صحیح مسلم — باب ۴۵The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
۲۱۸ احادیث (نمبر ۶۵۰۰ تا ۶۷۲۲) (صفحہ 6) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ - قَالَ - فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ . فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ - قَالَ - ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ . وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضْهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضُوهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الأَرْضِ " .
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ .
عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ كُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ . قَالَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ . فَقَالَ بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ .
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، کہا : ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے ، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے ، انہوں نے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا : اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے ، انہوں ( ابوصالح ) نے کہا : تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ ان میں سے جو ایک دوسرے ( کی ایک جیسی صفات ) سے آگاہ ہو گئیں ان میں یکجائی ( الفت ) ہو گئی اور ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ قَالَ " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا وَالأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک حدیث بیان کی ، کہا : " لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں ( ایک جیسی صفات کی بنا پر ) ایک دوسرے کو پہنچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں ، وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَتَى السَّاعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . قَالَ " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ " اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی محبت ۔ آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . فَلَمْ يَذْكُرْ كَبِيرًا . قَالَ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي .
سفیان نے زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیار کی ہے؟ " اس نے زیادہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا ، ( چند ایک کاموں کا ذکر کر سکا ) اس نے کہا : اور لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . فَلَمْ يَذْكُرْ كَبِيرًا . قَالَ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ أَحْمَدُ عَلَيْهِ نَفْسِي .
سفیان نے زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیار کی ہے؟ " اس نے زیادہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا ، ( چند ایک کاموں کا ذکر کر سکا ) اس نے کہا : اور لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ " . قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ .
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : "" تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ "" اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بڑھ کر اور کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی : "" تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں گا ، ہر چند کہ میں نے ان کی طرح عمل نہیں کیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَنَسٍ فَأَنَا أُحِبُّ . وَمَا بَعْدَهُ .
جعفر بن سلیمان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں ( اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرتا ہوں ، اور اس کے بعد والی بات بیان نہیں کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم خَارِجَيْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَقِينَا رَجُلاً عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا " . قَالَ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ وَلاَ صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
منصور نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ایک بار جب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ تو جیسے وہ ٹھٹھک گیا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے اس کے لیے بہت زیادہ نمازیں ، بہت زیادہ روزے اور بہت زیادہ صدقات تو تیار نہیں کیے ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہو گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ، جَبَلَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ .
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ابوعوانہ ، شعبہ اور ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
جریر نے ( سلیمان ) اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! آپ اس شخص کو کیسے دیکھتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ نہیں ملا؟ ( اعمال میں ان سے بہت پیچھے ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ، بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
شعبہ اور سلیمان بن قرم نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنِ الأَعْمَشِ .
ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے اعمش سے ، انہوں نے ( ابووائل ) شقیق سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، پھر اعمش سے جریر کی روایت کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
حماد بن زید نے ابوعمران جونی سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِهِمْ عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ . كَمَا قَالَ حَمَّادٌ .
وکیع ، محمد بن جعفر ، عبدالصمد اور نضر سب نے شعبہ سے ، انہوں نے ابوعمران جونی سے حماد بن زید کی سند کے ساتھ ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر شعبہ سے عبدالصمد کے سوا ( باقی ) سب کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ۔ " اور عبدالصمد کی حدیث میں ہے : " اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں " جس طرح حماد نے کہا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح