سنن نسائی — باب ۲۶The Book of Marriage
۱۹۳ احادیث (نمبر ۳۱۹۶ تا ۳۳۸۸) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَائِهِ كَانَتْ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( عید کے مہینے ) شوال میں شادی کی، اور میری رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی۔ ( عروہ کہتے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ مسلمان بیویوں کے پاس ( عید کے مہینے ) شوال میں جایا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے مجھ سے زیادہ آپ سے نزدیک اور فائدہ اٹھانے والی کوئی دوسری بیوی کون تھیں ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih Sahih Muslim
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ - قَالَتْ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَوْلاَهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ " . فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَأَنْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ . فَقَالَ " انْطَلِقِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ " . وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ . قَالَ " لاَ تَفْعَلِي فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ . مُخْتَصَرٌ .
عامر بن شراحیل شعبی کا بیان ہے کہ انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے ( جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں ) سنا ہے انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ آ کر شادی کا پیام دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھے اپنے غلام اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کے لیے پیغام دیا، اور میں نے سن رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو کوئی مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے اسامہ سے بھی محبت رکھنی چاہیئے“۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ( اس سلسلے میں ) گفتگو کی تو میں نے کہا: میں اپنا معاملہ آپ کو سونپتی ہوں، آپ جس سے چاہیں میری شادی کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ام شریک کے پاس چلی جاؤ“۔ ( کہتی ہیں: ) وہ انصار کی ایک مالدار اور فی سبیل اللہ بہت خرچ کرنے والی عورت تھیں ان کے پاس مہمان بکثرت آتے تھے۔ میں نے کہا: میں ایسا ہی کروں گی پھر آپ نے کہا: نہیں، ایسا مت کرو، کیونکہ ام شریک بہت مہمان نواز عورت ہیں اور مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ تم وہاں رہو، پھر کبھی تمہاری اوڑھنی تمہارے ( سر ) سے ڈھلک جائے یا تمہاری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے تو تجھے لوگ کسی ایسی حالت میں عریاں دیکھ لیں جو تمہارے لیے ناگواری کا باعث ہو بلکہ ( تمہارے لیے مناسب یہ ہے کہ ) تم اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس چلی جاؤ، وہ فہر ( قبیلے ) کی نسل سے ہیں، چنانچہ میں ان کے یہاں چلی گئی۔ یہ حدیث مختصر ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے“ ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے ( نیا ) پیغام نہ دے“ ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے“۔
Abu Ghuddah: -Al-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ الرَّجُلِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ۱؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک ( پہلا ) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ۲؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُمَا سَأَلاَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ عَنْ أَمْرِهَا، فَقَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا فَكَانَ يَرْزُقُنِي طَعَامًا فِيهِ شَىْءٌ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ لِي النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لأَطْلُبَنَّهَا وَلاَ أَقْبَلُ هَذَا . فَقَالَ الْوَكِيلُ لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ . قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لَيْسَ لَكِ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ فَاعْتَدِّي عِنْدَ فُلاَنَةَ " . قَالَتْ وَكَانَ يَأْتِيهَا أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ " اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ آذَنْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَنْ خَطَبَكِ " . فَقُلْتُ مُعَاوِيَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ مِنْ قُرَيْشٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَإِنَّهُ غُلاَمٌ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ لاَ شَىْءَ لَهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَإِنَّهُ صَاحِبُ شَرٍّ لاَ خَيْرَ فِيهِ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . قَالَتْ فَكَرِهْتُهُ . فَقَالَ لَهَا ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَنَكَحَتْهُ .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا ( کہ کیسے کیا ہوا؟ ) تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور کھانے کے لیے مجھے جو خوراک دینے لگے اس میں کچھ خرابی تھی ( اچھا نہ تھا ) تو میں نے کہا: اگر نفقہ اور سکنی میرا حق ہے تو اسے لے کر رہوں گی لیکن میں یہ ( ردی سدی گھٹیا کھانے کی چیز ) نہ لوں گی، ( میرے شوہر کے ) وکیل نے کہا: نفقہ و سکنی کا تمہارا حق نہیں بنتا۔ ( یہ سن کر ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اس ( بات چیت ) کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( وہ سچ کہتا ہے ) تیرے لیے نفقہ و سکنی ( کا حق ) نہیں ہے ۱؎، تم فلاں عورت کے پاس جا کر اپنی عدت پوری کر لو“ ۲؎ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آتے جاتے رہتے تھے۔ ( پھر کچھ سوچ کر کہ وہاں رہنے سے بےپردگی اور شرمندگی نہ ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے یہاں رہ کر اپنی عدت پوری کر لو کیونکہ وہ نابینا ہیں ۳؎، پھر جب ( عدت پوری ہو جائے اور ) تو دوسروں کے لیے حلال ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو“، چنانچہ جب میں حلال ہو گئی ( اور کسی بھی شخص سے شادی کرنے کے قابل ہو گئی ) تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے شادی کا پیغام دیا ہے؟“ میں نے کہا: معاویہ نے، اور ایک دوسرے قریشی شخص نے ۴؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا معاویہ تو وہ قریشی لڑکوں میں سے ایک لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، رہا دوسرا شخص تو وہ صاحب شر اور لاخیرا ہے ( اس سے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے ) ۵؎، ایسا کرو تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“ فاطمہ کہتی ہیں: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو لیکن وہ مجھے جچے نہیں ) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے ( آپ کی بات رکھ لی اور ) ان سے شادی کر لی۔
Abu Ghuddah: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ . فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ . فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ " . فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " . قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ وَلَكِنِ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ " انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " . فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ .
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی اور وہ موجود نہ تھے۔ ( شہر سے باہر سفر پر تھے ) پھر ان کے پاس اپنے وکیل کو کچھ جو دے کر بھیجا تو وہ ان پر غصہ اور ناراض ہوئیں، تو وکیل نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا تو ہم پر کوئی حق ہی نہیں بنتا ( یوں سمجھئے کہ یہ جو تو تمہاری دلداری کے لیے ہے ) ۔ تو فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے بھی فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے“ اور انہیں حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ کر عدت پوری کرو، پھر کہا: ام شریک کو ہمارے صحابہ گھیرے رہتے ہیں ( ان کے گھر نہیں بلکہ ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی عدت کے دن پوری کرو، وہ اندھے آدمی ہیں، تم وہاں اپنے کپڑے بھی اتار سکو گی، پھر جب تم ( عدت پوری کر کے ) حلال ہو جاؤ تو مجھے خبر دو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہو گئی تو آپ کو اطلاع دی کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم دونوں نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ابوجہم تو اپنے کندھے سے اپنی لاٹھی اتار کر نہیں رکھتے ۱؎“ اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن آپ نے دوبارہ پھر کہا کہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو تو میں نے ان کے ساتھ شادی کر لی، اور اللہ تعالیٰ نے اس شادی میں ہمیں بڑی برکت دی اور میں ان کے ذریعہ قابل رشک بن گئی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ وَالصَّوَابُ أَبُو هُرَيْرَةَ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ ( دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا ) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے ( بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو ) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، امْرَأَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک ( انصاری ) عورت سے شادی کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( پہلے ) اسے دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ( نقص ) ہوتا ہے“ ( شادی بعد تم نے دیکھا اور وہ تیرے لیے قابل قبول نہ ہوئی تو ازدواجی زندگی تباہ ہو جائے گی ) ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ حُذَافَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ . فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ . فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِيتُهُ فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا . قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضى الله عنه فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا إِلاَّ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا نَكَحْتُهَا .
(عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا ) ۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ ( اس نکاح کے بعد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَتِ ابْنَةُ أَنَسٍ فَقَالَتْ مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا . فَقَالَ أَنَسٌ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو ( نکاح کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، تو ( یہ سن کر ) انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہنس پڑیں، اور کہا: کتنی کم حیاء عورت ہے! انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ( بیٹی! ) یہ عورت تجھ سے اچھی ہے ( ذرا اس کی طلب تو دیکھ ) اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا ہے، ( اور آپ کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ) ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِزَيْدٍ " اذْكُرْهَا عَلَىَّ " . قَالَ زَيْدٌ فَانْطَلَقْتُ فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُكِ . فَقَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَبِّي فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِغَيْرِ أَمْرٍ .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں ( یہ کہہ کر ) وہ اپنے مصلی پر ( صلاۃ استخارہ پڑھنے ) کھڑی ہو گئیں، ( ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا ) ، اور قرآن نازل ہو گیا: «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ( اس آیت کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت ( یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے، اور ) ان سے خلوت میں ملے۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ أَبُو بَكْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ . وَفِيهَا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر اس بات کا فخر کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) میرا نکاح آسمان ہی پر فرما دیا۔ اور انہیں کے سلسلے سے پردے کی آیت نازل ہوئی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَعِينُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ - قَالَ - وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ " .
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور ( و معاملات ) میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے، جیسا کہ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے، فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی ( اچھے ) کام کا ارادہ کرے تو فرض ( اور اس کے توابع ) کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر ( دعا کرتے ہوئے ) کہے: «اللہم إني أستخيرك بعلمك وأستعينك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللہم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال في عاجل أمري وآجله – فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال في عاجل أمري وآجله – فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی برکت سے تجھ سے بھلائی اور خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کا واسطہ دے کر تیری مدد کا چاہتا ہوں اور تیرے عظیم فضل کا طالب ہوں کیونکہ تو قدرت والا ہے، میں قدرت والا نہیں، تو ( اچھا و برا سب ) جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو ہی غیب کی باتوں کو جانتا ہے، اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ، ( پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے ) میرے لیے میرے دین، دنیا اور کے اعتبار سے، یا یہ کہا: اس دار فانی اور اخروی زندگی کے اعتبار سے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر تو جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین، دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے یا اس دار فانی اور اخروی زندگی کے لحاظ سے تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا لے۔ اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور مجھے اس پر راضی و خوش رکھ“۔ آپ نے فرمایا: ” ( دعا کرتے وقت ) اپنی ضرورت کا نام لے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ لَكِ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلاَ غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ " . فَقَالَتْ لاِبْنِهَا يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَوَّجَهُ . مُخْتَصَرٌ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی شادی کا پیغام بھیجا۔ جسے انہوں نے قبول نہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنی شادی کا پیغام دے کر ان کے پاس بھیجا، انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچا دو کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( دوسری بیویوں کے ساتھ رہ نہ پاؤں گی ) بچوں والی ہوں ( ان کا کیا بنے گا ) اور میرا کوئی ولی اور سر پرست بھی موجود نہیں ہے۔ ( جب کہ نکاح کرنے کے لیے ولی بھی ہونا چاہیئے ) عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو یہ سب باتیں بتائیں، آپ نے ان سے کہا: ( دوبارہ ) ان کے پاس ( لوٹ ) جاؤ اور ان سے کہو: تمہاری یہ بات کہ میں ایک غیرت مند عورت ہوں ( اس کا جواب یہ ہے کہ ) میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا، اللہ تمہاری غیرت ( اور سوکنوں کی جلن ) دور کر دے گا، اور اب رہی تمہاری ( دوسری ) بات کہ میں بچوں والی عورت ہوں تو تم ( شادی کے بعد ) اپنے بچوں کی کفایت ( و کفالت ) کرتی رہو گی اور اب رہی تمہاری ( تیسری ) بات کہ میرا کوئی ولی موجود نہیں ہے ( تو میری شادی کون کرائے گا ) تو ایسا ہے کہ تمہارا کوئی ولی موجود ہو یا غیر موجود میرے ساتھ تمہارے رشتہ نکاح کو ناپسند نہ کرے گا ( جب عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب ان کے سامنے رکھا ) تو انہوں نے اپنے بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( میرا ) نکاح کر دو، تو انہوں نے ( اپنی ماں کا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا، یہ حدیث مختصر ہے۔
Abu Ghuddah: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسَبْعِ سِنِينَ وَدَخَلَ عَلَىَّ لِتِسْعِ سِنِينَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ۱؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِتِسْعِ سِنِينَ وَصَحِبْتُهُ تِسْعًا .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور نو ہی برس میں آپ کی صحبت میں رہی ( پھر آپ رحلت فرما گئے ) ۔
Abu Ghuddah: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب آپ نے انہیں چھوڑ کر انتقال فرمایا تو اس وقت وہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھیں۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه حَدَّثَنَا قَالَ يَعْنِي تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ - قَالَ عُمَرُ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ . قَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا . قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضى الله عنه فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ . فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا . قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي قَدْ كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا وَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا .
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابی رسول خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، ان کے انتقال سے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا، اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: میں اپنے بارے میں غور کر کے بتاؤں گا، میں کئی دن ٹھہرا ( انتظار کرتا ) رہا، پھر وہ مجھ سے ملے اور کہا: میرے غور و فکر میں یہی آیا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ سے آپ کی شادی کر دوں، ( یہ سن کر ) ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اور مجھے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابل میں زیادہ ہی غصہ آیا، پھر چند ہی راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: غالباً آپ کو اس وقت بڑا غصہ آیا ہو گا جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی تھی اور ( میری جانب سے ) آپ کو کوئی جواب نہ ملا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ کی پیش کش کا جواب نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کا ذکر فرما چکے تھے اور میں آپ کا راز فاش کرنے والا نہیں تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں انہیں قبول کر لیتا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری ( لڑکی ) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت ( اس سے پوچھے جانے پر ) اس کا خاموش رہنا ہے“ ۲؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے نفس کی خود مالک ہے۔ ( شادی کرے گی ) اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ ( و اجازت ) لی جائے گی، اور ( جواباً ) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت اپنے آپ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ( کہ شادی کرے تو کس سے کرے یا نہ کرے ) اور کنواری لڑکی کی شادی باپ اس کی اجازت لے کر کرے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ " إِذْنُهَا أَنْ تَسْكُتَ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے“ ۲؎۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ " . قِيلَ فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي وَتَسْكُتُ . قَالَ " هُوَ إِذْنُهَا " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے ان کی شادی کے بارے میں مشورہ کیا کرو“، کہا گیا: کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہے، اور چپ رہتی ہے ( بول نہیں پاتی ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ " أَنْ تَسْكُتَ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس سے مشورہ نہ لے لیا جائے اور کنواری لڑکی کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کا خاموش رہنا“ ( ہی اس کی اجازت ہے ) ۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعِ، ابْنَىْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ، أَنَّ أَبَاهَا، زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ نِكَاحَهُ .
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَتَاةً، دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ بِي خَسِيسَتَهُ وَأَنَا كَارِهَةٌ . قَالَتِ اجْلِسِي حَتَّى يَأْتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَدَعَاهُ فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ أَلِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ان کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس کی خست اور کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے کر دی ہے، حالانکہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں، انہوں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ لینے دو ( پھر اپنا قضیہ آپ کے سامنے پیش کرو ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے آئے تو اس نے آپ کو اپنے معاملے سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کو بلا بھیجا ( اور جب وہ آ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اس ( لڑکی ) کے اختیار میں دے دیا اس ( لڑکی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد نے جو کچھ کر دیا ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ( ان کے کئے ہوئے نکاح کو رد نہیں کرتی ) لیکن میں نے ( اس معاملہ کو آپ کے سامنے پیش کر کے ) یہ جاننا چاہا ہے کہ کیا عورتوں کو بھی کچھ حق و اختیار حاصل ہے ( سو میں نے جان لیا ) ۔
Abu Ghuddah: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَيْهَا " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «یتیمہ» کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی ( اس کا چپ رہنا ہی ) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور ( زور و دباؤ ) نہیں ہے“ ۱؎۔
Abu Ghuddah: HasanAl-Albani: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بِسَرِفَ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے اس وقت شادی کی جب کہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎، اور یعلیٰ ( راوی ) کی حدیث میں «سرف» کا بھی ذکر ہے ۲؎۔
Abu Ghuddah: ShadhAl-Albani: ShadhZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں شادی کی۔
Abu Ghuddah: ShadhAl-Albani: ShadhZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ جَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ فَأَنْكَحَهَا إِيَّاهُ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور آپ اس وقت احرام میں تھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنا معاملہ عباس رضی اللہ عنہما کے سپرد کر رکھا تھا تو انہوں نے ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی۔
Abu Ghuddah: ShadhAl-Albani: ShadhZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ مُوسَى - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔
Abu Ghuddah: ShadhAl-Albani: ShadhZubair Ali Zai: Sahih
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رضى الله عنه يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكِحُ وَلاَ يَخْطُبُ " .
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ خود اپنا نکاح کرے نہ کسی اور کا کرائے، اور نہ ( ہی ) نکاح کا پیغام دے“۔
Abu Ghuddah: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih