دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › جامع ترمذی › باب ۴۹

جامع ترمذی — باب ۴۹Chapters on Virtues

۳۴۸ احادیث (نمبر ۳۶۰۵ تا ۳۹۵۶) (صفحہ 4) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْدِرِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الأَجْلَحِ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا عَنِ الأَجْلَحِ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ ‏"‏ ‏.‏ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏ "‏ يَا عَلِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدَ مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرُكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ وَاسْتَغْرَبَهُ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بُعِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ ‏.‏ وَمُسْلِمٌ الأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ حَبَّةَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا ‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Daif IsnaadAl-Albani: Daif IsnaadZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ ( اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعَلِيٍّ ‏ "‏ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِسَدِّ الأَبْوَابِ إِلاَّ بَابَ عَلِيٍّ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کے دروازے کے علاوہ ( مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام ) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي، مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ ‏.‏ وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلاَمٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ ‏.‏
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي، يَحْيَى بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَّهُ لاَ يُحِبُّكَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَبْغَضُكَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ ‏.‏ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی رضی الله عنہ بھی تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ”اے اللہ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ فَصَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَوْجَبَ طَلْحَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے ( جنت ) واجب کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَلاَ أُبَشِّرُكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ سَمِعَتْ أُذُنِي، مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَاىَ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: DaifAl-Albani: DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنَىْ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِمَا، طَلْحَةَ أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ وَكَانُوا لاَ يَجْتَرِئُونَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ فَسَأَلَهُ الأَعْرَابِيُّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَىَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَعْرَابِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ ‏.‏
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ”کتاب الفوائد“ میں رکھا ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Hasan SahihAl-Albani: Hasan SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَقَالَ ‏ "‏ بِأَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيِّ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُقَالُ الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ ‏.‏ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ ‏.‏
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: Hasan SahihAl-Albani: Hasan SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الأَحْزَابِ قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“ ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟“ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Hasan SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ فَقَالَ مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلاَّ وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Sahih IsnaadAl-Albani: Sahih IsnaadZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ فِي، نَفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَعَدَّ هَؤُلاَءِ التِّسْعَةَ وَسَكَتَ عَنِ الْعَاشِرِ فَقَالَ الْقَوْمُ نَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا الأَعْوَرِ مَنِ الْعَاشِرُ قَالَ نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ أَبُو الأَعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏أَبُو الأَعْوَرِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ‏.‏ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ هُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏
حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص ( جنتی ہیں ) “ وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو ( ۹ ) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے ( اس لیے میں بتا رہا ہوں ) ابوالاعور جنتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلاَّ الصَّابِرُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ ‏.‏ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَدْ كَانَ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ يقالُ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، أَوْصَى بِحَدِيقَةٍ لأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِيعَتْ بِأَرْبَعِ مِئَةِ أَلْفٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ ( درہم ) میں بیچا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Hasan IsnaadAl-Albani: Hasan IsnaadBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ‏.‏ وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا خَالِي ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ میرے ماموں ہیں“۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَاهُ وَأُمَّهُ لأَحَدٍ إِلاَّ لِسَعْدٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَقَالَ لَهُ ارْمِ أَيُّهَا الْغُلاَمُ الْحَزَوَّرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: MunkarAl-Albani: MunkarZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلاَّ لِسَعْدٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ سَعْدٌ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً قَالَ ‏"‏ لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلاَحِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا جَاءَ بِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ ‏.‏ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ ‏.‏ قِيلَ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ هُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏ قِيلَ فَمَنِ الْعَاشِرُ قَالَ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ ‏ "‏ إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: Sahih LighairihiAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Sahih Muslim
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْعَبَّاسِ ‏"‏ إِذَا كَانَ غَدَاةُ الاِثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لاَ تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ ‏"‏ ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلاَئِكَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏ وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihZubair Ali Zai: Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلاَ انْتَعَلَ وَلاَ رَكِبَ الْمَطَايَا وَلاَ رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏‏ وَالْكُورُ الرَّحْلُ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: Sahih Isnaad MauqufAl-Albani: Sahih Isnaad MauqufBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Isnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ‏ "‏ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا: ”تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو“، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahih Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنْ كُنْتُ لأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ مَا أَسْأَلُهُ إِلاَّ لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ فَيَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا ‏.‏ فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
Ahmad Muhammad Shakir: Very DaifAl-Albani: Very DaifZubair Ali Zai: Daif
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه أَبَا الْمَسَاكِينِ فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبْنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، ( جو ہمیں پیش کرتے ) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔
Zubair Ali Zai: Daif