جامع ترمذی — باب ۱۵The Chapters On Judgements From The Messenger of Allah
۶۲ احادیث (نمبر ۱۳۲۲ تا ۱۳۸۵) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ بِلاَلِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ يُنْزِلُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا فَيُسَدِّدُهُ " .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے ( اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی ) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے“۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ، وَهُوَ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ فِيهِ شُفَعَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى .
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اسرائیل کی ( سابقہ ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ أَوْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہو جائے تو ( بھی ) اس کے لیے ایک اجر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند «سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الأنصاري» إلا من حديث «عبدالرزاق عن معمر عن سفيان الثوري» روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " كَيْفَ تَقْضِي " . فَقَالَ أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " . قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي . قَالَ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " .
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر ( اس کا حکم ) اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ( اس کا حکم ) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: ( تب ) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو ( صواب کی ) توفیق بخشی“۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو ابْنُ أَخٍ، لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أُنَاسٍ، مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ عِنْدِي بِمُتَّصِلٍ . وَأَبُو عَوْنٍ الثَّقَفِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
اس سند سے بھی معاذ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے، ۳- ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔
Zubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ .
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلاَنِ فَلاَ تَقْضِ لِلأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلاَمَ الآخَرِ فَسَوْفَ تَدْرِي كَيْفَ تَقْضِي " . قَالَ عَلِيٌّ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ لِمُعَاوِيَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ إِمَامٍ يُغْلِقُ بَابَهُ دُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَالْخَلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ إِلاَّ أَغْلَقَ اللَّهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ " . فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلاً عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ . وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ .
عمرو بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی الله عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو بھی حاکم حاجت مندوں، محتاجوں اور مسکینوں کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضرورت، حاجت اور مسکنت کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے“، جب معاویہ رضی الله عنہ نے یہ سنا تو لوگوں کی ضرورت کے لیے ایک آدمی مقرر کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن مرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عمرو بن مرہ جہنی کی کنیت ابومریم ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ . وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ شَامِيٌّ وَبُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ كُوفِيٌّ وَأَبُو مَرْيَمَ هُوَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ .
ابومریم رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ یزید بن ابی مریم شام کے رہنے والے ہیں اور برید بن ابی مریم کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ابومریم کا نام عمرو بن مرہ جہنی ہے۔
Zubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كَتَبَ أَبِي إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ أَنْ لاَ، تَحْكُمْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ . فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحْكُمُ الْحَاكِمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو بَكْرَةَ اسْمُهُ نُفَيْعٌ .
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جو قاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوبکرہ کا نام نفیع ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الأَوْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَلَمَّا سِرْتُ أَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرُدِدْتُ فَقَالَ " أَتَدْرِي لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ لاَ تُصِيبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِي فَإِنَّهُ غُلُولٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِهَذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَبُرَيْدَةَ وَالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ .
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، جب میں روانہ ہوا تو آپ نے میرے پیچھے ( مجھے بلانے کے لیے ) ایک آدمی کو بھیجا، میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں بلانے کے لیے آدمی کیوں بھیجا ہے؟ ( یہ کہنے کے لیے کہ ) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا، اس لیے کہ وہ خیانت ہے، اور جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن خیانت کے مال کے ساتھ حاضر ہو گا، یہی بتانے کے لیے میں نے تمہیں بلایا تھا، اب تم اپنے کام پر جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاذ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طریق سے بروایت ابواسامہ جانتے ہیں جسے انہوں نے داود اودی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عدی بن عمیرہ، بریدہ، مستور بن شداد، ابوحمید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: Daif IsnaadAl-Albani: Daif IsnaadZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَائِشَةَ وَابْنِ حَدِيدَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرُوِيَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَصِحُّ . قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بھی مروی ہے انہوں عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ سے ان کے باپ کے واسطے سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو کہتے سنا کہ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ اچھی اور سب سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن حدیدہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أُهْدِيَ إِلَىَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ عَلَيْهِ لأَجَبْتُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَسَلْمَانَ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے کھر بھی ہدیہ کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ، سلمان، معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنْ قَضَيْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنا مقدمہ لے کر میرے پاس آتے ہو میں ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنا دعویٰ بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ۱؎ تو اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا کوئی حق دلوا دوں تو گویا میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، لہٰذا وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي . فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْحَضْرَمِيِّ " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلَكَ يَمِينُهُ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لاَ يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ . قَالَ " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلاَّ ذَلِكَ " . قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ لِيَحْلِفَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَدْبَرَ " لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِكَ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اس پر کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے، اس پر اس ( حضرمی ) کا کوئی حق نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“، اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو“، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہا ہے۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو“۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا فرمایا: اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي خُطْبَتِهِ " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " . هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ .
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . قَالَ رَبِيعَةُ وَأَخْبَرَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ وَجَدْنَا فِي كِتَابِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسُرَّقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں: مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد رضی الله عنہ کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ کیا“ حسن غریب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور مدی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . قَالَ وَقَضَى بِهَا عَلِيٌّ فِيكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً . وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ وَيَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ رَأَوْا أَنَّ الْيَمِينَ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ جَائِزٌ فِي الْحُقُوقِ وَالأَمْوَالِ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَالُوا لاَ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ إِلاَّ فِي الْحُقُوقِ وَالأَمْوَالِ . وَلَمْ يَرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ أَنْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ .
ابو جعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ کیا، راوی کہتے ہیں: اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، ۲- اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرفوعاً ) روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلانا جائز ہے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ۴- اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ۱؎۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا - أَوْ قَالَ شِقْصًا أَوْ قَالَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " . قَالَ أَيُّوبُ وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا“، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام ( پورا ) آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق: «عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو ( تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا ) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا - أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ فَخَلاَصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، نَحْوَهُ وَقَالَ " شَقِيصًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهَكَذَا رَوَى أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، مِثْلَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . وَرَوَى شُعْبَةُ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَمْرَ السِّعَايَةِ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السِّعَايَةِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ السِّعَايَةَ فِي هَذَا . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاقُ . وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ غَرِمَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ وَعَتَقَ الْعَبْدَ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنَ الْعَبْدِ مَا عَتَقَ وَلاَ يُسْتَسْعَى . وَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے“۔ محمد بن بشار سے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں «شقصاً» کے بجائے «شقیصا» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، ۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سعایہ ( کمائی کرانے ) کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۶- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان ادا کرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیا گیا ہے اتنا آزاد ہو گا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔ اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی رو سے یہ بات کہی ہے، اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَمُعَاوِيَةَ .
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“، یا فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ رِوَايَةِ مَالِكٍ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ " وَلِعَقِبِهِ " . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا قَالَ هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ وَلِعَقِبِكَ . فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْمِرَهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ . وَإِذَا لَمْ يَقُلْ لِعَقِبِكَ فَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَى الأَوَّلِ إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ . وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ فَهِيَ لِوَرَثَتِهِ وَإِنْ لَمْ تُجْعَلْ لِعَقِبِهِ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو عمریٰ دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کے گھر والوں یعنی ورثاء کا ہے کیونکہ وہ اسی کا ہو جاتا ہے جس کو دیا جاتا ہے، عمری دینے والے کی طرف نہیں لوٹتا ہے اس لیے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث ثابت ہو گئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح معمر اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے مالک کی روایت ہی کی طرح روایت کی ہے اور بعض نے زہری سے روایت کی ہے، مگر اس نے اس میں «ولعقبه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اور یہ حدیث اس کے علاوہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“ اور اس میں «لعقبه» کا ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب دینے والا یہ کہے کہ یہ تیری عمر تک تیرا ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہو گا جس کو دیا گیا ہے۔ اور دینے والے کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اور جب وہ یہ نہ کہے کہ ( تیری اولاد ) کا بھی ہے تو جسے دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد دینے والے کا ہو جائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے ۱؎، ۵- اور دیگر کئی سندوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جائے گا“، ۶- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس کو گھر دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد وہ گھر اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اگرچہ اس کے وارثوں کو نہ دیا گیا ہو۔ سفیان ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۲؎۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الرُّقْبَى جَائِزَةٌ مِثْلَ الْعُمْرَى . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَفَرَّقَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ بَيْنَ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى فَأَجَازُوا الْعُمْرَى وَلَمْ يُجِيزُوا الرُّقْبَى . قَالَ أَبُو عِيسَى وَتَفْسِيرُ الرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ هَذَا الشَّىْءُ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنْ مِتَّ قَبْلِي فَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَىَّ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ الرُّقْبَى مِثْلُ الْعُمْرَى وَهِيَ لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَلاَ تَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ۱؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مر گئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر ( جس کے نام چیز دی گئی تھی ) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہو گا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ صُلْحًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلاَّ شَرْطًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلاَ يَمْنَعْهُ " . فَلَمَّا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ . وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالُوا لَهُ أَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْيَمِينُ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ " . وَقَالَ قُتَيْبَةُ " عَلَى مَا صَدَّقَكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هُوَ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ ظَالِمًا فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الْحَالِفِ وَإِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ مَظْلُومًا فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الَّذِي اسْتَحْلَفَ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اسی چیز پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی ( فریق مخالف ) قسم لے رہا ہے“ ( توریہ کا اعتبار نہیں ہو گا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن ابی صالح، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستہ سات ہاتھ ( چوڑا ) رکھو“۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ ( چوڑا ) رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ( سابقہ ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَيَّرَ غُلاَمًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَجَدِّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو مَيْمُونَةَ اسْمُهُ سُلَيْمٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ قَالُوا يُخَيَّرُ الْغُلاَمُ بَيْنَ أَبَوَيْهِ إِذَا وَقَعَتْ بَيْنَهُمَا الْمُنَازَعَةُ فِي الْوَلَدِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَالاَ مَا كَانَ الْوَلَدُ صَغِيرًا فَالأُمُّ أَحَقُّ فَإِذَا بَلَغَ الْغُلاَمُ سَبْعَ سِنِينَ خُيِّرَ بَيْنَ أَبَوَيْهِ . هِلاَلُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ هُوَ هِلاَلُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہو جائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہو جائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلاَدَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ . وَأَكْثَرُهُمْ قَالُوا عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ قَالُوا إِنَّ يَدَ الْوَالِدِ مَبْسُوطَةٌ فِي مَالِ وَلَدِهِ يَأْخُذُ مَا شَاءَ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَأْخُذُ مِنْ مَالِهِ إِلاَّ عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے اپنی ماں سے اور ان کی ماں نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، لیکن اکثر راویوں نے «عن أمّه» کے بجائے «عن عمته» کہا ہے یعنی عمارہ بن عمیر نے اپنی پھوپھی سے اور انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کے مال میں کلی اختیار ہے وہ جتنا چاہے لے سکتا ہے، ۵- اور بعض کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بوقت ضرورت ہی لے سکتا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَهْدَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا فَأَلْقَتْ مَا فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " طَعَامٌ بِطَعَامٍ وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ رضی الله عنہا نے ( غصے میں ) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَارَ قَصْعَةً فَضَاعَتْ فَضَمِنَهَا لَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ . وَإِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي سُوَيْدٌ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أَصَحُّ . اسْمُ أَبِي دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، ۲- سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ۱؎، ۳- ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Very Daif IsnaadAl-Albani: Very Daif IsnaadZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يَقْبَلْنِي فَعُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَبِلَنِي . قَالَ نَافِعٌ وَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ . ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ يَبْلُغُ الْخَمْسَ عَشْرَةَ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ أَنَّ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ . وَذَكَرَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ . قَالَ نَافِعٌ فَحَدَّثْنَا بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الذُّرِّيَّةِ وَالْمُقَاتِلَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ يَرَوْنَ أَنَّ الْغُلاَمَ إِذَا اسْتَكْمَلَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَحُكْمُهُ حُكْمُ الرِّجَالِ وَإِنِ احْتَلَمَ قَبْلَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَحُكْمُهُ حُكْمُ الرِّجَالِ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ الْبُلُوغُ ثَلاَثَةُ مَنَازِلَ بُلُوغُ خَمْسَ عَشْرَةَ أَوْ الاِحْتِلاَمُ فَإِنْ لَمْ يُعْرَفْ سِنُّهُ وَلاَ احْتِلاَمُهُ فَالإِنْبَاتُ يَعْنِي الْعَانَةَ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا۔ نافع کہتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہو جائیں ( مال غنیمت سے ) ان کو حصہ دیا جائے۔ دوسری سند سے عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ( عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ نابالغ اور بالغ کی یہی حد ہے ) البتہ سفیان بن عیینہ نے اپنی حدیث میں یہ بیان کیا ہے کہ نافع کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: بچہ اور مقاتل ( جو جنگ میں شرکت کا اہل ہو ) کے درمیان یہی حد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب بچہ پندرہ سال مکمل کر لے تو اس کا حکم وہی ہو گا جو مردوں کا ہوتا ہے اور اگر پندرہ سال سے پہلے ہی اس کو احتلام آنے لگے تو بھی اس کا حکم مردوں جیسا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: بلوغت کی تین علامتیں ہیں: بچہ پندرہ سال کا ہو جائے، یا اس کو احتلام آنے لگے، اور اگر عمر اور احتلام نہ معلوم ہو سکے تو جب اس کے ناف کے نیچے کے بال اگ آئیں تو وہ بالغ ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ آتِيَهُ بِرَأْسِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْبَرَاءِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ وَرُوِيَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ عَنْ خَالِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی ( دوسری ) بیوی سے شادی کر رکھی ہے تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عدی بن ثابت سے اور عدی نے عبداللہ بن یزید سے اور عبداللہ نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث اشعث سے بھی مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن براء سے اور یزید نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۴- نیز یہ اشعث سے مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن البراء سے اور یزید نے اپنے ماموں سے اور ان کے ماموں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں قرہ مزنی سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih