دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۲۰

موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj

۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 5) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الإِفَاضَةَ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَرَجَعَ إِلَى بِلاَدِهِ فَقَالَ أَرَى إِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَ النِّسَاءَ فَلْيَرْجِعْ فَلْيُفِضْ وَإِنْ كَانَ أَصَابَ النِّسَاءَ فَلْيَرْجِعْ فَلْيُفِضْ ثُمَّ لِيَعْتَمِرْ وَلْيُهْدِ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ هَدْيَهُ مِنْ مَكَّةَ وَيَنْحَرَهُ بِهَا وَلَكِنْ إِنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَهُ مَعَهُ مِنْ حَيْثُ اعْتَمَرَ فَلْيَشْتَرِهِ بِمَكَّةَ ثُمَّ لِيُخْرِجْهُ إِلَى الْحِلِّ فَلْيَسُقْهُ مِنْهُ إِلَى مَكَّةَ ثُمَّ يَنْحَرُهُ بِهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَقُولُ ‏{‏مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ‏}‏ شَاةٌ ‏.‏
حضرت علی فرماتے تھے کہ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے مراد ایک بکری ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری مراد ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ ‏{‏مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ‏}‏ شَاةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا‏}‏ فَمِمَّا يُحْكَمُ بِهِ فِي الْهَدْىِ شَاةٌ وَقَدْ سَمَّاهَا اللَّهُ هَدْيًا وَذَلِكَ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا وَكَيْفَ يَشُكُّ أَحَدٌ فِي ذَلِكَ وَكُلُّ شَىْءٍ لاَ يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِبَعِيرٍ أَوْ بَقَرَةٍ فَالْحُكْمُ فِيهِ شَاةٌ وَمَا لاَ يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِشَاةٍ فَهُوَ كَفَّارَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ إِطْعَامِ مَسَاكِينَ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ ‏{‏مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْى‏}‏ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ مَوْلاَةً، لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى مَكَّةَ - قَالَتْ - فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَكَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ أَمَعَكِ مِقَصَّانِ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ فَقَالَتْ فَالْتَمِسِيهِ لِي ‏.‏ فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّى جِئْتُ بِهِ فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمن کی جس کا نام رقیہ تھا مجھ سے کہتی تھی کہ میں چلی عمرہ بنت عبدالرحمن کے ساتھ مکہ کو تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی وہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی تو طواف کیا خانہ کعبہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کے درمیان میں پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے میں نے کہا نہیں عمرہ نے کہا کہیں سے ڈھونڈھ کرلاؤ سو میں ڈھونڈھ کر لائی عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كُنْتُ مَعَكَ أَوْ سَأَلْتَنِي لأَمَرْتُكَ أَنْ تَقْرِنَ ‏.‏ فَقَالَ الْيَمَانِيُّ قَدْ كَانَ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَهْدِ ‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَدْيُهُ ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ مَا هَدْيُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ أَنْ أَذْبَحَ شَاةً لَكَانَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ ‏.‏
صدقہ بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا عبداللہ بن عمر کے پاس اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو تو کہا اے ابا عبدالرحمن میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا عبداللہ بن عمر نے کہا اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قران کا حکم کرتا اس شخص نے کہا اب تو ہو چکا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے، ایک عورت عراق کی رہنے والی بوالی اے ابا عبدالرحمن کیا ہدی ہے اس کی؟ انہوں نے کہا جو ہدی ہے اس کی، اس عورت نے کہا کیا ہدی ہے؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا وَإِنْ كَانَ لَهَا هَدْىٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّى تَنْحَرَ هَدْيَهَا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ لاَ يَشْتَرِكُ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ فِي بَدَنَةٍ وَاحِدَةٍ لِيُهْدِ كُلُّ وَاحِدٍ بَدَنَةً بَدَنَةً ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ بُعِثَ مَعَهُ بِهَدْىٍ يَنْحَرُهُ فِي حَجٍّ وَهُوَ مُهِلٌّ بِعُمْرَةٍ هَلْ يَنْحَرُهُ إِذَا حَلَّ أَمْ يُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَنْحَرَهُ فِي الْحَجِّ وَيُحِلُّ هُوَ مِنْ عُمْرَتِهِ فَقَالَ بَلْ يُؤَخِّرُهُ حَتَّى يَنْحَرَهُ فِي الْحَجِّ وَيُحِلُّ هُوَ مِنْ عُمْرَتِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالَّذِي يُحْكَمُ عَلَيْهِ بِالْهَدْىِ فِي قَتْلِ الصَّيْدِ أَوْ يَجِبُ عَلَيْهِ هَدْىٌ فِي غَيْرِ ذَلِكَ فَإِنَّ هَدْيَهُ لاَ يَكُونُ إِلاَّ بِمَكَّةَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَة‏}‏ وَأَمَّا مَا عُدِلَ بِهِ الْهَدْىُ مِنَ الصِّيَامِ أَوِ الصَّدَقَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ يَكُونُ بِغَيْرِ مَكَّةَ حَيْثُ أَحَبَّ صَاحِبُهُ أَنْ يَفْعَلَهُ فَعَلَهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو جب احرام کھلوائے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے اور جو اس کے پاس ہدی ہو جب تک ہدی نحر نہ کرے تو اپنے بال نہ کتروائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَى حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّى إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ ثُمَّ إِنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَى رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيٌّ بِرَأْسِهِ فَحُلِّقَ ثُمَّ نَسَكَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَكَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي سَفَرِهِ ذَلِكَ إِلَى مَكَّةَ ‏.‏
ابو اسما سے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن جعفر کے روایت ہے کہ عبداللہ بن جعفر کے ساتھ وہ مدینہ سے نکلے تو گزرے حسین بن علی پر اور وہ بیمار تھے سقیا میں پس ٹھہرے رہے وہاں عبداللہ بن جعفر یہاں تک کہ جب خوف ہوا حج کے فوت ہو جانے کا تو نکل کھڑے ہوئے عبداللہ بن جعفر اور ایک آدمی بھیج دیا حضرت علی کے پاس اور ان کی بی بی اسما بنت عمیس کے پاس وہ دونوں مدینہ میں تھے تو آئے حضرت علی اور اسماء مدینہ سے امام حسین کے پاس انہوں نے اشارہ کیا اپنے سر کی طرف حضرت علی نے حکم کیا ان کا سر مونڈا گیا سقیا میں، پھر قربانی کی ان کی طرف سے ایک اونٹ کی وہیں سقیا میں، کہا یحیی بن سعید نے کہ امام حسین حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ نکلے تھے حج کرنے کو ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عرفات تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن عرفہ میں نہ ٹھہرو اور مزدلفہ تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر میں نہ ٹھہرو۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اعْلَمُوا أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلاَّ بَطْنَ عُرَنَةَ وَأَنَّ الْمُزْدَلِفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلاَّ بَطْنَ مُحَسِّرٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الْحَجِّ ‏}‏ قَالَ فَالرَّفَثُ إِصَابَةُ النِّسَاءِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ‏}‏ قَالَ وَالْفُسُوقُ الذَّبْحُ لِلأَنْصَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ‏}‏ ‏.‏ قَالَ وَالْجِدَالُ فِي الْحَجِّ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَقِفُ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِقُزَحَ وَكَانَتِ الْعَرَبُ وَغَيْرُهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَكَانُوا يَتَجَادَلُونَ يَقُولُ هَؤُلاَءِ نَحْنُ أَصْوَبُ وَيَقُولُ هَؤُلاَءِ نَحْنُ أَصْوَبُ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَ ‏{‏لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلاَ يُنَازِعُنَّكَ فِي الأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ‏}‏ فَهَذَا الْجِدَالُ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر ۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلة الصیام الرفث الی نساءکم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ وَلَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يُعْتَقُ فِي الْمَوْقِفِ بِعَرَفَةَ فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَجْزِي عَنْهُ مِنْ حَجَّةِ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَمْ يُحْرِمْ فَيُحْرِمُ بَعْدَ أَنْ يُعْتَقَ ثُمَّ يَقِفُ بِعَرَفَةَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ أَجْزَأَ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يُحْرِمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ فَاتَهُ الْحَجُّ إِذَا لَمْ يُدْرِكِ الْوُقُوفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ وَيَكُونُ عَلَى الْعَبْدِ حَجَّةُ الإِسْلاَمِ يَقْضِيهَا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُقَدِّمُ أَهْلَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمِنًى وَيَرْمُوا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ‏.‏
سالم اور عبیداللہ سے جو دو بیٹے ہیں عبداللہ بن عمر کے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر آگے روانہ کر دیتے تھے عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے منی کی طرف تاکہ نماز صبح کی منی میں پڑھ کر لوگوں کے آنے سے اول کنکریاں مار لیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَوْلاَةً، لأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، جِئْنَا مَعَ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ - قَالَتْ - فَقُلْتُ لَهَا لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ ‏.‏ فَقَالَتْ قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكِ ‏.‏
اسماء بنت ابی بکر کی آزاد لونڈی سے روایت ہے کہ ہم اسما بنت ابی بکر کے ساتھ منی میں آئے منہ اندھیرے تو میں نے کہا کہ ہم منی میں منہ اندھیرے آئے اسماء نے کہا ہم ایسا ہی کرتے تھے اس شخص کے ساتھ جو تجھ سے بہتر تھے ۔ امام مالک نے سنا بعض اہل علم سے مکروہ جانتے تھے کنکریاں مارنا قبل طلوع فجر کے نحر کے دن، اور جس نے ماریں تو نحر اس کو حلال ہو گیا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، كَانَ يُقَدِّمُ نِسَاءَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُ رَمْىَ الْجَمْرَةِ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ وَمَنْ رَمَى فَقَدْ حَلَّ لَهُ النَّحْرُ ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، كَانَتْ تَرَى أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ تَأْمُرُ الَّذِي يُصَلِّي لَهَا وَلأَصْحَابِهَا الصُّبْحَ يُصَلِّي لَهُمُ الصُّبْحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ثُمَّ تَرْكَبُ فَتَسِيرُ إِلَى مِنًى وَلاَ تَقِفُ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت المنذر دیکھتی تھیں اسما بنت ابی بکر کو مزدلفہ میں کہ جو امامت کرتا تھا ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نماز میں حکم کرتی تھیں اس شخص کو کہ نماز پڑھائے صبح کی فجر نکلتے ہی پھر سوار ہو کر منی کو آتی تھیں اور توقف نہ کرتی تھیں ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ - وَأَنَا جَالِسٌ، مَعَهُ - كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ ‏.‏
عروہ بن زبیر نے کہا کہ سوال ہو اسامہ بن زید سے اور میں بیٹھا تھا ان کے پاس کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج وداع میں کس طرح چلاتے تھے اونٹ کو؟ کہا انہوں نے چلاتے تھے ذرا تیز جب جگہ پاتے تو خوب دوڑا کر چلاتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُحَرِّكُ رَاحِلَتَهُ فِي بَطْنِ مُحَسِّرٍ قَدْرَ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تیز کرتے تھے اپنے اونٹ کو بطن محسر میں ایک ڈھیلے کی مار تک ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِنًى ‏"‏ هَذَا الْمَنْحَرُ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْعُمْرَةِ ‏"‏ هَذَا الْمَنْحَرُ - يَعْنِي الْمَرْوَةَ - وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ ‏"‏ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منی کو نحر کی جگہ یہ ہے اور ساری منی نحر کی جگہ ہے اور عمرہ میں کہا مروہ کو نحر کی جگہ یہ ہے اور سب راستے مکہ کے نحر کی جگہ ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب پانچ راتیں باقی رہی تھیں ذیقعدہ کی اور ہم کو گمان یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو نکلے ہیں جب ہم نزدیک ہوئے مکہ سے تو حکم کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس کے ساتھ ہدی نہ تھی کہ طواف اور سعی کر کے احرام کھول ڈالے کہا عائشہ نے کہ یوم النحر کے دن ہمارے پاس گوشت آیا گائے کا تو میں نے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کی طرف سے نحر کیا ہے۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر کے اپنا احرام نہیں کھولا تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے تلبید کی اپنے سر کی اور تقلید کی اپنی ہدی کی تو میں احرام نہ کھولوں گا جب تک نحر نہ کر لوں۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ وَنَحَرَ غَيْرُهُ بَعْضَهُ ‏.‏
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے بعض جانوروں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بعضوں کو اوروں نے ذبح کیا ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ مَنْ نَذَرَ بَدَنَةً فَإِنَّهُ يُقَلِّدُهَا نَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهَا ثُمَّ يَنْحَرُهَا عِنْدَ الْبَيْتِ أَوْ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لَيْسَ لَهَا مَحِلٌّ دُونَ ذَلِكَ وَمَنْ نَذَرَ جَزُورًا مِنَ الإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ فَلْيَنْحَرْهَا حَيْثُ شَاءَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص نذر کرے بدنہ کی (بدنہ اونٹ یا گائے یا بیل کو کہتے ہیں) جو بھیجا جائے مکہ کو قربانی کے واسطے تو اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دے اور اشعار کرے پھر نحر کرے اس کا بیت اللہ کے پاس یا منی میں دسویں تاریخ ذی الحجہ کو، اس کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ہے اور جو شخص نذر کرے قربانی کے اونٹ یا گائے کی اس کو اختیار ہے کہ جہاں چاہے نحر کرے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يَنْحَرُ بُدْنَهُ قِيَامًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَجُوزُ لأَحَدٍ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَلاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَنْحَرَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ وَإِنَّمَا الْعَمَلُ كُلُّهُ يَوْمَ النَّحْرِ الذَّبْحُ وَلُبْسُ الثِّيَابِ وَإِلْقَاءُ التَّفَثِ وَالْحِلاَقُ لاَ يَكُونُ شَىْءٌ مِنْ ذَلِكَ يُفْعَلُ قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ نحر کرتے تھے اپنے اونٹوں کو کھڑا کر کے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَالْمُقَصِّرِينَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ رحم کرے حلق کرنے والوں پر صحابہ نے کہا اور قصر کرنے والوں پر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ رحم کرے حلق کرنے والوں پر پھر صحابہ نے کہا اور قصر کرنے والوں پر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور قصر کرنے والوں پر۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ لَيْلاً وَهُوَ مُعْتَمِرٌ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَيُؤَخِّرُ الْحِلاَقَ حَتَّى يُصْبِحَ ‏.‏ قَالَ وَلَكِنَّهُ لاَ يَعُودُ إِلَى الْبَيْتِ فَيَطُوفُ بِهِ حَتَّى يَحْلِقَ رَأْسَهُ ‏.‏ قَالَ وَرُبَّمَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَوْتَرَ فِيهِ وَلاَ يَقْرَبُ الْبَيْتَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ التَّفَثُ حِلاَقُ الشَّعَرِ وَلُبْسُ الثِّيَابِ وَمَا يَتْبَعُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الْحِلاَقَ بِمِنًى فِي الْحَجِّ هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَحْلِقَ بِمَكَّةَ قَالَ ذَلِكَ وَاسِعٌ وَالْحِلاَقُ بِمِنًى أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ أَحَدًا لاَ يَحْلِقُ رَأْسَهُ وَلاَ يَأْخُذُ مِنْ شَعَرِهِ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ وَلاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحِلَّ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ‏{‏وَلاَ تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ ‏}‏
عبدالرحمن بن القاسم سے روایت ہے کہ ان کے باپ قاسم بن محمد مکہ میں عمرہ کا احرام باندھ کر رات کو آتے اور طواف وسعی کر کے حلق میں تاخیر کرتے صبح تک لیکن جب تک حلق نہ کرتے بیت اللہ کا طواف نہ کرتے اور کبھی مسجد میں آ کر وتر پڑھتے لیکن بیت اللہ کے قریب نہ جاتے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ کوئی شخص سر نہ منڈائے اور بال نہ کتروائے یہاں تک کہ نحر کرے ہدی کو اگر اس کے ساتھ ہو اور جو چیزیں احرام میں حرام تھیں ان کا استعمال نہ کرے جب تک احرام نہ کھول لے منی میں یوم النحر کو کیونکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ولا تحلقو رؤسکم حتی یبلغ الھدی محلہ مت منڈاؤ سروں کو اپنے جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ رَأْسِهِ وَلاَ مِنْ لِحْيَتِهِ شَيْئًا حَتَّى يَحُجَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب رمضان کے روزں سے فارغ ہوتے اور حج کا قصد ہوتا تو سر اور داڑھی کے بال نہ لیتے یہاں تک کہ حج کرتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا حَلَقَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ وَشَارِبِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب حلق کرتے حج یا عمرہ میں تو اپنی داڑھی اور مونچھ کے بال لیتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ وَأَفَضْتُ مَعِي بِأَهْلِي ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى شِعْبٍ فَذَهَبْتُ لأَدْنُوَ مِنْ أَهْلِي فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ مِنْ شَعَرِي بَعْدُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعَرِهَا بِأَسْنَانِي ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا فَضَحِكَ الْقَاسِمُ وَقَالَ مُرْهَا فَلْتَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهَا بِالْجَلَمَيْنِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أَسْتَحِبُّ فِي مِثْلِ هَذَا أَنْ يُهْرِقَ دَمًا وَذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ نَسِيَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَلْيُهْرِقْ دَمًا ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص آیا قاسم بن محمد کے پاس اور اس نے کہا کہ میں نے طواف الافاضہ کیا اور میرے ساتھ میری بی بی نے بھی طواف الافاضہ کیا پھر میں ایک گھاٹی کی طرف گیا تاکہ صحبت کروں بی بی سے وہ بولی کہ میں نے ابھی بال نہیں کتروائے میں نے دانتوں سے اس کے بال کترے اور اس سے صحبت کی قاسم بن محمد ہنسے اور کہا کہ حکم کر اپنی عورت کو کہ بال کترے قینچی سے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ الْمُجَبَّرُ قَدْ أَفَاضَ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ جَهِلَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَرْجِعَ فَيَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ فَيُفِيضَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص سے ملے جس کا نام مجبر تھا انہوں نے طواف الافاضہ کر لیا تھا لیکن نہ حلق کیا نہ قصر نادانی سے، تو ان کو عبداللہ بن عمر نے لوٹ جانے کا اور حلق یا قصر کرکے اور طواف زیادہ دوبارہ کرنے کا حکم کیا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب ارادہ کرتے احرام کا تو قینچی منگاتے اور مونچھ اور داڑھی کے بال لیتے سواری اور لیبک کہنے سے پہلے احرام باندھ کر ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ دَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّ شَارِبَهُ وَأَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَقَبْلَ أَنْ يُهِلَّ مُحْرِمًا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَلْيَحْلِقْ وَلاَ تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص بال گوندھے احرام کے وقت وہ سر منڈا دے احرام کھولتے وقت اور اس طرح بال نہ گوندھو کہ تلبید سے مشابہت ہو جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ عَقَصَ رَأْسَهُ أَوْ ضَفَرَ أَوْ لَبَّدَ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحِلاَقُ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص جوڑا باندھے یا گوندھ لے یا تلبید کرے بالوں کو احرام کے وقت تو واجب ہو گیا اس پر سر منڈانا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے کعبہ شریف کے اندر اور ان کے ساتھ اسامہ بن زید اور بلال بن رابح اور عثمان بن طلحہ تھے تو دروازہ بند کر لیا اور وہاں ٹھہرے رہے، عبداللہ نے کہا میں نے بلال سے پوچھا جب نکلے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ تو کہا انہوں نے ایک ستون پیچھے کو بائیں طرف کیا اور دو ستون داہنی طرف اور تین ستون پیچھے اپنے اور خانہ کعبہ میں ان دنوں چھ ستون تھے پھر نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ أَنْ لاَ تُخَالِفَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي شَىْءٍ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ فَصَاحَ بِهِ عِنْدَ سُرَادِقِهِ أَيْنَ هَذَا فَخَرَجَ عَلَيْهِ الْحَجَّاجُ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ الرَّوَاحَ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ ‏.‏ فَقَالَ أَهَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَأَنْظِرْنِي حَتَّى أُفِيضَ عَلَىَّ مَاءً ثُمَّ أَخْرُجَ ‏.‏ فَنَزَلَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى خَرَجَ الْحَجَّاجُ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي فَقُلْتُ لَهُ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَعَجِّلِ الصَّلاَةَ - قَالَ - فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَيْمَا يَسْمَعَ ذَلِكَ مِنْهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ صَدَقَ سَالِمٌ ‏.‏
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لکھا عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو جب وہ آیا تھا عبداللہ بن عمر کا کسی بات میں حج کے کاموں میں سے کسی میں اختلاف نہ کرنا، کہا سالم نے جب عرفہ کا روز ہوا تو عبداللہ بن عمر زوال ہوتے ہی آئے اور میں بھی ان کے ساتھ اور پکارا حجاج کے خیمہ کے پاس کہ کہاں ہے حجاج؟ تو نکلا حجاج ایک چادر کسم میں رنگی ہوئی اوڑھے ہوئے اور کہا اے اباعبدالرحمن کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ اگر سنت کی پیروی چاہتا ہے تو چل حجاج بولا ابھی؟ انہوں نے کہا ہاں ابھی، حجاج نے کہا مجھے تھوڑی مہلت دو کہ میں نہالوں پھر نکلتا ہوں عبداللہ بن عمر سواری سے اتر پڑے پھر حجاج نکلا سو میرے اور میرے باپ عبداللہ کے بیچ میں آگیا میں نے اس سے کہا اگر تجھ کو سنت کی پیروی منظور ہو تو آج کے روز خطبہ کو کم کر اور نماز جلد پڑھ وہ عبداللہ کی طرف دیکھنے لگا تاکہ ان سے سنے جب عبداللہ نے یہ دیکھا تو کہا سچ کہا سالم نے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى ثُمَّ يَغْدُو إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَى عَرَفَةَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الإِمَامَ لاَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فِي الظُّهْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَأَنَّهُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَأَنَّ الصَّلاَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِنَّمَا هِيَ ظُهْرٌ وَإِنْ وَافَقَتِ الْجُمُعَةَ فَإِنَّمَا هِيَ ظُهْرٌ وَلَكِنَّهَا قُصِرَتْ مِنْ أَجْلِ السَّفَرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي إِمَامِ الْحَاجِّ إِذَا وَافَقَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ أَوْ يَوْمَ النَّحْرِ أَوْ بَعْضَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِنَّهُ لاَ يُجَمِّعُ فِي شَىْءٍ مِنْ تِلْكَ الأَيَّامِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے تھے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی منی میں پھر صبح کو جب آفتاب نکل آتا تو عرفات کو جاتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی مغرب کی اور عشاء کی مزدلفہ میں ملا کر ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاَّهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ‏.‏
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے عرفات سے یہاں تک کہ جب پہنچے گھاٹی میں اترے اور پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن پورا وضو نہ کیا میں نے کہا نماز یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز آگے ہے تیرے، پھر سوار ہوئے جب مزدلفہ میں آئے اترے اور پورا وضو کیا پھر تکبیر ہوئی تو نماز پڑھی مغرب کی اس کے بعد ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنی جگہ میں بٹھایا پھر تکبیر ہوئی عشاء کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی بیچ میں ان دونوں کے کوئی نماز نہ پڑھی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ‏.‏
ابو ایوب انصاری نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء ملا کر مزدلفہ میں پڑھیں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبدللہ بن عمر مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھتے تھے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih