سنن نسائی — باب ۲۲The Book of Fasting
۳۴۵ احادیث (نمبر ۲۰۹۰ تا ۲۴۳۴) (صفحہ 8) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ، عَنْ صِيَامِ، عَاشُورَاءَ قَالَ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الأَيَّامِ إِلاَّ هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ " .
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ”اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے“
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي بَعْضُ، نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے، تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي وَعُقْبَةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ . قَالَ قَالَ عَطَاءٌ لاَ أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الأَبَدِ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے «صیام ابد» کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: ”اس شخص نے «صیام» ( روزے ) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ «صیام» ( روزے ) رکھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَخِيهِ، مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلاَنًا لاَ يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ . قَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ قَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ، - وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ - عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لاَ يُفْطِرُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ " .
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، ( اس کے بارے میں ) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے ( یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“۔
Abu Ghuddah: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً . وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ فَقَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " .
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“
Abu Ghuddah: -Al-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ قَالَ " صُمْ إِنْ شِئْتَ أَوْ أَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ . قَالَ " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ " . قَالُوا فَثُلُثَيْهِ قَالَ " أَكْثَرَ " . قَالُوا فَنِصْفَهُ قَالَ " أَكْثَرَ " . ثُمَّ قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں“ ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا " . قَالَ فَثُلُثَيْهِ قَالَ " أَكْثَرَ " . قَالَ فَنِصْفَهُ قَالَ " أَكْثَرَ " . قَالَ " أَفَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ " . قَالُوا بَلَى . قَالَ " صِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ“، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے“، لوگوں نے کہا: جی ہاں ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے“۔
Abu Ghuddah: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ " لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ " أَوَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ " . قَالَ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ " ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قَالَ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ " وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " ثَلاَثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " .
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا“۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے“، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
قَالَ وَفِيمَا قَرَأَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصِّيَامِ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزوں میں سب سے افضل داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ فَكَانَ يَأْتِيهَا فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ . فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ائْتِنِي بِهِ " . فَأَتَيْتُهُ مَعَهُ فَقَالَ " كَيْفَ تَصُومُ " . قُلْتُ كُلَّ يَوْمٍ . قَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صَوْمُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ " .
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو ( ایک دن ) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ“، میں والد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کس طرح روزے رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہر روز، آپ نے فرمایا: ”ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود علیہ السلام کے روزے ہیں، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً فَجَاءَ يَزُورُهَا فَقَالَ كَيْفَ تَرَيْنَ بَعْلَكِ فَقَالَتْ نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لاَ يَنَامُ اللَّيْلَ وَلاَ يُفْطِرُ النَّهَارَ . فَوَقَعَ بِي وَقَالَ زَوَّجْتُكَ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَلْتَهَا . قَالَ فَجَعَلْتُ لاَ أَلْتَفِتُ إِلَى قَوْلِهِ مِمَّا أَرَى عِنْدِي مِنَ الْقُوَّةِ وَالاِجْتِهَادِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لَكِنِّي أَنَا أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ " . قَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . فَقُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " . قُلْتُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ " . ثُمَّ انْتَهَى إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ وَأَنَا أَقُولُ أَنَا أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور ( نیکیوں میں ) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو“ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم «صیام داودی» رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو“، پھر آپ ( کم کرتے کرتے ) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔
Abu Ghuddah: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجْرَتِي فَقَالَ " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلَنَّ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِصَدِيقِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّهُ عَسَى أَنْ يَطُولَ بِكَ عُمُرٌ وَإِنَّهُ حَسْبُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثًا فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا " . قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ . قَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَىَّ . قَالَ " صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " . قُلْتُ وَمَا كَانَ صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ " نِصْفُ الدَّهْرِ " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہو گا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے رکھو“، میں نے کہا: داود علیہ السلام کا روزہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ ایک دن افطار“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يَقُولُ لأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ " . فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ لاَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ " . قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ " . فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ " . قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلاَثَةَ الأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہیں کر سکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر ( پورے سال کے روزوں ) کے مثل ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو“، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اس سے بہتر کچھ نہیں“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کر لی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قُلْتُ أَىْ عَمِّ حَدِّثْنِي عَمَّا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي كُنْتُ أَجْمَعْتُ عَلَى أَنْ أَجْتَهِدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى قُلْتُ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي حَتَّى دَخَلَ عَلَىَّ فِي دَارِي فَقَالَ " بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ لأَصُومَنَّ الدَّهْرَ وَلأَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ " . فَقُلْتُ قَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلْ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ مِنَ الْجُمُعَةِ يَوْمَيْنِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " . قُلْتُ فَإِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَإِنَّهُ أَعْدَلُ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمًا صَائِمًا وَيَوْمًا مُفْطِرًا وَإِنَّهُ كَانَ إِذَا وَعَدَ لَمْ يُخْلِفْ وَإِذَا لاَقَى لَمْ يَفِرَّ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟“ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو ( بلکہ ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے“۔
Abu Ghuddah: MunkarAl-Albani: MunkarZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنَ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصَّوْمَ فَقَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ التِّسْعَةِ " . فَقُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ مِنْ كُلِّ تِسْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ الثَّمَانِيَةِ " . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ مِنْ كُلِّ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِلْكَ السَّبْعَةِ " . قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى قَالَ " صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشْرَةٍ " . فَقُلْتُ زِدْنِي . فَقَالَ " صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " . قُلْتُ زِدْنِي . قَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ " . قَالَ ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ فَقَالَ مَا أُرَاهُ إِلاَّ يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ وَيَنْقُصُ مِنَ الأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا“۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔
Abu Ghuddah: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِذَلِكَ إِلاَّ الْخَيْرَ . قَالَ " لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى صَوْمِ الدَّهْرِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ خَمْسَةَ أَيَّامٍ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ عَشْرًا " . فَقُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”پانچ دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو دس دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو“، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ، - وَكَانَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ صَدُوقًا - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
Al-Albani: Daif
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ، - هُوَ الشَّاعِرُ - يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الأَبَدَ صَوْمُ الدَّهْرِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ " فِي خَمْسَةِ أَيَّامٍ " . وَقَالَ " صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ إِلَيْهِ حَتَّى قَالَ " صُمْ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔
Abu Ghuddah: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ وَلَمَّا لَقِيَهُ قَالَ " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلاَ تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا وَلِنَفْسِكَ حَظًّا وَلأَهْلِكَ حَظًّا وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ " . قَالَ إِنِّي أَقْوَى لِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " صُمْ صِيَامَ دَاوُدَ إِذًا " . قَالَ وَكَيْفَ كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى " . قَالَ وَمَنْ لِي بِهَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم ( ہمیشہ ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو“، پوچھا: اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“، انہوں نے کہا: کون ایسا کر سکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔
Abu Ghuddah: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، - وَهُوَ الْحَذَّاءُ - عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَىَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَالَ " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " خَمْسًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " سَبْعًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " تِسْعًا " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِحْدَى عَشْرَةَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ " .
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”پانچ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”سات دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: ”نو دن“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " فَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ " صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ " . قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثَةٍ لاَ أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلاَةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاءاللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصَوْمِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے: وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ۱؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔
Abu Ghuddah: MunkarAl-Albani: MunkarZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرَكْعَتَىِ الضُّحَى وَأَنْ لاَ أَنَامَ إِلاَّ عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
Abu Ghuddah: MunkarAl-Albani: MunkarZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " شَهْرُ الصَّبْرِ وَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ " .
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللاَّنِيُّ، بِالْكُوفَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " . ثُمَّ قَالَ " صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ { مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا } " .
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ”جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا“ ( الانعام: ۱۶۰ ) ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif