موطا امام مالک — باب ۲۰Hajj
۲۵۱ احادیث (نمبر ۷۰۵ تا ۹۵۷) (صفحہ 7) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا فَقِيلَ لَهَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَتْ بِضَبْعَىْ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " .
کریب سے روایت ہے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عباس کے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا ایک عورت پر اور وہ اپنے محافہ میں تھی تو کہا گیا اس سے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نے اپنے لڑکے کا بازو پکڑ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکے کا بھی حج ہے فرمایا ہاں اور تجھ کو اجر ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلاَ أَدْحَرُ وَلاَ أَحْقَرُ وَلاَ أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلاَّ لِمَا رَأَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلاَّ مَا أُرِيَ يَوْمَ بَدْرٍ " . قِيلَ وَمَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَمَا إِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلاَئِكَةَ " .
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں دیکھا جاتا شیطان کسی روز ذلیل اور منحوس اور غضبناک زیادہ عرفے کے روز سے اس وجہ سے کہ دیکھتا ہے اس دن اللہ کی رحمت اترتی ہوئی اور بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہوئے مگر بدر کے روز بھی شیطان کا یہی حال تھا لوگوں نے کہا اس دن کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھا اس نے جبرائیل کو فرشتوں کی صف باندھے ہوئے ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ " .
عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر دعاؤں میں عرفے کی دعا ہے اور بہتر اس میں جو کہا میں نے اور میرے سے پہلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے ۔
Salim al-Hilali: Sahih Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوهُ " .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن خطل کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو مار ڈالو۔ امام مالک نے کہا کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے
Salim al-Hilali: Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ جَاءَهُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ ذَلِكَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے مکے سے جب قدید میں پہنچے تو مدینے کے فساد کی خبر پہنچی پس آپ مکہ میں بغیر احرام کے لوٹ آئے ۔ ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ عَدَلَ إِلَىَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ، تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ فَقُلْتُ أَرَدْتُ ظِلَّهَا . فَقَالَ هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقُلْتُ لاَ مَا أَنْزَلَنِي إِلاَّ ذَلِكَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى - وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا " .
عمران انصاری سے روایت ہے کہ میرے پاس عبداللہ بن عمر آئے اور میں مکے کی راستے میں ایک درخت کے تلے ٹھہرا ہوا تھا ، تو انہوں نے پوچھا کیوں ٹھہرا تو اس درخت کے تلے ، میں نے کہا سایہ کے واسطے انہوں نے کہا یا اور کسی کام کے واسطے میں نے کہا نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے ٹھہرا ہوں، عبداللہ بن عمر نے کہا : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تو منی میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف وہاں ایک جگہ ہے جس کو سُرر کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی یا ستر نبیوں کو نبوت ملی پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے ۔
Salim al-Hilali: Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ مَجْذُومَةٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ لاَ تُؤْذِي النَّاسَ لَوْ جَلَسْتِ فِي بَيْتِكِ . فَجَلَسَتْ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا إِنَّ الَّذِي كَانَ قَدْ نَهَاكِ قَدْ مَاتَ فَاخْرُجِي . فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُطِيعَهُ حَيًّا وَأَعْصِيَهُ مَيِّتًا .
ابن ابی ملکیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک جذامی عورت کے پاس سے گزرے جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی، تو (عمر نے) کہا اے اللہ کی لونڈی لوگوں کو تکلیف مت دے، کاش تو اپنے گھر میں بیٹھتی ، وہ اپنے گھر میں بیٹھی رہی یہاں تک کہ ایک شخص اس سے ملا اور بولا کہ جس شخص نے تجھ کو منع کیا تھا وہ مر گیا، اب نکل؛ عورت بولی میں ایسی نہیں کہ زندگی میں تو میں اس شخص کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے کہ "ملتزم " حجر اسود اور کعبہ کے دروازہ کے درمیان میں ہے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ الْمُلْتَزَمُ .
اس حدیث کا اردو ترجمہ ڈیٹا سیٹ میں موجود نہیں۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّ رَجُلاً، مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَأَنَّ أَبَا ذَرٍّ سَأَلَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ أَرَدْتُ الْحَجَّ . فَقَالَ هَلْ نَزَعَكَ غَيْرُهُ فَقَالَ لاَ . قَالَ فَأْتَنِفِ الْعَمَلَ . قَالَ الرَّجُلُ فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَمَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِالنَّاسِ مُنْقَصِفِينَ عَلَى رَجُلٍ فَضَاغَطْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ فَإِذَا أَنَا بِالشَّيْخِ الَّذِي وَجَدْتُ بِالرَّبَذَةِ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ قَالَ فَلَمَّا رَآنِي عَرَفَنِي فَقَالَ هُوَ الَّذِي حَدَّثْتُكَ .
محمد بن یحیی بن حبان سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوذر کے پاس سے گزرے ربذہ میں (ایک مقام کا نام ہے)، ابوذر نے پوچھا کہاں کا قصد ہے؟ اس نے کہا حج کا، ابوذر نے پوچھا اور کسی نیت سے تو نہیں نکلا ؟ بولا نہیں، ابوذر نے کہا پس شروع کر کام، اس شخص نے کہا میں نکلا یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور وہاں ٹھہرا رہا پھر دیکھا میں نے لوگوں کو کہ گھیرے ہوئے ہیں ایک شخص کو ، تو میں لوگوں کو چیر کے اندر گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہی شخص جو ربذہ میں مجھ کو ملا تھا موجود ہے یعنی ابوذر انہوں نے مجھ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا تو وہی ہے جس سے میں نے حدیث بیان کی تھی ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الاِسْتِثْنَاءِ، فِي الْحَجِّ فَقَالَ أَوَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَحَدٌ وَأَنْكَرَ ذَلِكَ . سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يَحْتَشُّ الرَّجُلُ لِدَابَّتِهِ مِنَ الْحَرَمِ فَقَالَ لاَ .
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا کہ حج میں شرط لگانا درست ہے؟ بولے کیا کوئی ایسا کرتا ہے؟ اور اس سے انکار کیا ۔
Salim al-Hilali: Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا مَا بَيْنَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلَى يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنْ لَمْ يَصُمْ صَامَ أَيَّامَ مِنًى . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عَائِشَةَ رضى الله تعالى عنها
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ؛ وہ کہتی تھیں روزہ اس شخص کے اوپر ہے جو تمتع کرے یعنی عمرہ کر کے حج کرے اور ہدی نہ پائے حج کے احرام سے لے کر عرفہ تک روزے رکھے اگر ان دنوں میں نہ رکھے تو منی کے دنوں میں رکھے ۔ عبداللہ بن عمر بھی اس مقدمے میں مثل قول عائشہ کے کہتے ۔
Salim al-Hilali: Mauquf Sahih