دعا گھرduaghar.app
دعا گھر › کتب حدیث › صحیح مسلم › باب ۴۴

صحیح مسلم — باب ۴۴The Book of the Merits of the Companions

۳۳۱ احادیث (نمبر ۶۱۶۹ تا ۶۴۹۹) (صفحہ 5) — عربی متن اور اردو ترجمہ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ، قَالَ شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَقَالَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا ‏.‏
ابو اسحٰق سے روایت ہے انھوں نے کہا : میں نے ابو حوص سے سنا ، انھوں نے کہا : جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو ؟انھوں نے جواب دیا : جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی ، جب ہمیں روک لیا جا تاتھا ، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھےجب ہم مو جو دنہ ہو تے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا ‏.‏
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انھوں نے مالک بن حارث سے ، انھوں نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند ساتھیوں ( شاگردوں ) کے ہمراہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تھے ۔ وہ سب ایک مصحف ( قرآن مجید کا نسخہ ) دیکھ رہے تھے ، اس اثناءمیں حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے ، جو ( ابھی ) اٹھا ہے ، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) یہ اس وقت حاضر ر ہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اورا نھیں ( اس وقت بھی ) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مُوسَى - عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَبَا مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ ‏.‏
ابو عبیدہ نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب سے روایت کی ، کہا : میں حضرت حذیفہ اورابو موسیٰ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ ‏{‏ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏}‏ ثُمَّ قَالَ عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلاَ يَعِيبُهُ ‏.‏
شقیق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے پڑھا : "" ”اور جو کوئی چیز چھپا رکھے گا ، وہ اس کو قیامت کے دن لائے گا“ ( سورۃ : آل عمران : 161 ) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا ۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں ، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ ‏.‏
مسروق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں!کتاب اللہ کی کوئی صورت نہیں مگر میں اسکے متعلق جانتاہوں کہ وہ کب نازل ہوئی ، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ، اور اگر مجھے یہ معلوم ہوکہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والاہے ۔ اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں ( اونٹوں پر سفر کرکے ) اس کے پاس جاؤں ( اور قرآن کا علم حاصل کروں ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ - فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلاً لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ - فَبَدَأَ بِهِ - وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ ( علمی ) گفتگو کیاکرتے تھے ۔ اور ابن نمیر نے کہا : ان کے پاس ( گفتگو کیا کرتے تھے ) چنانچہ ایک دن ہم نے ( ان کے سامنے ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا : تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قرآن چار آدمیوں سے سیکھو : ابن ام عبد ( حضرت ابن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔ آپ نے ابتداء ان سے کی ۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےآزاد کردہ غلام سالم سے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ - فَبَدَأَ بِهِ - وَمِنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ وَحَرْفٌ لَمْ يَذْكُرْهُ زُهَيْرٌ قَوْلُهُ يَقُولُهُ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، مسروق کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جس سے میں ( اس وقت سے ) محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ۔ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تم قرآن چار آدمیوں سے سیکھو ۔ ایک ام عبد کے بیٹے ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی سے شروع کیا اور ابی بن کعب سے اور سالم مولیٰ ابوحذیفہ سے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے ۔ اور زہیر بن حرب نے ( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ) جو ایک لفظ بیان نہیں کیا وہ ہے : جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَوَكِيعٍ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَىٍّ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ أُبَىٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے جریر اور وکیع کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابو معاویہ سے ابو بکر کی روایت میں انھوں نے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقدم رکھا اورابو کریب کی روایت میں ابی ( بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ، خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِمْ وَاخْتَلَفَا عَنْ شُعْبَةَ، فِي تَنْسِيقِ الأَرْبَعَةِ ‏.‏
ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے ، انھوں نے اعمش سے انھی کی سندکے ساتھ روایت کی ، شعبہ سے روایت کرتے ہوئے ان دونوں نے چاروں کی ترتیب میں اختلاف کیا ہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ ذَكَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏
ابراہیم نے مسروق سے روایت کی ، کہا : لوگوں نےحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا : وہ ایسے ہیں جن سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایک بات ) سننے کے بعد سے مسلسل محبت کرتا آیا ہوں ، آپ نے فرمایا تھا؛ " چارآدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو : ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ بَدَأَ بِهَذَيْنِ لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ ‏.‏
ہمیں عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کےساتھ حدیث سنائی اور کچھ مزید بیان کیا ، شعبہ نے کہا : آپ نے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی ، مجھے یاد نہیں کی ان دونوں میں سے کس کا نام پہلے لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي ‏.‏
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں چاراشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : ابو زید کون؟فرمایا : وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا زَيْدٍ ‏.‏
ہمام نے کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کس نے جمع کیا تھا؟انھوں نے کہا : چار آدمیوں نے اور وہ چاروں انصار میں سے تھے : حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور انصار کے ایک شخص جن کی کنیت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ أُبَىٌّ يَبْكِي ‏.‏
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قرآن مجید پڑھوں ۔ " حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لے کرکہا؟آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمھارا نام لیا ۔ " اس پر حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر گریہ طاری ہوگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ‏{‏ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ن حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے ( قرآن مجید کی یہ سورت ) : ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ( البینہ 1 : 98 ) تلاوت کروں ۔ ( حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " تو وہ ( حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رونے لگے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىٍّ بِمِثْلِهِ ‏.‏
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ، اسی کے مانند ( جو پچھلی روایات میں ہے ۔)
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ‏ "‏ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏
ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ، فرمایا : " ان کی ( موت کی ) وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي، سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو سفیان نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سعد بن معاذ کی موت کی وجہ سے رحمٰن کا عرش جنبش میں آگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَجِنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ - يَعْنِي سَعْدًا - ‏ "‏ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ ان کے جنازے کی چار پائی رکھی ہوئی تھی ۔ ان کی مراد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔ فرمایا : " اس کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمُسُونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ ‏ "‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک حلہ ہدیہ کیاگیا تو آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کوچھونے اوراس کی گدازی پر تعجب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس حلے کی گدازی پر تعجب کرتے ہو ، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہت زیادہ اچھے اور زیادہ ملائم ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَوْبِ حَرِيرٍ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا أَوْ بِمِثْلِهِ ‏.‏
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں ابو داود نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے اسحاق نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ر یشم کا کپڑا لایاگیا ، اور ( باقی ) حدیث بیان کی ، پھر ابن عبدہ نے کہا : ہمیں ابو داود نے خبر دی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی سے اسی طرح یابالکل اسی کے مانند روایت کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا كَرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ ‏.‏
امیہ بن خالد نے کہا : ہمیں شعبہ نے یہ حدیث دونوں سندوں سے ابو داود کی روایت کی طرح بیان کی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
شیبان نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ ہدیہ کیاگیا ، حالانکہ آپ ریشم ( پہننے ) سے منع فرماتے تھے ، لوگوں کو اس ( کی خوبصورتی ) سے تعجب ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں محمد کی جان ہے!جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ اچھے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُكَيْدِرَ، دُومَةِ الْجَنْدَلِ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حُلَّةً فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ ‏.‏
عمر بن عامر نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے ( بادشاہ ) اکیدرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ ہدیہ کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ، البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کیا : " حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم سے منع فرماتے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ أَنَا أَنَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ ‏.‏ قَالَ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏
ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا کہ یہ مجھ سے کون لیتا ہے؟ لوگوں نے ہاتھ پھیلائے اور ہر ایک کہتا تھا کہ میں لوں گا میں لوں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق کون ادا کرے گا؟ یہ سنتے ہی لوگ پیچھے ہٹے ( کیونکہ احد کے دن کافروں کا غلبہ تھا ) سیدنا سماک بن خرشہ ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کا حق ادا کروں گا ۔ پھر انہوں نے اس کو لے لیا اور مشرکوں کے سر اس تلوار سے چیرے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى وَقَدْ مُثِلَ بِهِ - قَالَ - فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو فَقَالَ ‏"‏ وَلِمَ تَبْكِي فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، کہہ رہے تھے : جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایاگیا ، ان کا مثلہ کیاگیا تھا ( ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے ) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں ( اوردیکھوں ) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا ، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر کپڑا اٹھایا ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو ( اس وقت ) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کون ہے؟ " تو لوگوں نے بتایا : عمرو کی بیٹی ( شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن ) ہے یا ( کہا : ) عمرو کی بہن ( شہید کی پھوپھی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ کیوں روتی ہے؟ان ( کے جنازے ) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہواہے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَأَبْكِي، وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنْهَانِي - قَالَ - وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَبْكِيهِ أَوْ لاَ تَبْكِيهِ مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا ۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے ۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ ( یعنی میری پھوپھی ) وہ بھی اس پر رو رہی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو روئے یا نہ روئے ، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، ‏.‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ الْمَلاَئِكَةِ وَبُكَاءُ الْبَاكِيَةِ ‏.‏
ابن جریج اور معمر دونوں نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ، مگر ابن جریج کی حدیث میں فرشتوں اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
عبدالکریم نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اُحد کے دن میرے والد کو اس طرح لایاگیا کہ ان کی ناک اور ان ک کان کاٹ دیے گئے تھے ، انھیں لا کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ر کھ دیا گیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ كِنَانَةَ، بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلاَّ سَاعِدَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحُفِرَ لَهُ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلاً ‏.‏
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فتح کے ساتھ ) مال غنیمت دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا ۔ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب نے مارا تھا ۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا کہ اس نے سات آدمیوں کو مارا ، اس کے بعد خود مارا گیا ۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے ۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا ۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلاَ جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ ‏.‏ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا - قَالَ - وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثِ سِنِينَ ‏.‏ قُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ ‏.‏ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَرَاثَ عَلَىَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ ‏.‏ وَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ ‏.‏ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَقَالَ الصَّابِئَ ‏.‏ فَمَالَ عَلَىَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَىَّ - قَالَ - فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ - قَالَ - فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ - قَالَ - فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الأُخْرَى - قَالَ - فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فَقُلْتُ هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لاَ أَكْنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ وَتَقُولاَنِ لَوْ كَانَ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا ‏.‏ قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ ‏"‏ مَا لَكُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ ‏"‏ مَا قَالَ لَكُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ ‏.‏ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ ‏.‏ فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ - قَالَ - فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ‏.‏ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ ‏.‏ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ ‏"‏ إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لاَ أُرَاهَا إِلاَّ يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ قَالَ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ ‏.‏ وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ‏.‏ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ‏.‏ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ہداب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن صامت سے خبر دی ، انھوں نے کہا ، کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ، میرا بھائی انیس اور ہماری ماں تینوں اپنی قوم غفار میں سے نکلے جو حرام مہینے کو بھی حلال سمجھتے تھے ۔ پس ہم اپنے ایک ماموں کے پاس اترے ۔ اس نے ہماری خاطر کی اور ہمارے ساتھ نیکی کی تو اس کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور ( ہمارے ماموں سے ) کہنے لگے کہ جب تو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو انیس تیری بی بی کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ وہ ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ بات ( حماقت سے ) مشہور کر دی ۔ میں نے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ جو احسان کیا تھا وہ بھی خراب ہو گیا ہے ، اب ہم تیرے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ آخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا اسباب لادا اور ہمارے ماموں نے اپنا کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا ۔ ہم چلے ، یہاں تک کہ مکہ کے سامنے اترے ۔ انیس نے ہمارے اونٹوں کے ساتھ اتنے ہی اور کی شرط لگائی ۔ پھر دونوں کاہن کے پاس گئے تو کاہن نے انیس کو کہا کہ یہ بہتر ہے ۔ پس انیس ہمارے پاس سارے اونٹ اور اتنے ہی اور اونٹ لایا ۔ ابوذر نے کہا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے پہلے تین برس پہلے نماز پڑھی ہے ۔ میں نے کہا کہ کس کے لئے پڑھتے تھے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ۔ میں نے کہا کہ کدھر منہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ادھر منہ کرتا تھا جدھر اللہ تعالیٰ میرا منہ کر دیتا تھا ۔ میں رات کے آخر حصہ میں عشاء کی نماز پڑھتا اور سورج طلوع ہونے تک کمبل کی طرح پڑ رہتا تھا ۔ انیس نے کہا کہ مجھے مکہ میں کام ہے ، تم یہاں رہو میں جاتا ہوں ۔ وہ گیا اور اس نے آنے میں دیر کی ۔ پھر آیا تو میں نے کہا کہ تو نے کیا کیا؟ وہ بولا کہ میں مکہ میں ایک شخص سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے ۔ میں نے کہا کہ لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ لوگ اس کو شاعر ، کاہن اور جادوگر کہتے ہیں ۔ اور انیس خود بھی شاعر تھا ۔ اس نے کہا کہ میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن جو کلام یہ شخص پڑھتا ہے وہ کاہنوں کا کلام نہیں ہے اور میں نے اس کا کلام شعر کے تمام بحروں پر رکھا تو وہ کسی کی زبان پر میرے بعد شعر کی طرح نہ جڑے گا ۔ اللہ کی قسم وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔ میں نے کہا کہ تم یہاں رہو میں اس شخص کو جا کر دیکھتا ہوں ۔ پھر میں مکہ میں آیا تو میں نے ایک ناتواں شخص کو مکہ والوں میں سے چھانٹا ( اس لئے کہ طاقتور شخص شاید مجھے کوئی تکلیف پہنچائے ) ، اور اس سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی ( بےدین ) کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ صابی ہے ( جب تو صابی کا پوچھتا ہے ) یہ سن کر تمام وادی والوں نے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ کر دیا ، یہاں تک کہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا ۔ جب میں ہوش میں آ کر اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گویا میں لال بت ہوں ( یعنی سر سے پیر تک خون سے سرخ ہوں ) ۔ پھر میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے سب خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا ۔ پس اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس راتیں یا تیس دن رہا اور میرے پاس سوائے زمزم کے پانی کے کوئی کھانا نہ تھا ( جب بھوک لگتی تو میں اسی کو پیتا ) ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی بٹیں ( موٹاپے سے ) جھک گئیں اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی ۔ ایک بار مکہ والے چاندنی رات میں سو گئے کہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کوئی نہ کرتا تھا ، صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں ( اساف اور نائلہ مکہ میں دو بت تھے اساف مرد تھا اور نائلہ عورت تھی اور کفار کا یہ اعتقاد تھا کہ ان دونوں نے وہاں زنا کیا تھا ، اس وجہ سے مسخ ہو کر بت ہو گئے تھے ) ، وہ طواف کرتی کرتی میرے سامنے آئیں ۔ میں نے کہا کہ ایک کا نکاح دوسرے سے کر دو ( یعنی اساف کا نائلہ سے ) ۔ یہ سن کر بھی وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں ۔ پھر میں نے صاف کہہ دیا کہ ان کے فلاں میں لکڑی ( یعنی یہ فخش اساف اور نائلہ کی پرستش کی وجہ سے ) اور میں نے کنایہ نہ کیا ( یعنی کنایہ اشارہ میں میں نے گالی نہیں دی بلکہ ان مردود عورتوں کو غصہ دلانے کے لئے اساف اور نائلہ کو کھلم کھلا گالی دی ، جو اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر اساف اور نائلہ کو پکارتی تھیں ) یہ سن کر وہ دونوں عورتیں چلاتی اور کہتی ہوئی چلیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی ہوتا ( جو اس شخص کو بے ادبی کی سزا دیتا ) ۔ راہ میں ان عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور وہ پہاڑ سے اتر رہے تھے ۔ انہوں نے عورتوں سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ بولیں کہ ایک صابی آیا ہے جو کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صابی نے کیا کہا؟ وہ بولیں کہ ایسی بات بولا جس سے منہ بھر جاتا ہے ( یعنی اس کو زبان سے نہیں نکال سکتیں ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، یہاں تک حجراسود کو بوسہ دیا اور اپنے ساتھی کے ساتھ طواف کیا اور نماز پڑھی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اول میں نے ہی سلام کی سنت ادا کی اور کہا کہ السلام علیکم یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وعلیک ورحمۃ اللہ ۔ پھر پوچھا کہ تو کون ہے؟ میں نے کہا کہ غفار کا ایک شخص ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں ( جیسے کوئی ذکر کرتا ہے ) میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا برا معلوم ہوا کہ میں ( قبیلہ ) غفار میں سے ہوں ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑنے کو لپکا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال جانتے تھے مجھے روکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ تو یہاں کب آیا؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تیس رات یا دن سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے کھانا کون کھلاتا ہے؟ میں نے کہا کہ کھانا وغیرہ کچھ نہیں سوائے زمزم کے پانی کے ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ مڑ گئے اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمزم کا پانی برکت والا ہے اور وہ کھانا بھی ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھر دیتا ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آج کی رات اس کو کھلانے کی اجازت مجھے دیجئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی میں بھی ان دونوں کے ساتھ چلا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا اور اس میں سے طائف کی سوکھی ہوئی کشمش نکالیں ، یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا ۔ پھر میں رہا جب تک کہ رہا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک کھجور والی زمین دکھلائی گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ زمین یثرب کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ ( یثرب مدینہ کا نام تھا ) ، پس تو میری طرف سے اپنی قوم کو دین کی دعوت دے ، شاید اللہ تعالیٰ ان کو تیری وجہ سے نفع دے اور تجھے ثواب دے ۔ میں انیس کے پاس آیا تو اس نے پوچھا کہ تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ وہ بولا کہ تمہارے دین سے مجھے بھی نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ پھر ہم دونوں اپنی ماں کے پاس آئے وہ بولی کہ مجھے بھی تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لائی اور میں نے تصدیق کی ۔ پھر ہم نے اونٹوں پر اسباب لادا ، یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے ۔ آدھی قوم تو مسلمان ہو گئی اور ان کا امام ایماء بن رحضہ غفاری تھا وہ ان کا سردار بھی تھا ۔ اور آدھی قوم نے یہ کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوں گے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور آدھی قوم جو باقی تھی وہ بھی مسلمان ہو گئی اور ( قبیلہ ) اسلم کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم بھی اپنے غفاری بھائیوں کی طرح مسلمان ہوتے ہیں تو وہ بھی مسلمان ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غفار کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچا دیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ وَكُنْ عَلَى حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا ‏.‏
ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اورابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول : ۔ ۔ ۔ میں نے کہا : اب میری طرف سے تو ( سب کام ) سنبھال تاکہ میں جاؤں اور دیکھوں ۔ کے بعد مزید یہ کہا : اس نے کہا : ہاں اور اہل مکہ سے محتاط رہنا کیونکہہ وہ ان ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے نفرت کرنے لگے ہیں اور بُری طرح پیش آتے ہیں ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ ‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ - قَالَ - فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِنِّي لأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَقَالَ ‏"‏ مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مُنْذُ خَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏
ابن عون نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کی ، کہا : حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : بھتیجے!میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے ، کہا : میں نے پوچھا : آپ کس طرف رخ کیاکرتے تھے؟انھوں نے کہا : جس طرح اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتاتھا؟پھر ( ابن عون نے ) سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ کہا : " ان دونوں کا آپس میں مقابلہ کاہنوں میں سے ایک آدمی کے سامنے ہوا اور میرا بھائی انیس ( اشعار میں مسلسل ) اس ( کاہن ) کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس شخص پر غالب آگیا تو ہم نے اس کا گلہ بھی لے لیا اور اسے اپنے گلے میں شامل کرلیا ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا : ( ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، بیت اللہ کاطواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں ۔ کہا : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص ہوں جس نے آپ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا ۔ تو کہا : میں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ پر سلامتی ہو!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اورتم پر بھی سلامتی ہو!تم کون ہو؟اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : آپ نے پوچھا : " تم کتنے دنوں سے یہاں ہو؟ " کہا : میں نے عرض کی : پندرہ دن سے ، اور اس میں یہ ( بھی ) ہے کہ کہا : ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس کی آج رات کی میزبانی بطور تحفہ مجھے عطا کردیجئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ ‏.‏ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ ‏.‏ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ - يَعْنِي اللَّيْلَ - فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قُرَيْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلاَ يَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَمْسَى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَى لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي ‏.‏ فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ‏.‏ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ ‏.‏ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ ‏.‏
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام میں داخل ہوئے ۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا ، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور وہ لیٹ رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا ۔ پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے گئے ۔ وہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس شخص کو اپنا ٹھکانہ معلوم ہو ۔ پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کو ساتھ لے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی ۔ پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ، پھر کہا کہ تم مجھ سے وہ بات کیوں نہیں کہتے جس کے لئے تم اس شہر میں آئے ہو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہد اور وعدہ کرتے ہو کہ راہ بتلاؤ گے تو میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تو انہوں نے بتایا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ شخص سچے ہیں اور وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا ، اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ( یعنی پیشاب کا بہانہ کروں گا ) اور اگر چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا ۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس آنا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میرا حکم تجھے پہنچے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تو یہ بات ( یعنی دین قبول کرنے کی ) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں آئے اور چلا کر بولے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“ ۔ لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا کہ تمہای خرابی ہو ، تم نہیں جانتے کہ یہ شخص ( قوم ) غفار کا ہے اور تمہارا سوداگری کا راستہ شام کی طرف ( قوم ) غفار کے ملک پر سے ہے ( تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے ) ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن پھر ویسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں چھڑا لیا ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي، حَازِمٍ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبد الحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبد اللہ سے ، انھوں نے بیان سے روایت کی ، کہا : میں نے قیس بن ابی حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے جب سے اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَ��َا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي ‏.‏ زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏ ‏.‏
بو بکربن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع اور ابو اسامہ نے اسماعیل سے حدیث بیان کی ، نیز ابن نمیر نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل نے قیس سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب سے میں اسلام لا یا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی گھر سے باہر نہیں رو کا اور آپ نے کبھی مجھے نہیں مگر آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرا ئے ہیں ۔ ابن نمیر نے ابن ادریس سے اپنی روایت میں مزید یہ کہا : میں نے آپ سے شکا یت کی کہ میں گھوڑےپر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فر ما یا : " اے اللہ!اسے ثبات ( مضبوطی ) عطا کر اور اسے ہدایت پہنچانے والاہدایت پا نے والابنا دے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ - قَالَ - فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ ‏.‏
عبد الحمید بن بیان نے کہا : ہمیں خ رحمۃ اللہ علیہ الد نے بیان سے خبر دی ، انھوں نے قیس سے ، انھوں نے حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جا تا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما یا : " کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلا ؤ گے؟ " تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا ۔ ہم نے اس بت خانے کو تو ڑ دیا اور جن لو گوں کو وہاں پا یا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور ( پورے ) قبیلہ احمس کے لیے دعا فر ما ئی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا جَرِيرُ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏ ‏.‏ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ ‏.‏ قَالَ فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ‏.‏ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ ‏.‏
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " جریر!کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلا ؤ گے؟ " یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جا تا تھا ۔ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فر ما یا : " اے اللہ !اس کو ( گھوڑے پر ) جماد ے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنادے ۔ " ( قیس بن ابی حازم نے ) کہا؛ پھر وہ روانہ ہو ئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا ، پھر حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا ۔ اس کی کنیت ابوار طاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی ، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس ( بت خانے ) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح ( دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا ) کر چھوڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیا دوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فر ما ئی ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
وکیع عبد اللہ بن نمیر ، سفیان ، مروان فرازی اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور مروان کی حدیث میں کہا : تو حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے خوش خبری دینے والے ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دینے والے کے لیے آئے ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالاَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّوسلم أَتَى الْخَلاَءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ ‏"‏ مَنْ وَضَعَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالُوا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ ‏"‏ ‏.‏
زہیر بن حرب اور ابو بکر بن نضر نے کہا : ہمیں ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ورقا ء بن عمر یشکری نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے عبید اللہ بن ابی یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر ( انسانوں سے ) خالی علاقے میں تشریف لے گئے میں نے ( اس دورا ن میں ) آپ کے لیے وضوکا پا نی رکھ دیا ۔ جب آپ آئے تو آپ نے پو چھا : " یہ پانی کس نے رکھا ہے ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ زہیر کی روایت میں ہے ۔ لوگوں نے کہا : اور ابوبکر کی روایت میں ہے ۔ میں نے کہا ۔ ۔ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ آپ نے فر ما یا : " اے اللہ !اسے دین کا گہرا فہم عطا کر ۔
صحیحین — باتفاق محدثین صحیح