صحیح مسلم — باب ۵۴The Book of Tribulations and Portents of the Last Hour
۱۶۲ احادیث (نمبر ۷۲۳۵ تا ۷۴۱۶) (صفحہ 4) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ - قَالَ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلاً عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا قَالَ " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ - أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ - فَيَقُولُ لَهُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ فَيَقُولُونَ لاَ . قَالَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الآنَ - قَالَ - فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلاَ يُسَلَّطُ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ .
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہا : مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی ۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں ( یہ بھی ) تھا کہ آپ نے فرمایا : " وہ آئے گا اس پرمدینہ کے راستے حرام کردیےگئے ہوں گے ۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا اس کے پاس ایک آدمی ( مدینہ سے ) نکل کر جائے گا ۔ جولوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا ۔ تودجال ( اپنے ساتھ موجود لوگوں سے ) کہے ) گا تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کردوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک ( باقی ) رہے گا؟وہ کہیں گے نہیں ۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کردے گا ۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گاتو وہ اس سے کہے گا ۔ اللہ کی قسم!تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی ۔ فرمایا : دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ فَيَقُولُونَ لَهُ أَيْنَ تَعْمِدُ فَيَقُولُ أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ - قَالَ - فَيَقُولُونَ لَهُ أَوَمَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا فَيَقُولُ مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ . فَيَقُولُونَ اقْتُلُوهُ . فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ - قَالَ - فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ فَيَقُولُ خُذُوهُ وَشُجُّوهُ . فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا - قَالَ - فَيَقُولُ أَوَمَا تُؤْمِنُ بِي قَالَ فَيَقُولُ أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ - قَالَ - فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ - قَالَ - ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ قُمْ . فَيَسْتَوِي قَائِمًا - قَالَ - ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي فَيَقُولُ مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلاَّ بَصِيرَةً - قَالَ - ثُمَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لاَ يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ - قَالَ - فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلاَ يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلاً - قَالَ - فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
ابو وذاک نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال نکلےگا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گااسے اسلحہ بردارمحافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردارمحافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے ۔ کہا : جانا چاہتے ہو؟وہ کہے گا ۔ میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو ( اب ) نمودار ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے ۔ کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟وہ کہے گا ، ہمارے رب ( کی ربوبیت اور صفات ) میں کوئی پوشیدگی نہیں وہ ( اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے ) کہیں گے ۔ اس کو قتل کردو ۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے ۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس ( کے سامنے پیش کرنے ) سےپہلے کسی کو قتل نہ کرو ۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے ۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا لوگو!یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا ۔ فرمایا : تودجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس ( کے اعضاء ) کو کھینچ کر باندھ دیا جا ئے گا پھر وہ کہے گا ۔ اسے پکڑواور اس کاسر اور منہ توڑ دو ، تو ( مارمارکر ) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کردی جائے گی ۔ فرمایا : پھر وہ ( دجال ) کہے گا ۔ کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤگے؟فرمایا : " تو وہ کہے گا تم جھوٹے ( بناوٹی ) مسیح ہو ۔ فرمایا : " پھر اس کے بارے میں حکم دیا جا ئے گا ۔ تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا ۔ یہاں تک کے اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے ۔ فرمایا : " پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا ۔ پھر اس سےکہے گا ۔ کھڑے ہوجاؤچنانچہ وہ سید ھا کھڑا ہو جا ئے گا ۔ فرمایا : وہ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟وہ کہے گا ۔ ( اس سب کچھ سے ) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا ۔ فرمایا : پھر وہ شخص کہے گا لوگو!یہ ( دجال ) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا ۔ فرمایا : دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ( کاحصہ ) تانبے کا بنایا جا ئے گا وہ کسی طریقے سے ( اسے ذبح ) نہ کر سکے گا ۔ فرمایا ۔ تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراسے پھینکےگا ۔ لوگ سمجھیں گےاس ( دجال ) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ ( اصل میں وہ ) جنت میں ڈال دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ قَالَ " وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لاَ يَضُرُّكَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالأَنْهَارَ قَالَ " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
ابراہیم بن حمید رؤاسی نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نےقیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : " اس ( کے حوالے ) سے تمھیں کیا بات اتنا تھکا رہی ہے؟ وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ کہا : میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ کہتے ہیں اس کے ہمراہ کھانے ( کےڈھیر ) اور ( پانی کے ) دریا ہوں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک وہ اس سے حقیر تر ہے ( کہ ایسی چیزوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کر سکے ،)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ قَالَ " وَمَا سُؤَالُكَ " . قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ . قَالَ " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
ہشیم نے اسماعیل سے انھوں نے قیس سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’تمھارے سوال کا ( سبب ) کیا ہے ؟ " کہا : میں نے عرض کی وہ ( لوگ ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریاہوگافرمایا : " وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیرہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ فَقَالَ لِي " أَىْ بُنَىَّ " .
وکیع ، جریر ، سفیان ، یزید بن ہارون اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے بیٹے
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ - أَوْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا - لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ - لاَ أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا - فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلاَ يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ " . قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلاَمِ السِّبَاعِ لاَ يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلاَ تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلاَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلاَّ أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا - قَالَ - وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ - قَالَ - فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ - أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ - مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ - نُعْمَانُ الشَّاكُّ - فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ . وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ - قَالَ - ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ فَيُقَالُ مِنْ كَمْ فَيُقَالُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ - قَالَ - فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوببن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی انھوں نے سبحان اللہ ! ۔ یا ۔ ۔ ۔ لاالہ الااللہ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ اس جیسا کوئی کلمہ کہا : ( اورکہنے لگے ) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا ۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے ۔ بیت اللہ کو جلا دیا جا ئےگا ۔ اور یہ ہوگا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن ( فرمائے ) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے ۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے ۔ کہ کوئی سے دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہواچلائے گاتو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا ۔ مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی یہاں تک کہااگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگرمیں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ ( ہوا ) داخل ہو جا ئے گی ۔ یہاں تک کہ اس کی روح قبض کرلے گی ۔ " انھوں نے کہا : یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ نے فرمایا : " پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے ۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے ۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا : " کیا تم میری بات پر عمل نہیں کروگے؟وہ کہیں گے ۔ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ۔ ؟وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا وہ اسی حالت میں رہیں گے ان کا رزق اترتا ہوگا ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی پھر صور پھونکا جائے گا ۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا ( گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی ) سب سے پہلا شخص جواسے سنے گاوہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا ۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا ۔ اور دوسرے لوگ بھی گر ( کر مر ) جائیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائےگا ۔ جو ایک پھوار کے مانند ہو گی ۔ یا سائے کی طرح ہو گی ۔ شک کرنے والے نعمان ( بن سالم ) ہیں اس سے انسانوں کے جسم اُگ آئیں گے ۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی ۔ تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے ، ( زندہ ہو جا ئیں گے ) پھر کہا جا ئے گا لوگو! اپنے پروردگارکی طرف آؤ !اور ( فرشتوں سے کہا جائے گا ان کولاکھڑا کرو ان سے سوال پوچھے جائیں گے ۔ حکم دیا جا ئےگا ۔ آگ میں بھیجے جانے والوں کو ( اپنی صفوں سے ) باہرنکالو پوچھا جائے گا ۔ کتنوں میں سے ( کتنے؟ ) کہاجائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ انھوں نے کہا : تویہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ۔ اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا ( کر دیدار جمال کرایا ) جائے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ، سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّكَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أُحَدِّثَكُمْ بِشَىْءٍ إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا . فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ - قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ " فَلاَ يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے ایک شخص کو سنا ، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا : آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں ( بات پوری ہوجائے ) پر قیامت قائم ہوجائے گی ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں ، میں تو یہ کہاتھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہوگیا ۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہےیا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں دجال نمودار ہوگا ۔ "" اور ( اس کے بعد محمد بن جعفر نے ) معاذ کی حدیث کےمانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا : "" کوئی ا یک شخص بھی جس نے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو ، نہیں بچے کا مگر وہ ( ہوگا ) اس کی روح قبض کرلے گی ۔ "" محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اورمیں نے ( کئی بار ) اسے ان کے سامنے دہرایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا " .
محمد بن بشیر نے ابو حیان سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے اور انھوں نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " نمودار ہونے والی سب سے پہلے نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کانکلنا ہے ۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہوگی ، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہوجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ عَنِ الآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا، خُرُوجًا الدَّجَّالُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ابو حیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا ، کہا : مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہوگا ، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( تم لوگ یوں سمجھو کہ ) مردان نے کچھ بھی نہیں کہا ( کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ پھر اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ تَذَاكَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى .
سفیان نے ابو حیان سے اور انھوں نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : لوگوں نے مردان کی موجودگی میں قیامت کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ۔ ( آگے ) ان دونوں کی حدیث کے مانند بیان کیا اور " دن چڑھنے کے وقت " کاذ کر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، بْنِ ذَكْوَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ فَقَالَ حَدِّثِينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ تُسْنِدِيهِ إِلَى أَحَدٍ غَيْرِهِ فَقَالَتْ لَئِنْ شِئْتَ لأَفْعَلَنَّ فَقَالَ لَهَا أَجَلْ حَدِّثِينِي . فَقَالَتْ نَكَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ فَأُصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا تَأَيَّمْتُ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَوْلاَهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكُنْتُ قَدْ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ " . فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ " انْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ " . وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ فَقَالَ " لاَ تَفْعَلِي إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " . - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فِهْرِ قُرَيْشٍ وَهُوَ مِنَ الْبَطْنِ الَّذِي هِيَ مِنْهُ - فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي سَمِعْتُ نِدَاءَ الْمُنَادِي مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنَادِي الصَّلاَةَ جَامِعَةً . فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنْتُ فِي صَفِّ النِّسَاءِ الَّتِي تَلِي ظُهُورَ الْقَوْمِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ " لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلاَّهُ " . ثُمَّ قَالَ " أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلاَ لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلاً نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلاَثِينَ رَجُلاً مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لاَ يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقَالُوا وَيْلَكِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قَالُوا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتْ أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالأَشْوَاقِ . قَالَ لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلاً فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً - قَالَ - فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ قُلْنَا وَيْلَكَ مَا أَنْتَ قَالَ قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لاَ يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ فَقُلْنَا وَيْلَكِ مَا أَنْتِ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قُلْنَا وَمَا الْجَسَّاسَةُ قَالَتِ اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالأَشْوَاقِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا عَنْ أَىِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ يُثْمِرُ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ . قَالَ أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لاَ تُثْمِرَ قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ . قُلْنَا عَنْ أَىِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِيهَا مَاءٌ قَالُوا هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ . قَالَ أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ . قَالُوا عَنْ أَىِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ قَالَ هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ قُلْنَا لَهُ نَعَمْ هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ قَالُوا قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ . قَالَ أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ قَالَ لَهُمْ قَدْ كَانَ ذَلِكَ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الأَرْضِ فَلاَ أَدَعَ قَرْيَةً إِلاَّ هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَىَّ كِلْتَاهُمَا كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلاَئِكَةً يَحْرُسُونَهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ " هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ " . يَعْنِي الْمَدِينَةَ " أَلاَ هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ " . فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ " فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ أَلاَ إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ لاَ بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ما هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ . قَالَتْ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
ابن بریدہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عامر بن شراحیل شعبی نے جن کا تعلق شعب ہمدان سے تھا ، حدیث بیان کی ، انھوں نے ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ سید ہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، وہ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بلاواسطہ ) سنی ہو ۔ وہ بولیں کہ اچھا ، اگر تم یہ چاہتے ہو تو میں بیان کروں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں بیان کرو ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ ان دنوں قریش کے عمدہ جوانوں میں سے تھے ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلے ہی جہاد میں شہید ہو گئے ۔ جب میں بیوہ ہو گئی تو مجھے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند کے ساتھ آ کر نکاح کا پیغام دیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مولیٰ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے پیغام بھیجا ۔ اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سن چکی تھی کہ جو شخص مجھ سے محبت رکھے ، اس کو چاہئے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے بھی محبت رکھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس بارے میں گفتگو کی تو میں نے کہا کہ میرے کام کا اختیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے چاہیں نکاح کر دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ام شریک کے گھر چلی جاؤ اور ام شریک انصار میں ایک مالدار عورت تھی اور اللہ کی راہ میں بہت زیادہ خرچ کرتی تھیں ، اس کے پاس مہمان اترتے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ بہت اچھا ، میں ام شریک کے پاس چلی جاؤں گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام شریک کے پاس مت جا اس کے پاس مہمان بہت آتے ہیں اور مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں تیری اوڑھنی گر جائے یا تیری پنڈلیوں پر سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرے بدن میں سے وہ دیکھیں جو تجھے برا لگے گا ۔ تم اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ بن عمرو ابن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ اور وہ بنی فہر میں سے ایک شخص تھا اور فہر قریش کی ایک شاخ ہے اور وہ اس قبیلہ میں سے تھا جس میں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ پھر سیدہ فاطمہ نے کہا کہ میں ان کے گھر میں چلی گئی ۔ جب میری عدت گزر گئی تو میں نے پکارنے والے کی آواز سنی اور وہ پکارنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی تھا ، وہ پکار رہا تھا کہ نماز کے لئے جمع ہو جاؤ ۔ میں بھی مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ میں اس صف میں تھی جس میں عورتیں لوگوں کے پیچھے تھیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو منبر پر بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ایک آدمی اپنی نماز کی جگہ پر رہے ۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ صحابہ بولے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے تمہیں رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا ، بلکہ اس لئے جمع کیا کہ تمیم داری ایک نصرانی تھا ، وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو اس حدیث کے موافق ہے جو میں تم سے دجال کے بارے میں بیان کیا کرتا تھا ۔ اس نے بیان کیا کہ وہ یعنی تمیم سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا جو لخم اور جذام کی قوم میں سے تھے ، پس ان سے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں کھیلتی رہیں ۔ پھر وہ لوگ سمندر میں ڈوبتے سورج کی طرف ایک جزیرے کے کنارے جا لگے ۔ پس وہ جہاز سے پلوار ( یعنی چھوٹی کشتی ) میں بیٹھے اور جزیرے میں داخل ہو گئے وہاں ان کو ایک جانور ملا جو کہ بھاری دم ، بہت بالوں والا کہ اس کا اگلا پچھلا حصہ بالوں کے ہجوم سے معلوم نہ ہوتا تھا ۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ اے کمبخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں ۔ لوگوں نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے ، کہ وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے ۔ تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس نے مرد کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو ۔ تمیم نے کہا کہ پھر ہم دوڑتے ہوئے ( یعنی جلدی ) دیر میں داخل ہوئے ۔ دیکھا تو وہاں ایک بڑے قد کا آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا ۔ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور دونوں زانوں سے ٹخنوں تک لوہے سے جکڑا ہوا تھا ۔ ہم نے کہا کہ اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم میری خبر پر قابو پا گئے ہو ( یعنی میرا حال تو تم کو اب معلوم ہو جائے گا ) ، تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم عرب لوگ ہیں ، سمندر میں جہاز میں سوار ہوئے تھے ، لیکن جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پھر ایک مہینے کی مدت تک لہر ہم سے کھیلتی رہی ، پھر ہم اس جزیرے میں آ لگے تو چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے ، پس ہمیں ایک بھاری دم کا اور بہت بالوں والا جانور ملا ، ہم اس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا پچھلا حصہ نہ پہچانتے تھے ۔ ہم نے اس سے کہا کہ اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں ۔ ہم نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے اور وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے ۔ پس ہم تیری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور ہم اس سے ڈرے کہ کہیں بھوت پریت نہ ہو ۔ پھر اس مرد نے کہا کہ مجھے بیسان کے نخلستان کی خبر دو ۔ ہم نے کہا کہ تو اس کا کون سا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس کے نخلستان کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے؟ ہم نے اس سے کہا کہ ہاں پھلتا ہے ۔ اس نے کہا کہ خبردار رہو عنقریب وہ نہ پھلے گا ۔ اس نے کہا کہ مجھے طبرستان کے دریا کے بارے میں بتلاؤ ۔ ہم نے کہا کہ تو اس دریا کا کون سا حال پوچھتا ہے؟ وہ بولا کہ اس میں پانی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اس میں بہت پانی ہے ۔ اس نے کہا کہ البتہ اس کا پانی عنقریب ختم ہو جائے گا ۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں خبر دو ۔ لوگوں نے کہا کہ اس کا کیا حال پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے اس سے کہا کہ ہاں! اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھے امییّن کے پیغمبر کے بارے میں خبر دو کہ وہ کیا رہے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ مکہ سے نکلے ہیں اور مدینہ میں گئے ہیں ۔ اس نے کہا کہ کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے؟ ہم نے کہا کہ ہاں ۔ اس نے کہا کہ انہوں نے عربوں کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے کہا کہ وہ اپنے گرد و پیش کے عربوں پر غالب ہوئے اور انہوں نے ان کی اطاعت کی ۔ اس نے کہا کہ یہ بات ہو چکی؟ ہم نے کہا کہ ہاں ۔ اس نے کہا کہ خبردار رہو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہے کہ پیغمبر کے تابعدار ہوں ۔ اور البتہ میں تم سے اپنا حال کہتا ہوں کہ میں مسیح ( دجال ) ہوں ۔ اور البتہ وہ زمانہ قریب ہے کہ جب مجھے نکلنے کی اجازت ہو گی ۔ پس میں نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی بستی کو نہ چھوڑوں گا جہاں چالیس رات کے اندر نہ جاؤں ، سوائے مکہ اور طیبہ کے ، کہ وہاں جانا مجھ پر حرام ہے یعنی منع ہے ۔ جب میں ان دونوں بستیوں میں سے کسی کے اندر جانا چاہوں گا تو میرے آگے ایک فرشتہ بڑھ آئے گا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہو گی ، وہ مجھے وہاں جانے سے روک دے گا اور البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کی چوکیداری کریں گے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ طیبہ یہی ہے ، طیبہ یہی ہے ، طیبہ یہی ہے ۔ یعنی طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ خبردار رہو! بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے نہیں چکا ہوں؟ تو اصحاب نے کہا کہ ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمیم رضی اللہ عنہ کی بات اچھی لگی جو اس چیز کے موافق ہوئی جو میں نے تم لوگوں سے دجال اور مدینہ اور مکہ کے حال سے فرما دیا تھا ۔ خبردار ہو کہ وہ شام یا یمن کے سمندر میں ہے؟ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ مشرق کی طرف ہے ( مشرق کی طرف بحر ہند ہے شاید دجال بحر ہند کے کسی جزیرہ میں ہو ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ، ثَلاَثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي - قَالَتْ - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلاَةَ جِامِعَةً - قَالَتْ - فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ - قَالَتْ - فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ - قَالَتْ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ فَقَالَ " إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الأَرْضِ وَقَالَ " هَذِهِ طَيْبَةُ " . يَعْنِي الْمَدِينَةَ .
سیار ابو الحکم نے کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں گئے ، انھوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کاتحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے ، میں نے ان سے ا س عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟انھوں نے کہا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں انے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں ، ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ( عدت کے بعد ) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے ، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لئے چل دی ، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی ۔ انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تمیم داری کے چچا کے بیٹے ( ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار ) سمندر ( کے جہاز ) میں سوار ہوئے ۔ " اسکے بعد ( سیار نے پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں ، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا : " یہ طیبہ ہے ۔ " آپ کی مراد مدینہ سے تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ، بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ غَيْلاَنَ بْنَ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ، قَيْسٍ قَالَتْ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمِيمٌ الدَّارِيُّ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ فَسَقَطَ إِلَى جَزِيرَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلَقِيَ إِنْسَانًا يَجُرُّ شَعَرَهُ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَدْ وَطِئْتُ الْبِلاَدَ كُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةَ . فَأَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى النَّاسِ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ " هَذِهِ طَيْبَةُ وَذَاكَ الدَّجَّالُ " .
غیلان بن جریر نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ سمندر ( کےجہاز ) میں سوار ہوئے تو ان کا جہاز راستے سے ہٹ گیا ، وہ ایک جزیرے میں جا اترے ، وہ اس جزیرے میں نکل کر پانی ڈھونڈنے لگے ، وہاں ایک انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے بال گھسیٹ رہاتھا ، پھر ( پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی کہا : پھر اس ( دجال ) نے کہا : اگر مجھے نکلنے کی اجازت دی گئی تو میں طیبہ ( مدینہ ) کے سوا تمام شہروں میں جاؤں گا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو لوگوں کے سامنے لے گئے اور ( ان کی موجودگی میں ) آپ نے ان ( لوگوں ) کے سامنے ( یہ واقعہ ) بیان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ طیبہ ہے اور وہ ( شخص ) دجال ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ فَانْكَسَرَتْ بِهِمْ فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ
ابو زناد نے شعبی سے اور انھوں نےحضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا : " لوگو! مجھے تمیم داری نے یہ بتایا ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اپنے ایک جہاز میں سمندر میں تھے ، وہ جہاز ٹوٹ گیا اوران میں سے کچھ لوگ جہاز کے تختوں میں سے ایک تختے پر سوار ہوگئے اور سمندر میں ایک جزیرے کی طرف جانکلے ۔ " اور پھر ( آگے باقی ماندہ ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو، - يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ - عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلاَّ سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلاَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ وَلَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلاَّ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ صَافِّينَ تَحْرُسُهَا فَيَنْزِلُ بِالسَّبَخَةِ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ " .
ابن عمر واوزاعی نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی شہر نہیں مگر دجال! اسے روندے گا ۔ ان ( دو شہروں ) کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتے صف باندھتے ہوئے پہرہ دے رہے ہوں گے پھر وہ ایک شوریلی زمین میں اترے گا ۔ اس وقت مدینہ تین بارلرز ےگا اور ہر کافر اور منافق اس میں سے نکل کر اس ( دجال ) کے پاس چلا جائے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَيَأْتِي سَبَخَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ وَقَالَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ .
حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ، مگر اس میں کہا : چنانچہ وہ ( دجال ) جرف کی شوریلی زمین میں آکر اپنا خیمہ لگائے گا اور کہا : ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار ( یہودی ) دجال کی پیروی کریں گے ، ان ( کے جسموں ) پر طینسان کی حبائیں ہوں گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ " . قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ " هُمْ قَلِيلٌ " .
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا کہ مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے ام شریک نے خبر دی کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " لوگ دجال سے فرار ہوکر پہاڑوں میں جائیں گے ۔ " حضرت ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ ( جو دین کے دفاع میں سینہ سپر ہوجاتے ہیں ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " وہ بہت کم ہوں گے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ رَهْطٍ، مِنْهُمْ أَبُو الدَّهْمَاءِ وَأَبُو قَتَادَةَ قَالُوا كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ نَأْتِي عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونِي إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا بِأَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي وَلاَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِهِ مِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ " .
عبدالعزیز بن مختار نے کہا : ہمیں ایوب نے حمید بن ہلال سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ایک گروہ سے روایت کی جن میں ابو دہماء اور ابو قتادہ شامل ہیں ، انھوں نے کہا : ہم حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جایا کر تے تھے ، ایک دن انھوں نے کہا : تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہوجو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے نہیں تھے اور نہ ان کو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناتھا : " حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کوئی مخلوق ( فتنہ وفساد میں ) ایسی نہیں جو دجال سے بڑی ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَلاَثَةِ، رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالُوا كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُخْتَارٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ " .
عبیداللہ بن عمرو نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے اور انھوں نے اپنی قوم کے تین لوگوں سے روایت کی جن میں ابو قتادہ بھی شامل ہیں کہ ہم ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س جاتے تھے ۔ جس طرح عبدالعزیز بن مختار کی روایت ہے مگر انھوں نے کہا؛ " دجال ( کے فتنے ) سے بڑا کوئی معاملہ ( پیش نہیں آیا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدُّخَانَ أَوِ الدَّجَّالَ أَوِ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .
علاء کے والد ( عبدالرحمان ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو ۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے ، دھوئیں ، دجال ، زمین کے چوپائے ، خاص طور پر تم میں سے کسی ایک کو پیش آنے والے معاملے ( بیماری ، عاجز کردینے والا بڑھاپا یا کوئی رکاوٹ ) اور ہر کسی کو پیش آنے والا معاملہ ( مثلا : اجتماعی گمراہی ، فتنے کے زمانے میں قتل عام ، قیامت سے پہلے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا الدَّجَّالَ وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الأَرْضِ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَأَمْرَ الْعَامَّةِ وَخُوَيِّصَةَ أَحَدِكُمْ " .
شعبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے زیاد بن ریاح سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو : دجال ، دھواں ، زمین کا چوپایہ ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عام لوگوں کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ یا خصوصی طور پر تم سے کسی ایک کو پیش آنے والا معاملہ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ، قُرَّةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَىَّ " .
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد بن زید نے خبردی ، انھوں نے معلی بن زیاد سے ، انھوں نے معاویہ بن قرہ سے ، انھوں نے معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید نے یہی حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا ۔ ہمیں حماد نے معلیٰ بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اس روایت کو معاویہ بن قرہ کی طرف لوٹایا ، انھوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کیا کہ آ پ نے فرمایا : " کو طرف پھیلی ہوئی قتل وغارت گری کے دوران میں عبادت ( پر توجہ مرکوز ) کرنا ، میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
یہی حدیث مجھے ابو کامل نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ " .
حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " قیامت صرف بدترین لوگوں پرہی قائم ہوگی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلاً، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَهُوَ يَقُولُ " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا " .
یعقوب نے ابو حازم سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ انگوٹھے کے ساتھ والی ( شہادت کی انگلی ) اور بڑی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے؛ " میں اورقیامت اس طرح ( ساتھ ساتھ ) بھیجے گئے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ کو سنا ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" مجھے اور قیامت کو ان ( شہادت اوربڑی انگلیوں ) کی طرح ( ساتھ ساتھ ) مبعوث کیا گیاہے ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں نے قتادہ سے ان کے حدیث بیان کرنے کے دوران میں سنا : جتنی ان میں سے ایک اُنگلی دوسری سے بڑی ہے ( اتنے سے زمانے کا فرق ہے ) مجھے معلوم نہیں یہ ( معنی ) انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا یا خود قتادہ نے بیان کیا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، وَأَبَا التَّيَّاحِ، يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا " . وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ .
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ اور ابو تیاح کوحدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ " اور شعبہ نے اسے بیان کرتے ہوئے اپنی انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کو ملایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا .
معاذ اور محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَمْزَةَ، - يَعْنِي الضَّبِّيَّ - وَأَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .
ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انھوں نے حمزہ ضبی اور ابو تیاح سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْبَدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . قَالَ وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى .
معبد نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے ۔ کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کو اکٹھا کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ فَقَالَ " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہا : " اعراب ( بدولوگ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی؟آپ ان میں سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھ کر فرماتے : " اگر یہ زندہ رہاتو یہ بوڑھا نہیں ہوا ہوگا کہ تم پر تمہاری ( قیامت کی ) گھڑی آجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ وَعِنْدَهُ غُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلاَمُ فَعَسَى أَنْ لاَ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : قیامت کب قائم ہوگی؟اور اس کے پاس انصار میں سے ایک لڑکا بیٹھا تھا جسے محمد کہاجاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو شاید اسے بڑھاپا نہ پہنچے گا کہ ( تمہاری ) قیامت آجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلاَلٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلاَمٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ فَقَالَ " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . قَالَ قَالَ أَنَسٌ ذَاكَ الْغُلاَمُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ .
معبد بن ہلال عنزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : قیامت کب قائم ہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے ، پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذدشنو ، کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی ، پھر فرمایا؛ "" اگر یہ لڑکا لمبی عمر پاگیا تو اسے بڑھایا نہیں آیا ہوگا کہ ( تمہاری ) قیامت قائم ہوجائےگی ۔ "" ( معبد نے ) کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ( اس وقت ) حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک لڑکا گزرا جو میرے ہم عمروں میں سے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس کو مہلت ملی تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہوگا کہ ( تم پر ) قیامت آجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ فَمَا يَصِلُ الإِنَاءُ إِلَى فِيهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلاَنِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِي حَوْضِهِ فَمَا يَصْدُرُ حَتَّى تَقُومَ " .
اعرج نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اورانھوں نے اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت آئے گی تو ایک آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا وہ برتن اس کے منہ تک نہ پہنچا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائےگی اور دو آدمی کپڑے کا سودا کررہے ہوں گے انھوں نے خریدوفروخت ( مکمل ) نہیں کی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ، ایک شخص اپنے حوض میں لپائی کررہا ہوگا وہ باہر نہیں نکل پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ " . قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ . قَالُوا أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ أَبَيْتُ . قَالُوا أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ " ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ " . قَالَ " وَلَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَىْءٌ إِلاَّ يَبْلَى إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" دو بارصور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقفہ ہوگا ۔ "" انھوں ( لوگوں ) نے کہا ۔ ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چالیس دن؟انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : چالیس مہینے؟ انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ لوگوں نے کہا چالیس سال؟ انھوں نے کہا : میں انکار کرتا ہوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو لوگ اسی طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے ۔ "" انھوں نے کہا : "" اور انسان کا کوئی حصہ نہیں ، مگر وہ بوسیدہ ہوجائے گا ، سوائےایک ہڈی کے وہ دمچی کی ہڈی کا آخری حصہ ہے قیامت کے دن اسی سے خلقت کی ترکیب مکمل ہوگی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح