صحیح مسلم — باب ۳۴The Book of Hunting, Slaughter, and what may be Eaten
۹۲ احادیث (نمبر ۴۹۷۲ تا ۵۰۶۳) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلاَبَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَىَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ " . قُلْتُ وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا " . قُلْتُ لَهُ فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ فَقَالَ " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْهُ " .
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں ۔ وہ میرے لئے شکار کو قابو کرلیتے ہیں ۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں ۔ ( بسم اللہ پڑھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھالو ۔ " میں نے کہا : خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ وہ شکار کو مارڈالیں ، جب تک کوئی اور کتا ، جو ان کے ساتھ نہیں ( بھیجا گیا ) ، اُن کے ساتھ شریک نہ ہوجائے ۔ " میں نے عرض کی : میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشان بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے ( خون نکل جائے ) تو اس کو کھالو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مارڈ الے تو مت کھاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ، بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلاَبِ فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلاَبٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ تَأْكُلْ " .
بیا ن نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا : " جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو جو ( شکار ) وہ تمھارے لئے پکڑیں چاہے وہ اسے ماردیں ، تم اسے کھالو ، الا یہ کہ کتا ( اس میں سے ) کچھ خود کھالے ۔ اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ ۔ کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے اپنے لئے ( شکار ) پکڑا ہوگا ۔ اگر دوسرے کتے ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں تو مت کھاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلاَ تَأْكُلْ " . وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكَلْبِ فَقَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ " . قُلْتُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ فَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ قَالَ " فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، أَبِي السَّفَرِ وَعَنْ نَاسٍ، ذَكَرَ شُعْبَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمِعْرَاضِ . بِمِثْلِ ذَلِكَ .
غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ " . وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلاَ تَأْكُلْ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ " .
۔ عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے ، تو وہ وقیذ ہے ( یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے ) اس کو مت کھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے ، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لئے شکار کیا ۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي، زَائِدَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، - وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلاً وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ - أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ . قَالَ " فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
سعید بن مسروق نے کہا : شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نہرین ( کے قصبے ) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے و الے قریبی ساتھی تھے ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں ۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اورکتا بھی دیکھتاہوں کہ اس نے اس کو شکار کرلیا ہے ۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ ( اصل میں ) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا؛ " پھر تم ( اس کو ) مت کھاؤ ، کیونکہ تم نے اپنے کت پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے پر نہیں پڑھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ .
حکم نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلاَّ أَثَرَ سَهْمِكَ فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلاَ تَأْكُلْ " .
علی بن مسہرنے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " جب تم اپناکتا ( شکار پر ) چھوڑ وتو بسم اللہ پڑھو ، اور اگر وہ تمہارے لئے شکار کو جکڑ لے اور تم اس ( شکار ) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کردو ، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو ۔ تواس کو بھی کھالو ، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو ، تو اس کو نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو ، پھر اگرف ایک دن تک وہ ( شکار ) تمھیں نہ ملے ( بعد میں ملے ) اور تمھیں اس میں ا پنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھالو ، اور اگر وہ تمھیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّيْدِ قَالَ " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ إِلاَّ أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ " .
عبداللہ بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے شعبی سے خگر دی ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تو اپنا ( شکاری ) کتا چھوڑے ، تو اللہ کا نام لے ( کر چھوڑ ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے ، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں ، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو ، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا ۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار ( تیر کھا کر ) ایک دن تک غائب رہے ، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے ، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا ۔ کیونکہ تمھیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سےمرا ہے یا تمھارے تیر سے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِيَ الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ قَالَ " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ " .
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، كِلاَهُمَا عَنْ حَيْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ .
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی ، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کاذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ " فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
معن بن عیسیٰ نے کہا : مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیربن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے ، روایت کی ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو ۔ " ( سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ . بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلاَءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ وَقَالَ فِي الْكَلْبِ " كُلْهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ إِلاَّ أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ " .
محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علاء سے ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے ابو ثعلبہ بن خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی ، پھر ابن حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر اورابو زاہریہ سے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی ، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اورکتے ( کے شکار ) کے بارے میں فرمایا : " تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو ، لیکن اگر اس سے بد بوآئے تو اس کو چھوڑ دو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي، ثَعْلَبَةَ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ . زَادَ إِسْحَاقُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى قَدِمْنَا الشَّامَ .
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ادریس سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں ( نوک دار دانت ) والے ہر درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ، اسحاق اور ابن ابی عمر نے ا پنی روایت میں یہ اضافہ کیا ۔ زہری نے کہا : شام میں آنے تک ہم نے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْحِجَازِ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ وَكَانَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ .
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابن شہاب زہری نے کہا : ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔ یہاں تک کہ ابو ادریس نے ، جو شام کے فقہاء میں سے ہیں ، مجھے یہ حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّالله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ .
عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں اب ادریس خولانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمْ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ وَعَمْرٍو كُلُّهُمْ ذَكَرَ الأَكْلَ إِلاَّ صَالِحًا وَيُوسُفَ فَإِنَّ حَدِيثَهُمَا نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ .
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس ، ابن ابی ذئب ، عمرو بن حارث ، یونس بن یزید وغیرہ نے اور معمر ، یوسف بن ماجثون اور صالح سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس اور عمرو کی حدیث کی مانند روایت کی ۔ سب نے کھانے کا ذکر کیاہے ۔ سوائے صالح اور یوسف کے ۔ ان دونوں کی حدیث یہ ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے در ندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے مالک سے ، انھوں نے اسماعیل بن ابی حکیم سے ، انھوں نے عبیدہ بن سفیان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا؛ " ہر کچلیوں والا درندہ اس کو کھانا حرام ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
ابن وہب نے کہا : مجھے امام مالک بن انس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ، بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ .
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے ، انھوں نے میمون بن مہران سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور ناخنوں والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سہل بن حماد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ .
ابو عوانہ نے کہا : ہمیں حکیم اور ابو بشر نے میمون بن مہران سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنچوں سے شکار کرنے والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ أَخْبَرَنَا عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى ح وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ .
ہشیم اور ابوعوانہ نے ابو بشر سے ، انہوں نے میمون بن مہران سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، حکم سے شعبہ کی روایت کردہ حدیث کے مانند ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً - قَالَ - فَقُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا قَالَ نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ قَالَ وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ ثُمَّ قَالَ لاَ بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا قَالَ فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلاَلِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ - أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ - فَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ رَجُلاً فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ فَتُطْعِمُونَا " . قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُ فَأَكَلَهُ .
ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے ( یعنی ان کے پیچھے ) اور ہمارے سفر خرچ کے لئے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور ( ہر روز ) دیا کرتے تھے ۔ ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے ، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے ، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے ، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی ۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے ( یعنی حرام ہے ) ۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم ( بھوک کی وجہ سے ) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے ۔ اس کا گوشت کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ۔ آخر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے ۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی ، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے ، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زادراہ کے لئے وشائق بنا لئے ( وشائق ابال کر خشک کئے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں ، جو سفر کے لئے رکھتے ہیں ) ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے نکالا تھا ۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا - قَالَ - فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ قَالَ وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ قَالَ وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ - قَالَ - وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ .
عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ ہمیں مہم پرروانہ فرمایا ، ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، ہمیں قریش کے قافلے کی گھات لگانا تھی ، ہم ( تقریباً ) آدھا مہینہ ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے ، ہمیں شدید بھوک کا سامنا تھا ، حتیٰ کہ ہم نے درختوں سےجھاڑے ہوئے پتے کھائے اور اس لشکر کا نام " جھڑے ہوئے پتوں کا لشکر " پڑ گیا ، تو سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبرکہا جاتاہے ۔ ہم نصف ماہ تک اس کو کھاتے اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا ، یہاں تک کہ ہمارے بدن اصل حالت میں لوٹ آئے ۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک پسلی ( پیٹھ کا کانٹا ) لے کر اسے نصب کرایا ، پھر لشکر میں سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ ڈھونڈا اور اس آدمی کو اس پر سوار کیا ، تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا ۔ اور اس ( عنبر ) کی آنکھ کے حلقے میں ایک جماعت بیٹھ گئی ۔ کہا : ہم نے اس کی آنکھ کےڈھیلے سے اتنے اتنے مٹکے چربی نکالی ۔ ( سفر کے آغاذ میں ) ہمارے ساتھ ایک بورا ( برابر ) کھجوریں تھیں ۔ ( پہلے ) ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے ، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے ۔ جب ( یہ بھی ملنا ) بند ہوگئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ وہ ختم ہوگئی ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ فِي جَيْشِ الْخَبَطِ إِنَّ رَجُلاً نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلاَثًا ثُمَّ ثَلاَثًا ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ .
عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتوں و الے لشکر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سناکہ ( جب زادراہ ختم ہوگیا تو ابتدا میں ) ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع کردیا ( کہ سواری کے جانور ختم ہونے لگےتھے)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ هِشَامِ، بْنِ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا .
ہشام بن عروہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( ایک مہم میں ) روانہ کیا ۔ اس وقت ہم تین سو تھے ، ہم نے اپنا اپنا زادراہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہواتھا ۔ ( اور آخر میں سب کازاد راہ ملا کر ایک بورے کے برابر ہوا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً ثَلاَثَمِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَفَنِيَ زَادُهُمْ فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ .
امام مالک بن انس نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو ایک لشکر بھیجا اور اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا امیر بنایا ، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا توحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کے زادراہ کو زادراہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ - قَالَ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ . وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً .
ولید بن کثیر نے کہا : میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابو زبیر کی حدیث ہے ، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس ( بڑی مچھلی ) کا گوشت کھایا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، كِلاَهُمَا عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا ، اور ( اس کے بعد ) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ وَالْحَسَنِ ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
امام مالک بن انس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دو بیٹوں عبداللہ اورحسن سے ، ان دونوں نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَعَنْ أَكْلِ، لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
سفیان ، عبیداللہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور یونس کی حدیث میں ہے : اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے ( منع فرمادیا)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام کردیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، وَسَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ .
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع اور سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع فرمادیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا .
ابن جریج اور امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کےدن پالتو گدھے کاگوشت کھانے سے منع فرمادیا ، حالانکہ لوگوں کو ( بھوک کے سبب ) اس کی ( سخت ) ضرورت تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا فَقُلْتُ حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا قَالَ تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ .
علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلاَ تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا - قَالَ - فَقَالَ نَاسٌ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ . وَقَالَ آخَرُونَ نَهَى عَنْهَا أَلْبَتَّةَ .
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کاشکار ہوگئے ۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو ، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ۔ اس وقت بعض لوگوں ( صحابہ ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر منع کیا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح