موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj
۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 4) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الأَسْلَمِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَقْبَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ فَرَجَعْتُ حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ عَنِّي ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ هَرَقْتُ الدِّمَاءَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنَّمَا ذَلِكَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ طُوفِي .
ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ مُرَاهِقًا خَرَجَ إِلَى عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَطُوفُ بَعْدَ أَنْ يَرْجِعَ . قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ وَاسِعٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . وَسُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ الْوَاجِبِ عَلَيْهِ يَتَحَدَّثُ مَعَ الرَّجُلِ فَقَالَ لاَ أُحِبُّ ذَلِكَ لَهُ . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَطُوفُ أَحَدٌ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " . فَبَدَأَ بِالصَّفَا .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلتے مسجد حرام سے صفا کی طرف فرماتے تھے شروع کرتے ہیں ہم اس سے جس سے شروع کیا اللہ جل جلالہ نے تو شروع کی سعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلاَثًا وَيَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے صفا پر تین بار اللہ اکبر کہتے اور فرماتے نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ پاک کے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے وہ ہر شئے پر قادر ہے، تین بار اس کو کہتے تھے اور دعا مانگتے تھے پھر مروہ پر پہنچ کر ایسا ہی کرتے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ وَإِنَّكَ لاَ تُخْلِفُ الْمِيعَادَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلإِسْلاَمِ أَنْ لاَ تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ .
نافع نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ صفا پر دعا مانگتے تھے اے پروردگار! تو نے فرمایا کہ دعا کرو میں قبول کروں گا اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے تو نے مجھ کو اسلام کی راہ دکھائی سو مرتے دم تک اسلام سے نہ چھڑائیوں یہاں تک کہ میں مروں مسلمان رہ کر ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ، حَدِيثُ السِّنِّ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} فَمَا عَلَى الرَّجُلِ شَىْءٌ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا . فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَلاَّ لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا }
عروہ بن زبیر نے کہا کہ میں نے پوچھا ام المومنین عائشہ سے دیکھو اللہ جل جلالہ فرماتا ہے بے شک صفا اور مروہ اللہ کی پاک نشانیوں میں سے ہیں سو جو حج کرے خانہ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں اس پر کچھ گناہ نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سعی نہ کرے تب بھی برا نہیں ہے حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ ہرگز ایسا نہیں اگر جیسا کہ تم سمجھتے ہو ویسا ہوتا تو اللہ جل جلالہ یوں فرماتا کہ گناہ ہے اس پر سعی نہ کرنے میں صفا اور مروہ کے درمیان اور یہ آیت تو انصار کے حق میں اتری ہے وہ لوگ حج کیا کرتے تھے منات کے واسطے اور منات مقابل قدید کے تھا اور قدید ایک قریہ کا نام ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان میں وہ لوگ صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کرنا برا سمجھتے تھے جب دین اسلام سے مشرف ہوئے تو انہوں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں تو اس وقت اللہ جل جلالہ نے اتاری یہ آیت کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں جو شخص حج کرے خانہ کعبہ کا اور عمرہ کرے تو سعی کرنا گنا نہیں ہے ان دونوں کے درمیان میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، كَانَتْ عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَخَرَجَتْ تَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ مَاشِيَةً وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً فَجَاءَتْ حِينَ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْعِشَاءِ فَلَمْ تَقْضِ طَوَافَهَا حَتَّى نُودِيَ بِالأُولَى مِنَ الصُّبْحِ فَقَضَتْ طَوَافَهَا فِيمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ . وَكَانَ عُرْوَةُ إِذَا رَآهُمْ يَطُوفُونَ عَلَى الدَّوَابِّ يَنْهَاهُمْ أَشَدَّ النَّهْىِ فَيَعْتَلُّونَ بِالْمَرَضِ حَيَاءً مِنْهُ فَيَقُولُ لَنَا فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ لَقَدْ خَابَ هَؤُلاَءِ وَخَسِرُوا . قَالَ مَالِكٌ مَنْ نَسِيَ السَّعْىَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي عُمْرَةٍ فَلَمْ يَذْكُرْ حَتَّى يَسْتَبْعِدَ مِنْ مَكَّةَ أَنَّهُ يَرْجِعُ فَيَسْعَى وَإِنْ كَانَ قَدْ أَصَابَ النِّسَاءَ فَلْيَرْجِعْ فَلْيَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يُتِمَّ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ عَلَيْهِ عُمْرَةٌ أُخْرَى وَالْهَدْىُ . وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَلْقَاهُ الرَّجُلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَيَقِفُ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لاَ أُحِبُّ لَهُ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ نَسِيَ مِنْ طَوَافِهِ شَيْئًا أَوْ شَكَّ فِيهِ فَلَمْ يَذْكُرْ إِلاَّ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ سَعْيَهُ ثُمَّ يُتِمُّ طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عَلَى مَا يَسْتَيْقِنُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ ثُمَّ يَبْتَدِئُ سَعْيَهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ سودہ بیٹی عبداللہ بن عمر کی عروہ بن زبیر کے نکاح میں تھیں ایک روز وہ نکلیں حج یا عمرہ میں پیدل سعی کرنے صفا اور مروہ کے بیچ اور وہ ایک موٹی عورت تھیں تو آئی سعی کرنے کو جب لوگ فارغ ہوئے عشاء کی نماز سے، اور سعی ان کی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اذان ہوگئی صبح کی پھر انہوں نے پوری کی سعی اپنی اس درمیان میں، اور عروہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ سوار ہو کر سعی کرتے ہیں تو سختی سے منع کرتے تھے اور وہ لوگ بیماری کا حیلہ کر تے تھے عروہ سے شرم کی وجہ سے تو عروہ کہتے تھے ہم سے اپنے لوگوں کے آپس میں ان لوگوں نے نقصان پایا مراد کو نہ پہنچے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ میں جب آتے تو معمولی چال سے چلتے جب وادی کے اندر آپ کے قدم آتے تو دوڑ کر چلتے یہاں تک کہ وادی سے نکل جاتے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا، تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَ .
ام الفضل سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے سامنے شک کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں عرفہ کے دن بعضوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں بعضوں نے کہا نہیں تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار تھے عرفات میں تو پی لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ . قَالَ الْقَاسِمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ يَدْفَعُ الإِمَامُ ثُمَّ تَقِفُ حَتَّى يَبْيَضَّ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ تَدْعُو بِشَرَابٍ فَتُفْطِرُ .
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ام المومنین عرفہ کے روز روزہ رکھتی تھیں قاسم نے کہا میں نے دیکھا کہ عرفہ کی شام کو جب امام چلا تو وہ ٹھہری رہیں یہاں تک کہ زمین صاف ہوگئی پھر ایک پیالہ پانی کا منگایا اور روزہ افطار کیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْر��، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ مِنًى .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا منی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ أَيَّامَ مِنًى يَطُوفُ يَقُولُ إِنَّمَا هِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ .
ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ کو بھیجا منی کے دنوں میں کہ لوگوں میں پھر کر پکار دیں کہ یہ دن کھانے اور پینے اور اللہ کی یاد کے ہیں ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا دو دن روزہ رکھنے سے ایک عیدالفطر اور دوسرے عیدالاضحی کے دن ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِي، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أُخْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَوَجَدَهُ يَأْكُلُ قَالَ فَدَعَانِي قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ هَذِهِ الأَيَّامُ الَّتِي نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِنَّ وَأَمَرَنَا بِفِطْرِهِنَّ .
عبداللہ بن عمرو بن عاص گئے اپنے باپ عمرہ بن عاص کے پاس ان کو کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انہوں نے بلایا عبداللہ کو عبداللہ نے کہا میں روزے سے ہوں انہوں نے کہا ان دنوں میں منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے سے اور حکم کیا ہم کو ان دنوں میں افطار کرنے کا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْدَى جَمَلاً كَانَ لأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ .
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی بھیجی ایک اونٹ کی جو ابوجہل بن ہشام کا تھا حج یا عمرہ میں
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ . فَقَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " . فِي الثَّانِيَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک شخص کو ہانکتا تھا اونٹ ہدی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا اس پر وہ بولا کہ ہدی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار ہو جا خرابی ہو تیری، دوسری یا تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُهْدِي فِي الْحَجِّ بَدَنَتَيْنِ بَدَنَتَيْنِ وَفِي الْعُمْرَةِ بَدَنَةً بَدَنَةً . قَالَ وَرَأَيْتُهُ فِي الْعُمْرَةِ يَنْحَرُ بَدَنَةً وَهِيَ قَائِمَةٌ فِي دَارِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ وَكَانَ فِيهَا مَنْزِلُهُ . قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ طَعَنَ فِي لَبَّةِ بَدَنَتِهِ حَتَّى خَرَجَتِ الْحَرْبَةُ مِنْ تَحْتِ كَتِفِهَا .
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر حج میں دو اونٹوں کی ہدی کیا کرتے تھے اور عمرہ میں ایک ایک اونٹ کی میں نے دیکھا ان کو کہ وہ نحر کرتے تھے اپنے اونٹ کا اور اونٹ کھڑا ہوتا تھا خالد بن اسید کے گھر میں وہیں وہ اترتے تھے اور میں نے دیکھا ان کو عمرہ میں کہ برچھا مارا انہوں نے اپنے اونٹ کی گردن میں یہاں تک کہ نکل آیا وہ اس کے بازو سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَهْدَى جَمَلاً فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہدی بھیجی ایک اونٹ کی حج یا عمرہ میں ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، . أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ، أَهْدَى بَدَنَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا بُخْتِيَّةٌ .
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عیاش نے دو اونٹوں کو ہدی کیا ایک اونٹ ان میں سے بُختی تھا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا نُتِجَتِ النَّاقَةُ فَلْيُحْمَلْ وَلَدُهَا حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ لَهُ مَحْمَلٌ حُمِلَ عَلَى أُمِّهِ حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب جنے اونٹنی ہدی کی تو اس کے بچے کو بھی ساتھ لے چلیں اور اپنی ماں کے ساتھ قربانی کریں اگر اس کے چلنے کے لئے کوئی سواری نہ ہو تو اس کو اپنی ماں پر سوار کر دیا جائے تاکہ اس کے ساتھ نحر کیا جائے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى بَدَنَتِكَ فَارْكَبْهَا رُكُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى لَبَنِهَا فَاشْرَبْ بَعْدَ مَا يَرْوَى فَصِيلُهَا فَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا .
ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ کہتے تھے کہ اگر تجھ کو ضرورت پڑے تو اپنی ہدی پر سوار ہو جا مگر ایسا نہ ہو کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے اور جب ضرورت ہو تجھ کو اس کے دودھ کی تو پی لے جبکہ بچہ اس کا سیر ہو جائے، پھر جب تو اس کو نحر کرے تو اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ نحر کر ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَهْدَى هَدْيًا مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ وَذَلِكَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ يُقَلِّدُهُ بِنَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهُ مِنَ الشِّقِّ الأَيْسَرِ ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ حَتَّى يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا فَإِذَا قَدِمَ مِنًى غَدَاةَ النَّحْرِ نَحَرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ وَكَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ .
عبداللہ بن عمر جب ہدی لے جاتے مدینہ سے تو تقلید کرتے اس کی اور اشعار کرتے اس کا ذوالحلیفہ میں، مگر تقلید اشعار سے پہلے کرتے لیکن دونوں ایک ہی مقام میں کرتے اس طرح پر کہ ہدی کا منہ قبلہ کی طرف کر کے پہلے اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دیتے پھر اشعار کرتے بائیں طرف سے اور ہدی کو اپنے ساتھ لے جاتے یہاں تک کہ عرفہ کے روز عرفات میں بھی سب لوگوں کے ساتھ رہتے پھر جب لوگ لوٹتے تو ہدی بھی لوٹ کر آتی، جب منی میں صبح کو یوم النحر میں پہنچتے تو اس کو نحر کرتے قبل حلق یا قصر کے اور عبداللہ بن عمر اپنی ہدی کو آپ نحر کرتے ان کو کھڑا کرتے صف باندھ کر منہ ان کا قبلہ کی طرف کرتے پھر اس کو نحر کرتے اور ان کا گوشت بھی کھاتے دوسروں کو بھی کھلاتے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا طَعَنَ فِي سَنَامِ هَدْيِهِ وَهُوَ يُشْعِرُهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب اپنی ہدی کے کوہان میں زخم لگاتے اشعار کے لئے کہتے اللہ کے نام سے اللہ بڑا ہے
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الْهَدْىُ مَا قُلِّدَ وَأُشْعِرَ وَوُقِفَ بِهِ بِعَرَفَةَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر فرماتے تھے کہ ہدی وہ جانور ہے جس کی تقلید اور اشعار ہو اور کھڑا کیا جائے اس کو عرفات میں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ الْقُبَاطِيَّ وَالأَنْمَاطَ وَالْحُلَلَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْكَعْبَةِ فَيَكْسُوهَا إِيَّاهَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کو جو ہدی کے ہوتے تھے مصری کپڑے اور چارجامی اور جوڑے اوڑھاتے تھے (قربانی کے بعد) ان کپڑوں کو بھیج دیتے تھے کعبہ شریف اوڑھانے کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلاَلِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتِ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ قَالَ كَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا .
امام مالک نے پوچھا عبداللہ بن دینار سے کہ عبداللہ بن عمر اونٹ کی جھول کا کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا؟ انہوں نے کہا صدقہ میں دے دیتے تھے
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے قربانی کے لئے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَشُقُّ جِلاَلَ بُدْنِهِ وَلاَ يُجَلِّلُهَا حَتَّى يَغْدُوَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ عرفہ کو جاتے منی سے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ يَا بَنِيَّ لاَ يُهْدِيَنَّ أَحَدُكُمْ مِنَ الْبُدْنِ شَيْئًا يَسْتَحْيِي أَنْ يُهْدِيَهُ لِكَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمُ الْكُرَمَاءِ وَأَحَقُّ مَنِ اخْتِيرَ لَهُ .
عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے اے میرے بیٹو! اللہ کے لئے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو آپ اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے ہو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کر دی جائے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ صَاحِبَ، هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْهَدْىِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنَ الْهَدْىِ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قِلاَدَتَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا " .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کا کیا کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا ثُمَّ خَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا .
سعید بن مسیب نے کہا جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کونحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا، عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ ذَلِكَ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً جَزَاءً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْىَ تَمَتُّعٍ فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ .
ابن شہاب نے کہا جو شخص اونٹ جزا کا یا نذر کا یا تمتع کا لے گیا پھر وہ راستے میں تلف ہو گیا تو اس پر اس کا عوض لازم ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَهْلَ الْعِلْمِ يَقُولُونَ لاَ يَأْكُلُ صَاحِبُ الْهَدْىِ مِنَ الْجَزَاءِ وَالنُّسُكِ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے پھر وہ راستے میں مر جائے یا گم ہو جائے تو اگر نذر کو ہو تو اس کا عوض دے اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ، أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ . قَالَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَإِذَا أَهَلاَّ بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا .
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں وہ کیا کرے ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں حج کے ارکان ادا کرتے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہو جائے پھر آئندہ سال ان پر حج اور ہدی لازم ہے ۔ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ پھر آئندہ سال جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامٍ قَابِلٍ . فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَكَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْىُ وَيُهِلاَّنِ مِنْ حَيْثُ أَهَلاَّ بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ . وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا . قَالَ مَالِكٌ يُهْدِيَانِ جَمِيعًا بَدَنَةً بَدَنَةً . قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي الْحَجِّ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَدْفَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَيَرْمِيَ الْجَمْرَةَ إِنَّهُ يَجِبُ عَلَيْهِ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ قَالَ فَإِنْ كَانَتْ إِصَابَتُهُ أَهْلَهُ بَعْدَ رَمْىِ الْجَمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَمِرَ وَيُهْدِيَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ . قَالَ مَالِكٌ وَالَّذِي يُفْسِدُ الْحَجَّ أَوِ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَجِبَ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْهَدْىُ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ الْتِقَاءُ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاءٌ دَافِقٌ . قَالَ وَيُوجِبُ ذَلِكَ أَيْضًا الْمَاءُ الدَّافِقُ إِذَا كَانَ مِنْ مُبَاشَرَةٍ فَأَمَّا رَجُلٌ ذَكَرَ شَيْئًا حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ مَاءٌ دَافِقٌ فَلاَ أَرَى عَلَيْهِ شَيْئًا وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ مَاءٌ دَافِقٌ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي الْقُبْلَةِ إِلاَّ الْهَدْىُ وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَهِيَ مُحْرِمَةٌ مِرَارًا فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَهِيَ لَهُ فِي ذَلِكَ مُطَاوِعَةٌ إِلاَّ الْهَدْىُ وَحَجُّ قَابِلٍ إِنْ أَصَابَهَا فِي الْحَجِّ وَإِنْ كَانَ أَصَابَهَا فِي الْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا عَلَيْهَا قَضَاءُ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَفْسَدَتْ وَالْهَدْىُ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کر دیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَكَكَ الْحَجُّ قَابِلاً فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ابوایوب انصاری حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو ان کا اونٹ گم ہو گیا سو آئے وہ مکہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس دسویں تاریخ کو ذی الحجہ کی اور بیان کیا ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ عمرہ کر لے اور احرام کھول ڈال پھر آئندہ سال حج کے دن آئیں تو حج کر اور ہدی دے موافق اپنی طاقت کے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ، جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ كُنَّا نُرَى أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ . فَقَالَ عُمَرُ اذْهَبْ إِلَى مَكَّةَ فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا كَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ . قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ثُمَّ فَاتَهُ الْحَجُّ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ قَابِلاً وَيَقْرِنُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَيُهْدِي هَدْيَيْنِ هَدْيًا لِقِرَانِهِ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ وَهَدْيًا لِمَا فَاتَهُ مِنَ الْحَجِّ .
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور عمر بن خطاب نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا تو کہا انہوں نے اے امیر المومنیں ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی ہم سمجھتے تھے کہ آج عرفہ کاروز ہے حضرت عمر نے کہا مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو پھر حلق کرو یا قصر اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، آئندہ سال آؤ اور حج کرو اور ہدی دو جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً .
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے صحبت کی اپنی بی بی سے اور وہ منی میں تھا قبل طواف زیارة کے، تو حکم کیا اس کو عبداللہ بن عباس نے ایک اونٹ نحر کرنے کا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لاَ أَظُنُّهُ إِلاَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي .
عبداللہ بن عباس نے کہا جو شخص صحبت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف زیارة کے تو وہ ایک عمرہ کرے اور ہدی دے ۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih