دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › جامع ترمذی › باب ۲۹

جامع ترمذی — باب ۲۹Chapters On Inheritance

۲۶ احادیث (نمبر ۲۰۹۰ تا ۲۱۱۵) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قال حَدَّثَنَا أَبِي، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قال حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ ‏.‏ مَعْنَى ضَيَاعًا ضَائِعًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ فَأَنَا أَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ( مرنے کے بعد ) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زہری نے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے اور وہ حدیث اس سے طویل اور مکمل ہے، ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- «ضياعا» کا معنی یہ ہے کہ ایسی اولاد جس کے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کی کفالت کروں گا اور ان پر خرچ کروں گا ۱؎۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ، قال حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، قال حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ ‏".‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، بِهَذَا بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں اضطراب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifBashar Awad Maarouf: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالاً وَلاَ تُنْكَحَانِ إِلاَّ وَلَهُمَا مَالٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ ‏"‏ أَعْطِ ابْنَتَىْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَقَدْ رَوَاهُ شَرِيكٌ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو جو سعد سے پیدا ہوئی تھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کے باپ آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے، اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور بغیر مال کے ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا“، چنانچہ اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( لڑکیوں ) کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو مال کا دو تہائی حصہ دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ، اور جو بچے وہ تمہارا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل سے شریک نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ, قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنْ الاِبْنَةِ، وَابْنَةِ الاِبْنِ، وَأُخْتٍ، لأَبٍ وَأُمٍّ فَقَالاَ لِلاِبْنَةِ النِّصْفُ وَلِلأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ مَا بَقِيَ ‏.‏ وَقَالاَ لَهُ انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا ‏.‏ فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالاَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهِمَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلاِبْنَةِ النِّصْفُ وَلاِبْنَةِ الاِبْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَلِلأُخْتِ مَا بَقِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو قَيْسٍ الأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ الْكُوفِيُّ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ ‏.‏
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا، ان دونوں نے جواب دیا: بیٹی کو آدھی میراث اور حقیقی بہن کو باقی حصہ ملے گا، انہوں نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، وہ بھی ہماری طرح جواب دیں گے، وہ آدمی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آیا، ان سے مسئلہ بیان کیا اور ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ نے جو کہا تھا اسے بھی بتایا، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اگر میں بھی ویسا ہی جواب دوں تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ نہ رہا، میں اس سلسلے میں اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ ( بیٹیوں کا مکمل حصہ ) دو تہائی پورا ہو جائے اور باقی حصہ بہن کو ملے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ‏)‏ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاَّتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لأَبِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» ”تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ( میراث تقسیم کی جائے گی ۱؎ ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔ ( اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو ) حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی بھائی ( جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو ) وارث نہیں ہوں گے، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں“۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاَّتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ”حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف ابواسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ابواسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں حارث سے اور حارث، علی رضی الله عنہ سے، ۲- بعض اہل علم نے حارث کے بارے میں کلام کیا ہے، ۳- عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ أَقْسِمُ مَالِي بَيْنَ وَلَدِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ شَيْئًا فَنَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنا مال اپنی اولاد ۱؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» ”اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے“ ( النساء: ۱۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ، سفیان بن عیینہ اور دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث محمد بن منکدر کے واسطہ سے جابر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، قال أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قال أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَىَّ فَأَتَى وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَبَّ عَلَىَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي أَوْ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي شَيْئًا وَكَانَ لَهُ تِسْعُ أَخَوَاتٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ ‏:‏ ‏(‏يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فِيَّ نَزَلَتْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے آئے، آپ نے مجھے بیہوش پایا، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے، وہ پیدل چل کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا، میں ہوش میں آ گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ یا میں اپنے مال ( کی تقسیم ) کیسے کروں؟ ( یہ راوی کا شک ہے ) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا – جابر رضی الله عنہ کے پاس نو بہنیں تھیں – یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ”لوگ آپ سے ( کلالہ ۱؎ کے بارے میں ) فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے“ ( النساء: ۱۷۶ ) ۔ جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی جانب سے متعین میراث کے حصوں کو حصہ داروں تک پہنچا دو، پھر اس کے بعد جو بچے وہ میت کے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے“۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي فِي مِيرَاثِهِ قَالَ ‏"‏ لَكَ السُّدُسُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ لَكَ سُدُسٌ آخَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ السُّدُسَ الآخَرَ طُعْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا“، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا: ”دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں معقل بن یسار رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ مَرَّةً قَالَ قَبِيصَةُ وَقَالَ مَرَّةً رَجُلٌ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ أُمُّ الأُمِّ أَوْ أُمُّ الأَبِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَ ابْنِي أَوِ ابْنَ بِنْتِي مَاتَ وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّ لِي فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَجِدُ لَكِ فِي الْكِتَابِ مِنْ حَقٍّ وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى لَكِ بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ ‏.‏ قَالَ فَسَأَلَ فَشَهِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهَا السُّدُسَ ‏.‏ قَالَ وَمَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ‏.‏ قَالَ فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى الَّتِي تُخَالِفُهَا إِلَى عُمَرَ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَنِي فِيهِ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ أَحْفَظْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَكِنْ حَفِظْتُهُ مِنْ مَعْمَرٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ لَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا انْفَرَدَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا ‏.‏
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ اس کو کس نے سنا ہے؟ مغیرہ رضی الله عنہ نے کہا: محمد بن مسلمہ نے۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس اس کے علاوہ دوسری دادی آئی ( اگر پہلے والی دادی تھی تو عمر کے پاس نانی آئی اور اگر پہلی والی نانی تھی تو عمر کے پاس دادی آئی ) سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: زہری کے واسطہ سے روایت کرتے ہوئے معمر نے اس حدیث میں مجھ سے کچھ زیادہ باتیں بیان کی ہیں، لیکن زہری کے واسطہ سے مروی روایت مجھے یاد نہیں، البتہ مجھے معمر کی روایت یاد ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) وارث ہو تو چھٹے حصے میں دونوں شریک ہوں گی، اور جو منفرد ہو تو چھٹا حصہ اسے ملے گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهَا مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ ‏.‏ فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَلَكِنْ هُوَ ذَاكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ ‏.‏ وَهَذَا أَحْسَنُ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی، ابوبکر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی کچھ نہیں ہے، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھ لوں، انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے دادی یا نانی کو چھٹا حصہ دیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ محمد بن مسلمہ انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور اسی طرح کی بات کہی جیسی مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے لیے حکم جاری کر دیا، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس دوسری دادی ( اگر پہلی دادی تھی تو دوسری نانی تھی اور اگر پہلی نانی تھی تو دوسری دادی تھی ) میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی۔ انہوں نے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے البتہ وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) اجتماعی طور پر وارث ہو تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تم میں سے جو منفرد اور اکیلی ہو تو وہ اسی کو ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ ( مالک کی ) روایت سفیان بن عیینہ کی روایت کی بنسبت زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا إِنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَىٌّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ - وَقَدْ وَرَّثَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا وَلَمْ يُوَرِّثْهَا بَعْضُهُمْ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( پوتے کے ترکہ میں ) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں: وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لاَ مَوْلَى لَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوعبیدہ رضی الله عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ اور اس کے رسول ولی ( سر پرست ) ہیں جس کا کوئی ولی ( سر پرست ) نہیں ہے اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ اور مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لاَ وَارِثَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ أَرْسَلَهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏ - وَاخْتَلَفَ فِيهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَرَّثَ بَعْضُهُمُ الْخَالَ وَالْخَالَةَ وَالْعَمَّةَ وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَوْرِيثِ ذَوِي الأَرْحَامِ وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَلَمْ يُوَرِّثْهُمْ وَجَعَلَ الْمِيرَاثَ فِي بَيْتِ الْمَالِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے ماموں، خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہرایا ہے۔ ذوی الارحام ( قرابت داروں ) کو وارث بنانے کے بارے میں اکثر اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ۴- لیکن زید بن ثابت رضی الله عنہ نے بھی انہیں وارث نہیں ٹھہرایا ہے یہ میراث کو بیت المال میں رکھنے کے قائل ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى، لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَعَ مِنْ عِذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ وَارِثٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَادْفَعُوهُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلاَّ عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِيرَاثَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً أَنَّ مِيرَاثَهُ يُجْعَلُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی مر گیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اہل علم کا عمل ہے کہ جب کوئی آدمی مر جائے اور اپنے پیچھے کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَ هَذَا ‏.‏ وَرَوَى مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهَمٌ وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ فَقَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ قَالُوا عَنْ مَالِكٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ هُوَ مَشْهُورٌ مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ وَلاَ يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصَحْابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا“ ۱؎۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ‏.‏
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْقَاتِلُ لاَ يَرِثُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ يَصِحُّ وَلاَ يُعْرَفُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ قَدْ تَرَكَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقَاتِلَ لاَ يَرِثُ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ الْقَتْلُ خَطَأً فَإِنَّهُ يَرِثُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل ( مقتول کا ) وارث نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں، ۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا ‏.‏ فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلاَبِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بارے میں جس کا حمل ساقط ہو کر بچہ مر گیا تھا ایک «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، ( حمل گرانے والی مجرمہ ایک عورت تھی ) پھر جس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ ( بطور دیت ) غرہ ( غلام ) دے، مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر میں تقسیم ہو گی، اور اس پر عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یونس نے یہ حدیث «عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کی سند سے روایت کی ہے، اور مالک نے «عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے جو حدیث روایت کی ہے وہ مرسل ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَوَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقَالَ، بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ وَيُقَالُ ابْنُ مَوْهَبٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ‏.‏ وَقَدْ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ وَبَيْنَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ وَلاَ يَصِحُّ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِيهِ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ وَهُوَ عِنْدِي لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُجْعَلُ مِيرَاثُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
تمیم داری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اس مشرک کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ( مسلمان ) اس ( نو مسلم ) کی زندگی اور موت کا میں تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف عبداللہ بن وہب کی روایت سے جانتے ہیں، ان کو ابن موہب بھی کہا جاتا ہے، یہ تمیم داری سے روایت کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے عبداللہ بن وہب اور تمیم داری کے درمیان قبیصہ بن ذویب کو داخل کیا ہے جو صحیح نہیں، یحییٰ بن حمزہ نے عبدالعزیز بن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی سند میں قبیصہ بن ذویب کا اضافہ کیا ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے، ۳- بعض لوگوں نے کہا ہے: اس کی میراث بیت المال میں رکھی جائے گی، شافعی کا یہی قول ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اس ) حدیث سے استدلال کیا ہے «أن الولاء لمن أعتق» ”حق ولاء ( میراث ) اس شخص کو حاصل ہے جو آزاد کرے“۔
Ahmad Muhammad Shakir: Hasan SahihAl-Albani: Hasan SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَدُ وَلَدُ زِنَا لاَ يَرِثُ وَلاَ يُورَثُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ وَلَدَ الزِّنَا لاَ يَرِثُ مِنْ أَبِيهِ.‏
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو ( اس سے پیدا ہونے والا ) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ ( اس زانی کا ) وارث ہو گا۔ نہ زانی ( اس کا ) وارث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَرِثُ الْوَلاَءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا هَارُونُ أَبُو مُوسَى الْمُسْتَمْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي بُسْرٍ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلاَثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لاَعَنَتْ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ يُعْرَفُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ ‏.‏
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت تین قسم کی میراث اکٹھا کرتی ہے: اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث، اس لڑکے کی میراث جسے راستے سے اٹھا کر اس کی پرورش کی ہو، اور اس لڑکے کی میراث جس کو لعان کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے صرف محمد بن حرب کی روایت سے معروف ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif