موطا امام مالک — باب ۱۶Burials
۵۷ احادیث (نمبر ۵۲۰ تا ۵۷۷) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ .
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل دیئے گئے ایک قمیص میں۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ " اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي " . قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " . تَعْنِي بِحِقْوِهِ إِزَارَهُ .
ام عطیہ انصاریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے انتقال کیا تو آئے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کہا کہ غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں سے اور اخیر میں کافور بھی شامل کرو اور جب تم غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع دو کہا ام عطیہ نے جب غسل سے ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہہ بند دیا اور کہا کہ یہ ان کے بدن پر لپیٹ دو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ .
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے نہ ان میں قمیص تھی نہ عمامہ ۔ یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفن دیئے گئے تین سفید کپڑوں میں جو سحول کے بنے ہوئے تھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، قَالَ لِعَائِشَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذُوا هَذَا الثَّوْبَ - لِثَوْبٍ عَلَيْهِ قَدْ أَصَابَهُ مِشْقٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ - فَاغْسِلُوهُ ثُمَّ كَفِّنُونِي فِيهِ مَعَ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَمَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَىُّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ وَإِنَّمَا هَذَا لِلْمُهْلَةِ .
یحیی بن سعید نے کہا مجھے پہنچا کہ ابوبکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے کپڑوں میں کفن دیئے گئے تھے حضرت عائشہ نے کہا سفید تین کپڑوں میں سحول کے، تب ابوبکر نے کہا کہ یہ کپڑا جو میں پہنے ہوں اس میں گیرو یا زعفران لگا ہوا ہے اس کو دھو کر اور دو کپڑے لے کر مجھے کفن دے دینا حضرت عائشہ بولیں یہ کیا بات ہے ابوبکر بولے کہ مردے سے زیادہ زندے کو کپڑے کی حاجت ہے کفن تو پیپ اور خون کے لئے ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ وَيُؤَزَّرُ وَيُلَفُّ فِي الثَّوْبِ الثَّالِثِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ .
عمر وبن عاص سے روایت ہے کہ مردہ قمیص پہنایا جائے اور تہ بند پہنایا جائے پھر تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اس میں کفن دیا جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَالْخُلَفَاءُ هَلُمَّ جَرًّا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر بن خطاب اور تمام خلفاء جنازے کے آگے چلتے تھے اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا کرتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رِبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَدِيرِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقْدُمُ النَّاسَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فِي جَنَازَةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ .
ربیعہ بن عبداللہ بن الہدیر سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر کو آگے چلتے تھے زینب بن جحش کے جنازے میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَبِي قَطُّ فِي جَنَازَةٍ إِلاَّ أَمَامَهَا - قَالَ - ثُمَّ يَأْتِي الْبَقِيعَ فَيَجْلِسُ حَتَّى يَمُرُّوا عَلَيْهِ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ عروہ کو ہمیشہ جنازہ کے آگے چلتے دیکھا یہاں تک کہ وہ بقیع میں آجاتے اور بیٹھے رہتے یہاں تک کہ جنازہ آ کر گزر جاتا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ الْمَشْىُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ مِنْ خَطَإِ السُّنَّةِ .
ابن شہاب نے کہا جنازہ کے پیچھے چلنا خطا ہے یعنی خلاف سنت ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لأَهْلِهَا أَجْمِرُوا ثِيَابِي إِذَا مِتُّ ثُمَّ حَنِّطُونِي وَلاَ تَذُرُّوا عَلَى كَفَنِي حِنَاطًا وَلاَ تَتْبَعُونِي بِنَارٍ .
اسما بن ابی ابکر نے کہا اپنے گھر والوں سے میں جب مر جاؤں تو میرے کپڑوں کو خوشبو سے بسانا پھر میرے بدن پر خوشبو لگانا لیکن میرے کفن پر نہ چھڑکنا اور میرے جنازہ کے ساتھ آگ نہ رکھنا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتْبَعَ، بَعْدَ مَوْتِهِ بِنَارٍ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَكْرَهُ ذَلِكَ .
ابوہریرہ نے منع کیا کہ ان کے جنازے کے ساتھ آگ رکھی جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى النَّجَاشِيَّ لِلنَّاسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہوا اسی روز آپ نے لوگوں کو خبر دی اس کی موت کی اور نکلے مصلے کی طرف اور صف کھڑی کر کے نماز پڑھی جنازے کی اور تکیبریں کہیں چار ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - بِمَرَضِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي بِهَا " . فَخُرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلاً فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِهَا فَقَالَ " أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُخْرِجَكَ لَيْلاً وَنُوقِظَكَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
ابوامامہ سے روایت ہے کہ ایک عورت مسکین بیمار ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ بیمار پرسی کرتے تھے مسکینوں کی اور ان کا حال پوچھتے تھے سو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مر جائے یہ عورت تو مجھے خبر کرنا سو رات کو اس کا جنازہ نکلا اور صحابہ نے ناپسند کیا کہ جگائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب صبح ہوئی تو اس کی کیفیت معلوم ہوئی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے تو تم سے کہہ دیا تھا کہ مجھے خبر کر دینا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جگانا اور رات کو باہر نکالنا نا گوار ہوا سو نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صف باندھی اس کی قبر پر اور چار تکبیریں کہیں
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الرَّجُلِ، يُدْرِكُ بَعْضَ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَيَفُوتُهُ بَعْضُهُ فَقَالَ يَقْضِي مَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ .
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ جس شخص کو بعض تکبیریں جنازہ کی ملیں اور بعض نہ ملیں وہ کیا کرے کہا جس قدر نہ ملیں ان کی قضا کر لے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا لَعَمْرُ اللَّهِ، أُخْبِرُكَ أَتَّبِعُهَا، مِنْ أَهْلِهَا فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ ثُمَّ أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلاَ تَفْتِنَّا بَعْدَهُ .
ابو سعید مقبری نے پوچھا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس طرح تم نماز پڑھتے ہو جنازہ کی کہا ابوہریرہ نے قسم ہے اللہ جل جلالہ کی بقا کی میں تمہیں خبر دوں گا میں جنازہ کے ساتھ ہوتا ہوں اس کے گھر سے پھر جب رکھا جاتا ہے تو میں تکبیر کہہ کر اللہ کی تعریف کرتا ہوں اور پیغمبر پر اس کے درود بھیجتا ہوں پھر کہتا ہوں یا اللہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا اور تیری لونڈی کا بیٹا اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ کوئی معبود سچا تیرے سوا نہیں ہے اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے پیغمبر ہیں اور تو اس کا حال خوب جانتا ہے اے پروردگار اگر وہ نیک ہو تو زیادہ کر اجر اس کا اور جو گناہگار ہو تو درگزر کر اس کے گناہوں سے اے پروردگار مت محروم کر ہم کو اس کے ثواب سے اور مت فتنہ میں ڈال ہم کو بعد اس کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى صَبِيٍّ لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
سعید بن مسیب کہتے تھے نماز پڑھی میں نے ابوہریرہ کے پیچھے ایک لڑکے پر جو بے گناہ تھا تو سنا میں نے ان سے کہتے تھے اے اللہ بچا اس کو قبر کے عذاب سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قرآن نہیں پڑھتے تھے جنازہ کی نماز میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ - وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - فَأُتِيَ بِجَنَازَتِهَا بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ . قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ . قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لأَهْلِهَا إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جَنَازَتِكُمُ الآنَ وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ .
محمد بن ابی حرملہ سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ مر گئیں اور اس زمانے میں طارق حاکم تھے مدینہ کے تو لایا گیا جنازہ ان کا بعد نماز صبح کے اور رکھا گیا بقیع میں اور طارق نماز پڑھا کرتے تھے صبح کی اندھیرے میں ابی حرمہ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا وہ کہتے تھے زینب کے لوگوں سے یا تو تم جنازہ کی نماز اب پڑھ لو یا رہنے دو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صُلِّيَتَا لِوَقْتِهِمَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا نماز جنازہ کی پڑھی جائے بعد عصر کے اور بعد صبح کے جب یہ دونوں نمازیں اپنے وقت میں پڑھی جائیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ عَلَيْهَا بِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ مَاتَ لِتَدْعُوَ لَهُ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ .
حضرت ام المومنین عائشہ نے حکم دیا کہ سعد بن ابی وقاص کا جنازہ مسجد میں سے ہو کر ان کے حجرہ پر سے جائے تاکہ میں دعا کروں ان کے لئے سو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تب کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جلدی لوگ بھول گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضا پر نماز نہیں پڑھی مگر مسجد میں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ صُلِّيَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْمَسْجِدِ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ كَانُوا يُصَلُّونَ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمَدِينَةِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَيَجْعَلُونَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ .
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت عمر پر نماز پڑھی گئی مسجد میں امام مالک کو پہنچا کہ عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے تھے عورتوں اور مردوں پر ایک ہی وقت میں تو مردوں کو امام کے نزدیک رکھتے تھے اور عورتوں کو قبلہ کے نزدیک
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ يُسَلِّمُ حَتَّى يُسْمِعَ مَنْ يَلِيهِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب نماز پڑھ لیتے تھے جنازہ کی سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ ان کے نزدیک جو لوگ ہوتے تھے وہ سن لیتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يُصَلِّي الرَّجُلُ عَلَى الْجَنَازَةِ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ . قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُ أَنْ يُصَلَّى عَلَى وَلَدِ الزِّنَا وَأُمِّهِ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَدُفِنَ يَوْمَ الثُّلاَثَاءِ وَصَلَّى النَّاسُ عَلَيْهِ أَفْذَاذًا لاَ يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ . فَقَالَ نَاسٌ يُدْفَنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ . وَقَالَ آخَرُونَ يُدْفَنُ بِالْبَقِيعِ . فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا دُفِنَ نَبِيٌّ قَطُّ إِلاَّ فِي مَكَانِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ " . فَحُفِرَ لَهُ فِيهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُسْلِهِ أَرَادُوا نَزْعَ قَمِيصِهِ فَسَمِعُوا صَوْتًا يَقُولُ لاَ تَنْزِعُوا الْقَمِيصَ فَلَمْ يُنْزَعِ الْقَمِيصُ وَغُسِّلَ وَهُوَ عَلَيْهِ صلى الله عليه وسلم .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جنازہ کی نماز بغیر وضو کے کوئی نہ پڑھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کی دو شبنہ کے روز اور دفن کئے گئے منگل کے روز اور نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے اکیلے اکیلے کوئی ان کا امام نہ تھا پھر کہا بعض لوگوں نے دفن کئے جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پاس اور بعض نے کہا بقیع میں تو آئے حضرت ابوبکر اور کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہیں دفن کیا گیا کوئی نبی مگر اس مقام میں جہاں اس کی وفات ہوئی پھر کھودی گئی قبر اسی مقام میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی تھی جب غسل کا وقت آیا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اتارنا چاہا سو ایک آواز سنی مت اتارو کرتے کو پس نہ اتارا گیا کرتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور غسل دیئے گئے کرتہ پہنے ہوئے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالآخَرُ لاَ يَلْحَدُ فَقَالُوا أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلُ عَمِلَ عَمَلَهُ . فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ دو آدمی قبر کھود نے والے تھے ایک ان میں سے بغلی بناتا تھا اور دوسرا نہیں بناتا تھا لوگوں نے کہا جو پہلے آئے گا وہی اپنا کام شروع کرے گا تو پہلے وہی آیا جو بغلی بناتا تھا پس قبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلی بنائی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی ام سلمہ کہتی تھیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا یقین نہیں یہاں تک کہ میں نے کدال مارنے کی آواز سنی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ مَا صَدَّقْتُ بِمَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ الْكَرَازِينِ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ رَأَيْتُ ثَلاَثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي فَقَصَصْتُ رُؤْيَاىَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ هَذَا أَحَدُ أَقْمَارِكِ وَهُوَ خَيْرُهَا .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گر پڑے سو میں نے اس خواب کو ابوبکر صدیق سے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہو چکے تھے ابوبکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں ۔ کئی ایک معتبر لوگوں سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید کی وفات ہوئی عقیق میں (ایک جگہ ہے مدینہ کے قریب) اور ان کا جنازہ اٹھا کر مدینہ میں لایا گیا اور وہاں دفن ہوئے
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ غَيْرِ، وَاحِدٍ، مِمَّنْ يَثِقُ بِهِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ تُوُفِّيَا بِالْعَقِيقِ وَحُمِلاَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ، بِالْبَقِيعِ لأَنْ أُدْفَنَ بِغَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُدْفَنَ بِهِ إِنَّمَا هُوَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ إِمَّا ظَالِمٌ فَلاَ أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَهُ وَإِمَّا صَالِحٌ فَلاَ أُحِبُّ أَنْ تُنْبَشَ لِي عِظَامُهُ .
عروہ بن زبیر نے کہا مجھے بقیع میں دفن ہونا پسند نہیں ہے اگر میں کہیں اور دفن ہوں تو اچھا ہے اس لئے کہ بقیع میں جہاں پر میں دفن ہوں گا وہاں پر کوئی گناہگار شخص دفن ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ مجھے دفن ہونا منظور نہیں ہے اور یا کوئی نیک شخص دفن ہو چکا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُومُ فِي الْجَنَائِزِ ثُمَّ جَلَسَ بَعْدُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَتَوَسَّدُ الْقُبُورَ وَيَضْطَجِعُ عَلَيْهَا . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا نُهِيَ عَنِ الْقُعُودِ عَلَى الْقُبُورِ فِيمَا نُرَى لِلْمَذَاهِبِ .
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تھے جنازوں میں پھر بیٹھنے لگے بعد اس کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت علی تکیہ لگاتے تھے قبروں پر اور لیٹ جاتے تھے ان پر ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، يَقُولُ كُنَّا نَشْهَدُ الْجَنَائِزَ فَمَا يَجْلِسُ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى يُؤْذَنُوا .
ابو امامہ کہتے تھے ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدوں اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ، - وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّهِ - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ " . فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ جَابِرٌ يُسَكِّتُهُنَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوُجُوبُ قَالَ " إِذَا مَاتَ " . فَقَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ " . قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشُّهَدَاءُ سَبْعَةٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْحَرِقُ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ " .
جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت کی عیادت کو آئے تو دیکھا ان کو بیماری کی شدت میں سو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انہوں نے جواب نہ دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور فرمایا ہم مغلوب ہوئے تمہارے پر اے ابوالربیع! پس رونا شروع کیا عورتوں نے چلا کر اور جابر بن عتیک ان کو چپ کرانے لگے سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھی عورتوں کو رونے دو جب آن پڑے تو اس وقت کوئی نہ روئے۔ رونے والی صحابیہ نے پوچھا کیا مطلب ہے آن پڑنے کا فرمایا جب مر جائے۔ اتنے میں عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے کہا مجھے امید تھی کہ تم شہید ہو گے کیونکہ تم سامان جہاد کا تیار کر چکے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ اجر دے گا مواقف اس کی نیت کے۔ تم کس چیز کو شہادت سمجھتی ہو بولی اللہ جل جلالہ کی راہ میں مارے جانے کو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا اس کے سات شہید ہیں ایک وہ جو طاعون سے مر جائے دوسرے وہ جو ڈوب کر مر جائے تیسرے وہ جو ذات الجنب سے مر جائے چوتھے جو پیٹ کی عارضہ سے مر جائے پانچویں وہ جو آگ سے جل کر مر جائے چھٹے وہ جو دب کر مر جائے سا تو اں وہ عورت جو زچگی میں مر جائے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
عمرہ بن عبدالر حمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے سے اللہ بخشے ابا عبدالرحمن کو انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ایک یہودن پر جو مر گئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے تین بچے مر جائیں پھر وہ جہنم میں جائے یہ ممکن نہیں مگر قسم پورا کرنے کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ السَّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَحْتَسِبُهُمْ إِلاَّ كَانُوا جُنَّةً مِنَ النَّارِ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَانِ قَالَ " أَوِ اثْنَانِ " .
ابو النصر سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ صبر کرے تو قیامت کے روز وہ لڑکے بچائیں گے اس کو جہنم سے ایک عورت نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دو مر جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ مسلمان کو مصیبت پہنچتی ہے اس کی اولاد اور عزیزوں میں یہاں تک کہ ملتا ہے اپنے پروردگار سے اور کوئی گناہ اس کا نہیں ہوتا۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ " .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِيُعَزِّ الْمُسْلِمِينَ فِي مَصَائِبِهِمُ الْمُصِيبَةُ بِي " .
عبدالرحمن بن قاسم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی تمام مصیتبیں ہلکی ہو جاتی ہیں میری مصیبت کو یاد کرکے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi