دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۱۵

موطا امام مالک — باب ۱۵The Qur'an

۴۸ احادیث (نمبر ۴۷۰ تا ۵۱۹) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَى وُضُوءٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاكَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضو کے حضرت عمر نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے کیا مسیلمہ نے کہا
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلاَةِ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس کسی کے ورد کا رات کو ناغہ ہو جائے اور وہ دوسرے دن زوال تک ظہر کی نماز تک پڑھ لے تو گویا فوت نہیں ہوا بلکہ اس نے پا لیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، جَالِسَيْنِ فَدَعَا مُحَمَّدٌ رَجُلاً فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِالَّذِي، سَمِعْتَ مِنْ، أَبِيكَ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ، أَتَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ كَيْفَ تَرَى فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي سَبْعٍ فَقَالَ زَيْدٌ حَسَنٌ وَلأَنْ أَقْرَأَهُ فِي نِصْفٍ أَوْ عَشْرٍ أَحَبُّ إِلَىَّ وَسَلْنِي لِمَ ذَاكَ قَالَ فَإِنِّي أَسْأَلُكَ ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ لِكَىْ أَتَدَبَّرَهُ وَأَقِفَ عَلَيْهِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں اور محمد بن یحیی بن حبان بیٹھے ہوئے تھے سو محمد نے ایک شخص کو بلایا اور کہا تم نے جو اپنے باپ سے سنا ہے اس کو بیان کرو اس شخص نے کہا میرا باپ گیا زیدی بن ثابت کے پاس اور ان سے پوچھا کہ سات روز میں کلام اللہ تمام کرنا کیسا ہے بولے اچھا ہے میرے نزدیک پندرہ روز یا بیس روز میں تمام کرنا بہتر ہے پوچھو مجھ سے کیوں کہا انہوں نے میں نے پوچھا کیوں زید نے کہا تاکہ میں اس کو سمجھتا جاؤں یاد رکھتا جاؤں
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلْهُ - ثُمَّ قَالَ - اقْرَأْ يَا هِشَامُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ اقْرَأْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ میں نے سنا عمر بن خطاب سے کہتے تھے میں نے ہشام بن حزام کو پڑھتے سنا سورت فرقان کو اور طرح سوائے اس طریقہ کے جس طرح میں پڑھتا تھا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھایا تھا اس سورت کو، قریب ہوا کہ میں جلدی کر کے ان پر غصہ نکالوں لیکن میں چپ رہا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوئے نماز سے تب میں انہی کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر لے آیا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ان کو سورت فرقان پڑھتے سنا اور طور پر خلاف اس طور کے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہے تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دو ان کو پھر فرمایا ان سے پڑھو تو پڑھا ہشام نے اسی طور سے جس طرح میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اتری ہے یہ سورت پھر ارشاد کیا آپ نے کہا تو پڑھ پھر میں نے پڑھی پھر فرمایا قرآن شریف اترا ہے سات حرف پر تو پڑھو جس طرح سے آسان ہو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن کی مثال ایسی ہے کہ جیسے اونٹ والے کی جب تک اونٹ کو بندھا رکھے گا وہ رہے گا جب چھوڑ دے گا چلا جائے گا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَىَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيُفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح وحی آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز اور وہ نہایت سخت ہوتی ہے میرے اوپر پھر جب موقوف ہو جاتی ہے تو میں یاد کر لیتا ہوں جو کہتا ہے فرشتہ جو آدمی کی شکل بن کر مجھ سے باتیں کرتا ہے تو میں یاد کر لیتا ہوں جو کہتا ہے حضرت ام المومنین عائشہ کہتی ہیں کہ جب وحی اترتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت جاڑے کے دنوں میں پھر جب موقوف ہوتی تھی تو پیشانی سے آپ کے پسینہ بہتا تھا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ أُنْزِلَتْ ‏{‏عَبَسَ وَتَوَلَّى‏}‏ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَقُولُ يَا مُحَمَّدُ اسْتَدْنِينِي وَعِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الآخَرِ وَيَقُولُ ‏"‏ يَا أَبَا فُلاَنٍ هَلْ تَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا ‏"‏ ‏.‏ فَيَقُولُ لاَ وَالدِّمَاءِ مَا أَرَى بِمَا تَقُولُ بَأْسًا ‏.‏ فَأُنْزِلَتْ ‏{‏عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الأَعْمَى‏}‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہا انہوں نے عبس وتولی اتری ہے عبداللہ بن ام مکتوم میں وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہنے لگے اے محمد بتاؤ مجھ کو کوئی جگہ قریب اپنے تاکہ بیٹھوں میں وہاں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک شخص بیٹھا تھا بڑے آدمیوں میں سے مشرکوں کے ابی بن خلف یا عتبہ بن ربیعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ نہ کرتے تھے اے باپ فلاں کے کیا میں جو کہتا ہوں اس میں کچھ حرج ہے وہ کہتا تھا نہیں قسم ہے بتوں کی تمہارے کہنے میں کچھ حرج نہیں ہے تب یہ آیتیں اتریں عبس وتولی
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلاً فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَىْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عُمَرُ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لاَ يُجِيبُكَ - قَالَ عُمَرُ - فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يُنْزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي - قَالَ - فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ - قَالَ - فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ‏}‏
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سفر میں سوار ہو کر چل رہے تھے اور عمر بن خطاب بھی ان کے ساتھ تھے پس حضرت عمر نے ایک بات پوچھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جواب نہ دیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھی جب بھی جواب نہ دیا پھر پوچھی جب بھی جواب نہ دیا اس وقت حضرت عمر نے دل میں کہا کاش تو مر گیا ہوتا اے عمر تین بار تو نے گڑگڑا کر پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کسی بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ کو تیز کیا اور آگے بڑھ گیا لیکن میرے دل میں یہ خوف تھا کہ شاید میرے بارے میں کلام اللہ اترے گا تو تھوڑی دیر میں ٹھہرا تھا اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو مجھ کو پکارتا ہے اس وقت مجھے اور زیادہ خوف ہوا اس بات کا کہ کلام اللہ میرے بارے میں اترا ہوگا سو آیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور سلام کیا میں نے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کو میرے اوپر ایک سورت ایسی اتری ہے جو ساری دنیا کی چیزوں سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے پھر پڑھا انا فتحنا لک فتحا مبینا
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ وَأَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَلاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ تَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَتَمَارَى فِي الْفُوقِ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نکلیں گے تم میں سے کچھ لوگ جو حقیر جانیں گے تمہاری نماز کو اپنی نماز کے مقابلے میں اور تمہارے روزوں کو اپنے روزوں کے مقابلہ میں اور تمہارے اعمال کو اپنے اعمال کے مقابلہ میں پڑھیں گے کلام اللہ کو اور نہ اترے گا ان کے حلقوں کے نیچے نکل جائیں گے دین سے جیسے نکل جاتا ہے تیر اس جانور میں سے جو شکار کیا جائے آر پار ہو کر صاف اگر پیکان کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہیں پائے اگر تیر کی لکڑی کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہ پائے اگر پر کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہ پائے اور سو فار میں شک ہو کہ کچھ لگا ہے یا نہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سورت بقرہ آٹھ برس تک سیکھتے رہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، مَكَثَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثَمَانِيَ سِنِينَ يَتَعَلَّمُهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَرَأَ لَهُمْ ‏{‏إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ فِيهَا ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ابوہریرہ نے پڑھا سورت اذالسماء انشقت کو تو سجدہ کیا اور جب فارغ ہوئے سجدہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اس میں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ سُورَةَ الْحَجِّ فَسَجَدَ فِيهَا سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ السُّورَةَ فُضِّلَتْ بِسَجْدَتَيْنِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مصر والوں میں سے خبر دی مجھ کو کہ عمر بن خطاب نے سورت حج کو پڑھا تو اس میں دو سجدے کئے پھر فرمایا کہ یہ سورت فضیلت دی گئی بسبب دو سجدوں کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَسْجُدُ فِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے انہوں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو سورت حج میں دو سجدے کرتے ہوئے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، ‏.‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَرَأَ بِالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَسَجَدَ فِيهَا ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ‏.‏
اعرج سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے والنجم اذا ہوا پڑھ کر سجدہ کیا پھر سجدہ سے کھڑے ہو کر ایک اور سورت پڑھی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏
ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا ایک شخص کو قل ھو اللہ احد بار بار پڑھتے ہوئے تو جب صبح ہوئی آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بیان کیا ان سے یہ امر اور ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی دانست میں کم جانتے تھے اس سورت کو پس فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یہ سورت برابر ہے تہائی قرآن کے۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعَ رَجُلاً يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَجَبَتْ ‏"‏ ‏.‏ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ الْجَنَّةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ إِلَيْهِ فَأُبَشِّرَهُ ثُمَّ فَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے تھے آیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قل ھو اللہ احد پڑھتے ہوئے فرمایا واجب ہوئی پوچھا میں نے کیا چیز فرمایا جنت کہا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میں نے چاہا کہ اس شخص کو جاکر خوشخبری دوں لیکن میں ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ میرا صبح کا کھانا جاتا رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو میں نے پہلے کھانا کھایا۔ پھر گیا میں تو دیکھا کہ وہ شخص چلا گیا
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَأَنَّ ‏{‏تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ‏}‏ تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا ‏.‏
حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ قل ہو اللہ احد برابر ہے تہائی قرآن کے اور تبارک الذی بیدہ الملک لڑے گی اپنے پڑھنے والی کی طرف سے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کہے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل چیز قدیر ۔ ایک روز میں سو بار تو گویا اس نے دس غلام آزاد کئے اور سو نیکیاں اس کے لئے لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس کی مٹائی جائیں گی اور وہ اس دن پھر شیطان کے شر سے بچا رہے گا یہاں تک کہ شام ہو اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل نہ لائے گا مگر اس سے بھی زیادہ عمل کرے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کہا سبحان اللہ وبحمدہ ایک دن میں سو بار مٹائے جائیں گے گناہ اس کے اگرچہ ہوں مثل سمندر کے پھین کے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَبَّحَ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَخَتَمَ الْمِائَةَ بِلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ نے کہا جو شخص ہر نماز کے بعد سبحان اللہ کہے تینتیس بار اور اللہ اکبر کہے تینتیس بار اور الحمد للہ کہے تینتیس بار اور ختم کرے سو کے عددلا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل چیز قدیر ۔ پس بخش دیئے جائیں گے گناہ اس کے اگرچہ ہوں مثل سمندر کی جھاگ کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ إِنَّهَا قَوْلُ الْعَبْدِ اللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا باقیات صالحات یہ کلمے ہیں اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ لا الہ الا اللہ ولاحول ولا قوة الا باللہ ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ، أَعْمَالِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى ‏.‏ قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ‏.‏
ابو الدردا نے کہا کیا تم کو نہ بتاؤں وہ کام جو تمہارے سب کاموں سے بہتر ہے تمہارے لئے اور درجہ میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمہارے مالک کے نزدیک سب کاموں سے زیادہ عمدہ ہے اور بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے اور بہتر ہے اس سے کہ تم اپنے دشمن سے لڑ کر اس کی گردن مارو اور وہ تمہاری گردن مارے کہا صحابہ نے ہاں بتاؤ کہا انہوں نے ذکر اللہ سبحانہ کا ۔ معاذ بن جبل نے کہا آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو زیادہ نجات دینے والا ہو اس کو اللہ کے عذاب سے سوا ذکر الٰہی کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهُنَّ أَوَّلاً ‏"‏ ‏.‏
رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تو جب سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے اور کہا سمع اللہ لمن حمدہ ایک شخص بولا ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پس جب فارغ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فرمایا کون شخص بولا تھا ابھی اس شخص نے کہا میں تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے دیکھا کہ تیس سے زیادہ کچھ فرشتے جلدی کر رہے تھے کہ کون پہلے لکھے اس کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نبی کے لئے ایک دعا مقرر ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دعا کو اٹھا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے واسطے دن آخرت کے۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ فَالِقَ الإِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَقُوَّتِي فِي سَبِيلِكَ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے پس فرماتے تھے اے اللہ پیدا کرنے والے صبح کو اور رات کو راحت بنانے والے اور سورج اور چاند کے حساب سے چلانے والے ادا کر تو قرض میرا اور غنی کر مجھ کو محتاجی سے اور فائدہ دے مجھ کو میرے کان اور آنکھ سے اور میری قوت سے اپنی راہ میں ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِذَا دَعَا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے یا اللہ بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو اور رحم کر ہم پر اگر چاہے تو بلکہ یوں کہے بخش دے مجھ کو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا قبول ہوتی ہے جب تک دعا مانگنے والا جلدی نہ کرے اور یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی سو دعا میری قبول نہ ہوئی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمان دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے سو فرماتا ہے کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ ‏ "‏ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ ام المومنین نے کہا میں سو رہی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سو نہ پایا میں نے ان کو پس چھوا میں نے آپ کو تو رکھا میں نے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے فرماتے تھے پناہ مانگتا ہوں ہو تیری رضامندی کی تیرے غصے سے اور تیری عفو کی تیرے عتاب سے اور تجھ سے میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل دعاؤں میں دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل ان سب کلمات میں جو میں نے کہے ہیں اور اگلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے ان کو یہ دعا جیسے سکھاتے تھے ان کو ایک سورت قرآن کی فرماتے تھے اے اللہ پناہ مانگتا ہوں میں تیری جہنم کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے نماز کو عین رات میں فرماتے یا اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تو نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں ، اور تو ہی قائم رکھنے والا ہے آسمانوں اور زمینوں کو ، اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کا جو آسمان اور زمین کے بیچ میں ہیں تو حق ہے تیرا قول سچا ہے تیرا وعدہ برحق ہے تجھ سے ملنا حق ہے جنت وجہنم حق ہے قیامت حق ہے اے پروردگار تیرے حکم کا میں تابعدار ہوں اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور تیری مدد سے میں لڑا کفار سے اور تجھ کو میں نے حاکم بنایا جب اختلاف ہوا سو بخش دے میرے اگلے اور پچھلے اور چھپے اور کھلے گناہ تو میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الأَنْصَارِ - فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلاَثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ ‏.‏ فَقُلْتُ دَعَا بِأَنْ لاَ يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلاَ يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لاَ يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا ‏.‏ قَالَ صَدَقْتَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے تو پوچھا مجھ سے تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے کہا ہاں عبداللہ بن عمر نے کہا بتاؤ مجھ کو میں نے کہا دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی، کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرنا اور ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں خون اور جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہ ہوئی عبداللہ بن عمر نے کہا سچ کہا تو نے پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلاَّ كَانَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُكَفَّرَ عَنْهُ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے تھے جو شخص دعا کرتا ہے تو اس کی دعا تین حال سے خالی نہیں ہوتی یا قبول ہو جاتی ہے یا رکھ لی جاتی ہے قیامت کے دن پر یا گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو، وَأُشِيرُ، بِأَصْبُعَيْنِ أَصْبُعٍ مِنْ كُلِّ يَدٍ فَنَهَانِي ‏.‏
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ دیکھا مجھ کو عبداللہ بن عمر نے دعا کرتے ہوئے اور میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ہر ایک ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھی سو منع کیا مجھ کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَاءِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ وَقَالَ بِيَدَيْهِ نَحْوَ السَّمَاءِ فَرَفَعَهُمَا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے بے شک آدمی کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اس کے لڑکے کے دعا کرنے سے بعد اس کے مر جانے کے اور اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں سے آسمانوں کی طرف پھر اٹھایا ان کو ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً‏}‏ فِي الدُّعَاءِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِالدُّعَاءِ فِيهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ ‏"‏ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت (وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء : 110) دعا میں اتری ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے یا اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے نیک کام کرنا اور برے کاموں کو چھوڑنا اور محبت غریبوں کی اور جب تو کسی مصیبت کو لوگوں میں اتارنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے اس مصیبت سے بچا کر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو مثل اس کے ثواب ملے گا جو اس کی پیروی کرے کچھ کم نہ ہوگا اس کے ثواب سے اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس پر اتنا گناہ ہوگا جتنا پیروی کرنے والے پر ہوگا کچھ کم نہ ہوگا پیروی کرنے والے کے گناہ سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے یا اللہ مجھ کو متقیوں کا پیشوا بنانا ۔ امام مالک کو پہنچا ہے ابودرداء سے جب اٹھتے تھے رات کو کہتے تھے سو گئیں آنکھیں اور غائب ہو گئے تارے اور تو اے پروردگار زندہ ہے بیدار ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى هُدًى إِلاَّ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنِ اتَّبَعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى ضَلاَلَةٍ إِلاَّ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif