دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۶

صحیح مسلم — باب ۶The Book of Prayer - Travellers

۳۷۸ احادیث (نمبر ۱۵۷۰ تا ۱۹۵۰) (صفحہ 8) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ ‏.‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَىَّ النَّاسُ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ ‏.‏
عبداللہ بن ادریس اور وکیع نے شعبہ سے اور انھوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں اپنی سواری پر سورہ فتح کی تلاوت فرمائی اور اپنی قراءت میں آواز کو دہرایا ۔ معاویہ نے کہا : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہوجائیں گے تو میں تمھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی قراء ت سناتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ ‏.‏ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلاَ النَّاسُ لأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَلِكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : شعبہ نے ہمیں معاویہ بن قرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر ( سوار ) سورہ فتح پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ ( معاویہ بن قرہ نے ) کہا : حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےقراءت کی اور اس میں ترجیع کی ، معاویہ نے کہا : اگر مجھے لوگوں ( کے اکھٹے ہوجانے ) کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمھارے لئے ( قراءت کا ) وہی ( طریقہ اختیار ) کرتا جو حضرت ابن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ عَلَى رَاحِلَةٍ يَسِيرُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ ‏.‏
خالد بن حارث اور معاذ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ، خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سورہ فتح تلاوت کرتے ہوئے اپنی ) سواری پر سفر کررہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
ابو خثیمہ نے ابو اسحاق سے اور انھوں نے حضرت بر اء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی سورہ کہف کی تلاوت کررہاتھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں میں بندھا ہواگھوڑا ( موجود ) تھا ۔ تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اقْرَأْ فُلاَنُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی نے سورہ کہف کی قراءت کی ۔ گھرمیں ( اس وقت ) ایک چوپا یہ بھی تھا ۔ وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا کہ جا نور کے اوپر دھندیا بدلی تھی جو اس پر چھائی ہو ئی ہے تو اس نے یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ نے فر ما یا : اے شخص ! پڑھا کرو یہ تو سکینت تھی جو قراءت کے وقت اتری ( یا قرآن کی خاطر نازل ہو ئی ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ ‏.‏ فَذَكَرَا نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالاَ تَنْقُزُ ‏.‏
عبد الرحمٰن بن مہدی اور داؤد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ۔ ۔ ۔ آگے دونوں ( عبد الرحمٰن بن مہدی اور ابوداؤد ) نے سابقہ حدیث کے مانند ذکر کیا ۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ انھوں نے ( تنفر " وہ بدکنے لگا " کے بجا ئے ) تنقز ( وہ اچھلنے لگا ) کہا
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا قَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا - قَالَ - فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَإِ ابْنَ حُضَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَإِ ابْنَ حُضَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَإِ ابْنَ حُضَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْصَرَفْتُ ‏.‏ وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْمَلاَئِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حجرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رات اپنے باڑے میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا انھوں نے پھر پڑھا وہ دوبارہ بدکا پھر پڑھا وہ پھر بدکا ۔ اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ ( میرے بیٹے ) یحییٰ کو روند ڈالے گا میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اچانک چھتری جیسی کو ئی چیز میرے سر پر تھی اس میں کچھ چراغوں جیسا تھا وہ فضا میں بلند ہو گئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گئی کہا : میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول !اس اثنا میں کہ کل میں آدھی رات کے وقت اپنے باڑے میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ابن حضیر!پڑھتے رہتے ۔ " میں نے عرض کی : میں پڑھتا رہا پھر اس نے دوبارہ اچھل کود کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ابن حضیر! پڑھتے رہتے ۔ میں نے کہا : میں نے قراءت جاری رکھی اس نے کچھ بدک کر چکر لگانے شروع کر دیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ابن حضیر! پڑھتے رہتے ۔ میں نے کہا : پھر میں نے چھوڑ دیا ۔ ( میرا بیٹا ) یحییٰ اس کے قریب تھا میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گا ۔ تو میں چھتری جیسی چیز دیکھی اس میں چراغوں کی طرح کی چیزیں تھیں وہ فضا میں بلند ہو ئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنی بند ہو گئی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ فرشتے تھے جو تمھاری قراءت سن رہے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح کو دیکھ لیتے وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ لاَ رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لاَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ‏"‏ ‏.‏
(ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس ) سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی کی سی ہے اس کی خوشبوبھی عمدہ ہے اور اس کا ذائقہ ( بھی خوشگوار ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور کی سی ہے اس کی خوشبو نہیں ہو تی جبکہ اس کا ذائقہ شیریں ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا نیاز بو جیسی ہے اس کی خوشبوعمدہ ہے اور ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندر ائن ( تمے ) کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی نہیں ہو تی اور اس کا ذائقہ ( بھی سخت ) کڑوا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِرِ ‏.‏
ہمام اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث روایت کی ۔ اس میں یہ فرق ہے کہ ہمام کی روایت میں منا فق کی جگہ فاجر ( بدکردار ) کا لفظ ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، - قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏
ابو عوانہ نے قتادہؒ سے روایت کی ، انھوں نے زراہ بن اوفیٰ ( عامری ) سے ، انھوں نےسعد بن ہشام سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قرآن مجید کا مہر قرآن لکھنے والے انتہائی معزز اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو انسان قرآن مجیدپڑھتاہے اور ہکلاتا ہے ۔ اور وہ ( پڑھنا ) اس کے لئے مشقت کا باعث ہے ، اس کے لئے دو اجر ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ، بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ‏ "‏ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ ‏"‏ ‏.‏
ابن ابی عدی نے سعید سے روایت کی ، وکیع نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، ان دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی البتہ وکیع کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جو اسے پڑھتا ہے اور وہ اس پر گراں ہوتا ہے ، اس کے لئے دو اجر ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ أُبَىٌّ يَبْكِي ‏.‏
ہمام نےکہا : ہم سے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قراءت کروں ۔ " انھوں نےکہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ۔ " تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏{‏ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنےلَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا کی قراءت کروں ۔ " انھوں نے کہا : اور ( اللہ تعالیٰ نے ) آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو وہ رودیئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىٍّ بِمِثْلِهِ ‏.‏
خالد بن حارث نے کہا : شعبہ نے ہمیں قتادہ کے حوالے سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا ۔ ۔ ۔ ( آگے سابقہ حدیث ) کے مانند ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْرَأْ عَلَىَّ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ ‏"‏ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ ‏{‏ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا‏}‏ رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ ‏.‏
حفص بن غیاث نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں عبیدہ ( سلمانی ) سےاور انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے سامنے قرآن مجید کی قراءت کرو ۔ " انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو سناؤں ، جبکہ آپ پر ہی تو ( قرآن مجید ) نازل ہوا ہے؟آپ نے فرمایا : " میری خواہش ہے کہ میں اسےکسی دوسرے سے سنوں ۔ " تو میں نے سورہ نساء کی قراءت شروع کی ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا " اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ " تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، یا میرے پہلو میں موجود آدمی نے مجھے ٹھوکا دیا تو میں نے اپنا سر اٹھایا ، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ‏ "‏ اقْرَأْ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏
ہناد بن سری اور منجانب بن حارث تمیمی نے علی بن مسہر سے روایت کی ، انھوں نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی ، ہناد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب آپ منبر پر تشریف فرماتھے ، مجھ سے کہا : " مجھے قرآن سناؤ
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ، - وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏"‏ اقْرَأْ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ ‏"‏ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ‏"‏ قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا‏}‏ فَبَكَى ‏.‏ قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ شَكَّ مِسْعَرٌ ‏.‏
مسعر نے عمرو بن مرہ سے اور انھوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : "" مجھے قرآن مجید سناؤ ۔ "" انھوں نے کہا : کیا میں آپ کو سناؤں جبکہ ( قرآن ) اترا ہی آپ پر ہے؟آپ نے فرمایا : "" مجھے اچھا لگتاہے کہ میں اسے کسی دوسرے سے سنوں ۔ "" ( ابراہیم ) نے کہا : انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء ابتداء سے اس آیت تک سنائی : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا "" اس وقت کیا حال ہوگا ، جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ بنا کرلائیں گے ۔ "" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس آیت پر ) رو پڑے ۔ مسعر نے ایک دوسری سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول نقل کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا ۔ "" مسعر کو شک ہے ۔ ما دمت فيهم کہایا ما كنت فيهم ( جب تک میں ان میں تھا ) کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا ‏.‏ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَيْحَكَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏ "‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَيْنَمَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْكِتَابِ لاَ تَبْرَحُ حَتَّى أَجْلِدَكَ - قَالَ - فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ ‏.‏
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : "" میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے مجھے کہا : ہمیں قرآن مجید سنائیں تو میں نے انھیں سورہ یوسف سنائی ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کی قسم! یہ اس طرح نہیں اتری تھی ۔ میں نے کہا : تجھ پر افسوس ، اللہ کی قسم!میں نے یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آ پ نے مجھ سے فرمایا : "" تو نے خوب قراءت کی ۔ "" اسی اثنا میں کہ میں اس سے گفتگو کررہا تھا تو میں نے اس ( کے منہ ) سے شراب کی بو محسوس کی ، میں نے کہا : تو شراب بھی پیتا ہے اور کتاب اللہ کی تکذیب بھی کرتا ہے؟تو یہاں سے نہیں جاسکتا حتیٰ کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں ، پھر میں نے اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي ‏ "‏ أَحْسَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
عیسیٰ بن یونس اور ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ر وایت کی لیکن ابومعاویہ کی روایت میں فقال لي احسنت ( آپ نے مجھے فرمایا : " تو نے بہت اچھا پڑھا " ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَثَلاَثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ ( باہر سے ) اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین بڑی فربہ حاملہ اونٹنیاں موجود پائے؟ " ہم نے عرض کی : جی ہاں!آپ نے فرمایا : " تین آیات جنھیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے ۔ وہ اس کے لئے تین بھاری بھرکم اور موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلاَ قَطْعِ رَحِمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَفَلاَ يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمَ أَوْ يَقْرَأَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاَثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلاَثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سےنکل کر تشریف لائے ۔ ہم صفہ ( چبوترے ) پر مووجودتھے ، آپ نے فرمایا : " تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ روزانہ صبح بطحان یا عقیق ( کی وادی ) میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہانوں والی اونٹنیاں لائے؟ " ہم نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سب کو یہ بات پسندہے آپ نے فرمایا : " پھر تم میں سے صبح کوئی شخص مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی قراءت کرے تو یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں ( کے حصول ) سے بہتر ہے اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لئے چار سے بہتر ہیں اور ( آیتوں کی تعداد جو بھی ہو ) اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، - وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلاَ تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ ‏.‏
ابو توبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا کہ ہم سے معاویہ ، یعنی ابن اسلام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے زید سے روایت کی کہ انھوں نے ابو سلام سے سنا ، وہ کہتے تھے : مجھ سے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : "" قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن ( حفظ وقراءت اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئےگا ۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں : البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑتے پرندوں کی وہ ڈاریں ہوں ، وہ اپنی صحبت میں ( پڑھنے اور عمل کرنے ) والوں کی طرف سے دفاع کریں گی ۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت اور اسے ترک کرناباعث حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ "" معاویہ نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ باطل پرستوں سے ساحر ( جادوگر ) مراد ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَكَأَنَّهُمَا ‏"‏ ‏.‏ فِي كِلَيْهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِي ‏.‏
یحییٰ بن حسان نے کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی لیکن انہوں نے دونوں جگہوں پراوكانهما ( یا جیسے وہ ) کی جگہ " وكانهما " ( اور جیسے وہ ) کہا اور معاویہ کا قول ہے کہ " مجھے یہ خبرپہنچی " ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ، بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ ‏"‏ ‏.‏ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ ‏"‏ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے ، سورہ بقرہ اورسورہ آل عمران اس کے آگے آگے ہوں گی ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں دیں جن کو ( سننے کے بعد ) میں ( آج تک ) نہیں بھولا ، آپ نے فرمایا : " جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں ، وہ ا پنے صاحب ( صحبت میں رہنے والے ) کی طرف سے مدافعت کریں گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلاَّ الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلاَّ الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلاَّ أُعْطِيتَهُ ‏.‏
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایسی آواز سنی جیسی دروازہ کھلنے کی ہوتی ہے تو انھوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا : آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا ہے ، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا ، اس سے ایک فرشتہ اترا تو انھوں نے کہا : یہ ایک فرشتہ آسمان سے اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا ، اس فرشتے نے سلام کیا اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا : آپ کو دو نور ملنے کی خوشخبری ہو جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے : ( ایک ) فاتحہ الکتاب ( سورہ فاتحہ ) اور ( دوسری ) سورہ بقرہ کی آخری آیات ۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں پڑھیں گے مگر وہ آپ کو عطا کردیا جائے گا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فِي الآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ‏.‏ فَقَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‏"‏ ‏.‏
زہیر نے کہا : ہم سے منصور نے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے عبدالرحما بن یزید سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں بیت اللہ کے پاس حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے آپ کے حوالے سے سورہ بقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں حدیث پہنچی ہے ۔ تو انھوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، جو شخص رات میں انھیں پڑھے گا وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
جریر اور شعبہ دونوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی ر وایت بیان کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
علی بن مسہر نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے ، انھوں نے علقمہ بن قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں ، وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔ "" عبدالرحمان نے کہا : میں خود ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا ، وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے ، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ روایت ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ، بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَبْدِ، الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
عیسیٰ بن یونس اور عبداللہ بن نمیر نے اعمش سے باقی ماندہ اسی سند کےساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
حفص اور ابو معاویہ نے بھی اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند ر وایت بیان کی ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ‏"‏
معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد غطفانی سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس ( مسلمان ) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرلیں ، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کرلیا گیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ ‏.‏ وَقَالَ هَمَّامٌ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ كَمَا قَالَ هِشَامٌ
شعبہ اور ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ اس میں شعبہ نے سورہ کہف کی آخری ( دس ) آیات کہا ہے جبکہ ہمام نے ابتدائی ( دس ) آیات کہا ہے جس طرح ہشام کی روایت ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَىُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَىُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ ‏.‏ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے ابو منذر!کیا تم جانتے ہو کتاب اللہ کی کونسی آیت ، جو تمھارے پاس ہے ، سب سے عظیم ہے؟ " کہا : میں نے عرض کی : اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے ( دوبارہ ) فرمایا : " اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب کی کونسی آیت جو تمہارے پاس ہے ، سب سے عظمت والی ہے؟ " کہا : میں نے عرض کیاللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ کہا : تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ کی قسم !ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏" قَالُوا : وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " ‏.‏
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ الْعَطَّارُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، ان دونوں ( سعید اور ابان ) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء ( حصے ) کئے ہیں اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیاہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْشِدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن کیسان نے کہا : ہمیں ابو حازم نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکھٹے ہوجاؤ!میں تمھارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا ۔ " جنھوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہوگئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کی قراءت فرمائی ، پھر گھر میں چلے گئے تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا : مجھے لگتاہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبرآئی ہے ۔ جو آپ کو اندر لے گئی ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( دوبارہ ) باہر تشریف لائے اور فرمایا : " میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمھیں تہائی قرآن سناؤں گا ، جان لو یہ کہ ( سورت ) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ‏}‏ حَتَّى خَتَمَهَا ‏.‏
ابواسماعیل بشیر نے ابو حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : " میں تمھارے سامنے تہائی قرآن کی قراءت کرتا ہوں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿ اللَّهُ الصَّمَدُ پڑھا یہاں تک کہ اسے ( سورت ) کو ختم کردیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِي صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ فَلَمَّا رَجَعُوا ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سَلُوهُ لأَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ
عمرہ بنت عبدالرحمان نے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پرورش میں تھیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ فرمایا ، وہ اپنے ساتھیوں کی نماز میں قراءت کرتا اور ( اس کا ) اختتام قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سے کرتا تھا ۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انھوں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ۔ آپ نے فرمایا : " اسے پوچھو ، وہ ایسا کس لئے کرتا تھا؟ " صحابہ کرام نے پوچھا تو اس نے جواب دیا : اس لئے کہ یہ رحمٰن ( جل وعلا ) کی صفت ہے ، اس لئے مجھے اس بات سے محبت ہے کہ میں اس کی قراءت کروں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے بتادو! اللہ بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‏}‏ وَ ‏{‏ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
بیان ( بن بشر ) نے قیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمھیں معلوم نہیں کہ جو آیتیں آج مجھ پر نازل کی گئی ہیں ان جیسی ( آیتیں ) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں؟ " قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ النَّاسِ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُنْزِلَ - أَوْ أُنْزِلَتْ - عَلَىَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے اسماعیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے قیس سے اور انھوں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " مجھ پر ایسی آیتیں اتاری گئی ہیں کہ ان جیسی ( آیتیں ) کبھی دیکھی تک نہیں گئیں ۔ ( یعنی ) معوذ تین ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح