دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › سنن نسائی › باب ۲۴

سنن نسائی — باب ۲۴The Book of Hajj

۴۶۷ احادیث (نمبر ۲۶۱۹ تا ۳۰۸۴) (صفحہ 7) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں ( احرام کے ) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَالاَ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ ‏.‏ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ ‏.‏ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي ‏.‏ فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہیں ) اپنی ہدی کا نحر کر لیا اور سر منڈا لیا ( اور حلال ہو گئے ) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ ( اپنے اوپر ) واجب کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى ‏"‏ ‏.‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالاَ صَدَقَ ‏.‏
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، ( اس کا احرام کھل جائے گا ) اور اس پر دوسرا حج ہو گا“، ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں ( یعنی حجاج انصاری ) نے سچ کہا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالاَ صَدَقَ ‏.‏ وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ‏.‏
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے“ ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں ( حجاج انصاری ) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ”ان پر دوسرا حج ہے“ کے بجائے «وعليه الحج من قابل‏» ”آئندہ سال ان پر حج ہے“ کہا ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلاَةَ الصُّبْحِ حِينَ يَقْدَمُ إِلَى مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لَيْلاً مِنَ الْجِعِرَّانَةِ حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ عَنِ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ ‏.‏
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُزَاحِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنَ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلاً كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ فَاعْتَمَرَ ثُمَّ أَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ ‏.‏
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں ( یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا ) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( یعنی فتح مکہ کے دن ) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَقِيلَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحِلُّوا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ ( عمرہ کر کے ) احرام کھول ڈالیں۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَقَدْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو ( مکہ ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: ”جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے“ ( یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہو جائے ) ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ آئے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَقُولُ الشِّعْرَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَلِّ عَنْهُ فَلَهُوَ أَسْرَعُ فِيهِمْ مِنْ نَضْحِ النَّبْلِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ ( کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو ) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو ان کو ( پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ ‏"‏ هَذَا الْبَلَدُ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏.‏ فَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقِتَالُ لأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر ( مکہ ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام ( محترم و مقدس ) ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ وَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا فَإِنْ تَرَخَّصَ أَحَدٌ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ‏"‏ ‏.‏
ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، اور وہ ( عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر حملہ کے لیے ) مکہ پر چڑھائی کے لیے فوج بھیج رہے تھے، امیر ( محترم ) ! آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن کہی تھی اور جسے میرے دونوں کانوں نے سنی ہے میرے دل نے یاد رکھا ہے اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت آپ نے اسے زبان سے ادا کیا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے، اور آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کی وجہ سے اس کی رخصت دے تو اس سے کہو: یہ اجازت اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی ہے صرف اپنے رسول کو دی تھی، دن کے ایک تھوڑے سے حصہ میں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح واپس لوٹ آئی جیسے کل تھی، اور چاہیئے کہ جو موجود ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سُحَيْمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَغْزُو هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ۱؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا“۔
Abu Ghuddah: Hasan SahihAl-Albani: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَنْتَهِي الْبُعُوثُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يُخْسَفَ بِجَيْشٍ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر پر لشکر کشی سے لوگ باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی لشکر دھنسا دیا جائے گا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنِ الدَّالاَنِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُبْعَثُ جُنْدٌ إِلَى هَذَا الْحَرَمِ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ قَالَ ‏"‏ تَكُونُ لَهُمْ قُبُورًا ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہو گا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا“، میں نے کہا: بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے قبریں ہوں گی“ ( اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہو گا ) ۔
Abu Ghuddah: MunkarAl-Albani: MunkarZubair Ali Zai: Daif
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، سَمِعَ جَدَّهُ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّهُ قَالَ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ فَيُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَلاَ يَنْجُو إِلاَّ الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ مَا كَذَبْتَ عَلَى جَدِّكَ وَأَشْهَدُ عَلَى جَدِّكَ أَنَّهُ مَا كَذَبَ عَلَى حَفْصَةَ وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا ( ان کو دھنستا دیکھ کر ) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا“، ایک شخص نے ان ( امیہ بن صفوان ) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو، اور چوہیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَا��َ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جا سکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى حَتَّى نَزَلَتْ ‏{‏ وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا ‏}‏ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْتُلُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَابْتَدَرْنَاهَا فَدَخَلَتْ فِي جُحْرِهَا ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورۃ ”والمرسلات عرفاً“ نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“ تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِذَا حِسُّ الْحَيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اقْتُلُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ فَأَدْخَلْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَأَخَذْنَا سَعَفَةً فَأَضْرَمْنَا فِيهَا نَارًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“ لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہو گیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا“۔
Abu Ghuddah: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ ‏.‏
ام شریک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوَزَغُ الْفُوَيْسِقُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرگٹ چھوٹا فاسق ( موذی ) ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں جو سب کے سب فاسق ( موذی ) ہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگ ہوں میں مارے جا سکتے ہیں: کاٹ کھانے والا کتا، کوا، چیل، بچھو اور چوہیا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانوروں میں پانچ ایسے ہیں جو سب کے سب فاسق ( موذی ) ہیں وہ حرم میں ( بھی ) مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، چوہیا اور بچھو“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ فاسق ( موذی ) جانور ہیں انہیں حرم اور حرم کے باہر دونوں جگ ہوں میں مارا جا سکتا ہے: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس سند کا ذکر یوں کرتے ہیں: «عن الزهري عن سالم عن أبيه وعن عروة عن عائشة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور فاسق ( موذی ) ہیں انہیں حرم میں ( بھی ) مارا جا سکتا ہے ( وہ ہیں ) : بچھو، چوہیا، کوا، کاٹ کھانے والا کتا اور چیل“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَّةُ حَرَّمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلاَ لأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَهِيَ سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ رَجُلاً مُجَرِّبًا فَقَالَ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکہ ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اسی دن قائم کر دی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، صرف میرے لیے دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا اور وہ یہی گھڑی ہے اور یہ اب اللہ تعالیٰ کے حرام کر دینے کی وجہ سے قیامت تک حرام رہے گا، نہ اس کی تازہ گھاس کاٹی جائے گی، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ اس کی کوئی گری پڑی چیز حلال ہو گی، مگر اس شخص کے لیے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو“، یہ سنا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھے، وہ ایک تجربہ کار شخص تھے اور کہنے لگے سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُويَهْ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَابْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَقُولُ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ قَالَ عُمَرُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَلِّ عَنْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلاَمُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ۱؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی“، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں ( پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي هَاشِمٍ - قَالَ - فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ الْبَاهِلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الرَّجُلِ، يَرَى الْبَيْتَ أَيَرْفَعُ يَدَيْهِ قَالَ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلاَّ الْيَهُودَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ ‏.‏
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
Abu Ghuddah: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا فِي دَارِ يَعْلَى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَدَعَا ‏.‏
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دار یعلیٰ کے مکان میں آ جاتے ۱؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔
Abu Ghuddah: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ غَيْرَ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ‏.‏ وَخَالَفَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim