موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj
۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ - كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ .
محمد بن ابی بکر نے پوچھا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب وہ دونوں صبح کو جا رہے تھے منی سے عرفہ کو، تم کیا کرتے تھے آج کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بولے بعض لوگ ہم میں سے آج کے روز لبیک کہتے تھے پکار کر تو کوئی منع نہ کرتا بعض لوگ تکبیر کہتے تو کوئی منع نہ کرتا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يُلَبِّي فِي الْحَجِّ حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا .
محمد باقر سے روایت ہے کہ حضرت علی لبیک کہتے تھے حج میں مگر جب زوال ہوتا آفتاب کا عرفہ کے روز تو موقوف کرتے لبیک کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ إِذَا رَجَعَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ .
ام المومنین عائشہ موقوف کرتی تھیں لبیک جب جاتی تھیں عرفات کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْحَجِّ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَإِذَا غَدَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ وَكَانَ يَتْرُكُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر موقوف کرتے تھے لبیک کہنے کو حج میں حرم میں طواف کرنے بیت اللہ کا اور سعی کرنے تک پھر لبیک کہنے لگتے یہاں تک کہ صبح کو منی سے چلتے عرفہ کو سو جب عرفات کو چلتے لبیک موقوف کرتے اور عمرہ میں موقوف کرتے لبیک کو جب داخل ہوتے حرم میں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لاَ يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ .
ابن شہاب کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر طواف میں لبیک نہ کہتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَنْزِلُ مِنْ عَرَفَةَ بِنَمِرَةَ ثُمَّ تَحَوَّلَتْ إِلَى الأَرَاكِ . قَالَتْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُهِلُّ مَا كَانَتْ فِي مَنْزِلِهَا وَمَنْ كَانَ مَعَهَا فَإِذَا رَكِبَتْ فَتَوَجَّهَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ تَرَكَتِ الإِهْلاَلَ . قَالَتْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَعْتَمِرُ بَعْدَ الْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ ثُمَّ تَرَكَتْ ذَلِكَ فَكَانَتْ تَخْرُجُ قَبْلَ هِلاَلِ الْمُحَرَّمِ حَتَّى تَأْتِيَ الْجُحْفَةَ فَتُقِيمَ بِهَا حَتَّى تَرَى الْهِلاَلَ فَإِذَا رَأَتِ الْهِلاَلَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ .
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ جب عرفات میں آتیں تو نمرہ میں اترتیں پھر اراک میں اترنے لگیں اور عائشہ اپنے مکان میں جب تک ہوتیں توبھی، ان کے ساتھی لبیک کہا کرتے جب سوار ہوتیں تو لبیک کہنا موقوف کریں اور عائشہ بعد حج کے عمرہ ادا کرتیں مکہ سے احرام باندھ کر ذلحجہ میں پھر یہ چھوڑ دیا اور محرم کے چاند سے پہلے جحفہ میں آکر ٹھہرتیں جب چاند ہوتا تو عمرہ کا احرام باندھتیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، غَدَا يَوْمَ عَرَفَةَ مِنْ مِنًى فَسَمِعَ التَّكْبِيرَ عَالِيًا فَبَعَثَ الْحَرَسَ يَصِيحُونَ فِي النَّاسِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا التَّلْبِيَةُ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز صبح کو چلے نویں تاریخ کو منی سے عرفہ کو تو بلند آواز سے تکبیر سنی، انہوں نے اپنے آدمیوں کو بھیج کر کہلوایا کہ اے لوگو یہ وقت لبیک کہنے کا ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ يَأْتُونَ شُعْثًا وَأَنْتُمْ مُدَّهِنُونَ أَهِلُّوا إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا اے مکہ والو لوگ تو بال بکھرے ہوئے پریشان یہاں تک آتے ہیں اور تم تیل لگائے ہوتے ہو جب چاند دیکھو ذی الحجہ کا تو تم بھی احرام باندھ لیا کرو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَقَامَ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يُهِلُّ أَهْلُ مَكَّةَ وَغَيْرُهُمْ بِالْحَجِّ إِذَا كَانُوا بِهَا وَمَنْ كَانَ مُقِيمًا بِمَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهَا مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ لاَ يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ . قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ أَهَلَّ مِنْ مَكَّةَ بِالْحَجِّ فَلْيُؤَخِّرِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَذَلِكَ صَنَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مِنْ مَكَّةَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ كَيْفَ يَصْنَعُ بِالطَّوَافِ قَالَ أَمَّا الطَّوَافُ الْوَاجِبُ فَلْيُؤَخِّرْهُ وَهُوَ الَّذِي يَصِلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّعْىِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيَطُفْ مَا بَدَا لَهُ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ كُلَّمَا طَافَ سُبْعًا وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ فَأَخَّرُوا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَفَعَلَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَانَ يُهِلُّ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ وَيُؤَخِّرُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَلْ يُهِلُّ مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ قَالَ بَلْ يَخْرُجُ إِلَى الْحِلِّ فَيُحْرِمُ مِنْهُ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر نو برس مکے میں رہے جب چاند دیکھتے ذی الحجہ کا تو احرام باندھ لیتے اور عروہ بن زبیر بھی ایسا ہی کرتے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النِّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْىُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْىٍ فَاكْتُبِي إِلَىَّ بِأَمْرِكِ أَوْ مُرِي صَاحِبَ الْهَدْىِ . قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ .
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے لکھا ام المومنین عائشہ کو کہ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں جو شخص ہدی روانہ کرے تو اس پر حرام ہو گئیں وہ چیزیں جو حرام ہیں محرم پر یہاں تک کہ ذبح کی جائے ہدی سو میں نے ایک ہدی تمہارے پاس روانہ کی ہے تم مجھے لکھ بھیجو اپنا فتوی یا جو شخص ہدی لے کر آتا ہے اس کے ہاتھ کہلا بھیجو، عمرہ نے کہا عائشہ بولیں ابن عباس جو کہتے ہیں ویسا نہیں ہے میں نے خود اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے لٹکائی اور اس کو روانہ کیا میرے باپ کے ساتھ سو آپ پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی ان چیزوں میں سے جن کو حلال کیا تھا اللہ نے ان کے لئے یہاں تک کہ ذبح ہوگئی ہدی۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الَّذِي، يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ وَيُقِيمُ هَلْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَىْءٌ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ لاَ يَحْرُمُ إِلاَّ مَنْ أَهَلَّ وَلَبَّى .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ جو شخص ہدی روانہ کرے مگر خود نہ جائے کیا اس پر کچھ لازم ہوتا ہے وہ بولیں میں نے سنا عائشہ سے کہتی تھیں محرم نہیں ہوتا مگر جو شخص احرام باندھے اور لبیک کہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً مُتَجَرِّدًا بِالْعِرَاقِ فَسَأَلَ النَّاسَ عَنْهُ فَقَالُوا إِنَّهُ أَمَرَ بِهَدْيِهِ أَنْ يُقَلَّدَ فَلِذَلِكَ تَجَرَّدَ . قَالَ رَبِيعَةُ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ بِدْعَةٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ خَرَجَ بِهَدْىٍ لِنَفْسِهِ فَأَشْعَرَهُ وَقَلَّدَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَلَمْ يُحْرِمْ هُوَ حَتَّى جَاءَ الْجُحْفَةَ قَالَ لاَ أُحِبُّ ذَلِكَ وَلَمْ يُصِبْ مَنْ فَعَلَهُ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُقَلِّدَ الْهَدْىَ وَلاَ يُشْعِرَهُ إِلاَّ عِنْدَ الإِهْلاَلِ إِلاَّ رَجُلٌ لاَ يُرِيدُ الْحَجَّ فَيَبْعَثُ بِهِ وَيُقِيمُ فِي أَهْلِهِ . وَسُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يَخْرُجُ بِالْهَدْىِ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَقَالَ نَعَمْ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ . وَسُئِلَ أَيْضًا عَمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ النَّاسُ مِنَ الإِحْرَامِ لِتَقْلِيدِ الْهَدْىِ مِمَّنْ لاَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَلاَ الْعُمْرَةَ فَقَالَ الأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي نَأْخُذُ بِهِ فِي ذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِهَدْيِهِ ثُمَّ أَقَامَ فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَىْءٌ مِمَّا أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ هَدْيُهُ .
ربیعہ بن عبداللہ نے دیکھا ایک شخص کو عراق میں کپڑے اتارے ہوئے تو پوچھا لوگوں سے اس کا سبب لوگوں نے کہا اس نے حکم کیا ہے اپنی ہدی کی تقلید کا سو اس لئے سلے ہوئے کپڑے اتار ڈالے ربیعہ نے کہا میں نے ملاقات کی عبداللہ بن زبیر سے اور یہ قصہ بیان کیا انہوں نے کہا قسم کعبہ کے رب کی یہ امر بدعت ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ الَّتِي تُهِلُّ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ إِنَّهَا تُهِلُّ بِحَجِّهَا أَوْ عُمْرَتِهَا إِذَا أَرَادَتْ وَلَكِنْ لاَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ تَشْهَدُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَعَ النَّاسِ غَيْرَ أَنَّهَا لاَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلاَ تَقْرَبُ الْمَسْجِدَ حَتَّى تَطْهُرَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا پھر اس کو حیض آنا شروع ہوجائے تو وہ لبیک کہا کرے جب اس کا جی چاہے اور طواف نہ کرے اور سعی نہ کرے صفا مروہ کے درمیان باقی سب ارکان ادا کرے لوگوں کے ساتھ فقط طواف اور سعی نہ کرے اور مسجد میں نہ جائے جب تک کہ پاک نہ ہو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ ثَلاَثًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَامَ الْقَضِيَّةِ وَعَامَ الْجِعِرَّانَةِ .
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے ادا کئے ایک حدیبیہ کے سال اور ایک عمرہ قضا کے سال اور ایک عمرہ جعرانہ کے سال ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْتَمِرْ إِلاَّ ثَلاَثًا إِحْدَاهُنَّ فِي شَوَّالٍ وَاثْنَتَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں عمرہ کیا مگر تین بار ایک شوال اور دو ذیقعدہ میں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ قَدِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ .
عبدالرحمن بن حرملہ اسلمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ میں عمرہ کروں قبل حج کے انہوں نے کہا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا قبل حج کے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَعْتَمِرَ، فِي شَوَّالٍ فَأَذِنَ لَهُ فَاعْتَمَرَ ثُمَّ قَفَلَ إِلَى أَهْلِهِ وَلَمْ يَحُجَّ .
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن ابی سلمہ نے اجازت مانگی حضرت عمر سے عمرہ کرنے کی شوال میں تو اجازت دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہ عمرہ کر کے لوٹ آئے اپنے گھر کو اور حج نہ کیا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ . قَالَ مَالِكٌ فِيمَنْ أَحْرَمَ مِنَ التَّنْعِيمِ إِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ حِينَ يَرَى الْبَيْتَ . قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَعْتَمِرُ مِنْ بَعْضِ الْمَوَاقِيتِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ غَيْرِهِمْ مَتَى يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ قَالَ أَمَّا الْمُهِلُّ مِنَ الْمَوَاقِيتِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ إِذَا انْتَهَى إِلَى الْحَرَمِ . قَالَ وَبَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ .
عروہ بن زبیر لبیک موقوف کرتے تھے عمرہ میں جب داخل ہو جاتے حرم میں
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ - وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ - فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِلاَّ مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ سَعْدٌ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي . فَقَالَ الضَّحَّاكُ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ . فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ .
محمد بن عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعد بن ابی وقاس اور ضحاک بن قیس سے جس سال معاویہ بن ابی سفیان نے حج کیا اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے تمتع کا تو ضحاک بن قیس نے کہا کہ تمتع وہی کرے گا جو اللہ کے احکام سے ناواقف ہو سعد نے کہا بری بات کہی تم نے اے بھتیجے میرے۔ ضحاک نے کہا کہ عمر بن خطاب نے منع کیا تمتع سے سعد نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ لأَنْ أَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ وَأُهْدِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَعْتَمِرَ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ .
عبداللہ بن عمر کہتے تھے قسم اللہ کی مجھ کو قبل حج کے عمرہ کرنا اور ہدی لے جانابہتر معلوم ہوتا ہے اس بات سے کہ عمرہ کروں بعد حج کے ذی الحجہ میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ قَبْلَ الْحَجِّ ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْحَجُّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ إِنْ حَجَّ وَعَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ إِذَا أَقَامَ حَتَّى الْحَجِّ ثُمَّ حَجَّ مِنْ عَامِهِ . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ انْقَطَعَ إِلَى غَيْرِهَا وَسَكَنَ سِوَاهَا ثُمَّ قَدِمَ مُعْتَمِرًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى أَنْشَأَ الْحَجَّ مِنْهَا إِنَّهُ مُتَمَتِّعٌ يَجِبُ عَلَيْهِ الْهَدْىُ أَوِ الصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَأَنَّهُ لاَ يَكُونُ مِثْلَ أَهْلِ مَكَّةَ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ دَخَلَ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَهُوَ يُرِيدُ الإِقَامَةَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُنْشِئَ الْحَجَّ أَمُتَمَتِّعٌ هُوَ فَقَالَ نَعَمْ هُوَ مُتَمَتِّعٌ وَلَيْسَ هُوَ مِثْلَ أَهْلِ مَكَّةَ وَإِنْ أَرَادَ الإِقَامَةَ وَذَلِكَ أَنَّهُ دَخَلَ مَكَّةَ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ أَهْلِهَا وَإِنَّمَا الْهَدْىُ أَوِ الصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَّ هَذَا الرَّجُلَ يُرِيدُ الإِقَامَةَ وَلاَ يَدْرِي مَا يَبْدُو لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مَنِ اعْتَمَرَ فِي شَوَّالٍ أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ ثُمَّ أَقَامَ بِمَكَّةَ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْحَجُّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ إِنْ حَجَّ وَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ سے لے کر دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے ان گناہوں کا جو ان دونوں کے بیچ میں ہوں اور حج مبرور کا کوئی بدلہ نہیں ہے سوائے جنت کے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ كُنْتُ تَجَهَّزْتُ لِلْحَجِّ فَاعْتَرَضَ لِي . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ كَحِجَّةٍ " .
ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہتے تھے ایک عورت آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا میں نے تیاری کی تھی حج کی پھر کوئی عارضہ مجھ کو ہو گیا تو حج ادا نہ کر سکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں عمرہ کر لے کیونکہ ایک عمرہ رمضان میں ایک حج کے برابر ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ افْصِلُوا بَيْنَ حَجِّكُمْ وَعُمْرَتِكُمْ فَإِنَّ ذَلِكَ أَتَمُّ لِحَجِّ أَحَدِكُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِهِ أَنْ يَعْتَمِرَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فرماتے تھے جدائی کرو حج اور عمرہ میں تاکہ حج بھی پورا ادا ہو اور عمرہ بھی پورا ادا ہو اور وہ اس طرح کہ حج کے مہینوں میں نہ کرے بلکہ اور دنوں میں کرے ۔ امام مالک کو پہنچا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان جب عمرہ کرتے تو کبھی اپنے اونٹ سے نہ اترتے یہاں تک کہ لوٹ آتے مدینہ کو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ إِذَا اعْتَمَرَ رُبَّمَا لَمْ يَحْطُطْ عَنْ رَاحِلَتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ . قَالَ مَالِكٌ الْعُمْرَةُ سُنَّةٌ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَرْخَصَ فِي تَرْكِهَا . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ أَرَى لأَحَدٍ أَنْ يَعْتَمِرَ فِي السَّنَةِ مِرَارًا . قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُعْتَمِرِ يَقَعُ بِأَهْلِهِ إِنَّ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْهَدْىَ وَعُمْرَةً أُخْرَى يَبْتَدِئُ بِهَا بَعْدَ إِتْمَامِهِ الَّتِي أَفْسَدَ وَيُحْرِمُ مِنْ حَيْثُ أَحْرَمَ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي أَفْسَدَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ أَحْرَمَ مِنْ مَكَانٍ أَبْعَدَ مِنْ مِيقَاتِهِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ إِلاَّ مِنْ مِيقَاتِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ دَخَلَ مَكَّةَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ جُنُبٌ أَوْ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ثُمَّ وَقَعَ بِأَهْلِهِ ثُمَّ ذَكَرَ - قَالَ - يَغْتَسِلُ أَوْ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَعُودُ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَيَعْتَمِرُ عُمْرَةً أُخْرَى وَيُهْدِي وَعَلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا وَهِيَ مُحْرِمَةٌ مِثْلُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الْعُمْرَةُ مِنَ التَّنْعِيمِ فَإِنَّهُ مَنْ شَاءَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ يُحْرِمَ فَإِنَّ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَلَكِنِ الْفَضْلُ أَنْ يُهِلَّ مِنَ الْمِيقَاتِ الَّذِي وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَا هُوَ أَبْعَدُ مِنَ التَّنْعِيمِ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَزَوَّجَاهُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مولیٰ ابورافع اور ایک شخص انصاری کو بھیجا ان دونوں نے نکاح کر دیا ان کا میمونہ بنت حارث سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے نکلنے سے پہلے ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ - وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ - إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ . فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكِحْ وَلاَ يَخْطُبْ " .
نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے بھیجا ان کو ابان بن عثمان کے پاس اور ابان ان دنوں میں امیر تھے حاجیوں کے اور دونوں احرام باندھے ہوئے تھے کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں کہ نکاح کروں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے سو تم بھی آؤ، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ سنا میں نے عثمان بن عفان سے انہوں نے کہا سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ نکاح کرے محرم اپنا اور نہ غیر کا اور نہ پیغام بھیجے نکاح کا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ طَرِيفًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِكَاحَهُ .
ابو غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ ان کے باپ طریف نے نکاح کیا ایک عورت سے احرام میں تو باطل کر دیا اس کو حضرت عمر نے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلاَ
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلُوا عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، فَقَالُوا لاَ يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكِحْ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ الْمُحْرِمِ إِنَّهُ يُرَاجِعُ امْرَأَتَهُ إِنْ شَاءَ إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے نہ نکاح کرے محرم اور نہ پیغام بھیجے اپنا اور نہ غیر کا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب اور سالم بن عبداللہ بن سلیمان بن یسار سے سوال ہوا محرم کے نکاح کا تو ان سب نے کہا محرم نہ نکاح کرے اپنا نہ پرایا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوْقَ رَأْسِهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِلَحْيَىْ جَمَلٍ مَكَانٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے احرام میں اپنے سر پر لحی جمل میں جو ایک مقام ہے مکہ کی راہ میں
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلاَّ مِمَّا لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں محرم پچھنے نہ لگائے مگر جب اس کو ضرورت پڑے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مکہ کے ایک راستے میں ، پیچھے رہ گیا وہ (ابوقتادہ) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن وہ (ابوقتادہ) احرام نہیں باندھے ہوئے تھے انہوں نے ایک گورخر کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا انہوں نے انکار کیا پھر برچھا مانگا انہوں نے انکار کیا آخر انہوں نے خود برچھا لے کر حملہ کیا گورخر پر اور قتل کیا اس کو اور بعض صحابہ نے وہ گوشت کھایا اور بعض نے انکار کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک کھانا تھا جو کھلایا تم کو اللہ جل جلالہ نے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، كَانَ يَتَزَوَّدُ صَفِيفَ الظِّبَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ مَالِكٌ وَالصَّفِيفُ الْقَدِيدُ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام ناشتہ کرتے تھے ہرن کے بھونے ہوئے گوشت کا جس کو قدید کہتے ہیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلاَّ أَنَّ فِي، حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ " .
عطاء بن یسار نے ابوقتادہ کی حدیث گورخر مارنے کی ویسی ہی روایت کی جیسے اوپر بیان ہوئی مگر اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس گوشت میں کچھ تمہارے پاس باقی ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ " . فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأَثَايَةِ - بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ - إِذَا ظَبْىٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ لاَ يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ .
زید بن کعب بہزی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کے قصد سے احرام باندھے ہوئے جب روحا میں پہنچے تو ایک گورخر زخمی دیکھا تو بیان کیا یہ ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پڑا رہنے دو اس کا مالک آجائے گا اتنے میں بہزی آیا وہی اس کا مالک تھا وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گورخر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختار ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو حکم کیا انہوں نے اس کا گوشت تقسیم کیا سب ساتھیوں کو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے جب اثابہ میں پہنچے جو درمیان میں ہے رویثہ اور عرج کے تو دیکھا کہ ایک ہرن اپنا سر جھکائے ہوئے سائے میں کھڑا ہے اور ایک تیر اس کو لگا ہوا ہے تو کہا بہزی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہ کھڑا رہے اس کے پاس، تاکہ کوئی اس کو نہ چھیڑے یہاں تک کہ لوگ آگے بڑھ جائیں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّبَذَةِ وَجَدَ رَكْبًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مُحْرِمِينَ فَسَأَلُوهُ عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عِنْدَ أَهْلِ الرَّبَذَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ قَالَ ثُمَّ إِنِّي شَكَكْتُ فِيمَا أَمَرْتُهُمْ بِهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ مَاذَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ فَقَالَ أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَفَعَلْتُ بِكَ يَتَوَاعَدُهُ .
ابوہریرہ جب آئے بحرین سے تو جب پہنچے ربذہ میں تو چند سوار ملے عراق کے احرام باندھے ہوئے تو پوچھا انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکار کے گوشت کا حال جو ربذہ والوں کے پاس تھا ابوہریرہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی پھر کہا کہ مجھ کو شک ہوا اس حکم میں تو جب آیا میں مدینہ تو ذکر کیا میں نے عمر بن خطاب سے حضرت عمر نے پوچھا تم نے کیا حکم دیا ان کو میں نے کہا کہ میں نے حکم دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تم ان کو کچھ اور حکم دیتے تو میں تمہارے ساتھ ایسا کرتا یعنی ڈرانے لگے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوا نَاسًا أَحِلَّةً يَأْكُلُونَهُ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ قَالَ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ قَالَ فَقُلْتُ أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لأَوْجَعْتُكَ .
سالم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ مجھ کو ملے کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے ربذہ میں تو پوچھا انہوں نے شکار کے گوشت کی بابت جو حلال لوگوں کے پاس موجود ہو وہ کھاتے ہوں اس کو ابوہریرہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی، کہا ابوہریرہ نے جب میں مدینہ میں آیا حضرت عمر کے پاس میں نے ان سے بیان کیا انہوں نے کہا تو نے کیا فتوی دیا؟ میں نے کہا میں نے فتوی دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تو اور کسی بات کا فتوی دیتا تو میں تجھے سزا دیتا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ، أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ فِي رَكْبٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَيْدٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ بِأَكْلِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَنْ أَفْتَاكُمْ بِهَذَا قَالُوا كَعْبٌ . قَالَ فَإِنِّي قَدْ أَمَّرْتُهُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا ثُمَّ لَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ مَرَّتْ بِهِمْ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ أَنْ يَأْخُذُوهُ فَيَأْكُلُوهُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُفْتِيَهُمْ بِهَذَا قَالَ هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - إِنْ هِيَ إِلاَّ نَثْرَةُ حُوتٍ يَنْثُرُهُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ .
کعب الاحبار جب آئے شام سے تو چند سوار ان کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے راستے میں انہوں نے شکار کا گوشت دیکھا تو کعب الاحبار نے ان کو کھانے کی اجازت دی جب مدینہ میں آئے تو انہوں نے حضرت عمر سے بیان کیا آپ نے کہا تمہیں کس نے فتوی دیا بولے کعب نے حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے کعب کو تمہارے اوپر حاکم کیا یہاں تک کہ تم لوٹو، پھر ایک روز مکہ کی راہ میں ٹڈیوں کا جھنڈ ملا کعب نے فتوی دیا کہ پکڑ کر کھائیں جب وہ لوگ حضرت عمر کے پاس آئے ان سے بیان کیا آپ نے کعب سے پوچھا کہ تم نے یہ فتوی کیسے دیا کعب نے کہا کہ ٹڈی دریا کا شکار ہے حضرت عمر بولے کیونکر، کعب بولے اے امیر المومنین قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ ٹڈی ایک مچھلی کی چھینک سے نکلتی ہے جو ہر سال میں دوبار چھینکتی ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif