دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۸

صحیح مسلم — باب ۴۸The Book Pertaining to the Remembrance of Allah, Supplication, Repentance and Seeking Forgiveness

۱۳۰ احادیث (نمبر ۶۸۰۵ تا ۶۹۳۶) (صفحہ 3) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے : " اے اللہ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا " اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : " اللہ کی حمد ہے جس نے ہمیں وفات دینے کے بعد زندہ کر دیا اور اسی کی طرف ( قیامت کے روز ) زندہ ہو کر جاتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلاً إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ ‏.‏
عقبہ بن مُکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا : ہمیں غندر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے : "" اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا ، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے ، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا ، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں ۔ "" ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں ( میں نے یہ حدیث ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سنی ہے ۔ ) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن حارث سے روایت ہے ، یہ نہیں کہا : میں نے سنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَىْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
جریر نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ( میرے والد ) ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے ، پھر دعا کرے : اے اللہ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب ، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ، دانے اور گٹھلیوں کو چیر ( کر پودے اور درخت اگا ) دینے والے! تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے ، اے اللہ! تو ہی اول ہے ، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں ، اے اللہ! تو ہی آخر ہے ، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی ظاہر ہے ، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے ، تو ہی باطن ہے ، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے ، ہماری طرف سے ( ہمارا ) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے غنا عطا فرما ۔ وہ اس حدیث کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ ( آگے ) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ ‏ "‏ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ‏"‏ ‏.‏
خالد طحان نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹیں تو یہ دعا کریں ، جریر کی حدیث کے مانند ( اور خالد طحان نے " ہر اس چیز کے شر سے " کے بجائے ) کہا : " ہر اس جاندار کے شر سے ( تیری پناہ چاہتا ہوں ) جسے تو نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خادم مانگنے کے لیے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جواب میں ) ان سے کہا : " ( بیٹی! ) تم کہا کرو : اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! " جس طرح سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ فَإِنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ وَلْيَقُلْ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ‏"‏ ‏.‏
انس بن عیاض نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنا چاہے تو اپنے تہبند کا اندرونی حصہ لے کر اس سے اپنے بستر کو جھاڑے ، پھر بسم اللہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس ( کے اٹھ جانے ) کے بعد اس کے بستر پر ( مخلوقات میں سے ) کون آیا؟ پھر جب لیٹنا چاہے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹے اور کہے : " میرے پروردگار! تو ( ہر نا شایان بات سے ) پاک ہے ، میں نے تیرے ( حکم ) سے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھا اور تیرے ہی حک سے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری روح کو ( اپنے پاس ) روک لیا تو اس کی مغفرت کر دینا اور اگر تو نے اسے ( واپس ) بھیج دیا تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمانا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبدہ نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی اور کہا : " پھر وہ یہ ہے : تیرے نام سے اے پروردگار! میں نے اپنا پہلو ٹکایا ، اگر تو نے میری جان کو زندہ کیا تو اس پر رحمت فرمانا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ ‏ "‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُئْوِيَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے تو فرماتے : " اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا ، ( ہر طرح سے ) کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا ۔ کتنے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ٹھکانہ دینے والا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ اللَّهَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
منصور نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل اشجعی سے روایت کی ، کہا : میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے : " اے اللہ! جو میں نے کیا اس کے شر سے اور جو میں نے نہیں کیا ، اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ، كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے ، انہوں نے ہلال سے اور انہوں نے فروہ بن نوفل سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دعا فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں نے جو کام کیے ہیں ، ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ، ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏ "‏ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے اور انہوں نے حصین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، مگر محمد بن جعفر کی حدیث میں ( وشر ما لم اعمل کے بجائے ) و من شر ما لم اعمل ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
عبدہ بن ابولبابہ نے ہلال بن سیاف سے ، انہوں نے فروہ بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے : " اے اللہ! میں ان کاموں کے شر سے جو میں نے کیے اور ان کے شر سے جو نہیں کیے ، تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَىُّ الَّذِي لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہو گیا ، تیرے ساتھ ایمان لایا ، تجھ پر بھروسہ کیا ، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے ( کفر کے ساتھ ) مخاصمت کی ۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں ۔ ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ۔ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے ۔ ۔ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ سُهَيْلِ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ ‏ "‏ سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلاَئِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر میں ہوتے اور سحر کے وقت اٹھتے تو فرماتے : " ( ہماری طرف سے ) اللہ کی حمد اور اس کے انعام کی خوبصورتی ( کے اعتراف ) کا سننے والا یہ بات دوسروں کو بھی سنا دے ۔ اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ رہ ، ہم پر احسان کر ، میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کر رہا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ‏"‏ ‏.‏
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میری خطاء میری لا علمی ، اپنے ( کسی ) معاملے میں میرا حد سے آگے یا پیچھے رہ جانا اور وہ سب کچھ جو میری نسبت تو زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے ۔ اے اللہ! میرے وہ سب کام جو ( تجھے پسند نہ آئے ہوں ) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحا کیے ہوں ، بھول چوک کر کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں ، ان کو بخش دے ۔ اے اللہ! میری وہ باتیں ( جو تجھے پسند نہیں آئیں ) بخش دے جو میں نے پہلے کیں یا جو میں نے بعد میں کیں ، اکیلے میں کیں یا جو میں نے سب کے سامنے کیں اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے ، تو ہی ( جسے چاہے اپنی رحمت کی طرف ) آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
عبدالملک بن صباح مسمعی نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْقُطَعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَاىَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میرے دین کو درست کر دے ، جو میرے ( دین و دنیا کے ) ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کو درست کر دے جس میں میری گزران ہے اور میری آخرت کو درست کر دے جس میں میرا ( اپنی منزل کی طرف ) لوٹنا ہے اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا دے اور میری وفات کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنا دے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى ‏"‏ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابواحوص سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ، پاک دامنی ، اور ( دل کا ) غنا مانگتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ ‏ "‏ وَالْعِفَّةَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، البتہ ابن مثنیٰ نے اپنی روایت میں ( عفاف کی بجائے ) " عفت " کا لفظ کہا ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآَخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن حارث اور ابو عثمان نہدی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں اسی طرح بتاتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، آپ فرماتے تھے : " اے اللہ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، عاجز ہو جانے ، سستی ، بزدلی ، بخل ، سخت بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے ۔ اے اللہ! میرے دل کو تقویٰ دے ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی اس ( دل ) کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو ہی اس کا رکھوالا اور اس کا مددگار ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو کوئی فائدہ نہ دے اور ایسے دل سے جو ( تیرے آگے ) جھک کر مطمئن نہ ہوتا ہو اور ایسے من سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جسے شرف قبولیت نصیب نہ ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا ‏"‏ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏
عبدالواحد بن زیاد نے حسن بن عبداللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابراہیم بن سعد نخعی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : "" ہم نے شام کی اور سارا ملک ( شام کے وقت بھی ) اللہ کا ہوا ، سب شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ( مالک ، معبود ) ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ "" حسن ( بن عبیداللہ ) نے کہا : مجھے زید نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اس ( دعا ) میں ( یہ حصہ ) ابراہیم ( نخعی ) سے ( سن کر ) حفظ کہا : "" اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد ( کے ہر لمحے ) کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں ، اے اللہ! میں کسل مندی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ ‏"‏ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا ‏"‏ أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ‏"‏ ‏.‏
جریر نے حسن بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو ( دعا کرتے ہوئے ) فرماتے : " ہم اور سارا ملک شام کے وقت بھی اللہ کا ہوا ، سب حمد اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ " ( حسن بن عبیداللہ نے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ انہوں ( ابراہیم نخعی ) نے ان کلمات میں یہ بھی کہا : " ساری بادشاہت اسی کی ہے ، ( ہر نعمت پر ) ساری تعریف بھی اسی کو سزاوار ہے ، وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے میرے پروردگار! جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے ، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طلبگار ہوں اور جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی سے میں تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کسل مندی سے اور بڑھاپے کی خرابی سے ۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔ " اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کرتے تو ( بالکل اسی طرح ) فرماتے : ہم اور ساری بادشاہت اور اختیار صبح کو ( بھی ) اللہ کے ہوئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ، عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ ‏"‏ أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ‏"‏ ‏.‏
زائدہ نے حسن بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ابراہیم بن سُوید سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت ( دعا کرتے ہوئے یہ ) فرمایا کرتے تھے : "" ہم نے اور سارے ملک نے اللہ کے ( حکم و فرمان کی پابندی کے ) لیے شام کی ۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس میں موجود ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے اور اس میں موجود ہر شر سے پناہ کا طلبگار ہوں ۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، سستی طاری ہو جانے سے اور عمر ( کے حد سے ) بڑھ جانے سے اور بڑھاپے کی خرابی سے اور دنیا کے ہر فتنے اور قبر کے عذاب سے ۔ "" حسن بن عبیداللہ نے کہا : زبید نے مجھے ابراہیم بن سوید ( نخعی ) سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہوئے مزید یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب شام کرتے تو ) یہ فرماتے : "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، سب تعریف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلاَ شَىْءَ بَعْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا کرتے ہوئے یہ ) فرمایا کرتے تھے : " اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اس نے اپنے لشکر کو عزت دی ، اپنے بندے کی نصرت کی ، اکیلا وہ تمام جماعتوں پر غالب آیا ، ( وہی آخر ہے ) اس کے بعد کچھ نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ ‏"‏ ‏.‏
ابوکریب محمد بن علاء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ( عبداللہ ) بن ادریس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں عاصم بن کلیب سے سنا ، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ( دعا کرتے ہوئے یہ ) کہو : اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھے راستے پر چلا ، اور ( اے علی! ) ہدایت ( کا نام لیتے ہوئے اس ) سے صحیح راستے پر چلنے کو ذہن میں رکھو اور سیدھا رہنے سے تیری جیسی سدھائی مراد کو ( مانگتے ہوئے ہدایت اور صواب کا کمال طلب کرو ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
ابن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عاصم بن کلیب نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ( کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ( اے علی! یہ ) کہو : اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راستی کا سوال کرتا ہوں ۔ " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے ، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں ، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ ( اسی طرح ) بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ " انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں ، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں : " سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته " پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابورشدین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : صبح کی نماز کے وقت یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ پھر اس ( پچھلی حدیث ) کے مطابق بیان کیا ۔ ۔ مگر انہوں نے ( اپنے کلموں کو اس طرح ) بیان کیا : " میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی مخلوقات کی گنتی ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنی اس کی رضا ہے ، میں اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہوں جتنا اس کے عرش کا وزن ہے ، میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا وَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى مَكَانِكُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلی سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ۔ آپ کی طرف گئیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں ) نہ پایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں ( اپنی تکلیف کے بارے میں ) بتایا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہان تشریف لائے ۔ ۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے ، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو ۔ " آپ ہم دونوں کے درمیان ( والی جگہ پر ) بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھڈک اپنے سینے پر محسوس کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم دونوں نے مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھلاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو ، تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور تینتیس بار الحمدللہ کہو ، یہ ( عمل ) تم دونوں کے لیے ایک خادم ( مل جانے ) سے بہتر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ ‏ "‏ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
وکیع ، معاذ اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور معاذ کی حدیث میں ہے : " جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستر میں چلے جاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَزَادَ، فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قِيلَ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ قُلْتُ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ
عبیداللہ بن ابی یزید اور عطاء بن ابی رباح نے مجاہد سے ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ۔ انہوں نے حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا ۔ ان سے پوچھا کیا : جنگ صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا : جنگ صفین کی رات بھی ( اسے نہیں چھوڑا ۔ ) عطاء نے جو حدیث مجاہد سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ، انہوں ( ابن ابی لیلیٰ ) نے کہا : میں نے ان ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) سے عرض کی : صفین کی رات بھی نہ چھوڑا؟
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ تُسَبِّحِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
روح بن قاسم نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خدمت گزار ( کنیز ) مانگنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : " تمہیں کدمت گزار تو ہمارے ہاں نہیں ملا ۔ " ( ہمارے گھر میں بھی موجود نہیں ) ، فرمایا : " کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خدمت گزار سے بہت بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمدللہ کہو اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ تُسَبِّحِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
روح بن قاسم نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خدمت گزار ( کنیز ) مانگنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : " تمہیں کدمت گزار تو ہمارے ہاں نہیں ملا ۔ " ( ہمارے گھر میں بھی موجود نہیں ) ، فرمایا : " کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خدمت گزار سے بہت بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمدللہ کہو اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو ، کیونکہ ( اس وقت ) اس نے ایک فرشتے کو دیکھا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ سَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو سب سے عظیم ہے ، سب سے زیادہ حلم والا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو آسمانوں کا مالک ، زمینوں کا مالک اور عزت والے عرش کا مالک ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ أَتَمُّ ‏.‏
وکیع نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن معاذ بن ہشام کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيَّ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے روایت کی ، ابوعالیہ ریاحی نے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت ان الفاظ سے دعا فرماتے تھے ، پھر وہی کلمات ذکر کیے جو معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کیے ، مگر انہوں نے ( " رب السماوات و رب الارض " کے بجائے ) " رب السماوات والارض " کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ وَزَادَ مَعَهُنَّ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏ ‏.‏
(حماد بن سلمہ نے کہا : مجھے یوسف بن عبداللہ بن حارث نے ابوعالیہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت مشکل اور تکلیف دہ معاملہ درپیش ہوتا تو آپ فرماتے ، پھر اسی طرح بیان کیا جس طرح معاذ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ہے اور ان کلمات کے ساتھ " لا اله الا لله العظيم الحليم " کے بعد ) " لا اله الا لله رب العرش الكريم " مزید بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْكَلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلاَئِكَتِهِ أَوْ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏ ‏.‏
وہیب نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو عبداللہ جسری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : ( اللہ کے ذکر کے لیے ) کون سا کلمہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جسے اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے یا ( ان سمیت ) اپنے تمام بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے : سبحان الله وبحمده " میں ( ہر نعمت کے لیے ) اللہ کی حمد کے ساتھ ہر ناشایان چیز سے اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، مِنْ عَنَزَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَبَّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے جریر سے ، انہوں نے ابوعبداللہ جسری سے جو عنزہ قبیلے سے تھے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! مجھے وہ کلمہ بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کو سب سےزیادہ محبوب کلمہ سبحان الله وبحمده ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح