دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۳

صحیح مسلم — باب ۴۳The Book of Virtues

۵۷۳۱ احادیث (نمبر ۳۸۴ تا ۶۱۶۸) (صفحہ 92) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ، أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
جریر بن حازم ، یحییٰ بن سعید اور ابن عون ، سب نے نافع سے روایت کی ، لیث کے نافع سے ، ان کی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی طرح ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلاَ الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ ‏"‏ ‏.‏
ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سونے کی سونے کے عوض اور چاندی کی چاندی کے عوض بیع نہ کرو مگر یہ کہ وزن بوزن مثل بمثل ( معیار میں یکساں ) برابر برابر ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ، أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایک دینار کی دو دیناروں کے عوض اور ایک درہم کی دو درہموں کے عوض بیع نہ کرو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَلاَّ وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی اور انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں ( لوگوں کے سامنے ) یہ کہتا ہوا آیا : ( سونے کے عوض ) درہموں کا تبادلہ کون کرے گا؟ تو حجرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ ۔ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ ، پھر ( ذرا ٹھہر کے ) ہمارے پاس آنا ، جب ہمارا خادم آئے گا تو ہم تمہیں تمہاری چاندی ( کے درہم ) دے دیں گے ۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، اللہ کی قسم! تم انہیں چاندی دو یا ان کا سونا انہیں واپس کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : " سونے کے عوض چاندی ( کی بیع ) سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ( دست بدست ) ہو اور گندم کے عوض گندم سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور جو کے عوض جو سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور کھجور کے عوض کھجور سود ہے ، الا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَاءَ أَبُو الأَشْعَثِ قَالَ قَالُوا أَبُو الأَشْعَثِ أَبُو الأَشْعَثِ ‏.‏ فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلاً أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ‏.‏ فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ ‏.‏ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ثُمَّ قَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ - أَوْ قَالَ وَإِنْ رَغِمَ - مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ‏.‏
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے ابوقلابہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں شام میں ایک مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار بھی تھے ، اتنے میں ابواشعث آئے تو لوگوں نے کہا : ابواشعث ، ( آگئے ) میں نے کہا : ( اچھا ) ابو اشعث! وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا : ہمارے بھائی! ہمیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجیے ۔ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے ایک غزوہ لڑا اور لوگوں کے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ انہیں لوگوں کو ملنے والے عطیات ( کے بدلے ) میں فروخت کر دے ۔ ( جب عطیات ملیں گے تو قیمت اس وقت دراہم کی صورت میں لے لی جائے گی ) لوگوں نے ان ( کو خریدنے ) میں جلدی کی ۔ یہ بات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ سونے کے عوض سونے کی ، چاندی کے عوض چاندی کی ، گندم کے عوض گندم کی ، جو کے عوض جو کی ، کھجور کے عوض کھجور کی اور نمک کے عوض نمک کی بیع سے منع فرما رہے تھے ، الا یہ کہ برابر برابر ، نقد بنقد ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا لین دین کیا ۔ ( یہ سن کر ) لوگوں نے جو لیا تھا واپس کر دیا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : سنو! لوگوں کا حال کیا ہے! وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں ، ہم بھی آپ کے پاس حاضر ہوتے اور آپ کے ساتھ رہتے تھے لیکن ہم نے آپ سے وہ ( احادیث ) نہیں سنیں ۔ اس پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا ) سارا واقعہ دہرایا اور کہا : ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں ، خواہ معاویہ رضی اللہ عنہ ناپسند کریں ۔ ۔ یا کہا : خواہ ان کی ناک خاک آلود ہو ۔ ۔ مجھے پروا نہیں کہ میں ان کے لشکر میں ان کے ساتھ ایک سیاہ رات بھی نہ رہوں ۔ حماد نے کہا : یہ ( کہا : ) یا اس کے ہم معنی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
خالد حذاء نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کا لین دین ) مثل بمثل ، یکساں ، برابر برابر اور نقد بنقد ہے ۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
اسماعیل بن مسلم عبدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو ، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہاتھوں ہاتھ ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا ، اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
سلیمان ربعی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابومتوکل ناجی نے حضترت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے ( کی بیع ) برابر مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے ۔ ۔ ۔ " ( آگے ) سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ‏"‏ ‏.‏
فضیل کے بیٹے ( محمد ) نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کے عوض کھجور ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) دست بدست ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا ( لین دین ) کیا ، الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
محاربی نے فضیل بن گزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے " دست بدست " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا‏"‏ ‏.‏
ابن ابی نُعیم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع ہم وزن اور مثل بمثل ( ایک جیسی ) ہے اور چاندی کے عوض چاندی ہم وزن اور مثل بمثل ہے ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو وہ سود ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ مُوسَى، بْنِ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن ہلال نے ہمیں موسیٰ بن ابی تمیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دینار سے دینار کی بیع میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
امام مالک بن انس نے کہا : مجھے موسیٰ بن ابی تمیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي، الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَى الْحَجِّ فَجَاءَ إِلَىَّ فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ هَذَا أَمْرٌ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ قَالَ قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏ فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا ‏"‏ ‏.‏ وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
عمرو ( بن دینار ) نے ابومنہال سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے ایک شریک نے موسم ( حج کے موسم ) تک یا حج تک چاندی ادھار فروخت کی ، وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا تو میں نے کہا : یہ معاملہ درست نہیں ۔ اس نے کہا : میں نے وہ بازار میں فروخت کی ہے اور اسے کسی نے میرے سامنے ناقابل قبول قرار نہیں دیا ۔ اس پر میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا : " جو دست بدست ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہے وہ سود ہے ۔ " زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کا کاروبار مجھ سے وسیع ہے ، چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی کے مانند کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ ‏.‏ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
حبیب سے روایت ہے کہ انہوں نے ابومنہال سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دینار کی درہم سے یا سونے کی چاندی سے بیع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، چنانچہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء سے پوچھو ، وہ زیادہ جاننے والے ہیں ، پھر دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا ‏.‏ قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ ‏.‏
عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
یحییٰ بن ابی کثیر نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہیں عبدالرحمان بن ابی بکرہ نے بتایا کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَىَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلاَدَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏
علی بن رباح لخمی نے کہا : میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جبکہ آپ خیبر میں تھے ، ایک ہار لایا گیا ، اس میں نگینے تھے اور سونا تھا اور وہ ان غنائم میں سے تھا جو فروخت کی جا رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کے بارے میں حکم دیا جو ہار میں تھا ، تو اکیلے اسی کو الگ کر دیا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ( جو لین دین کر رہے تھے ) فرمایا : " سونے کے عوض سونا برابر برابر وزن کا ( خریدو اور بیچو ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ، أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنِ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے ، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا ، اس میں سونا اور نگینے تھے ۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے ، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، يَزِيدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
ابن مبارک نے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْجُلاَحِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏
جلاح ابوکثیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حنش صنعانی نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : خیبر کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم یہود کے ساتھ دو یا تین دیناروں کے عوض ایک اوقیہ سونے کی بیع کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سونے کے عوض سونے کی بیع نہ کرو مگر برابر برابر وزن کے ساتھ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ، وَعَمْرِو، بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلأَصْحَابِي قِلاَدَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
عامر بن یحییٰ معافری نے حنش سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : ہم ایک غزوے میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا ، چاندی اور جواہر تھے ۔ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، چنانچہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اس کا سونا اتار لو اور اسے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو ، پھر برابر برابر کے سوا نہ لو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : " جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ( اس طرح کی بیع میں ) مثل بمثل ( یکساں ) کے سوا ہرگز نہ لے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلاَمَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ‏.‏ فَذَهَبَ الْغُلاَمُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ‏.‏ قِيلَ لَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ ‏.‏
بُسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے گندم کا ایک صاع دے کر اپنا غلام بھیجا اور کہا : اسے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے جو خرید لاؤ ۔ غلام گیا اور ( گندم کے صاع کے عوض ) ایک صاع اور صاع سے کچھ زیادہ ( جو ) لے آیا ، جب وہ معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں یہ بات بتائی ، تو حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم نے یہ کام کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو اور مثل بمثل کے سوا کچھ نہ لو ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتے تھا ، آپ فرماتے تھے : " غلے کے عوض غلے کی بیع مثل بمثل ہے ۔ " کہا : ان دنوں ہماری خوراک جَو کی تھی ۔ ان سے کہا گیا : وہ تو اس ( گندم ) کی مثل نہیں ہے ۔ ( یعنی دو الگ جنسیں ہیں ، اس لیے تفاضل جائز ہے ۔ ) انہوں نے کہا : مجھے خدشہ ہے کہ وہ اس کے مشابہ ہو گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کو بھیجا اور اسے خیبر کا عامل مقرر کیا ، وہ جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ اس نے عرض کی : اللہ کے رسول! واللہ! نہیں ۔ ہم ملی جلی کھجور کے دو صاع کے عوض ( عمدہ کھجور کا ) ایک صاع خریدتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو بلکہ مثل بمثل ( یکساں خریدو بیچو ) یا پھر اسے بیچ دو اور اس کی قیمت سے دوسری قسم خرید لو ، اسی طرح وزن ( کے ذریعے سے لین دین کرنا ہو تو بھی برابر ہونا ضروری ) ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏ ‏.‏
امام مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان بن عوف سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر کو عامل مقرر کیا ، وہ آپ کے پاس جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ " اس نے عرض کی : واللہ! یا رسول اللہ! نہیں ۔ ہم ( ملی جلی کھجور کے ) دو صاع کے عوض اس کا ایک صاع اور تین کے عوض دو صاع لیتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو ، ملی جلی کھجور کو درہموں کے عوض بیچ دو ، پھر درہموں سے جنیب ( عمدہ ) کھجور خرید لو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، يَقُولُ جَاءَ بِلاَلٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ أَيْنَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بِلاَلٌ تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِكَ ‏.‏
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں یحییٰ بن صالح وحاظی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ۔ نیز محمد بن سہیل تمیمی اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے ۔ ۔ الفاظ دونوں کے یہی ہیں ۔ ۔ دونوں نے مجھے یحییٰ بن حسان سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجور لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" یہ کہاں سے لائے ہو؟ "" تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارے پاس ردی کھجور تھی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لیے اُسے دو صاع کے عوض ( اِس کے ) ایک صاع سے بیچ دیا ۔ تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے افسوس ہوا! تو یہ عین سود ہے ، ایسا نہ کرو بلکہ جب تم کھجور خریدنا چاہو تو اسے ( ردی کھجور کو ) دوسری ( نقدی وغیرہ کے عوض کی گئی ) بیع کے ذریعے سے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے ( دوسری قسم ) خرید لو ۔ "" ابن سہل نے اپنی حدیث میں "" اس وقت "" کے الفاظ بیان نہیں کیے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، الْبَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو آپ نے فرمایا : " یہ کھجور ہماری کھجور میں سے نہیں ۔ " اس پر ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے عوض بیچے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سود ہے ، اسے واپس کرو ، پھر ہماری کھجور ( نقدی کے عوض ) فروخت کرو اور ( اس کی قیمت سے ) ہمارے لیے یہ کھجور خریدو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ صَاعَىْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَىْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں ( ہمارے حصے میں ) عام کھجور دی جاتی تھی اور وہ ملی جلی کھجور ہوتی تھی تو ہم اس کے دو صاع کے عوض ایک صاع کا سودا کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : " کھجور کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں ، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں اور نہ ایک درہم دو درہموں کے عوض ( جائز ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَوَقَالَ ذَلِكَ إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلاَ يُفْتِيكُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا - أَوْ فِي تَمْرِنَا - الْعَامَ بَعْضُ الشَّىْءِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لاَ تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَىْءٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ ‏"‏ ‏.‏
سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : کہا یہ دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو خبر دی ، میں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا : کیا دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا تھا : ہاں ، تو انہوں نے کہا تھا : اس میں کوئی حرج نہیں ( انہوں نے ایک ہی جنس کی صورت میں مساوات کی شرط لگائے بغیر اسے علی الاطلاق جائز قرار دیا ۔ ) انہوں ( ابوسعید ) نے کہا : کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تمہیں ( غیر مشروط جواز کا ) یہ فتویٰ نہیں دیں گے ۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے کوئی کھجوریں لے کر آیا تو آپ نے انہیں نہ پہچانا اور فرمایا : " ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری سرزمین کی کھجوروں میں سے نہیں ہیں ۔ " اس نے کہا : اس سال ہماری زمین کی کھجوروں میں ۔ ۔ یا ہماری کھجوروں میں ۔ ۔ کوئی چیز ( خرابی ) تھی ، میں نے یہ ( عمدہ کھجوریں ) لے لیں اور بدلے میں کچھ زیادہ دے دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے دوگنا دیں ، تم نے سود کا لین دین کیا ، اس کے قریب ( بھی ) مت جاؤ ، جب تمہیں اپنی کھجور کے بارے میں کسی چیز ( نقص وغیرہ ) کا شک ہو تو اسے فروخت کرو ، پھر کھجور میں سے تم جو چاہتے ہو ( نقدی کے عوج ) خرید لو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا ‏.‏ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا اللَّوْنَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَّى لَكَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا كَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْلَكَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَىَّ تَمْرٍ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا أَمِ الْفِ��َّةُ بِالْفِضَّةِ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ - قَالَ - فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَكَّةَ فَكَرِهَهُ ‏.‏
داود نے ہمیں ابونضرہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونا چاندی کے تبادلے کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے اس میں کوئی حرج نہ دیکھا ۔ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ان سے اس تبادلے کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : ( ایک ہی جنس کے تبادلے میں ) جو اضافہ ہو گا وہ سود ہے ۔ میں نے ان دونوں کے قول کی بنا پر ( جس میں انہوں نے ایسی کوئی شرط نہ لگائی تھی ) اس بات کا انکار کیا تو انہوں نے کہا : میں تمہیں وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ کے باغ کا نگران آپ کے پاس عمدہ کھجور کا ایک صاع لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجور اس ( عام ) قسم کی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟ "" اس نے کہا : میں ( اس کے ) دو صاع لے کر گیا اور ان کے عوض میں نے یہ ایک صاع خرید لی ، بازار میں اِس کا نرخ اتنا ہے اور اُس کا اتنا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! تم نے سود کا معاملہ کیا ، جب تم یہ ( عمدہ کھجور ) لینا چاہو تو اپنی کھجور کسی ( اور ) تجارتی چیز کے عوض فروخت کر دو ، پھر اپنی چیز سے جو کھجور چاہو ، خرید لو ۔ "" حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا : کھجور کے عوض کھجور ، زیادہ لائق ہے کہ سود ہو ، یا چاندی کے عوض چاندی؟ ( ابونضرہ نے ) کہا : میں اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے اس سے منع کیا اور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں آیا ۔ کہا : مجھے ابوصبہاء نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے مکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی اسے ناپسند کیا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ، عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلاً بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوصالح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم مثل بمثل ہو ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا ، اس نے سود کا معاملہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو اس سے مختلف بات کہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : آپ کی کیا رائے ہے ، یہ جو آپ کہتے ہیں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ تو انہوں نے کہا : نہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی نہ کتاب اللہ میں پائی ، بلکہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سود ادھار میں ہے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ، آپ نے فرمایا : " ( اگر جنسیں مختلف ہوں تو ) سود ادھار میں ہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( مختلف چیزوں کے تبادلے میں ) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي، رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَلاَّ لاَ أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلاَ أَعْلَمُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا : بیع صَرف ( نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے ) کے حوالے سے آپ کی اپنے قول کے بارے میں کیا رائے ہے ، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صؒی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں ( اس میں ) اس بات کو نہیں جانتا ، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا ‏.‏
علقمہ نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کی ۔ کہا : میں نے پوچھا : اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر بھی؟ انہوں نے کہا : ہم صرف وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ ‏.‏
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا : ( گناہ میں ) یہ سب برابر ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ‏ "‏ إِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلاَ وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( شعبی نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ۔ ۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ۔ آپ فرما رہے تھے : " بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی ، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے چرواہا ( جو ) چراگاہ کے اردگرد ( بکریاں ) چراتا ہے ، قریب ہے وہ اس ( چراگاہ ) میں چرنے لگیں ، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے ۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے ، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا ۔ سنو! وہ دل ہے ۔ " ( سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح