موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj
۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 3) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا فِي وَجْهِي قَالَ " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ " .
صعب بن جثامہ لیثی سے روایت ہے کہ انہوں نے تحفہ بھجا ایک گورخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوا یا ودان میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا صعب کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کا حال دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے اس واسطے واپس کر دیا کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ قَدْ غَطَّى وَجْهَهُ بِقَطِيفَةِ أُرْجُوَانٍ ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ فَقَالَ لأَصْحَابِهِ كُلُوا . فَقَالُوا أَوَلاَ تَأْكُلُ أَنْتَ فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي .
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عثمان بن عفان کو عرج میں گرمی کے روز انہوں نے ڈھانپ لیا تھا منہ اپنا سرخ کمبل سے اتنے میں شکار کا گوشت آیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کھاؤ انہوں نے کہا آپ نہیں کھاتے آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں میرے واسطے تو شکار ہوا ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ فَإِنْ تَخَلَّجَ فِي نَفْسِكَ شَىْءٌ فَدَعْهُ تَعْنِي أَكْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ الْمُحْرِمِ يُصَادُ مِنْ أَجْلِهِ صَيْدٌ فَيُصْنَعُ لَهُ ذَلِكَ الصَّيْدُ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَجْلِهِ صِيدَ فَإِنَّ عَلَيْهِ جَزَاءَ ذَلِكَ الصَّيْدِ كُلِّهِ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يُضْطَرُّ إِلَى أَكْلِ الْمَيْتَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَيَصِيدُ الصَّيْدَ فَيَأْكُلُهُ أَمْ يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ فَقَالَ بَلْ يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمْ يُرَخِّصْ لِلْمُحْرِمِ فِي أَكْلِ الصَّيْدِ وَلاَ فِي أَخْذِهِ فِي حَالٍ مِنَ الأَحْوَالِ وَقَدْ أَرْخَصَ فِي الْمَيْتَةِ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ . قَالَ مَالِكٌ وَأَمَّا مَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ أَوْ ذَبَحَ مِنَ الصَّيْدِ فَلاَ يَحِلُّ أَكْلُهُ لِحَلاَلٍ وَلاَ لِمُحْرِمٍ لأَنَّهُ لَيْسَ بِذَكِيٍّ كَانَ خَطَأً أَوْ عَمْدًا فَأَكْلُهُ لاَ يَحِلُّ وَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ وَالَّذِي يَقْتُلُ الصَّيْدَ ثُمَّ يَأْكُلُهُ إِنَّمَا عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ مِثْلُ مَنْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانور ہیں محرم کو ان کا قتل منع نہیں ہے کوا اور چیل بچھو اور چوہا اور کاٹنے والا کتا۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو کوئی ان کو احرام کی حالت میں مار ڈالے تو کچھ گناہ نہیں ہے ایک بچھو دوسرے چوہا تیسرے کاٹنا کتا چوتھے چیل پانچواں کوا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ناپاک ہیں قتل کئے جائیں گے حل اور حرم میں چوہا اور بچھو اور کوا اور چیل اور کاٹنا کتا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ فِي الْحَرَمِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْكَلْبِ الْعَقُورِ الَّذِي أُمِرَ بِقَتْلِهِ فِي الْحَرَمِ إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ مِثْلُ الأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَأَمَّا مَا كَانَ مِنَ السِّبَاعِ لاَ يَعْدُو مِثْلُ الضَّبُعِ وَالثَّعْلَبِ وَالْهِرِّ وَمَا أَشْبَهَهُنَّ مِنَ السِّبَاعِ فَلاَ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ فَإِنْ قَتَلَهُ فَدَاهُ وَأَمَّا مَا ضَرَّ مِنَ الطَّيْرِ فَإِنَّ الْمُحْرِمَ لاَ يَقْتُلُهُ إِلاَّ مَا سَمَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَإِنْ قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَيْئًا مِنَ الطَّيْرِ سِوَاهُمَا فَدَاهُ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے حکم کیا سانپوں کے مارنے کا حرم میں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَكْرَهُهُ .
ربیعہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا حضرت عمر بن خطاب کو جوئیں نکالتے تھے اپنے اونٹ کی اور پھینک دیتے تھے جوں کو خاک میں موضع سقیا میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے مالک نے کہا میں اس کام کو مکروہ جانتا ہوں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تُسْأَلُ عَنِ الْمُحْرِمِ أَيَحُكُّ جَسَدَهُ فَقَالَتْ نَعَمْ فَلْيَحْكُكْهُ وَلْيَشْدُدْ وَلَوْ رُبِطَتْ يَدَاىَ وَلَمْ أَجِدْ إِلاَّ رِجْلَىَّ لَحَكَكْتُ .
مرجانہ نے سنا حضرت ام المومنین عائشہ سے ان سے سوال ہوا کہ کیا محرم اپنے بدن کو کھجائے؟ بولیں ہاں کھجائے اور زور سے کھجائے اور اگر میرے ہاتھ باندھ دیئے جائیں اور پاؤں قابو میں ہوں تو اسی سے کھجاؤں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ لِشَكْوٍ كَانَ بِعَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
ایوب بن موسیٰ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے آئینہ میں دیکھا بسبب کسی مرض کے جو ان کی آنکھ میں تھا اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَنْزِعَ الْمُحْرِمُ، حَلَمَةً أَوْ قُرَادًا عَنْ بَعِيرِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے اپنے اونٹ کی جوں یا لیکھ نکالنے کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، . أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ ظُفْرٍ، لَهُ انْكَسَرَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ سَعِيدٌ اقْطَعْهُ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَشْتَكِي أُذُنَهُ أَيَقْطُرُ فِي أُذُنِهِ مِنَ الْبَانِ الَّذِي لَمْ يُطَيَّبْ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ لاَ أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا وَلَوْ جَعَلَهُ فِي فِيهِ لَمْ أَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَبُطَّ الْمُحْرِمُ خُرَاجَهُ وَيَفْقَأَ دُمَّلَهُ وَيَقْطَعَ عِرْقَهُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ذَلِكَ .
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ میرا ایک ناخن ٹوٹ گیا ہے اور میں احرام باندھے ہوئے ہوں سعید نے کہا کاٹ ڈال اس کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ " . وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے اتنے میں ایک عورت آئی خنعم سے مسئلہ پوچھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو فضل اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل کی طرف دیکھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اور طرف پھیرنے لگے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج اللہ کا فرض ہوا میرے باپ پر ایسے وقت میں کہ میرا باپ بوڑھا ہے اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں! اور یہ قصہ حجة الوداع میں ہوا۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْىَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْىُ ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلاَ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا وَلاَ يَعُودُوا لِشَىْءٍ .
کہا مالک نے جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جاسکا تو وہ احرام کھول ڈالے اور اپنی ہدی کو نحر کرے اور سر منڈائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے اور قضا اس پر نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جب روکا کفار نے تو احرام کھول ڈالے حدیبیہ میں اور نحر کیا ہدی کو اور سر منڈائے اور حلال ہو گئے ہر شئے سے یعنی بیت اللہ کا طواف اور اس کی طرف ہدی کو پہنچانے سے پہلے، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضا یا اعادہ کرنے کا ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتِمَرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ . ثُمَّ نَفَذَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَرَأَى ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى .
عبداللہ بن عمر جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا عبداللہ بن زبیر سے جو حاکم تھے مکہ کے تو کہا اگر میں روکا جاؤ بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے تو عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا پھر عبداللہ بن عمر نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ پھر چلے گئے عبداللہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَرُ بِمَرَضٍ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِذَا اضْطُرَّ إِلَى لُبْسِ شَىْءٍ مِنَ الثِّيَابِ الَّتِي لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهَا أَوِ الدَّوَاءِ صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى .
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص بیماری کی وجہ سے رک جائے تو وہ حلال نہ ہوگا یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں اگر ضرورت ہو کسی کپڑے کے پہننے کی یا دوا کی تو اس کا استعمال کرے اور جزا دے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ الْمُحْرِمُ لاَ يُحِلُّهُ إِلاَّ الْبَيْتُ .
ام المومنین عائشہ نے فرمایا کہ محرم حلال نہیں ہوتا بغیر خانہ کعبہ پہنچے ہوئے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى أَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ .
ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص سے جو بصرہ کا رہنے والا پرانا آدمی تھا اس نے کہا کہ میں چلا مکہ کو راستہ میں میرا کولہا ٹوٹ گیا تو میں نے مکہ میں کسی کو بھیجا وہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور لوگ بھی تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو اجازت نہ دی احرام کھول ڈالنے کی یہاں تک کہ میں وہیں پڑا رہا سات مہینے تک جب اچھا ہوا تو عمرہ کر کے احرام کھولا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص خانہ کعبہ نہ جا سکے بیماری کی وجہ سے تو اس کا احرام نہ کھلے گا یہاں تک کہ طواف کرے بیت اللہ اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مَعْبَدَ بْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ، صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَسَأَلَ مَنْ يَلِي عَلَى الْمَاءِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَوَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُمُ الَّذِي عَرَضَ لَهُ فَكُلُّهُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَتَدَاوَى بِمَا لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ ثُمَّ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَيُهْدِي مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ . قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى هَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أُحْصِرَ بِغَيْرِ عَدُوٍّ وَقَدْ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ وَهَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ حِينَ فَاتَهُمَا الْحَجُّ وَأَتَيَا يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَحِلاَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ يَرْجِعَا حَلاَلاً ثُمَّ يَحُجَّانِ عَامًا قَابِلاً وَيُهْدِيَانِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ . قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَنْ حُبِسَ عَنِ الْحَجِّ بَعْدَ مَا يُحْرِمُ إِمَّا بِمَرَضٍ أَوْ بِغَيْرِهِ أَوْ بِخَطَإٍ مِنَ الْعَدَدِ أَوْ خَفِيَ عَلَيْهِ الْهِلاَلُ فَهُوَ مُحْصَرٌ عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُحْصَرِ . قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ أَهَلَّ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَصَابَهُ كَسْرٌ أَوْ بَطْنٌ مُتَحَرِّقٌ أَوِ امْرَأَةٌ تَطْلُقُ . قَالَ مَنْ أَصَابَهُ هَذَا مِنْهُمْ فَهُوَ مُحْصَرٌ يَكُونُ عَلَيْهِ مِثْلُ مَا عَلَى أَهْلِ الآفَاقِ إِذَا هُمْ أُحْصِرُوا . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَتَّى إِذَا قَضَى عُمْرَتَهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ ثُمَّ كُسِرَ أَوْ أَصَابَهُ أَمْرٌ لاَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْضُرَ مَعَ النَّاسِ الْمَوْقِفَ . قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنْ يُقِيمَ حَتَّى إِذَا بَرَأَ خَرَجَ إِلَى الْحِلِّ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى مَكَّةَ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحِلُّ ثُمَّ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ . قَالَ مَالِكٌ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ مَرِضَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَحْضُرَ مَعَ النَّاسِ الْمَوْقِفَ . قَالَ مَالِكٌ إِذَا فَاتَهُ الْحَجُّ فَإِنِ اسْتَطَاعَ خَرَجَ إِلَى الْحِلِّ فَدَخَلَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لأَنَّ الطَّوَافَ الأَوَّلَ لَمْ يَكُنْ نَوَاهُ لِلْعُمْرَةِ فَلِذَلِكَ يَعْمَلُ بِهَذَا وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ . فَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَصَابَهُ مَرَضٌ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَلَّ بِعُمْرَةٍ وَطَافَ بِالْبَيْتِ طَوَافًا آخَرَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لأَنَّ طَوَافَهُ الأَوَّلَ وَسَعْيَهُ إِنَّمَا كَانَ نَوَاهُ لِلْحَجِّ وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سعید بن حزابہ مخزومی گر پڑے مکہ کو آتے ہوئے راہ میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے تو جہاں پانی دیکھ کر ٹھہرے تھے وہاں پوچھا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر اور مروان بن حکم ملے ان سے بیان کیا اس عارضے کو ان سب نے کہا جیسی ضرورت ہو ویسی دوا کرے اور فدیہ دے ۔ جب اچھا ہو تو عمرہ کر کے احرام کھولے پھر آئندہ سال حج کرے اور موافق طاقت کے ہدی دے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ " . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ اسْتِلاَمَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلاَّ أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ .
روایت ہے حضرت ام المومنین عائشہ سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تیری قوم نے جب بنایا کعبہ کو تو حضرت ابراہیم نے جیسے بنایا تھا اس میں کمی کی، حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کو جیسے حضرت ابراہیم نے بنایا تھا ویسا کیوں نہیں بنا دیتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری قوم کا کفر قریب نہ ہوتا تو میں بنا دیتا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا اسی وجہ سے شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن شامی اور عراقی کو جو حطیم کے متصل ہیں استلام نہ کیا کیونکہ خانہ کبعہ ابراہیم کی بنا پر نہ تھا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ مَا أُبَالِي أَصَلَّيْتُ فِي الْحِجْرِ أَمْ فِي الْبَيْتِ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ نے فرمایا مجھے کچھ فرق نہیں معلوم ہوتا اس میں کہ نماز پڑھوں کعبہ کے اندر یا حطیم میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ بَعْضَ، عُلَمَائِنَا يَقُولُ مَا حُجِرَ الْحِجْرُ فَطَافَ النَّاسُ مِنْ وَرَائِهِ إِلاَّ إِرَادَةَ أَنْ يَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ رمل کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجرا اسود تک تین پھیروں میں
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ إِلَى الْحَجَرِ الأَسْوَدِ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ وَيَمْشِي أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رمل کرتے تھے حجر اسود تک تین پھیروں میں اور باقی چار پھیروں میں معمولی چال سے چلتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَسْعَى الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَا وَأَنْتَ تُحْيِي بَعْدَ مَا أَمَتَّا يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِذَلِكَ .
عروہ بن زبیر جب طواف کرتے خانہ کعبہ کا تو دوڑ کر چلتے تین پھیروں میں اور آہستہ سے کہتے اے اللہ سوائے تیرے کوئی سچا معبود نہیں اور تو جلا دے گا ہم کو بعد مرنے کے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ - قَالَ - ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَسْعَى حَوْلَ الْبَيْتِ الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ .
عروہ بن زبیر نے دیکھا عبدا اللہ بن زبیر کو انہوں نے احرام باندھا عمرہ کا تنیعم سے پھر دیکھا کہ وہ دوڑ کر چلتے ہیں پہلے تین پھیروں میں خانہ کعبہ کے گرد۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَانَ لاَ يَرْمُلُ إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب احرام باندھتے مکہ سے تو طواف نہ کرتے بیت اللہ کا اور نہ سعی کرتے صفا مروہ کے درمیان یہاں تک کہ لوٹتے منی سے اور نہ رمل کرتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ وَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ .
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طواف سے فارغ ہو کر دوگانہ رکعت پڑھ چکتے اور پھر صفا مروہ کو نکلنے کا ارادہ کرتے تو حجر اسود کو چوم لیتے نکلنے سے پہلے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ " كَيْفَ صَنَعْتَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِي اسْتِلاَمِ الرُّكْنِ " . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَبْتَ " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن بن عوف سے کس طرح تم نے چوما حجر اسود کو عبدالرحمن نے کہا کبھی میں نے چوما اور کبھی ترک کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک کیا تم نے ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَسْتَلِمُ الأَرْكَانَ كُلَّهَا وَكَانَ لاَ يَدَعُ الْيَمَانِيَ إِلاَّ أَنْ يُغْلَبَ عَلَيْهِ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ بن زبیر جب طواف کرتے خانہ کعبہ کا تو سب رکنوں کا استلام کرتے خصوصا رکن یمانی کو ہرگز نہ چھوڑتے مگر جب مجبور ہو جاتے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ لِلرُّكْنِ الأَسْوَدِ إِنَّمَا أَنْتَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ ثُمَّ قَبَّلَهُ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جب وہ طواف کر رہے تھے خانہ کعبہ کا حجر اسود کو! کہ تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں نہ چومتا تجھ کو پھر چوما حجر اسود کو۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّبْعَيْنِ لاَ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا وَلَكِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ كُلِّ سُبْعٍ رَكْعَتَيْنِ فَرُبَّمَا صَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ أَوْ عِنْدَ غَيْرِهِ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الطَّوَافِ إِنْ كَانَ أَخَفَّ عَلَى الرَّجُلِ أَنْ يَتَطَوَّعَ بِهِ فَيَقْرُنَ بَيْنَ الأُسْبُوعَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ ثُمَّ يَرْكَعُ مَا عَلَيْهِ مِنْ رُكُوعِ تِلْكَ السُّبُوعِ قَالَ لاَ يَنْبَغِي ذَلِكَ وَإِنَّمَا السُّنَّةُ أَنْ يُتْبِعَ كُلَّ سُبْعٍ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ فِي الطَّوَافِ فَيَسْهُو حَتَّى يَطُوفَ ثَمَانِيَةَ أَوْ تِسْعَةَ أَطْوَافٍ قَالَ يَقْطَعُ إِذَا عَلِمَ أَنَّهُ قَدْ زَادَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَلاَ يَعْتَدُّ بِالَّذِي كَانَ زَادَ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَبْنِيَ عَلَى التِّسْعَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ سُبْعَيْنِ جَمِيعًا لأَنَّ السُّنَّةَ فِي الطَّوَافِ أَنْ يُتْبِعَ كُلَّ سُبْعٍ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ شَكَّ فِي طَوَافِهِ بَعْدَ مَا يَرْكَعُ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ فَلْيَعُدْ فَلْيُتَمِّمْ طَوَافَهُ عَلَى الْيَقِينِ ثُمَّ لِيُعِدِ الرَّكْعَتَيْنِ لأَنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِطَوَافٍ إِلاَّ بَعْدَ إِكْمَالِ السُّبْعِ . وَمَنْ أَصَابَهُ شَىْءٌ بِنَقْضِ وُضُوئِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَوْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَوْ بَيْنَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ مَنْ أَصَابَهُ ذَلِكَ وَقَدْ طَافَ بَعْضَ الطَّوَافِ أَوْ كُلَّهُ وَلَمْ يَرْكَعْ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ فَإِنَّهُ يَتَوَضَّأُ وَيَسْتَأْنِفُ الطَّوَافَ وَالرَّكْعَتَيْنِ وَأَمَّا السَّعْىُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّهُ لاَ يَقْطَعُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مَا أَصَابَهُ مِنِ انْتِقَاضِ وُضُوئِهِ وَلاَ يَدْخُلُ السَّعْىَ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ بِوُضُوءٍ .
عروہ بن زبیر دو طواف ایک ساتھ نہ کرتے تھے اسطرح پر کہ ان دونوں کے بیچ دوگانہ طواف ادا نہ کریں بلکہ ہر سات پھیروں کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے مقام ابراہیم کے پاس یا اور کسی جگہ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ طَلَعَتْ فَرَكِبَ حَتَّى أَنَاخَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
عبدالرحمن بن عبدالقاری نے طواف کیا خانہ کعبہ کا حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ بعد نماز فجر کے تو جب حضرت عمر طواف ادا کر چکے تو آفتاب نہ پایا پس سوار ہوئے یہاں تک کہ بٹھایا اونٹ ذی طوی میں وہاں دوگانہ طواف ادا کیا۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَطُوفُ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَدْخُلُ حُجْرَتَهُ فَلاَ أَدْرِي مَا يَصْنَعُ .
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عباس کو طواف کرتے تھے بعد عصر کے پھر جاتے تھے اپنے حجرے میں پھر معلوم نہیں وہاں کیا کرتے تھے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَبَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بَعْضَ أُسْبُوعِهِ ثُمَّ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ أَوْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَإِنَّهُ يُصَلِّي مَعَ الإِمَامِ ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا طَافَ حَتَّى يُكْمِلَ سُبْعًا ثُمَّ لاَ يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ . قَالَ وَإِنْ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ طَوَافًا وَاحِدًا بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ لاَ يَزِيدُ عَلَى سُبْعٍ وَاحِدٍ وَيُؤَخِّرُ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَيُؤَخِّرُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ صَلاَّهُمَا إِنْ شَاءَ وَإِنْ شَاءَ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ .
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا خانہ کعبہ کو خالی ہو جاتا طواف کرنے والوں سے بعد نماز صبح اور بعد نماز عصر کے کوئی طواف نہ کرتا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ يَصْدُرَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ . قَالَ مَالِكٌ فِي قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَإِنَّ آخِرَ النُّسُكِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ إِنَّ ذَلِكَ - فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ - لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ} وَقَالَ {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} فَمَحِلُّ الشَّعَائِرِ كُلِّهَا وَانْقِضَاؤُهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے فرمایا کوئی حاجی مکہ سے نہ لوٹے یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا کیونکہ آخری عبادت یہ ہے طواف کرنا خانہ کعبہ کا ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، . أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَدَّ رَجُلاً مِنْ مَرِّ الظَّهْرَانِ لَمْ يَكُنْ وَدَّعَ الْبَيْتَ حَتَّى وَدَّعَ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو مرا الظہران سے پھیر دیا اس واسطے کہ اس نے طواف الوداع نہیں کیا تھا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَفَاضَ فَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّهُ فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ حَبَسَهُ شَىْءٌ فَهُوَ حَقِيقٌ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَإِنْ حَبَسَهُ شَىْءٌ أَوْ عَرَضَ لَهُ فَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّهُ . قَالَ مَالِكٌ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً جَهِلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى صَدَرَ لَمْ أَرَ عَلَيْهِ شَيْئًا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا فَيَرْجِعَ فَيَطُوفَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَنْصَرِفَ إِذَا كَانَ قَدْ أَفَاضَ .
عروہ بن زبیر نے کہا کہ جس شخص نے طواف الافاضہ ادا کیا اس کا حج اللہ نے پورا کر دیا اب اگر اس کو کوئی امر مانع نہیں تو چاہیے کہ رخصت کے وقت طواف الوداع کرے اور اگر کوئی مانع یا عارضہ درپیش ہو تو حج تو پورا ہو چکا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " . قَالَتْ فَطُفْتُ رَاكِبَةً بَعِيرِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِـ {الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ }.
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ شکایت کی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کے پیچھے سوار ہو کر تو طواف کر لے ام سلمہ نے کہا کہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے ایک گوشے کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور سورت والطور وکتاب مسطور پڑھ رہے تھے
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih