دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › بچوں کا گوشہ › سیرت کی کہانیاں › کہانی ۱

مکہ کا ننھا یتیم — جسے اللہ نے پناہ دی

پیارے نبی ﷺ کا بچپن: پیدائش سے آٹھ سال کی عمر تک

پیارے بچو! آؤ آج وقت کی ایک لمبی سیر پر چلتے ہیں — آج سے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے، عرب کے ایک گرم اور ریتیلے ملک کی طرف۔ یہ کہانی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی ہے۔

حصہ ۱

پہاڑوں کے بیچ ایک شہر

عرب کے ریگستان میں، اونچے اونچے پہاڑوں کے بیچ، ایک چھوٹا سا شہر تھا: مکہ۔

اس شہر کے بیچوں بیچ اللہ کا گھر تھا — خانہ کعبہ۔ بہت پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر اس کی دیواریں اٹھائی تھیں۔

مکہ میں قریش نام کا ایک بڑا قبیلہ رہتا تھا، اور قریش میں ایک عزت والا خاندان تھا: بنو ہاشم۔ اسی خاندان میں وہ بچہ پیدا ہونے والا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجنا تھا۔

حصہ ۲

ہاتھی والوں کا سال

پیارے نبی ﷺ کی پیدائش سے کچھ ہی پہلے مکہ میں ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا۔

یمن کا ایک حکمران، جس کا نام ابرہہ تھا، ایک بہت بڑی فوج اور ہاتھی لے کر مکہ پر چڑھ آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ خانہ کعبہ کو گرا دے۔

مکہ والے اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کیسے کرتے؟ مگر کعبہ تو اللہ کا گھر ہے، اور اللہ نے اپنے گھر کی خود حفاظت فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے، جو ان پر کنکریاں برساتے تھے، اور ابرہہ کی ساری فوج تباہ ہو گئی۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں بیان ہوا ہے۔

اسی لیے عرب کے لوگ اس سال کو «عام الفیل» یعنی «ہاتھی والا سال» کہنے لگے۔

حصہ ۳

پیر کی ایک روشن صبح

مکہ کے سردار عبدالمطلب کے ایک بیٹے تھے، جن کا نام عبداللہ تھا۔ ان کی شادی بنو زہرہ کی ایک شریف خاتون، حضرت آمنہ سے ہوئی۔

پھر ایک دکھ بھری خبر آئی۔ عبداللہ ایک تجارتی سفر سے لوٹتے ہوئے یثرب میں (جسے آج ہم مدینہ منورہ کہتے ہیں) بیمار ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ اکثر علماء کے مطابق یہ ننھے بچے کی پیدائش سے پہلے کی بات ہے — یعنی ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنے ابا جان کو کبھی نہیں دیکھا۔

پھر ربیع الاول کے مہینے میں، پیر کے دن، حضرت آمنہ کے ہاں ایک پیارا سا بیٹا پیدا ہوا۔ خود پیارے نبی ﷺ نے بعد میں بتایا کہ پیر وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا — اور اسی لیے آپ ﷺ پیر کا روزہ رکھا کرتے تھے۔

دادا عبدالمطلب خوشی سے اپنے پوتے کو گود میں لے کر خانہ کعبہ گئے، اور اس کا نام رکھا: «محمد» ﷺ — یعنی «وہ جس کی بہت تعریف کی جائے»۔

ایک مہربان خاتون، ام ایمن رضی اللہ عنہا، ننھے محمد ﷺ کو گود میں اٹھاتیں اور ان کی دیکھ بھال کرتیں۔

حصہ ۴

صحرا کی طرف سفر

اس زمانے میں مکہ کے شریف گھرانوں کا ایک رواج تھا: وہ اپنے ننھے بچوں کو کچھ سالوں کے لیے صحرا کے قبیلوں کے پاس بھیج دیتے۔ وہاں کی کھلی ہوا صحت کے لیے اچھی تھی، اور بچے وہاں صاف ستھری، خالص عربی زبان سیکھتے تھے۔

ایک سال بنو سعد قبیلے کی کچھ عورتیں مکہ آئیں تاکہ دودھ پلانے کے لیے بچے ساتھ لے جائیں۔ وہ قحط کا سال تھا — بارش نہیں ہوئی تھی اور ہر طرف بھوک تھی۔

انہی عورتوں میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب عورتوں کو ننھے محمد ﷺ کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے سوچا کہ یہ تو یتیم بچہ ہے، اس کے ابا نہیں ہیں — اس لیے کوئی انہیں لینے کو تیار نہ ہوا۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو بھی کوئی اور بچہ نہ ملا۔ انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ خالی ہاتھ لوٹنے سے بہتر ہے کہ میں اسی یتیم بچے کو لے لوں۔

پیارے بچو! حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو کیا معلوم تھا کہ وہ دنیا کے سب سے بابرکت بچے کو اپنے گھر لے جا رہی ہیں!

حصہ ۵

برکتوں کی بارش

سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ جیسے ہی ننھے محمد ﷺ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ان کے گھر میں برکتیں ہی برکتیں ہونے لگیں:

  • ان کی کمزور اونٹنی، جو دودھ نہیں دیتی تھی، دودھ دینے لگی — اور سب گھر والوں نے پیٹ بھر کر پیا۔
  • واپسی کے سفر میں ان کی دبلی پتلی سواری، جو ہمیشہ قافلے سے پیچھے رہ جاتی تھی، سب سے آگے نکل گئی۔
  • قحط کے باوجود ان کی بکریاں چراگاہ سے پیٹ بھر کر لوٹتیں، جبکہ دوسروں کی بکریاں بھوکی واپس آتیں۔

دو سال بعد حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا ننھے محمد ﷺ کو ان کی امی جان سے ملانے مکہ لائیں۔ مگر انہیں اس بچے سے اتنی محبت ہو گئی تھی کہ انہوں نے درخواست کی کہ کچھ عرصہ اور اپنے پاس رکھ لیں — اور حضرت آمنہ نے اجازت دے دی۔

یوں ننھے محمد ﷺ نے اپنے بچپن کے تقریباً چار پانچ سال صحرا میں گزارے: کھلے آسمان تلے، اپنے رضاعی بہن بھائیوں کے ساتھ۔

حصہ ۶

فرشتے کی آمد

ایک دن ننھے محمد ﷺ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اللہ کے فرشتے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔

انہوں نے آپ ﷺ کو لٹایا، سینہ مبارک کھولا اور دل مبارک میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکال کر فرمایا کہ یہ شیطان کا حصہ تھا۔ پھر دل مبارک کو سونے کے ایک طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اور اسے واپس اس کی جگہ رکھ دیا۔

دوسرے بچے ڈر کر دوڑتے ہوئے حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے۔ لوگ گھبرا کر آئے تو دیکھا کہ ننھے محمد ﷺ بالکل خیریت سے ان کی طرف چلے آ رہے ہیں — بس چہرے کا رنگ کچھ بدلا ہوا تھا۔

یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کے دل کو بچپن ہی میں پاک صاف کر دیا۔ برسوں بعد آپ ﷺ کے خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں اس نشان کو آپ ﷺ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا۔

سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ اس واقعے کے بعد حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فکرمند ہو گئیں اور ننھے محمد ﷺ کو ان کی امی جان کے پاس مکہ واپس لے آئیں۔

حصہ ۷

امی جان کے ساتھ آخری سفر

اب ننھے محمد ﷺ مکہ میں اپنی امی جان، حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگے۔ ماں بیٹے میں بہت پیار تھا۔

جب آپ ﷺ تقریباً چھ سال کے ہوئے تو حضرت آمنہ آپ ﷺ کو لے کر یثرب گئیں، جہاں آپ ﷺ کے ننھیالی رشتہ دار رہتے تھے۔

واپسی کے سفر میں، «ابواء» نام کی جگہ پر حضرت آمنہ بیمار ہو گئیں، اور وہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔

ذرا سوچو بچو — ایک چھ سال کا بچہ، جس کے ابا جان پہلے ہی دنیا سے جا چکے تھے، اور اب امی جان بھی… ننھے محمد ﷺ بہت اداس ہوئے۔

مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ مہربان ام ایمن رضی اللہ عنہا، جو بچپن سے آپ ﷺ کی دیکھ بھال کرتی تھیں، آپ ﷺ کو سنبھال کر مکہ میں دادا جان کے پاس لے آئیں۔

بڑے ہو کر بھی آپ ﷺ اپنی امی جان کو نہیں بھولے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر گئے، روئے، اور اپنے آس پاس والوں کو بھی رلا دیا۔

حصہ ۸

دادا جان اور چچا جان کی محبت

دادا عبدالمطلب مکہ کے سردار تھے۔ وہ اپنے یتیم پوتے سے بے حد محبت کرتے تھے اور انہیں ہر وقت اپنے قریب رکھتے۔

مگر دو سال بعد، جب آپ ﷺ تقریباً آٹھ سال کے تھے، دادا جان کا بھی انتقال ہو گیا۔

اب آپ ﷺ کے چچا ابوطالب نے آپ ﷺ کو اپنے گھر لے لیا۔ چچا ابوطالب زیادہ امیر نہیں تھے اور ان کے اپنے بھی کئی بچے تھے، پھر بھی وہ اپنے بھتیجے سے اپنے بچوں جیسی، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر محبت کرتے تھے۔

حصہ ۹

اللہ کی پناہ

پیارے بچو! کیا تم نے غور کیا؟ ابا جان، پھر امی جان، پھر دادا جان — ایک کے بعد ایک سب دنیا سے چلے گئے۔ مگر ہر بار اللہ تعالیٰ نے کسی مہربان کو بھیج دیا: حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا، ام ایمن رضی اللہ عنہا، دادا عبدالمطلب اور چچا ابوطالب۔

بہت سال بعد، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا، تو خود اپنے پیارے نبی ﷺ کو یہ بات یاد دلائی:

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ﴿٦﴾
بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی) (۶) — ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری

وہ یتیم بچہ، جسے لوگوں نے کمزور سمجھا تھا، اللہ کی نظر میں سب سے پیارا تھا — اور وہی بچہ بڑا ہو کر ساری دنیا کے لیے رحمت بنا۔ ﷺ

اس کہانی سے ہم نے کیا سیکھا؟

اللہ ہمیشہ ساتھ ہے

مشکل سے مشکل وقت میں بھی اللہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔

یتیموں سے پیار کرو

پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: «میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے»

امی ابو اور بڑوں کی قدر کرو

آپ ﷺ بڑے ہو کر بھی اپنی امی جان اور اپنی دیکھ بھال کرنے والوں کو یاد رکھتے تھے۔

پیر کا دن

آپ ﷺ پیر کا روزہ رکھتے تھے، کیونکہ اسی دن آپ ﷺ پیدا ہوئے تھے۔

مشکل الفاظ

یتیم
وہ بچہ جس کے ابا دنیا میں نہ رہے ہوں
رضاعی ماں
وہ خاتون جو کسی بچے کو دودھ پلائے اور پالے
قحط
جب بارش نہ ہو اور کھانے پینے کی کمی ہو جائے
برکت
اللہ کی طرف سے کسی چیز میں اضافہ اور بھلائی
قافلہ
اکٹھے سفر کرنے والوں کا گروہ
طشت
ایک بڑا اور کھلا برتن
عام الفیل
ہاتھی والا سال