دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۳۴

صحیح مسلم — باب ۳۴The Book of Hunting, Slaughter, and what may be Eaten

۹۲ احادیث (نمبر ۴۹۷۲ تا ۵۰۶۳) (صفحہ 2) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولاَنِ أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اكْفَئُوا الْقُدُورَ ‏.‏
عدی بن ثابت نے کہا : میں نے حضرت براء اورحضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے ۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ( ان ) ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ الْبَرَاءُ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ‏.‏
ابو اسحاق نے کہا : حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ نُهِينَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، ‏.‏
ثابت بن عبید نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع کردیا گیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ ‏.‏
جریر نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں ، کچا ہو یا پکا ہوا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لاَ أَدْرِي إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ‏.‏
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( پالتو گدھوں کا گوشت کھانے ) سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے ( ویسے ہی ) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کوحرام قرار دیا ۔ ( یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر ، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کرادیا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ ‏"‏ قَالُوا عَلَى لَحْمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَى أَىِّ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ ‏"‏ أَوْ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏
حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے ، انھوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن نکلے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر فتح کردیا ۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیسی آگ ( جل رہی ) ہے؟تم کس چیز پر ( کیا پکانے کے لیے ) آگ جلارہے ہو؟ " لوگوں نے کہا : گوشت پر ۔ آپ نے پوچھا؛ " کون سے گوشت پر؟ " لوگوں نے کہا : پالتو گدھوں کے گوشت پر ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہانڈیاں الٹ دو اور ان کو توڑ دو ۔ " ایک شخص نے عرض کی : ( آپ اجازت دیں تو ) ہم ہانڈیاں انڈیل دیں اور انھیں دھولیں؟ آپ نے فرمایا : " یا اس طرح کرلو ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
حماد بن مسعدہ ، صفوان بن عیسیٰ اور ابو عاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَا مِنْهَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلاَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ‏.‏ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا ‏.‏
ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گو شت پکا نے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلا ن کر دیا : سنو!اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان ( گدھوں کا گوشت پکا نے ، کھانے ) سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے ۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ جَاءَ جَاءٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُكِلَتِ الْحُمُرُ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا طَلْحَةَ فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ أَوْ نَجِسٌ ‏.‏ قَالَ فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا ‏.‏
۔ ہشا م بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن خیبر کی جنگ ہو ئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گدھے کھا لیے گئے ، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر دیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گو شت کھا نے سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا ( فرما یا ) ناپاک ہیں ۔ کہا : پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ ‏.‏
محمد بن علی نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوگدھوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت عطاکی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ وَنَهَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ ‏.‏
محمد بن بکر نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر زبیرا ) اور گھوڑوں کا گو شت کھا یا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پالتو گدھے کے گو شت سے منع فر ما دیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ، عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابن وہب اور ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَكَلْنَاهُ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر ، حفص بن غیاث اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے ( اپنی اہلیہ ) فاطمہ سے ، انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے ( پکا کر ) کھا یا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
ابو معاویہ اور ابو اسامہ دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الضَّبِّ فَقَالَ ‏ "‏ لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلاَ مُحَرِّمِهِ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو نہ حرام کرتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " نہ میں اس کو کھاتا ہوں ، نہ حرا م کرتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو ں نہ حرا م کرتاہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الضَّبِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ قَالَ قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ ‏.‏
ایوب ، مالک بن مغول ، ابن جریج ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے بارے میں نافع سے روایت کردہ لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا ( پکا کر ) لایا گیا تو آپ نے اسے کھا یا نہ حرام قرار دیا ۔ اسامہ کی حدیث میں کہا : ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُوا فَإِنَّهُ حَلاَلٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي ‏"‏ ‏.‏
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ ‏.‏
محمدبن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : شعبی نے مجھ سے کہا : تم حسن ( بصری ) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ ( مرسل ) حدیث دیکھی ( سنی اور لکھی ہو ئی دیکھی ، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟ ) میں تو حضرت ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دوسال تک ( اٹھتا ) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انھیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی اور حدیث روایت کرتے ہو ئے نہیں سنا ۔ انھوں نے ( اس طرح ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے لو گ ( مو جودتھے ) ان میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ۔ معاذ کی حدیث کے مانند ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ ‏.‏
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ ‏.‏ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ لاَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي ‏.‏
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهْىَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا ‏.‏
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي، أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ ‏.‏
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبھنے ہو ئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں مو جو دتھے ان سب کی حدیث کے مانند انھوں نے ( معمر ) نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ، يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِلَحْمِ ضَبٍّ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابو امامہ بن سہل نے انھیں بتا یا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لا یا گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فر ما تے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مو جود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ، الأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلاَثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَآكِلٌ وَتَارِكٌ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ آكُلُهُ وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ وَلاَ أُحَرِّمُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مُحِلاًّ وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خِوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْكُلَ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ‏.‏ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ ‏"‏ هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ كُلُوا ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ ‏.‏ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لاَ آكُلُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَىْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے حضرت جا بت بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈ الا یا گیا ۔ آپ نے اسے کھا نے سے انکا ر کیا اور فرما یا : " میں نہیں جا نتا کہ شاید یہ ( سانڈا بھی ) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ لاَ تَطْعَمُوهُ ‏.‏ وَقَذِرَهُ وَقَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُحَرِّمْهُ ‏.‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ ‏.‏
ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : اسے مت کھاؤ ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے ( بھی ) کو نفع پہنچاتا ہے ، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا : ) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا قَالَ ‏ "‏ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
داود نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت ( بڑی جماعت ) مسخ کر ( کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر ) دی گئی تھی ۔ "" ( اس کے بعد ) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا ۔ حضرت ابوسعید ( خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے ۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا ۔ ( اسے حرام قرار نہیں دیا تھا ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي - قَالَ - فَلَمْ يُجِبْهُ فَقُلْنَا عَاوِدْهُ ‏.‏ فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلاَثًا ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الأَرْضِ فَلاَ أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلاَ أَنْهَى عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابوعقیل دورقی نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے ۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا ، ہم نے اس سے کہا : دوبارہ عرض کرو ، اس نے دوبارہ عرض کی ، مگر آپ نے تین بار ( دہرانے پر بھی ) کوئی جواب نہ دیا ، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا : " اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا ۔ مجھے علم نہیں ، شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو ، ( جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا ) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ‏.‏
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَقَالَ إِسْحَاقُ سِتَّ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ سِتَّ أَوْ سَبْعَ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے ، انھوں نے ابو یعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں "" سات جنگیں "" کہا ، اسحاق نے "" چھ "" اور ابن ابی عمر نے "" چھ یا سات "" کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جَعْفَرٍ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ‏.‏
شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا ‏.‏ قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَهُ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم جا رہے تھے کہ ( مقام ) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا ۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ لاَ تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ - أَوْ قَالَ - يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ فَإِنَّهُ لاَ يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلاَ يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ‏.‏ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ لاَ أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا ‏.‏
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح