دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › موطا امام مالک › باب ۲۰

موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj

۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 6) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصَّلاَةَ الرُّبَاعِيَّةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلاَّهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلاَّهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَنَّ عُثْمَانَ صَلاَّهَا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ شَطْرَ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی منی میں دو رکعتیں پڑھیں اور ابوبکر نے بھی وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور عمر بن خطاب نے بھی دو رکعتیں وہاں پڑھیں اور عثمان بن عفان نے بھی دو رکعتیں وہاں پڑھیں اور آدھی خلافت تک پھر چار پڑھنے لگے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏.‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ‏.‏ ثُمَّ صَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا ‏.‏
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، صَلَّى لِلنَّاسِ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ‏.‏ ثُمَّ صَلَّى عُمَرُ رَكْعَتَيْنِ بِمِنًى وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا ‏.‏ سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ كَيْفَ صَلاَتُهُمْ بِعَرَفَةَ أَرَكْعَتَانِ أَمْ أَرْبَعٌ وَكَيْفَ بِأَمِيرِ الْحَاجِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَيُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِعَرَفَةَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ رَكْعَتَيْنِ وَكَيْفَ صَلاَةُ أَهْلِ مَكَّةَ فِي إِقَامَتِهِمْ فَقَالَ مَالِكٌ يُصَلِّي أَهْلُ مَكَّةَ بِعَرَفَةَ وَمِنًى مَا أَقَامُوا بِهِمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ يَقْصُرُونَ الصَّلاَةَ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى مَكَّةَ ‏.‏ قَالَ وَأَمِيرُ الْحَاجِّ أَيْضًا إِذَا كَانَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَصَرَ الصَّلاَةَ بِعَرَفَةَ وَأَيَّامَ مِنًى وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ سَاكِنًا بِمِنًى مُقِيمًا بِهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُتِمُّ الصَّلاَةَ بِمِنًى وَإِنْ كَانَ أَحَدٌ سَاكِنًا بِعَرَفَةَ مُقِيمًا بِهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُتِمُّ الصَّلاَةَ بِهَا أَيْضًا ‏.‏
کہا مالک نے جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی مکہ میں آگیا اور حج کا احرام باندھا تو وہ جب تک مکہ میں رہے چار رکعتیں پڑھے اس واسطے کہ اس نے چار راتوں سے زیادہ رہنے کی نیت کر لی۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ شَيْئًا فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ ثُمَّ خَرَجَ الثَّانِيَةَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ ثُمَّ خَرَجَ الثَّالِثَةَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَكَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِ حَتَّى يَتَّصِلَ التَّكْبِيرُ وَيَبْلُغَ الْبَيْتَ فَيُعْلَمَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ خَرَجَ يَرْمِي ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ التَّكْبِيرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ دُبُرَ الصَّلَوَاتِ وَأَوَّلُ ذَلِكَ تَكْبِيرُ الإِمَامِ وَالنَّاسُ مَعَهُ دُبُرَ صَلاَةِ الظُّهْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ وَآخِرُ ذَلِكَ تَكْبِيرُ الإِمَامِ وَالنَّاسُ مَعَهُ دُبُرَ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ثُمَّ يَقْطَعُ التَّكْبِيرَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالتَّكْبِيرُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مَنْ كَانَ فِي جَمَاعَةٍ أَوْ وَحْدَهُ بِمِنًى أَوْ بِالآفَاقِ كُلِّهَا وَاجِبٌ وَإِنَّمَا يَأْتَمُّ النَّاسُ فِي ذَلِكَ بِإِمَامِ الْحَاجِّ وَبِالنَّاسِ بِمِنًى لأَنَّهُمْ إِذَا رَجَعُوا وَانْقَضَى الإِحْرَامُ ائْتَمُّوا بِهِمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَهُمْ فِي الْحِلِّ فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ حَاجًّا فَإِنَّهُ لاَ يَأْتَمُّ بِهِمْ إِلاَّ فِي تَكْبِيرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَيَّامُ الْمَعْدُودَاتُ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ ‏.‏
یحیی بن سعید کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب گیارہویں تاریخ کو نکلے جب کچھ دن چڑھا تو تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی پھر دوسرے دن نکلے جب دن نکلا اور تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی تاکہ ایک تکیبر دوسری تکبیر سے ملتے ملتے آواز بیت اللہ کو پہنچے اور لوگ جانیں کہ حضرت عمر رمی کرنے نکلے ہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا بطحا میں جو ذوالحلیفہ میں تھا اور نماز پڑھی وہاں کہا نافع نے عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ اللَّيْلِ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ظہر اور عصر اور مغرب محصب میں پڑھتے پھر مکہ میں جاتے رات کو اور طواف کرتے خانہ کعبہ کا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ زَعَمُوا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَبْعَثُ رِجَالاً يُدْخِلُونَ النَّاسَ مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کوئی حاجی منی کی راتوں میں جمرہ عقبہ کے ادھر نہ رہے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ يَبِيتَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب چند آدمیوں کو مقرر کرتے اس بات پر کہ لوگوں کو پھیر دیں منی کی طرف جمرہ عقبہ کے پیچھے سے۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْبَيْتُوتَةِ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى لاَ يَبِيتَنَّ أَحَدٌ إِلاَّ بِمِنًى ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ بن زبیر نے کہا کہ منی کی راتوں میں کوئی مکہ میں نہ رہے بلکہ منی میں رہے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلاً حَتَّى يَمَلَّ الْقَائِمُ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب ٹھہرتے تھے جمرہ اولی اور وسطی کے پاس بڑی دیر تک کہ تھک جاتا تھا کھڑا ہونے والا۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلاً يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللَّهَ وَلاَ يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمرہ اولی اور وسطی کے پاس ٹھہرتے تھے بڑی دیر تک پھر تکبیر کہتے اور تسبیح اور تحمید پڑھتے اور دعا مانگتے اللہ جل جلالہ سے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكَبِّرُ عِنْدَ رَمْىِ الْجَمْرَةِ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ الْحَصَى الَّتِي يُرْمَى بِهَا الْجِمَارُ مِثْلُ حَصَى الْخَذْفِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ قَلِيلاً أَعْجَبُ إِلَىَّ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کنکریاں مارتے وقت تکبیر کہتے ہر کنکری مارنے پر۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مَنْ غَرَبَتْ لَهُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَهُوَ بِمِنًى فَلاَ يَنْفِرَنَّ حَتَّى يَرْمِيَ الْجِمَارَ مِنَ الْغَدِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جس کا آفتاب ڈوب جائے بارہویں تاریخ کو منی میں تو وہ نہ جائے جب تک تیرہویں تاریخ کو رمی نہ کرلے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّاسَ، كَانُوا إِذَا رَمَوُا الْجِمَارَ مَشَوْا ذَاهِبِينَ وَرَاجِعِينَ وَأَوَّلُ مَنْ رَكِبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ لوگ جب رمی کرنے کو جاتے تو پیدل جاتے اور پیدل آتے لیکن سب سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان رمی کے واسطے سوار ہوئے۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ مِنْ أَيْنَ كَانَ الْقَاسِمُ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ مِنْ حَيْثُ تَيَسَّرَ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يُرْمَى عَنِ الصَّبِيِّ وَالْمَرِيضِ فَقَالَ نَعَمْ وَيَتَحَرَّى الْمَرِيضُ حِينَ يُرْمَى عَنْهُ فَيُكَبِّرُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ وَيُهَرِيقُ دَمًا فَإِنْ صَحَّ الْمَرِيضُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ رَمَى الَّذِي رُمِيَ عَنْهُ وَأَهْدَى وُجُوبًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى عَلَى الَّذِي يَرْمِي الْجِمَارَ أَوْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ غَيْرُ مُتَوَضِّئٍ إِعَادَةً وَلَكِنْ لاَ يَتَعَمَّدُ ذَلِكَ ‏.‏
امام مالک نے پوچھا عبدالرحمن بن قاسم سے کہ قاسم بن محمد کہاں سے رمی کرتے تھے جمرہ عقبہ کی، بولے جہاں سے ممکن ہوتا۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تُرْمَى الْجِمَارُ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے تینوں دنوں میں رمی بعد زوال کے کی جائے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الْبَدَّاحِ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ خَارِجِينَ عَنْ مِنًى يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ ‏.‏
عاصم بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اونٹ والوں کو رات اور کہیں بسر کرنے کی سوائے منی کے، وہ لوگ رمی کرلیں یوم النحر کو پھر دوسرے دن یا تیسرے دن دونوں پھر اگر رہیں تو چوتھے دن بھی رمی کریں
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّهُ أُرْخِصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا، بِاللَّيْلِ يَقُولُ فِي الزَّمَانِ الأَوَّلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ تَفْسِيرُ الْحَدِيثِ الَّذِي أَرْخَصَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرِعَاءِ الإِبِلِ فِي تَأْخِيرِ رَمْىِ الْجِمَارِ فِيمَا نُرَى - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّهُمْ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ فَإِذَا مَضَى الْيَوْمُ الَّذِي يَلِي يَوْمَ النَّحْرِ رَمَوْا مِنَ الْغَدِ وَذَلِكَ يَوْمُ النَّفْرِ الأَوَّلِ فَيَرْمُونَ لِلْيَوْمِ الَّذِي مَضَى ثُمَّ يَرْمُونَ لِيَوْمِهِمْ ذَلِكَ لأَنَّهُ لاَ يَقْضِي أَحَدٌ شَيْئًا حَتَّى يَجِبَ عَلَيْهِ فَإِذَا وَجَبَ عَلَيْهِ وَمَضَى كَانَ الْقَضَاءُ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنْ بَدَا لَهُمُ النَّفْرُ فَقَدْ فَرَغُوا وَإِنْ أَقَامُوا إِلَى الْغَدِ رَمَوْا مَعَ النَّاسِ يَوْمَ النَّفْرِ الآخِرِ وَنَفَرُوا ‏.‏
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ زمانہ اول میں اونٹ چرانے والے کو اجازت تھی رات کو رمی کرنے کی ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَةَ أَخٍ، لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ نُفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَتَخَلَّفَتْ هِيَ وَصَفِيَّةُ حَتَّى أَتَتَا مِنًى بَعْدَ أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ فَأَمَرَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنْ تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ حِينَ أَتَتَا وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِمَا شَيْئًا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ نَسِيَ جَمْرَةً مِنَ الْجِمَارِ فِي بَعْضِ أَيَّامِ مِنًى حَتَّى يُمْسِيَ قَالَ لِيَرْمِ أَىَّ سَاعَةٍ ذَكَرَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ كَمَا يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِذَا نَسِيَهَا ثُمَّ ذَكَرَهَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا صَدَرَ وَهُوَ بِمَكَّةَ أَوْ بَعْدَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَعَلَيْهِ الْهَدْىُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ صفیہ بن ابی عبید کی بھتیجی کو نفاس ہوا مزدلفہ میں تو وہ اور صفیہ ٹھہر گئیں یہاں تک کہ منی میں جب پہنچیں آفتاب ڈوب گیا یوم النحر کو تو حکم کیا ان دونوں کو عبداللہ بن عمر نے کنکریاں مارنے کا جب آئیں وہ منی میں اور کوئی جزا ان پر لازم نہ کی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Hasan
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ وَعَلَّمَهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ وَقَالَ لَهُمْ فِيمَا قَالَ إِذَا جِئْتُمْ مِنًى فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَى الْحَاجِّ إِلاَّ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ لاَ يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً وَلاَ طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے خطبہ پڑھا عرفات میں اور سکھائے ان کو ارکان حج کے اور کہا ان سے! جب تم آؤ منی میں اور کنکریاں مار چکو تو سب چیزیں درست ہو گئیں تمہارے واسطے جو حرام تھیں احرام میں، مگر عورتوں سے صحبت کرنا اور خوشبو لگانا کوئی شخص تم میں سے صحبت نہ کرے اور نہ خوشبو لگائے جب تک طواف نہ کر لے خانہ کعبہ کا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا - إِنْ كَانَ مَعَهُ - فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلاَّ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص کنکریاں مارے اور سر منڈائے یا بال کتروائے اور اس کے ساتھ اگر ہدی ہو تو نحر کرے پس حلال ہو جائیں گیں اس پر وہ چیزیں جو حرام تھیں مگر صحبت کرنا عورتوں سے اور خوشبو لگانا درست نہ ہوگا طواف الزیارہ تک ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا مَكَانُ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا مِنْهَا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجہ الوداع کے سال میں تو احرام باندھا ہم نے عمرہ کا پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کے ساتھ ہدی ہو تو وہ احرام حج اور عمرہ کا ساتھ باندھے پراحرام نہ کھولے یہاں تک کہ دونوں سے فارغ ہو ، حضرت عائشہ نے کہا کہ میں آئی مکہ میں حیض کی حالت میں تو میں نے نہ طواف کیا نہ سعی کی صفا مروہ کی اور شکایت کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا سر کھول ڈال اور کنگھی کر اور عمرہ چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے میں نے ویسا ہی کیا جب ہم حج کر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنیعم کو بھیجا میں نے عمرہ ادا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ عوض ہے تیرے اس عمرہ کا تو جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہو گئے پھر حج کے واسطے دوسرا طواف کیا جب لوٹ کر آئے منی سے، اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کا ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔ عروہ بن زبیر نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایسا ہی روایت کیا۔
Salim al-Hilali: Daif
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى تَطْهُرِي ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں آئی مکہ میں حالت حیض میں اور میں نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا اور نہ سعی کی صفا اور مرہ کی تو میں نے شکوہ کیا اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کام حاجی کرتے ہیں وہ تو بھی کر فقط طواف اور سعی نہ کر جب تک کہ پاک نہ ہو ۔ کہا مالک نے جو عورت عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ میں آئے اور وہ حیض سے ہو اور حج کے دن آجائیں اور طواف نہ کر سکے تو اگر حج کے فوت ہونے کا خوف ہو تو حج کا احرام باندھ لے اور ہدی دے اور اس کا حکم قارن جیسا ہوگا ایک طواف اس کو کافی ہے اور وقوف عرفہ اور وقوف مزدلفہ اور رمی جمار حیض کی حالت میں ادا کر سکتی ہے مگر طواف الزیارة نہ کرے جب تک حیض سے پاک نہ ہو ۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ، حَاضَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَحَابِسَتُنَا هِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ صفیہ کو حیض آیا تو بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہمیں روکنے والی ہے لوگوں نے کہا وہ طواف الافاضہ کر چکی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر نہیں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاخْرُجْنَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ کو حیض آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہم کو روکے گی کیا اس نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا، عورتوں نے کہا ہاں کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر چلو۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏.‏ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ وَمَعَهَا نِسَاءٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَنْتَظِرْهُنَّ فَتَنْفِرُ بِهِنَّ - وَهُنَّ حُيَّضٌ - إِذَا كُنَّ قَدْ أَفَضْنَ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عائشہ جب حج کرتیں عورتوں کے ساتھ اور خوف ہوتا ان کو حیض آجانے کا تو یوم النحر کو ان کو روانہ کر دیتیں طواف الافاضہ کے واسطے، جب وہ طواف کر چکتیں اب اگر ان کو حیض آتا تو ان کے پاک ہونے کا انتظار نہ کرتیں بلکہ چل کھڑی ہوتیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَقِيلَ لَهُ قَدْ حَاضَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلاَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ هِشَامٌ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ‏.‏ وَنَحْنُ نَذْكُرُ ذَلِكَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ إِنْ كَانَ ذَلِكَ لاَ يَنْفَعُهُنَّ وَلَوْ كَانَ الَّذِي يَقُولُونَ لأَصْبَحَ بِمِنًى أَكْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلاَفِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ كُلُّهُنَّ قَدْ أَفَاضَتْ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا صفیہ کا تو لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو حیض آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والے ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ طواف کر چکیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ نہیں۔ ہشام نے کہا عروہ نے کہا عائشہ نے جب ہم اس کا ذکر کرتے تھے کہ اگر پہلے سے عورتوں کو طواف کے لئے روانہ کر دینا مفید نہیں تو لوگ کیوں بھیج دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ جیسے سمجھتے ہیں کہ طواف الوداع کے لئے ٹھہرنا لازم ہے صحیح ہوتا تو منی میں چھ ہزرار عورتوں سے زیادہ حیض کی حالت میں پڑی ہوتیں طواف الوداع کے انتظار میں ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَاضَتْ - أَوْ وَلَدَتْ - بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَتْ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ام سلیم نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کو حیض آگیا تھا یا زچگی ہوئی تھی بعد طواف الافاضہ کے یوم النحر کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی اور وہ چلی گئیں کہا مالک نے جس عورت کو حیض آجائے منی میں تو وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ وہ طواف الافاضہ کرے اور اگر طواف الافاضہ کے بعد اس کو حیض آیا تو اپنے شہر کو چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو رخصت پہنچی ہے حائضہ کے واسطے اور اگر حیض آیا طواف الافاضہ سے پہلے پھر خون بند نہ ہوا تو اکثر مدت لگا لیں گے حیض کی۔
Salim al-Hilali: Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ وَفِي الْغَزَالِ بِعَنْزٍ وَفِي الأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ وَفِي الْيَرْبُوعِ بِجَفْرَةٍ ‏.‏
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حکم کیا بجو کے مارنے میں (جزا) ایک مینڈھے کا اور ہرن میں ایک بکری اور خرگوش میں بکری کے بچے کا جو سال بھر کا ہو اور جنگلی چوہے میں بکری کے چار ماہ کے بچے کا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ، لِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ تَعَالَ حَتَّى أَحْكُمَ أَنَا وَأَنْتَ ‏.‏ قَالَ فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ فَوَلَّى الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْكُمَ فِي ظَبْىٍ حَتَّى دَعَا رَجُلاً يَحْكُمُ مَعَهُ ‏.‏ فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ الرَّجُلِ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ تَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي حَكَمَ مَعِي فَقَالَ لاَ ‏.‏ فَقَالَ لَوْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ لأَوْجَعْتُكَ ضَرْبًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ‏}‏ وَهَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏
محمد بن سرین سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ گھوڑے ڈالے ایک تنگ گھاٹی میں تو مارا ہم نے ہرن کو اور ہم دونوں احرام باندھے ہوئے تھے حضرت عمر نے ایک شخص کو جو ان کے پہلو میں بیٹھا تھا بلایا اور کہا آؤ ہم تم مل کر حکم کر دیں تو دونوں نے مل کر ایک بکری کا حکم کیا وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا یہ ہیں امیر المومنین ایک ہرن کا فیصہ اکیلے نہ کر سکے جب تک کہ ایک اور شخص کو اپنے ساتھ نہ بلایا۔ حضرت عمر نے یہ بات سن لی تو اس پکارا اور کہا تو نے سورت مائدہ پڑھی ہے وہ بولا نہیں حضرت عمر بولے تو اس شخص کو پہچانتا ہے جس نے میرے ساتھ مل کر فیصلہ کیا اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا اگر تو یہ کہتا کہ میں نے سورت مائدہ پڑھی ہے تو اس وقت میں تجھے مارتا پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنی کتاب میں تجویز کردیں جزا کر دو عادل تم میں سے وہ ہدی ہو جو پہنچے مکہ میں اور یہ شخص عبدالرحمن بن عوف ہے
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يَقُولُ فِي الْبَقَرَةِ مِنَ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ وَفِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عرہ کہتے تھے نیل گائے میں ایک گائے لازم اور ہرن میں ایک بکری لازم ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي حَمَامِ مَكَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُحْرِمُ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَفِي بَيْتِهِ فِرَاخٌ مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ فَيُغْلَقُ عَلَيْهَا فَتَمُوتُ فَقَالَ أَرَى بِأَنْ يَفْدِيَ ذَلِكَ عَنْ كُلِّ فَرْخٍ بِشَاةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ فِي النَّعَامَةِ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ بَدَنَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنَّ فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ عُشْرَ ثَمَنِ الْبَدَنَةِ كَمَا يَكُونُ فِي جَنِينِ الْحُرَّةِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقِيمَةُ الْغُرَّةِ خَمْسُونَ دِينَارًا وَذَلِكَ عُشْرُ دِيَةِ أُمِّهِ وَكُلُّ شَىْءٍ مِنَ النُّسُورِ أَوِ الْعِقْبَانِ أَوِ الْبُزَاةِ أَوِ الرَّخَمِ فَإِنَّهُ صَيْدٌ يُودَى كَمَا يُودَى الصَّيْدُ إِذَا قَتَلَهُ الْمُحْرِمُ وَكُلُّ شَىْءٍ فُدِيَ فَفِي صِغَارِهِ مِثْلُ مَا يَكُونُ فِي كِبَارِهِ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ دِيَةِ الْحُرِّ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فَهُمَا بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ سَوَاءٌ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے مکہ کے کبوتر کو جب قتل کیا جائے تو ایک بکری لازم ہے ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَصَبْتُ جَرَادَاتٍ بِسَوْطِي وَأَنَا مُحْرِمٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ ‏.‏
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر کے پاس اور کہا کہ میں نے چند ٹڈیوں کو کوڑے سے مار ڈالا اور میں احرام باندھے ہوئے تھا آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی بھر کھانا کسی کو کھلا دے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ، قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ تَعَالَ حَتَّى نَحْكُمَ ‏.‏ فَقَالَ كَعْبٌ دِرْهَمٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ إِنَّكَ لَتَجِدُ الدَّرَاهِمَ لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر بن خطاب کے پاس اور پوچھا آپ سے میں نے ایک ٹڈی مار ڈالی حالت احرام میں حضرت عمر نے کہا آؤ ہم تم مل کر فیصلہ کریں کعب نے کہا ایک درہم لازم ہے حضرت عمر نے کہا تیرے پاس بہت دراہم ہیں میرے نزدیک ایک کھجور بہتر ہے ایک ٹڈی سے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ ‏ "‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ أَىَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے، ان کی سر میں جوئیں پڑ گئیں تو حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سر منڈانے کا اور کہا تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو دو دو مد کھانا دے یا ایک بکری ذبح کر ان میں سے جو بھی کرے گا کافی ہے۔
Salim al-Hilali: Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تجھ کو تکلیف دیتی ہیں جوئیں انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا منڈاو ڈال سر اپنا اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک بکری ذبح کر ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ، بِسُوقِ الْبُرَمِ بِالْكُوفَةِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَنْفُخُ تَحْتَ قِدْرٍ لأَصْحَابِي وَقَدِ امْتَلأَ رَأْسِي وَلِحْيَتِي قَمْلاً فَأَخَذَ بِجَبْهَتِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ احْلِقْ هَذَا الشَّعَرَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ بِهِ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ آئے میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہانڈی پھونک رہا تھا اپنے ساتھیوں کی اور میرے سر اور ڈاڑھی کے بال جوؤں سے بھر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی تھام کر فرمایا ان بالوں کو منڈوا ڈال اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے واسطے کچھ نہیں ہے ۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے ناک کے بال اکھاڑے یا بغل کے یا بدن پر نورہ لگایا یا سر میں زخم ہوا اور ضروت کی وجہ سے سر منڈوایا یا گدی کے بال منڈوائے پچھنے لگانے کے واسطے احرام میں، اگر بھولے سے یا نادانی سے یہ کام کرے تو ان سب صورتوں میں اس پر فدیہ ہے اور محرم کو درست نہیں کہ پچھنے لگانے کی جگہ مونڈے ۔ کہا مالک نے جو شخص نادانی سے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لے تو فدیہ دے۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَنْ نَسِيَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي قَالَ تَرَكَ أَوْ نَسِيَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ هَدْيًا فَلاَ يَكُونُ إِلاَّ بِمَكَّةَ وَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ نُسُكًا فَهُوَ يَكُونُ حَيْثُ أَحَبَّ صَاحِبُ النُّسُكِ ‏.‏
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس نے کہا جو شخص اپنے کاموں میں سے کوئی کام بھول جائے یا چھوڑ دے تو ایک دم دے ایوب نے کہا مجھے یاد نہیں سعید نے بھول جائے کہا یا چھوڑ دے کہا ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ بِمِنًى وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ‏"‏ ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ ‏"‏ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے منی میں حجة الوداع میں اور لوگ مسئلہ پوچھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سو ایک شخص آیا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سر منڈا لیا قبل نحر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب ذبح کر لے کچھ حرج نہیں ہے پھر دوسرا شخص آیا وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے نادانی سے نحر کیا قبل رمی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمی کر لے کچھ حرج نہیں ہے عبداللہ بن عمر نے کہا پھر جب سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے مقدم یا موخر کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لے اور کچھ حرج نہیں ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوٹتے جہاد یا حج یا عمرہ سے تو تکبیر کہتے ہر چڑھاؤ پر تین بار فرمایا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر۔ ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اللہ کی طرف پوجنے والے ہیں سجدہ کرنے والے ہیں اللہ اپنے پروردگار کی طرف سچا کیا اللہ نے وعدہ اپنا اور مدد کی اپنے بندے کی اور بھگادیا فوجوں کو اکیلے ۔
Salim al-Hilali: Sahih