے انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فر ما یا : " اگر تمھا ری قوم جاہلیت ۔ ۔ ۔ یا فر ما یا زمانہ کفر ۔ ۔ ۔ سے ابھی ابھی نہ نکلی ہو تی تو میں ضرورکعبہ کے خزانے اللہ کی را ہ میں خرچ کر دیتا اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور حجر ( حطیم ) کو کعبہ میں شامل کر دیتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدٍ، - يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ - قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، - يَعْنِي عَائِشَةَ - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ ‏"‏ ‏.‏
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ۔ مجھ سے میری خالہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا اگر تمھاری قوم کا شرک کا زمانہ قریب کا نہ ہو تا تو میں ضرور کعبہ کو گرا تا اس ( کے دروازے ) کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور میں اس کے دو دروازے شرقی دروازہ اور دوسرا غربی دروازہ بنا تا اور حجر ( حطیم ) اسے چھ ہاتھ ( کا حصہ ) اس میں شامل کر دیتا ۔ بلا شبہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ - أَوْ يُحَرِّبَهُمْ - عَلَى أَهْلِ الشَّامِ فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَشِيرُوا عَلَىَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْىٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلاَثًا ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي فَلَمَّا مَضَى الثَّلاَثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَىْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الأَرْضَ فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَوْلاَ أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عِنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ - قَالَ - فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشَرَ أَذْرُعٍ وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ وَالآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ ‏.‏ فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَىْءٍ أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ ‏.‏ فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ ‏.‏
عطا ء سے روایت ہے انھوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے ( مکہ پر ) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ( اسی حالت پر ) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے مو سم میں لو گ ( مکہ ) آنے لگے وہ چا ہتے تھے کہ انھیں ہمت دلا ئیں ۔ ۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھا ریں ۔ ۔ ۔ جب لو گ آئے تو انھوں نے کہا اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر ( از سر نو ) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بو سیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں ؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہو ئی ہے میری را ئے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس می مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو ( اسی طرح باقی ) رہنے دیں جس پر لو گ اسلا م لا ئے اور ان پتھروں کو ( باقی چھوڑ دیں ) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو ئی ، اس پر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جا ئے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہو تا جب تک کہ اسے نیا ( نہ ) بنا لے تو تمھا رے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا ۔ جب تین دن گزر گئے تو انھوں نے اپنی را ئے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لو گ ( اس ڈرسے ) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس ( عمارت ) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کو ئی آفت نازل ہو جا ئے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرادیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے ( گرا نے لگے ) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند ( عارضی ) ستون بنا ئے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے سنا بلا شبہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر ( مکمل کرنے ) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ ( زمین ) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک ( ایسا ) دروازہ بنا تا جس سے لوگ اندر داخل ہو تے اور ایک دروازہ ( ایسا بنا تا ) جس سے باہر نکلتے ۔ ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کرسکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں ( عطاء نے ) کہا تو انھوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے ( کھدا ئی کی ) حتیٰ کہ انھوں نے ابرا ہیمی ) بنیا د کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انھوں نے اس پر عمارت بنا ئی کعبہ کا طول ( اونچا ئی ) اٹھا رہ ہاتھ تھی ( یہ اس طرح ہو ئی کہ ) جب انھوں نے ( حطیم کی طرف سے ) اس میں اضافہ کر دیا تو ( پھر ) انھیں ( پہلی اونچا ئی ) کم محسوس ہو ئی چنانچہ انھوں نے اس کی اونچا ئی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر دا خلہ ہو تا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جا تا تھا جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو اطلا ع دیتے ہو ئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تعمیر اس ( ابرا ہیمی ) بنیا دوں پر استورکی جسے اہل مکہ کے معتبر ( عدول ) لوگوں نے ( خود ) دیکھا عبد الملک نے اسے لکھا ۔ ہمارا ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ردو بدل سے کو ئی تعلق نہیں البتہ انھوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے بر قرار رہنے دو اور جو انھوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے ( ختم کر کے ) اس کی سابقہ بنیا د پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انھوں نے کھو لا ہے چنانچہ اس نے اسے گرادیا اس کی ( پچھلی ) بنیاد پر لو ٹا دیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ يُحَدِّثَانِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلاَفَتِهِ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ الْحَارِثُ بَلَى أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا قَالَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ وَلَوْلاَ حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَعَزُّزًا أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ مَنْ أَرَادُوا فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدْعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے عبد اللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی عبد اللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبد اللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبد اللہ ۔ عبد الملک بن مروان کی خلا فت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبد الملک نے کہا : میرا خیال نہیں کہ ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو ۔ حارث نے کہا : کیوں نہیں ! میں نے خود ان ( ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے سنا ہے اس نے کہا : تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں ؟ کہا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما ا : "" بلا شبہ تمھاریقوم نے ( اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شر ک قریب کا نہ ہو تا تو جو انھوں نے چھوڑ اتھا میں اسے دوبارہ بنا تا اور تمھا ری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنا نے کا خیال ہو تو آؤ میں تمھیں دکھا ؤں انھوں نے اس میں سے کیا چھوڑ اتھا پھر آپ نے انھیں ساتھ ہاتھ کے قریب جگہ دکھا ئی ۔ یہ عبد اللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطا ء نے اس میں یہ اضافہ کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اور میں زمین سے لگے ہو ئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بنا تا ۔ اور کیا تو جا نتی ہو تمھا ری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا ؟ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فر ما یا : "" خود کو اونچا دکھا نے کے لیے تا کہ اس ( گھر ) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چا ہیں جب کو ئی آدمی خود اس میں دا خل ہو نا چا ہتا تو وہ اسے ( سیڑھیاں ) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہو نے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جا تا ۔ عبد الملک نے حارث سے کہا : تم نے خود انھیں یہ کہتے ہو ئے سنا ؟انھوں نے کہا : ہاں !کہا : تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا ، پھر کہا : کا ش!میں انھیں ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ) اور جس کا م کی ذمہ داری انھوں نے اٹھا ئی اسے چھوڑ دیتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ ‏.‏
ابو عاصم اور عبد الرزاق دونوں نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( محمد ) بن بکر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي، صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لاَ تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا ‏.‏ قَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ ‏.‏
ابو قزعہ سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان جب بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو اس نے کہا : اللہ ابن زبیر کو ہلا ک کرے کہ وہ ام المومنین پر جھوٹ بو لتا ہے وہ کہتا ہے میں نے انھیں یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا "" اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھا ری قوم کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہو تا تو میں بیت اللہ کو گرا تا حتیٰ کہ اس میں حطیم میں سے ( کچھ حصہ ) بڑھا دیتا بلا شبہ تمھا ری قوم نے اس کی عمارت کو کم کر دیا ہے ۔ اس پر حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ نے کہا : امیر المومنین ایسا نہ کہیے ۔ میں نے خود امیر المو منین سے سنا ہے وہ یہ حدیث بیا ن کر رہی تھیں ۔ ( عبد الملک نے ) کہا اگر میں نے یہ بات اسے گرا نے سے پہلے سن لی ہو تی تو میں اسے اسی طرح چھوڑ دیتا جس طرح ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنا یا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ ‏"‏ فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافَ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
ابو حوص نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں اشعت بن ابو شعثاء نے اسود بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حطیم کی ) دیوار کے بارے میں دریا فت کیا کیا وہ بیت اللہ میں سے ہے ؟آپ ننے فرما یا ہاں ۔ " میں نے عرض کی : تو انھوں نے اسے بیت اللہ میں شامل کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے فر ما یا : " تمھا ری قوم کے پاس خرچ کم پڑگیا تھا ۔ میں نے عرض کی اس کا دروازہ کیوں اونچا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " یہ کا م تمھا ری قوم نے کیا تا کہ جسے چا ہیں اندر دا خل ہو نے دیں اور جسے چاہیں منع کر دیں اگر تمھا ری قوم کا زمانہ جاہلیت کے قریب کا نہ ہو تا اس وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے تو میں اس پر غور کرتا کہ ( حطیم کی ) دیوار کو بیت اللہ میں شامل کردوں اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دوں
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح